Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

نہ جانے کون سے حصے میں برکت ہے!

نہ جانے کون سے حصے میں برکت ہے!
عنوان: نہ جانے کون سے حصے میں برکت ہے!
تحریر: محمد شفیع احمد عطاری رضوی
پیش کش: مرکزی جامعۃ المدینہ نیپال گنج

اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم ارشاد فرمایا ہے:

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ

ترجمہ کنزالایمان: کھاؤ، پیو اور حد سے نہ بڑھو بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں۔ [الاعراف: 31]

لہذا حکم خداوند متعال پر عمل کرتے ہوئے ہم مسلمانوں پر لازم ہے کہ ہم بھی کھانا پینا ضرور کریں، لیکن اسراف سے بچتے ہوئے۔ یاد رکھیں! جو اللہ تعالیٰ سب کچھ دینے پر قادر ہے وہی رب سب کچھ سلب کر لینے پر بھی قادر ہے۔

اب آئیے! چند احادیث کریمہ پیش کی جاتی ہیں جس میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ کھانا اس انداز سے کھایا جائے کہ ایک لقمہ بھی باقی نہ رہے کہ نہ جانے کھانے کے کون سے حصے میں برکت ہے، ان احادیث سے بالیقین یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اسلام میں اسراف سے بچنے کی اہمیت کو کس قدر اجاگر کیا گیا ہے۔

  1. تمہیں کیا معلوم کس حصے میں برکت ہے!: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم انگلیاں اور رکابی چاٹنے کا حکم فرماتے اور ارشاد کرتے تمہیں کیا معلوم کھانے کے کس حصہ میں برکت ہے یعنی شاید اسی حصے میں ہو جو انگلیوں یا برتن میں لگا رہ گیا ہے۔ امام حکیم ترمذی نے حضرت انس سے یہ لفظ نقل کیے ”اور وہ برتن اس کے لئے دعا کرے گا“۔
  2. پلیٹ خوب صاف کر لیا کرو!: مسلم و احمد و ابو داؤد و ترمذی و نسائی نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیں کھانا کھا کر پیالہ خوب صاف کر دینے کا حکم فرمایا کہ تم کیا جانو کہ تمہارے کون سے کھانے میں برکت ہے۔
  3. پیالہ دعائے مغفرت کرے گا: احمد و ترمذی و ابن ماجہ نے نبیشۃ الخیر الہذلی سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کسی پیالے میں کھانا کھا کر زبان سے اسے صاف کر دے وہ پیالہ اس کے لیے دعائے مغفرت کرے گا۔
  4. اسے آتش دوزخ سے بچا کہ اس نے ہمیں بچایا: امام حکیم ترمذی اسی مضمون میں حضرت انس سے راوی کہ فرمایا اور وہ برتن اس پر درود بھیجے، دیلمی کی روایت میں ہے کہ فرمایا وہ پیالہ یوں کہے إِلَهِي! اسے آتش دوزخ سے بچا جس طرح اس نے مجھ کو شیطان سے بچایا یعنی برتن سنا ہوا چھوڑ دیں تو شیطان اسے چاٹتا ہے۔
  5. کھانے کے آخر میں برکت ہے: حاکم اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور بیہقی نے شعب میں جابر بن عبد اللہ سے مرفوعاً روایت کیا، آپ نے فرمایا کہ پیالہ کو نہ اٹھائے تاوقتیکہ اس کو خود چاٹ لے یا دوسرے کو چاٹنے دے کیونکہ کھانے کے آخر میں برکت ہے۔
  6. مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے: مسند حسن بن سفیان میں والد رابطہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا پیالہ چاٹ لینا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ اس پیالے بھر کھانا تصدق کروں یعنی چاٹنے میں جو تواضع ہے اس کا ثواب اس تصدق کے ثواب سے زیادہ ہے۔
  7. دنیا میں فقر و فاقہ سے بچے: معجم کبیر میں عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا جو رکابی اور اپنی انگلیاں چاٹے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کا پیٹ بھرے۔ یعنی دنیا میں فقر و فاقہ سے بچے قیامت کی بھوک سے محفوظ رہے دوزخ سے پناہ دیا جائے کہ دوزخ میں کسی کا پیٹ نہ بھرے گا اُس میں وہ کھانا ہے کہ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جُوعٍ نہ فربہی لائے نہ بھوک میں کچھ کام آئے۔ (وَالْعِيَاذُ بِاللهِ) [الطرد المعدل، ص: 14-15]

ذی عزیز قارئین!

کھانا ضرور کھائیں مگر بالکل صاف کرکے کھائیں کہ کوئی بھی کھانے کا حصہ باقی نہ بچ جائے، کہ یقیناً ہمیں نہیں معلوم کہ کھانے کے کون سے حصے میں برکت ہے؟؟؟ لہذا جب بھی کھانا کھائیں تو اس بات کا ضرور خیال رکھیں کہ کھانے کا کوئی بھی حصہ باقی نہ رہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!