Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مفتی محمد شبیر حسن رضوی رحمۃ اللہ علیہ - کچھ یادیں کچھ باتیں (قسط: دوم و آخری)

مفتی محمد شبیر حسن رضوی رحمۃ اللہ علیہ - کچھ یادیں کچھ باتیں (قسط: دوم و آخری)
عنوان: مفتی محمد شبیر حسن رضوی رحمۃ اللہ علیہ - کچھ یادیں کچھ باتیں (قسط: دوم و آخری)
تحریر: محمد راشد احمد رضوی جامعی
پیش کش: اختری

امام العلماء علم کے بحرِ ذخار، درس و تدریس کے نامور استاذ اور بے پناہ خصوصیات کے حامل تھے۔ آپ کی مبارک زندگی کا بیشتر حصہ درس و تدریس، تحقیق و تصنیف اور فتویٰ نویسی میں گزرا۔ دار العلوم اہل سنت عزیز العلوم نانپارہ اور الجامعة الاسلامیہ روناہی شریف جیسے عظیم اداروں میں تقریباً ۵۶ سالوں تک علوم و فنون کے گوہر لٹاتے رہے اور ہزاروں تشنگانِ علومِ نبوت کو سیراب فرمایا۔ آپ کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں میں ہے، جن میں مفسر، محدث، فقیہ، خطیب، مناظر، متکلم، ادیب، مصنف و مؤلف ہر قسم کے لوگ شامل ہیں، جن میں سے کئی بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں۔

تصنیفات و تالیفات

آپ مسندِ درس و تدریس کے بادشاہ ہونے کے ساتھ ایک عظیم مصنف و مؤلف بھی تھے۔ درسگاہی ذمہ داریوں، تبلیغی اسفار اور علمی مجالس کی صدارتوں کے باوجود آپ نے دین و سنیت کی خدمت لوح و قلم سے بھی کی۔ آپ کے فتاویٰ آپ کی علمی مہارت کا شاہکار ہیں، جنہیں آپ نے قرآن، احادیث اور اقوالِ فقہاء سے مزین کر کے تحریر فرمایا۔ چند اہم تصانیف یہ ہیں:

  • حاشیہ شرح ہدایة الحکمت الہيات (عربی)
  • الجوهر المنظم فی شرح المسلم
  • جوامع الحکم
  • امام احمد رضا اور علومِ عقلیہ
  • توضیحاتِ کبریٰ
  • حاشیۂ کبریٰ
  • مختصر حالاتِ فاطمة الزهرا رضی اللہ تعالی عنہا (غیر مطبوع)

تحقیقی مقالات و فتاویٰ

آپ کے کچھ مشہور تحقیقی مقالات درج ذیل ہیں:

  • التوضیح التام فی التفاوت بین اللزوم والالتزام
  • افتراقِ امت
  • ڈاکٹر طاہر القادری کیسے عالم ہیں اور اُن کا بیان سننا کیسا؟
  • میلاد شریف، صلوۃ و سلام اور قیام کے دلائل
  • امام احمد رضا بحیثیت منطقی و فلسفی
  • مفتی اعظم اور علومِ عقلیہ
  • بحر العلوم مایہ ناز محقق

وصال اور نمازِ جنازہ

امام العلماء کا وصال ۱۳ ربیع الآخر ۱۴۴۱ھ (۱۱ دسمبر ۲۰۱۹ء) کو بوقتِ عشاء لکھنؤ میں ہوا۔ ۱۵ ربیع الآخر کو الجامعة الاسلامیہ روناہی شریف کی جامع مسجد کے صحن میں بعد نمازِ جمعہ آپ کی نمازِ جنازہ محدثِ کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری رضوی امجدی مصباحی نے پڑھائی۔ سخت سردی اور بارش کے باوجود تقریباً ۲۵ ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ آپ کو الجامعة الاسلامیہ کے پہلو میں حضرت شیخ شرف الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کے قریب سپردِ خاک کیا گیا۔

مختصر کوائف (آئینہ سال و ماہ)

  • نام: شبیر حسن بن امت علی
  • لقب: امام العلماء، جامعِ معقول و منقول
  • تاریخِ ولادت: یکم جولائی ۱۹۴۸ء، موضع دیوریا لعل، بستی، یوپی۔
  • بیعت: تاجدارِ اہل سنت مفتی اعظم ہند حضرت مفتی مصطفیٰ رضا خان نوری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے۔
  • خلافت: مفتی رجب علی قادری، سید انوار اشرف، تاج الشریعہ اور شاہ گلزار اسماعیل واسطی بلگرامی علیہم الرحمۃ۔
  • ایوارڈز: صدر الشریعہ ایوارڈ، مجاہدِ ملت ایوارڈ، خالدِ ملت ایوارڈ، علامہ عبد الرؤف بلیاوی ایوارڈ۔
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!