Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

قربانی کیوں ضروری ہے؟ اتنی جان لینا، کیا اللہ اس سے خوش ہوگا؟

قربانی کیوں ضروری ہے، اتنی جان لینا، کیا اللہ اس سے خوش ہوگا؟
عنوان: قربانی کیوں ضروری ہے، اتنی جان لینا، کیا اللہ اس سے خوش ہوگا؟
تحریر: محمد اکرم رضا رضوی

یہ سوال آج کے دور کے ملحدین اور دین سے دور ذہن رکھنے والے لوگ بار بار اٹھاتے ہیں۔ بظاہر یہ سوال ”رحم“ کے لباس میں آتا ہے، مگر اس کے پیچھے اکثر مذہب، عبادت اور خدائی احکام پر اعتراض چھپا ہوتا ہے۔ حالانکہ اگر عقل، فطرت اور حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہی سوال خود ان کے نظریات پر پلٹ جاتا ہے۔ قربانی محض جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ بندۂ مؤمن کے دل میں موجود محبتِ الہی، اطاعتِ ربانی اور جذبۂ ایثار کا اعلان ہے۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس بے مثال وفاداری کی یادگار ہے جب انہوں نے اللہ کے حکم پر اپنے لختِ جگر کو قربان کرنے کا عزم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی جان نہیں لی، بلکہ ایک دنبہ عطا فرما کر قیامت تک کے لیے یہ سبق دے دیا کہ اصل مطلوب خون نہیں بلکہ فرمانبرداری ہے۔ قرآن مجید صاف اعلان کرتا ہے:

لَن يَنَالَ ٱللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ ٱلتَّقْوَىٰ مِنكُمْ

اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ [الحج: 37] تو پھر سوال یہ نہیں کہ جان کیوں لی گئی؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا انسان اپنے خالق کے حکم کے سامنے جھکنے کو تیار ہے یا نہیں؟ ملحدین کہتے ہیں: ”جانوروں پر رحم کرو“ ہم پوچھتے ہیں: دنیا بھر میں روزانہ کروڑوں جانور ہوٹلوں، فیکٹریوں اور ذائقے کی خاطر ذبح کیے جاتے ہیں، اس وقت یہ آوازیں کیوں خاموش ہو جاتی ہیں؟ چکن شاپ، مٹن مارکیٹ اور فاسٹ فوڈ کی میز پر رکھا گوشت انہیں ظلم محسوس نہیں ہوتا مگر جب وہی جانور اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے تو اچانک انسانیت جاگ اٹھتی ہے! حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے جانوروں کے ساتھ سب سے زیادہ رحم کا درس دیا۔ جانور کو بھوکا رکھنا گناہ، اس پر ظلم کرنا حرام، اس کے سامنے چھری تیز کرنا منع، اور ایک جانور کے سامنے دوسرے کو ذبح کرنا بھی ناجائز قرار دیا۔ دنیا کے کسی مذہب یا نظریے نے جانوروں کے حقوق کی اتنی باریک تعلیم نہیں دی جتنی اسلام نے دی۔

پھر قربانی صرف ذبح نہیں، بلکہ عبادت، تقسیمِ رزق اور سماجی ہمدردی کا عظیم نظام بھی ہے۔ کتنے غریب گھرانے ایسے ہیں جو پورا سال گوشت نہیں کھا پاتے مگر عید الاضحیٰ کے دن ان کے چولہے بھی خوشبو سے مہک اٹھتے ہیں۔ قربانی امیروں کو ایثار اور غریبوں کو خوشی دیتی ہے۔ ملحد مادیت کے ترازو میں ہر چیز کو تولتا ہے، اس لیے اسے عبادت میں روحانیت نظر نہیں آتی۔ وہ ماں کی ممتا کو کیمیکل، محبت کو ہارمون اور عبادت کو رسم سمجھتا ہے لیکن مؤمن جانتا ہے کہ کچھ اعمال صرف عقل سے نہیں، ایمان سے سمجھے جاتے ہیں۔ اگر جان لینا ہی ظلم ہے تو پھر درندے کیوں شکار کرتے ہیں؟ انسان سبزیاں بھی کاٹتا ہے، درخت بھی چیرتا ہے، دوا بنانے کے لیے بھی جاندار استعمال ہوتے ہیں۔ دنیا کا پورا نظام ہی ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانے پر قائم ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اسلام اس استعمال کو رحمت، توازن اور خدا کے حکم کے تابع کرتا ہے۔

قربانی انسان کو یہ درس دیتی ہے کہ اپنی خواہشات، اپنی انا، اپنی جانیں اور اپنا مال سب اللہ کے لیے قربان کرنا سیکھو۔ اصل قربانی چھری کے نیچے جانور کی نہیں، بلکہ دل کے اندر موجود تکبر، لالچ اور نفس کی ہوتی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان قربانی کو صرف رسم نہ بنائیں، بلکہ اس کی روح کو سمجھیں، تکبر، دکھاوا اور فضول نمائش سے بچیں۔ قربانی عبادت ہے، مقابلہ فخر نہیں۔ جب ایک مؤمن بسم الله الله أكبر کہہ کر قربانی کرتا ہے تو گویا اعلان کرتا ہے: ”اے اللہ! میری جان، میرا مال، میری چیزیں سب تیرے لیے ہیں۔“ اور یہی بندگی کا وہ مقام ہے جہاں انسان زمین سے اٹھ کر آسمانوں کی رضا پا لیتا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!