| عنوان: | مفتی محمد شبیر حسن رضوی رحمۃ اللہ علیہ - کچھ یادیں کچھ باتیں (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد راشد احمد رضوی جامعی |
| پیش کش: | اختری |
امام العلماء ایک باوقار، باوضع اور سنجیدہ عالمِ دین کا نام ہے۔ آپ نہایت پاکباز، لطیف مزاج، متقی، پرہیزگار اور نفاست پسند تھے۔ میانہ قد، سفید نورانی داڑھی، عشقِ مصطفیٰ میں مخمور آنکھیں، اور شفقت آمیز رویہ آپ کی پہچان تھی۔ آپ کی بارگاہ میں آنے والا ہر شخص یہ محسوس کرتا تھا کہ حضور والا سب سے زیادہ اس پر مہربان ہیں۔ آپ کی پوری زندگی اپنی صحت و آرام کا خیال کیے بغیر درس و تدریس، فتویٰ نویسی اور خلقِ خدا کی خدمت میں گزری۔
خدمتِ خلق اور طالبِ علمی کا احساس
آپ کی بارگاہ میں جو بھی حاجت مند حاضر ہوتا، آپ اس کی حاجت پوری فرماتے۔ ضرورت مند طلباء کی خفیہ امداد کرنا آپ کا خاص معمول تھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ”جاؤ اور جائز طریقے سے خرچ کرنا۔“ آپ کے معمولات میں سے ایک عجیب پہلو یہ تھا کہ آپ کے پاس دورانِ تدریس ایک تھیلا موجود رہتا جس میں بچپن کا قرآنِ پاک کا پہلا پارہ ہوتا۔ آپ فرماتے: ”یہ تھیلا میری متاعِ عزیز ہے، یہ مجھے احساس دلاتا ہے کہ میں بنیادی طور پر طالبِ علم ہوں۔ جس دن یہ احساس میرے دل میں معدوم ہو گیا، اس دن میرے علم اور جہالت میں کوئی حدِ فاصل نہیں رہے گی۔“
عشقِ رسول، غوث و رضا
آپ کا عشقِ رسول ﷺ دیدنی تھا، بخاری شریف کے درس کے دوران آپ کی آواز بھر جاتی اور آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے۔ آپ فرمایا کرتے کہ ”میں شہنشاہِ بغداد حضرت غوثِ اعظم علیہ الرحمۃ کا غلام ہوں۔“ آپ کو اپنے تلامذہ میں بھی عشقِ غوث و رضا کا جذبہ دیکھنا پسند تھا۔ ایک بار آپ نے ایک طالب علم کو تنبیہ کی کہ ”سلام پڑھاتے وقت غوثِ اعظم کے تذکرے والے اشعار کیوں چھوڑ دیتے ہو؟ ہم انہی کی غلامی کا کھاتے ہیں۔“
علمی مقام و فضیلت
آپ علوم و فنون کا کوہِ ہمالیہ تھے۔ محدثِ کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری مصباحی دام ظلہ العالی فرماتے ہیں: ”آپ کا علم مجھ سے بہت زیادہ تھا اور وہ علم ’مستحضر‘ تھا۔“ استاذ العلماء حضرت علامہ محمد نعمان خان قادری رحمۃ اللہ علیہ، جو آپ کے استاذ تھے، برملا فرمایا کرتے تھے کہ ”مفتی شبیر حسن رضوی نہ صرف زبردست عالم ہیں، بلکہ یہ مجھ سے بھی زیادہ فائق اور بلند مقام رکھتے ہیں۔“ یہ ایک استاذ کا اپنے شاگرد کے لیے کتنا بڑا اعترافِ کمال ہے۔
امتحانِ بخاری اور عربی جواب
بخاری شریف کے امتحان کے دوران ممتحن نے سوال کیا کہ ”امام بخاری نے اپنی کتاب کا آغاز حمدِ خدا سے کیوں نہیں کیا؟“ آپ نے فرمایا: ”میرے پاس اس سوال کے ۱۱ جوابات ہیں۔“ اتنا کہنا تھا کہ ممتحن نے کہا: ”بس تمہارا امتحان ہو گیا“ اور آپ کو ۹۵ نمبر دیے۔ بعد میں حافظِ ملت علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ ”اگر تم عربی میں جواب دیتے تو ۱۰۰ نمبر ملتے۔“
دعوتِ دین اور تبلیغی سفر
آپ کی زندگی کا مقصد ہی دینِ حنیف کی ترویج تھا۔ شوال کے مہینے میں دھسواں بازار اترولہ میں ختمِ بخاری شریف کے موقع پر آپ نے چالیس منٹ سے زائد خطاب فرمایا اور پھر مدرسہ انصار العلوم اور گلشنِ نور میں درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیے۔ آپ کی درس و تدریس کا انداز اتنا پرکشش تھا کہ پرانے تلامذہ کہا کرتے تھے کہ ”آج پھر ہمیں اپنی طالب علمی کا زمانہ یاد آ گیا ہے۔“
