Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

قدیم عرب کا فن حرب

قدیم عرب کا فن حرب
عنوان: قدیم عرب کا فن حرب
تحریر: مولانا محمد عبدالہادی قادری
پیش کش: محمد سلمان العطاری

خانہ بدوشی ان کے لیے ضروری ہوتی ہے جو ایسے ماحول میں زندگی گزاریں جہاں زندگی کی ضرورتیں آسانی سے فراہم نہ ہو سکیں۔ عرب کے طبعی حالات بھی عام طور پر ایسے ہی ہیں کہ وہاں پانی بھی ہر جگہ وافر مقدار میں میسر نہیں آتا۔ اس لیے جو قوم اس خطۂ ارض میں آباد ہوئی اسے مجبوراً خانہ بدوشانہ زندگی اختیار کرنی پڑی۔

خانہ بدوشانہ زندگی قوم میں کچھ خصوصیات پیدا کر دیتی ہے جن میں تکلیفوں کو سہنا اور مشکلوں سے مقابلہ کرنا سب سے اہم خصوصیتیں ہیں۔ عرب قوم میں جو قوت برداشت اور بہادری عام ہے حقیقت میں وہ ان کی خانہ بدوشانہ زندگی کی دین ہے، کم سے کم اور معمولی سی معمولی چیز پر قناعت کر لینا اور بات بات پر جان کی بازی لگا دینا شہری زندگی بسر کرنے والوں کے بس کی بات نہیں۔ عربوں کی زندگی ”تنازع للبقا“ کا ہدف تھی اس لیے ہر اس مقام پر قبضہ کر لینے کی خواہش عام تھی جہاں کچھ سبزہ اور پانی میسر آ سکے، کیونکہ وہ خود تو اپنے اہلی جانوروں کے دودھ پر گزر بسر کر سکتے تھے مگر جانور بغیر چارہ پانی کیسے زندہ رہتے، اس لیے مسابقت کا جذبہ عام تھا اور اسی وجہ سے مختلف قبیلے اکثر باہم دست و گریبان رہتے تھے، یہاں تک کہ لڑائی گویا ان کی فطرت بن گئی تھی۔ اگرچہ عرب قوم مسلسل لڑتے رہنے کے باعث حرب و ضرب کی عادی ہو گئی تھی لیکن چونکہ وہ خارجی دنیا سے بڑی حد تک الگ زندگی گزارتی تھی اس لیے اس کا فن حرب صرف نیزہ بازی یا تلوار چلانے کی حد تک محدود تھا۔ ہمیں عربی ادب میں اکثر ایسے اشعار ملتے ہیں جن میں نیزہ، تلوار اور ان کے استعمال کا ذکر ہوتا ہے۔

نیزے کی تعریف یہی سمجھی جاتی تھی کہ اس کی چھڑ سیدھی، سخت اور لچکدار ہو، جیسا کہ عرب کے مشہور صاحب معلقہ شاعر عمرو بن کلثوم اپنے نیزے کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے:

إذا عض الثقاف بها اشمأزت
وولته عشوزنة زبونا

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیزے کی لکڑی کو اگر جھکانے کی کوشش کی جائے تو وہ خود جھکانے والے کا سر پھوڑ دیتی ہے۔

تلوار ایسی پسند کی جاتی تھی جو ہلکی پھلکی اور لچکدار ہو جیسا کہ عرب شاعروں میں سب سے کم عمر اور صاحب معلقہ شاعر طرفہ بن العبد کہتا ہے:

وآليت لا ينفك كشحي بطانة
بعضب رقيق الشفرتين مهند

تلوار کے ساتھ عام طور پر تعریفی طور پر ”مہند“ (ہندوستانی) استعمال کیا جاتا ہے، اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ہندوستان فولاد سازی میں کافی ترقی کیے ہوئے تھا اور ہندی تلوار دوسری تلواروں کے مقابلے میں زیادہ سبک اور مضبوط ہوتی تھی۔

نیزہ عام طور پر خطی پسند کیا جاتا تھا۔ ”خط“ یمامہ کا ایک موضع ہے جہاں کی چھڑ بہت عمدہ ہوتی تھی، اس لیے نیزے کی تعریف میں خطی کی صفت عام طور پر استعمال ہوتی تھی۔

عرب بہادر نیزہ بازی میں ایسی مہارت رکھتے تھے کہ ان کی طعن (نیزے سے زخم لگانا) بہت ہی شدید ہوتی تھی، ایک عرب شاعر اپنی نیزہ بازی کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ نیزے کی طعن نے ایسا چوڑا زخم لگایا جیسے بھری ہوئی مشک میں شگاف دے دیا جائے:

وطعن كفم الزق
غدا والزق ملآن

شمشیر زنی میں بھی انھیں مہارت تھی، طرفہ بن العبد اپنی ضرب کی کیسی عمدہ تعریف کرتا ہے کہ ایک وار کے بعد دوسرے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، پہلی ضرب ہی قاتل ہوتی ہے:

أخي ثقة لا ينثني عن ضريبة
إذا قيل مهلا قال حاجزه قدي

نیزہ اور تلوار دونوں عربوں کے محبوب ہتھیار تھے، لیکن ان کے استعمال کے مواقع علیحدہ علیحدہ تھے۔ جب مقابل سامنے آتا تھا تو دور سے ہی وہ اسے نیزوں پر رکھ لیتے تھے اور کوئی سخت جان قریب پہنچ جائے تو اس پر تلوار اپنے جوہر دکھاتی تھی۔

عمرو بن کلثوم کہتا ہے:

نطاعن ما تراخى الناس عنا
ونضرب بالسيوف إذا غشينا

عربوں کی نیزہ بازی مشہور ہے، وہ لمبے لمبے نیزے استعمال کرتے تھے جن کے سروں پر فولادی برچھیاں ہوتیں، عرب نیزوں کو شتر مرغ کے پروں سے سجاتے تھے، ان کا قاعدہ یہ تھا کہ وہ دشمن کو دیکھ کر نیزہ سر کے اوپر تولتے، تھوڑی دیر ہلاتے اور پھر پوری قوت سے اسے پھینکتے، نیزہ ہوا میں اڑتا ہوا اتنی تیزی سے اپنے نشانے پر جاتا کہ اس کی اڑان سے خاص قسم کی آواز سنی جاتی۔

عربوں کی حربہ اندازی کا کمال اس وقت اور بھی عجیب معلوم ہوتا جب کہ وہ اپنے پیچھے دشمن کی آہٹ محسوس کرتے، بغیر پلٹے ہوئے صرف آہٹ پر پیچھے نیزہ پھینکتے اور اس وقت بھی ان کا نشانہ خطا نہ کرتا۔

عرب قوم میں تکلیفیں برداشت کرنے اور اپنی قوت بازو سے ضرورتیں پوری کر لینے کی خاص ہمت تھی، یہی وجہ ہے کہ ان میں سے اکثر کا پیشہ ہی لوٹ مار رہا ہے۔ زمانہ قدیم سے ہی وہ اس کے عادی رہے ہیں کہ ہواؤں سے بازی لے جانے والے گھوڑوں اور سانڈنیوں پر بیٹھ کر طویل سے طویل مسافت بغیر تھکن کے احساس کے طے کریں، اچانک کسی پر جا پڑیں اور اپنا کام کر جائیں۔

دور جاہلی میں بھی ان کی لڑائیوں میں ان کا حربی شعور ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ دشمن کو گھبرا دینے اور غیر متوقع تیزی سے حملہ کرنے کو سب سے اہم جنگی چال سمجھتے تھے، واقعہ بھی یہی ہے کہ جنگ میں یا تو ہتھیار کی برتری فتح دلاتی ہے یا دشمن کی سراسیمگی اسے ہزیمت پر مجبور کرتی ہے۔

اسلام سے پہلے عربوں کو منظم طور پر لڑائی کے میدان میں آنے کا بہت ہی کم موقع ملا تھا۔ جو لڑائیاں طویل بھی ہوئیں ان میں حصہ لینے والے دونوں جانب عرب ہی ہوتے تھے، اس لیے فن حرب میں کسی قسم کی جدتیں پیدا نہ ہو سکیں، لیکن طلوع اسلام کے بعد جب عرب اسلامی سپاہی بن گئے تو انھیں مختلف ترقی یافتہ دشمنوں کے مقابل صف آرا ہونا پڑا، ان کے حربی شعور نے انھیں فن حرب میں جدتیں پیدا کرنے پر ابھارا اور اس میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہوئے۔

میدان جنگ سے فرار کو ہمیشہ باعث ننگ و عار سمجھا گیا ہے، عرب شاعروں میں صرف تابط شرا ہی ایک ایسا آدمی نظر آتا ہے جو بھاگ کر جان بچا لانے کا فخریہ انداز میں ذکر کرتا ہے:

إذا المرء لم يحتل وقد جد جده
أضاع وقاسى أمره وهو مدبر

ولكن أخو الحزم الذي ليس نازلا
به الخطب إلا وهو للقصد مبصر

اس قسم کی دوسری مثال نہیں ملتی، لیکن اس سے ایک حربی نکتے کی نشان دہی ہوتی ہے جسے بعد میں عربوں کے اسلامی لشکر نے عملی طور پر آزمایا اور اکثر کامیاب پایا۔

سریہ موتہ میں تمام کا تمام اسلامی لشکر کٹ کر رہ جاتا اگر سیف اللہ خالد شدت سے لڑتے ہوئے تابط شرا کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق دشمن کے نرغے سے نکال لانے کی کوشش نہ کرتے۔ اس طرح انھوں نے کافی خون دوسری جگہ استعمال کرنے کے لیے بچا لیا، لیکن انھیں اور ان کے ساتھیوں کو زبان خلق نے ”فرارون“ (بھگوڑے) کا لقب دیا، وہ سالار اعظم جس کی ذات ہر اعتبار سے سب سے ارفع و اعلیٰ تھی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے خندہ پیشانی سے ملا اور اس نے انھیں ”کرارون“ (پلٹ کر حملہ کرنے والے) کے خطاب سے نواز کر ان کی ہمت بڑھائی، گویا فن حرب میں ”منظم پسپائی“ کو بھی شامل کر لیا گیا۔ عربوں کی تاریخی لڑائیوں میں ہمیں ان کی خاص حکمت عملی اکثر یہ نظر آتی ہے کہ وہ پہلے تو بہت شدید حملہ کرتے تھے، پھر رفتہ رفتہ ان کے حملے کا زور گھٹتا جاتا تھا اور وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتے ہٹتے پلٹ پڑتے تھے، مگر اب دشمن کے لیے پیچھے ہٹنے کا امکان نہیں ہوتا تھا کیونکہ فتح کی سرشاری میں وہ اس سے بے خبر ہوتے تھے کہ کمیں گاہوں میں چھپے ہوئے محفوظ عرب سپاہی ان کے عقب پر چھائے جا رہے ہیں، اس طرح شکست کو فتح میں تبدیل کر دینا ان کی خاص حربی چال ہوتی تھی۔

عربوں نے طریقۂ جنگ میں ہی ایجادیں نہیں کیں جن سے مقابل سراسیمہ ہو جاتے تھے اور عددی برتری کے باوجود ہزیمت اٹھاتے تھے، بلکہ انھوں نے دوسروں پر ہتھیار کی برتری بھی بہت جلد حاصل کر لی جس نے ان کی فتح کو یقینی بنا دیا اور بڑے بڑے مضبوط قلعوں والے اطاعت پر مجبور ہو گئے۔

عرب کے بادیہ نشین درندوں سے اپنے جانوروں کی حفاظت کے لیے ”مقلاع“ (گوپھن) کا استعمال کیا ہی کرتے تھے اور اس سے بھی بہت سچا نشانہ لگاتے تھے، اسی کو ترقی دے کر انھوں نے ”منجنیق“ بنا ڈالی، منجنیق کی ایجاد اپنے وقت پر آج کے ایٹم بم سے کم نہیں تھی، اس کی ہیبت نے بڑوں بڑوں کا جگر پانی کر دیا تھا۔

آج دنیا نیزہ، تلوار اور منجنیق سے بہت آگے بڑھ گئی ہے، اس لیے فن حرب بھی نئی صورت اختیار کر گیا ہے اور وہ قومیں جو سائنس کی دوڑ میں پچھڑ گئی ہیں ان کی بہادری کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے، پھر بھی عرب قوم اپنے ویران علاقے میں اسی شان سے رہتی ہے جیسے قدیم زمانے سے رہتی آئی ہے۔

عرب کے بدوی نوجوان آج بھی ہر وقت مسلح رہتے ہیں، عمدہ تلواروں، چمکدار خنجروں کے علاوہ ہلکی پھلکی رائفلیں بھی کاندھے سے لٹکائے رہتے ہیں، بندوق سے بھی وہ ویسا ہی سچا نشانہ لگاتے ہیں جیسا کبھی نیزے سے لگاتے تھے، عام طور پر وہ زمین پر لیٹ کر شکار پر شست لیتے ہیں اور پھر گولی چلا دیتے ہیں۔

ان کا نشانہ اتنا سچا اور بے خطا ہوتا ہے کہ اسے دیکھ کر بے اختیار سائل دہلوی مرحوم کا یہ شعر زبان پر آ جاتا ہے:

نشانہ باز ایسے ہیں، قدر انداز ایسے ہیں
ادھر چٹکی سے چھوڑا تیر، مٹھی سے کماں رکھ دی

مولانا محمد عبدالہادی قادری (۱۳۳۱ھ، ۱۹۱۳ء / ۱۴۱۵ھ، ۱۹۹۴ء) خانوادہ قادریہ عثمانیہ بدایوں کے چشم و چراغ تھے، نظام کالج حیدرآباد (دکن) کے شعبۂ عربی میں استاذ ادبیات عربی کی حیثیت سے وابستہ رہے، نظام کالج کی سالانہ میگزین ”الأشعة“ میں آپ کی عربی اور اردو نگارشات شائع ہوا کرتی تھیں، زیر نظر مضمون اسی سالانہ میگزین ”الأشعة“ حیدرآباد ۱۹۲۵ء سے ماخوذ ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!