Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

نبی کریمﷺ کی پشت مبارک

نبی کریمﷺ کی پشت مبارک
عنوان: نبی کریمﷺ کی پشت مبارک
تحریر: غلام ربانی قادری
پیش کش: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال

اللہ پاک کی ایک صفت ”جمیل“ ہے اور اللہ پاک ”جمال“ کو پسند فرماتا ہے، اسی لیے خالقِ ارض و سما نے اپنے محبوبﷺ کو سراپا حسن و جمال بنا کر دنیا میں بھیجا۔ یوں تو حضور انورﷺ کے جسمِ منور کا ہر ہر عضو کمال بلکہ اکمل درجے کی خوبصورتی کو پہنچا ہوا ہے جن پر خامہ فرسائی وقت طلب کام ہے، اس لیے یہاں جسمِ پرنور کے ایک حصے ”پشتِ مبارک“ کی کیفیت و عظمت سپردِ قرطاس کی جا رہی ہے۔

پشتِ مبارک اور قرآنِ کریم:

آپ کے جن اعضائے مبارک کا ذکر قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، ان میں پشتِ انور بھی ہے۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ

ترجمہ: اور تم پر سے تمہارا وہ بوجھ اتار لیا جس نے تمہاری پیٹھ توڑ دی تھی۔

تفسیر صراط الجنان میں مذکورہ آیت کی تفسیر میں ہے:

اس بوجھ سے کیا مراد ہے، اس کے بارے میں مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے وہ غم مراد ہے جو حضور پُرنورﷺ کو کفار کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے رہتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس بوجھ سے امت کے گناہوں کا غم مراد ہے جس میں آپﷺ کا قلبِ مبارک مشغول رہتا تھا۔ مراد یہ ہے کہ اے حبیبﷺ! ہم نے آپ کو شفاعت قبول کیے جانے والا بنا کر غم کا وہ بوجھ دور کر دیا جس نے آپ کی پیٹھ توڑ دی تھی۔

پشتِ مبارک کی کیفیت و خصوصیات احادیث کی روشنی میں:

حضور اقدسﷺ کی پشتِ مبارک کشادہ تھی، جو کہ مرد کی شان و عظمت اور ان کے طاقت ور ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔ آپ کی پشتِ مبارک اس قدر سفید اور چمک دار تھی گویا کہ چاندی کو ڈھال کر بنایا گیا ہو۔ احادیثِ مبارکہ میں ان تمام امور کا ذکر موجود ہے۔ ذیل میں ان احادیث کی روشنی میں حضور ﷺ کی پشتِ انور کی پرنور باتیں نقل کی جا رہی ہیں۔

پشتِ اقدس کشادہ تھی:

حضور نبی کریمﷺ کی پشتِ مبارک وسیع و کشادہ تھی۔ اس بارے میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں:

كان رسول اللهﷺ واسع الظهر، بين كتفيه خاتم النبوة، وكان طويل مسربة الظهر. [رواه ابن عساكر، والبيهقي في دلائل النبوة، ج: 1، ص: 304]

ترجمہ: حضور نبی کریمﷺ کی پشتِ اقدس کشادہ تھی اور آپﷺ کے دونوں کاندھوں کے درمیان مہرِ نبوت تھی۔ [اس حدیث کو امام ابن عساکر نے اور امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت فرمایا ہے]

خلیفۂ اعلیٰ حضرت، مداحِ حبیب علامہ جمیل الرحمٰن قادری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

لگا کر پشت پر مہرِ نبوت حق تعالیٰ نے
انہیں آخر میں بھیجا، خاتمیت اس کو کہتے ہیں

پشتِ انور، گویا چاندی کو پگھلایا گیا ہو

حضرت مخرش کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم من الجعرانة، فنظرت إلى ظهره كأنه سبيكة فضة. [المعجم الكبير، ج: العشرون، ص: ٢٢٧، الرقم: ٧٧٢]

ترجمہ: حضورﷺ مقامِ جعرانہ میں عمرے کا احرام باندھ رہے تھے۔ میں نے آپﷺ کی پشتِ مبارک کو دیکھا تو اسے ایسا پایا گویا چاندی کو پگھلایا گیا ہو۔ [المعجم الكبير، ج: العشرون، ص: ٢٢٧، الرقم: ٧٧٢]

میں تمہیں پیٹھ پیچھے بھی دیکھتا ہوں:

محترم قارئین! یہ تو ظاہری خصوصیات اور خوبصورتی کا بیان ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ آپ اپنی پیٹھ کے پیچھے بھی دیکھ لیتے ہیں۔ چناں چہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

قال (النبيﷺ): أقيموا الركوع والسجود، فوالله إني لأراكم من بعدي ـ وربما قال: من بعد ظهري ـ إذا ركعتم وسجدتم. [رواه البخاري في كتاب الأذان، ح: ٧٤٢]

ترجمہ: نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے رکوع اور سجدے کو صحیح سے ادا کرو، اللہ پاک کی قسم! میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں، یا (یوں فرمایا:) میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے تمہیں دیکھتا ہوں، جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو۔

اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

روئے آئینۂ علمِ پشتِ حضور
پشتئ قصرِ ملت پہ لاکھوں سلام

پشتِ مبارک کی برکات:

سبحان اللہ! نور والے آقا ﷺ کا سارا جسم ہی نورانی و لاثانی اور اپنی مثال آپ ہے۔ قبل از اعلانِ نبوت بھی لوگ آپ کے اعضاءِ مبارکہ کی برکات سے مستفیض ہوتے رہے۔ چنانچہ ابن عساکر جلہمہ بن عرفطہ سے منقول ہے کہ جب میں مکہ میں داخل ہوا تو اہلِ مکہ قحط سالی سے بےحال تھے۔ اہلِ مکہ اس سے نجات پانے کے لیے آپس میں طرح طرح کے مشورے دے رہے تھے۔ کوئی کہہ رہا تھا: لات و عُزّٰی کے پاس چلو، تو کوئی منات کے پاس جانے کی رائے دے رہا تھا۔ اسی میں ایک خوبصورت، صاحبِ رائے بزرگ نے فرمایا: تم لوگ کہاں الٹی طرف جا رہے ہو، ہمارے درمیان حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی آل موجود ہے۔ لوگوں نے کہا: کیا آپ کی مراد ابو طالب ہیں؟ وہ بولے: ہاں! ابن عساکر کہتے ہیں: سب لوگ اٹھے، میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔ ہم ابو طالب کے دروازے پر پہنچے اور دستک دی۔ ابو طالب باہر نکلے۔ لوگوں نے کہا: جنگل قحط زدہ ہو گیا ہے، ہمارے بچے اور عورتیں سب قحط سالی میں مبتلا ہیں، آپ بارش کے لیے دعا کیجیے۔ پس ابو طالب نکلے۔ ان کے ساتھ ایک روشن چہرے والا خوبصورت بچہ تھا جس کی برکت سے سیاہ بادل دور ہو گیا۔ اس کے ارد گرد کچھ لڑکے موجود تھے۔ ابو طالب نے اس بچے (محمد ﷺ) کو لیا اور ان کی مبارک پشت کعبہ سے لگا دی۔ اس خوب رو بچے (محمدﷺ) نے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا، حالانکہ اس وقت آسمان میں کوئی بادل نہ تھا۔ اشارہ کرتے ہی چاروں طرف بادل چھا گئے اور اتنی بارش ہوئی کہ جنگلوں میں پانی ہی پانی نظر آنے لگا اور پوری آبادی سرسبز و شاداب ہو گئی۔

اس پر ابو طالب نے کہا:

وَأَبْيَضُ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ
ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ

یعنی: گورے رنگ والے جن کے چہرۂ انور کے وسیلے سے بارش طلب کی جاتی ہے، یتیموں اور بیواؤں کا سہارا ہیں۔

خلاصۂ کلام:

یہ کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پشتِ مبارک بلکہ جسمِ نازنین کے ہر ہر عضو میں جتنے کمالات، جتنی خوبصورتی اور جتنے اوصاف جمع ہو سکتے تھے، اللہ پاک نے وہ سارے اوصاف ان میں جمع فرما دیے اور آپ کو ہر اعتبار سے مکمل بنا کر بھیجا۔ آپ کو ہر عیب و نقص سے پاک پیدا فرمایا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!