| عنوان: | نماز میں کب کھڑا ہونا چاہیے |
|---|---|
| تحریر: | مولانا انیس عالم سیوانی |
| پیش کش: | محمد سجاد علی قادری ادریسی |
بہت افسوس کی بات ہے کہ جن لوگوں کو دین کی ابتدائی اور بنیادی باتیں نہیں معلوم ہوتیں وہ بھی دینی اور شرعی مسائل میں اپنا خیال ظاہر کرنے سے نہیں جھجکتے، بلکہ بہت سے فتنہ پرور تو امام اور علما سے لڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم جیسا کر رہے ہیں کرنے دیجیے حالانکہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح اگر ہر آدمی مسجد میں اپنے اپنے طریقے پر عمل کرنے لگے تو پھر جماعت کا کیا مطلب رہ جائے گا۔
جماعت کا مطلب یہ ہے کہ مقتدی اپنے امام کی کامل پیروی کرے اور جو شخص امام کی پیروی نہیں کرتا اسے مسجد میں آنے کا کیا حق ہے؟ وہ گویا مسجد کے نظام اور جماعت میں انتشار پیدا کرنے کی غرض سے آ رہا ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو شرعی مسئلوں میں اپنی انانیت اور فرقہ بندی سے بچائے اور حق سننے اور قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
کلمہ پڑھنے والوں میں بہت سے اختلاف کچھ لوگوں نے پیدا کرا دیے ہیں، عقیدے میں اختلاف، مسائل میں اختلاف، نماز کے طریقوں میں اختلاف، حد تو یہ ہے کہ تکبیر میں کب کھڑے ہوں اس بات میں بھی لوگ جھگڑا کرتے ہیں، یہاں تک کہ بعض جاہل، حق سے بیزار لوگ اپنے امام ہی سے لڑنے اور بحث کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں اس لیے خیال کیا گیا کہ اس طرح کے لوگوں کے فتنہ و فساد سے بچنے کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟ اسے کتابوں کی روشنی میں تحریر کر دیا جائے، جسے سنی، دیوبندی، غیر مقلد بھی مانتے ہیں، پھر بھی ان سب کے باوجود اگر کوئی نہیں مانتا تو اسے چاہیے کہ وہ جس مسلک اور عقیدے کا ماننے والا ہے اسی مسجد میں جائے تاکہ عام مسجدیں اس طرح کے جھگڑوں سے محفوظ رہیں۔
بخاری شریف میں ہے:
إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ.
”جب اقامت کہی جائے تو تم لوگ کھڑے نہ ہو جاؤ جب تک مجھے دیکھ نہ لو (کہ میں حجرے سے باہر آ گیا) اور سکون کے ساتھ رہو۔“ [بخاری شریف، ج: اول، کتاب الاذان]
اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ حضور حجرے ہی میں رہتے تھے، تکبیر ہو جاتی تھی اور لوگ کھڑے ہو جاتے تھے اس سے حضور نے منع فرمایا کہ چاہے تکبیر ہو جائے لیکن جب تک میں حجرے سے باہر نہ آ جاؤں کھڑے نہ ہونا، اسی میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِي رَجُلًا فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ.
حضرت انس نے بیان فرمایا کہ: ”نماز کی اقامت کہی جا چکی تھی اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص سے مسجد کے گوشے میں سرگوشی فرما رہے تھے، نماز کے لیے اس وقت کھڑے ہوئے جب لوگ سو گئے۔“ [بخاری، ج: اول، کتاب الاذان]
اس حدیث سے بھی پتا چلتا ہے کہ تکبیر کے شروع میں کھڑا ہونا صحیح نہیں، اگر شروعِ تکبیر میں کھڑا ہونا ہوتا تو حضور مسجد کے کونے میں کسی سے باتیں نہیں کرتے بلکہ محراب میں آ کر کھڑے ہو جاتے۔
علامہ شرنبلالی لکھتے ہیں:
وَمِنَ الْآدَابِ (الْقِيَامُ) أَيْ قِيَامُ الْقَوْمِ وَالْإِمَامِ إِنْ كَانَ حَاضِرًا بِقُرْبِ الْمِحْرَابِ (حِينَ قِيلَ) أَيْ وَقْتَ قَوْلِ الْمُقِيمِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، لِأَنَّهُ أُمِرَ بِهِ فَيُجَابُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ حَاضِرًا يَقُومُ كُلُّ صَفٍّ حِينَ يَنْتَهِي إِلَيْهِ الْإِمَامُ فِي الْأَظْهَرِ.
”نماز کے مستحبات میں ہے کہ جب اقامت کہنے والا حی علی الفلاح کہے تو نمازی اور امام کھڑے ہو جائیں بشرطیکہ امام محراب کے قریب ہو، کیونکہ مؤذن نے کھڑے ہونے کا حکم دیا ہے اس لیے اس پر عمل کیا جائے اور اگر امام حاضر نہ ہو تو جس صف سے گزرے وہ لوگ کھڑے ہو جائیں۔“ [شرح صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، ج: اول، ص: 1100، علامہ غلام رسول سعیدی]
اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ تکبیر کے شروع میں کھڑا ہونا صحیح نہیں، ملک العلماء علامہ سید محمد ظفر الدین بہاری حدیث نقل فرماتے ہیں، جابر بن سمرہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ:
كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُ ثُمَّ يُمْهِلُ فَلَا يُقِيمُ حَتَّى إِذَا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ.
(رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي مُصَنَّفِهِ)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن اذان دیتے، پھر انتظار کرتے، اقامت نہیں کہتے یہاں تک کہ دیکھ لیتے، سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجرے سے نکلتے، تب نماز کی اقامت کہتے، جس وقت وہ حضور کو دیکھ لیتے۔“ [الجامع الرضوی المعروف بہ صحیح البہاری، ص: 303، علامہ سید محمد ظفر الدین بہاری]
اگر شروعِ تکبیر میں کھڑا ہونا کوئی شرعی مسئلہ ہوتا تو حضور پہلے ہی سے آ کر کھڑے ہو جاتے لیکن آپ نے کبھی ایسا نہ فرمایا بلکہ فرمایا کہ تم لوگ جب تک مجھے دیکھ نہ لو کھڑے نہ ہو، اس کا مطلب ہے کہ تکبیر پہلے ہو چکی تھی، شرح موطا امام محمد میں ہے:
وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ يَقُولُ لَا تَقُومُوا لِلصَّلَاةِ حَتَّى يَقُولَ الْمُؤَذِّنُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ.
”اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے نماز کے لیے نہ کھڑا ہوا کرو یہاں تک کہ مؤذن قد قامت الصلاۃ کہہ لے۔“ [شرح موطا امام محمد، ج: اول، ص: 119، علامہ محمد علی، بحوالہ: کشف الغمہ عن جمیع صفات المؤذن، ص: 81]
كَانَ أَنَسٌ يَقُومُ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ.
”حضرت انس اس وقت کھڑے ہوتے جب مؤذن قد قامت الصلاۃ کہتا۔“ [شرح موطا امام محمد، ج: اول، ص: 119، بحوالہ: کشف الغمہ، ص: 81]
نام نہاد فرقۂ اہلِ حدیث یعنی جماعتِ غیر مقلدین کی مشہور کتاب عون المعبود میں لکھا ہے:
وَذَهَبَ الْأَكْثَرُونَ إِلَى أَنَّهُمْ إِذَا كَانَ الْإِمَامُ مَعَهُمْ فِي الْمَسْجِدِ لَمْ يَقُومُوا حَتَّى تَفْرُغَ الْإِقَامَةُ، وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُومُ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، وَأَمَّا إِذَا لَمْ يَكُنِ الْإِمَامُ فِي الْمَسْجِدِ فَذَهَبَ الْجُمْهُورُ إِلَى أَنَّهُمْ لَا يَقُومُونَ حَتَّى يَرَوْهُ.
”اکثر کا مذہب یہ ہے کہ اگر امام مقتدیوں کے ساتھ مسجد میں ہی موجود ہو تو پھر نمازیوں کو اقامت سے فراغت پر کھڑا ہونا چاہیے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اس وقت کھڑے ہوا کرتے تھے جب مؤذن قد قامت الصلاۃ کہا کرتا تھا، اور اگر امام مسجد میں نہ موجود ہو تو جمہور کا مسلک یہ ہے کہ نمازیوں کو امام کو دیکھے بغیر نہیں کھڑا ہونا چاہیے۔“ [شرح موطا امام محمد، ج: اول، ص: 121، علامہ محمد علی علیہ الرحمہ بحوالہ عون المعبود، ج: 1، ص: 212]
اس موضوع پر احادیث کی کتابوں میں دلائل کے انبار ہیں، عقل والوں کے لیے اتنا ہی بہت ہے۔ آخری حوالہ فتاویٰ عالمگیری سے پیش کرتا ہوں جسے اہلِ سنت کے علاوہ دیوبندی علما بھی معتبر مانتے ہیں، اس لیے کہ یہ کتاب مسلکِ حنفی میں سند کے طور پر مقبول ہے:
إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ عِنْدَ الْإِقَامَةِ يُكْرَهُ لَهُ الِانْتِظَارُ قَائِمًا وَلٰكِنْ يَقْعُدُ ثُمَّ يَقُومُ إِذَا بَلَغَ الْمُؤَذِّنُ قَوْلَهُ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ كَذَا فِي الْمُضْمَرَاتِ.
”جب آدمی تکبیر کے وقت مسجد میں داخل ہو تو اس کے لیے کھڑے ہو کر انتظار کرنا مکروہ ہے، وہ بیٹھ جائے پھر اس وقت کھڑا ہو جب مؤذن حی علی الفلاح کہے، ایسا ہی مضمرات میں ہے۔“ [فتاویٰ عالمگیری، ج: اول، ص: 57]
اگر امام و مقتدی مسجد میں ہوں تو بیٹھ کر تکبیر سننا چاہیے اور اگر امام باہر سے آ رہا ہو اور تکبیر ہو رہی ہو تو جدھر سے امام گزرے ادھر کی صف والوں کو کھڑا ہونا چاہیے اور قد قامت الصلاۃ تک سب کو کھڑا ہو جانا چاہیے۔
اس مسئلے کے جواب میں فقیہِ اسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری فاضل بریلوی جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں، وقایہ میں ہے: ”امام اور نمازی حی علی الصلاۃ پر کھڑے ہوں اور قد قامت الصلاۃ کے الفاظ پر امام نماز شروع کر دے۔“
محیط و ہندیہ میں ہے: ”ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک جب اقامت کہنے والا حی علی الفلاح کہے تو اس وقت امام اور تمام نمازی کھڑے ہوں اور یہی صحیح ہے۔“ جامع المضمرات و عالمگیری و رد المحتار میں ہے: ”جب کوئی نمازی تکبیر کے وقت آئے تو وہ بیٹھ جائے کیونکہ کھڑے ہو کر انتظار کرنا مکروہ ہے پھر جب مؤذن حی علی الفلاح کہے تو اس وقت کھڑا ہو۔“ [فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: خامس، ص: 280]
بعض لوگ یہ بہانہ بناتے ہیں کہ اگر شروع میں کھڑے نہیں ہوں گے تو صف کیسے سیدھی کریں گے؟ اس کا جواب آج سے تقریباً 13 سو سال پہلے امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے شاگردِ رشید سیدنا امام محمد جو امام بخاری جیسے محدثِ جلیل کے پردادا استاذ ہیں انہوں نے اپنی کتاب موطا امام محمد میں اس مسئلے کی تشریح فرما کر کھڑے ہونے کے لیے بہانہ بنانے والوں کی کمر توڑ دی۔
ملاحظہ ہو:
قَالَ مُحَمَّدٌ يَنْبَغِي لِلْقَوْمِ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ أَنْ يَقُومُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَيَصُفُّوا وَيُسَوُّوا الصُّفُوفَ وَيُحَاذُوا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ فَإِذَا أَقَامَ الْمُؤَذِّنُ الصَّلَاةَ كَبَّرَ الْإِمَامُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ.
”امام محمد نے فرمایا کہ مسجد میں موجود نمازیوں کو چاہیے کہ مؤذن جب حی علی الفلاح کہے تو نماز کے لیے کھڑے ہوں، اور صفیں درست کریں، اور کندھوں کو برابر کریں، پھر مؤذن جب قد قامت الصلاۃ کہے تو امام تکبیر کہے، یہی امام ابو حنیفہ کا قول ہے۔“ [شرح موطا امام محمد، ص: 116]
مذکورہ دلائل و شواہد سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ تکبیر میں شروع سے کھڑا ہونا فقہا اور محدثین کے نزدیک غلط ہے بالخصوص کسی حنفی کو ہرگز ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ تکبیر میں شروع سے کھڑا ہو، اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یا تو وہ بالکل جاہل اور شریعت سے بے خبر ہے اور بتانے پر بھی نہیں مانتا تو بہت بڑا فسادی، فتنہ پرور اور مسلمانوں میں جھگڑے کا بیج بونے والا ہے، متولیِ مسجد اور محلے کے ذمہ داروں پر فرض ہے کہ اسے سمجھائیں پھر بھی نہ مانے تو اسے زبردستی مسجد سے باہر کریں، نماز پڑھنے نہیں آتے بلکہ ماحول خراب کرنے آتے ہیں۔
[حوالہ: ماہنامہ سنی دنیا، جون 2018ء، ص: 9]
