| عنوان: | سوانحِ حیات سید الہند حضرت سیدنا محمد قادری بغدادی ثم امجھری |
|---|---|
| تحریر: | محمد مشرف علی قادری مجددی تیغی، مظفر پور، بہار |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
ولادتِ باسعادت
آپ کی ولادتِ باسعادت 25 رمضان المبارک 810ھ بروزِ پنج شنبہ بوقتِ صبحِ صادق بغداد شریف میں ہوئی۔ [تذکرة الواصلین، ص: 140]
نام و نسب
آپ کا اسمِ گرامی سید محمد قادری ہے اور سید الہند، امیر الہند، سیدنا پاک آپ کے القاب ہیں۔ آپ کے والدِ ماجد حضرت سید شاہ شمس الدین درویش قادری ہیں جو پیرانِ پیر سرکارِ غوثِ اعظم کے آلِ پاک میں سے تھے اور اپنے وقت کے صاحبِ کشف و کرامت بزرگ، ولیِ کامل اور خانقاہِ قادریہ بغداد شریف کے سجادہ نشین تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ بی بی فاطمہ ہیں جو سید العلی حسنی کی دخترِ نیک اختر تھیں، جن کا شجرہِ نسب سید عبد اللہ صوفی جیلانی سے ملتا ہے۔ آپ نجیب الطرفین سید تھے، آپ کا شجرہِ نسب بارہویں پشت میں سرکارِ غوثِ پاک سے ملتا ہے۔ [تذکرة الواصلین، ص: 140]
تعلیم و تربیت
سات برس کی عمرِ شریف تک آپ اپنے والدینِ کریمین کے زیرِ سایہ رہ کر عمدہ تعلیم و تربیت سے آراستہ ہوئے، بعدہٗ آپ کے والدِ ماجد نے سید العلماء حضرت شیخ خلیل اللہ کے مدرسے میں آپ کا داخلہ کرایا۔ آپ نے اسی مدرسے میں حفظِ قرآن و تجوید حضرت شیخ أبو الإسحاق کوفی سے حاصل کی۔ علمِ مناظرہ، علمِ حدیث مع اسماء الرجال کی تعلیم حضرت أبو المکارم جنیدی، شیخ عبد اللہ سعیدی، شیخ أبو الخیر، عبد الرحیم، شیخ أبو الناصر عبد الغفار نجفی سے حاصل کی۔ علمِ تصوف اور علمِ تفسیر حضرت علامہ أبو الفرح جنیدی سے حاصل کی۔ اس طریقے پر آپ نے تیئیس سال کی عمرِ شریف میں تمام علوم و فنون پر مکمل عبور حاصل کر لیا۔ [تذکرة الواصلین، ص: 140]
بیعت و خلافت
جب ظاہری علوم و فنون سے آپ فارغ ہوئے تو آپ کے پدرِ بزرگوار حضرت سیدنا شمس الدین درویش قادری نے اپنے آبائی سلسلہِ عالیہ قادریہ میں آپ کو بیعت و خلافت سے نوازا اور ارشاد فرمایا: ”اے فرزند! یہ کفن پہنا رہا ہوں کیوں کہ خرقہِ خلافت پہننا اس مردِ کامل کے لیے زیبا ہے جو اپنی ہستی کو لاموجود سمجھے، پیر اپنے مرید کے لیے ذریعہ ہوتا ہے، مرید پر فرض ہے کہ وہ اپنے پیر کے حکم کی تعمیل کرے، مرید کو اپنی ذات مرشد کے ارادے میں فنا کر دینی چاہیے، وہ اپنے آپ کو مردہ تصور کرے، جس طرح مردہ دنیاوی ہستی سے محروم ہو کر غسال کے ہاتھوں سے کفن پہنتا ہے اسی طرح مرید اپنے مرشدِ کامل کے ہاتھوں خرقہِ فقر پہنتا ہے۔“ [تذکرة الواصلین، ص: 141]
ہندوستان میں آمد
قرن کے جنگل میں چار سالہ مجاہدہ اور تزکیہِ نفس کی تکمیل کے بعد جب آپ کی عمرِ شریف 27 سال کی ہوئی تو آپ اکثر خلا میں سنا کرتے تھے کہ مخلوقِ خدا کو حق کی طرف بلاؤ۔ 837ھ میں اپنے والدِ گرامی کے حکم پر مدینہ شریف کا سفر شروع کیا اور بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری دی اور مسجدِ نبوی میں معتکف ہوئے۔ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کرم فرمایا اور اپنی زیارت سے مشرف فرماتے ہوئے دعوتِ حق کا آغاز کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ چنانچہ آپ نے مکہ معظمہ سے دعوتِ حق کا آغاز فرمایا اور آٹھ سال مکہ شریف میں رہ کر اپنے والدِ گرامی سے ملاقات کرنے کی غرض سے بغداد شریف تشریف لائے اور اپنے والدِ گرامی کی خدمت میں چھ ماہ رہ کر ان کی اجازت سے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ عالیشان پر عمل کرتے ہوئے چالیس خلفا اور خادموں کو ساتھ لے کر ہندوستان کی طرف روانہ ہوئے۔ اس وقت آپ کے والدِ گرامی حضرت سید شمس الدین درویش قادری نے آپ کو تین چیزیں عطا فرمائیں: (1) تاج، (2) خرقہ اور (3) عصا۔ اور ارشاد فرمایا کہ ہندوستان پہنچنے کے بعد جس جگہ پر اس عصا کو نصب کرنے کے بعد وہ سرسبز و شاداب ہو جائے اسی جگہ پر اپنا مسکن بنانا۔ چنانچہ آپ اپنے خلفا اور خادموں کے ساتھ ہندوستان تشریف لائے۔ پہلے نرینا جنگل میں چند ماہ رہ کر ایک جزیرہ نما جنگلی علاقے امجا کے جنگل میں تشریف لائے۔ آپ کے قدمِ مبارک کی برکت سے وہ جنگل منگل میں تبدیل ہو گیا اور امجا سے امجھر شریف بن گیا۔
امجھر شریف صوبہِ بہار کا ایک مقدس قصبہ ہے جو ضلع اورنگ آباد میں واقع ہے اور شہرِ گیا سے ساٹھ کلومیٹر دور ہے۔ امجھر شریف سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر سون ندی جاری ہے۔ سرکارِ غوثِ پاک کا وہ عصا جو آپ لے کر آئے تھے جب زمینِ امجھر میں نصب فرمایا تو وہ عصا جلد ہی سبز و شاداب ہو گیا اور آج بھی وہ درخت آپ کے مزار کے احاطے میں موجود ہے۔ [تذکرة الواصلین، ص: 141-142]
کرامات
- اژدہا کلمہِ شہادت پڑھ کر آپ کا مرید بن گیا۔
- مردہ گھوڑا زندہ ہو گیا۔
- سون ندی نے اپنا رخ موڑ لیا۔
- کشتی کو ڈوبنے سے بچایا۔
- آپ کی دعا سے دفینہ ملا۔
ان کے علاوہ اور بھی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں۔ [تذکرة الواصلین، ص: 142]
وصالِ باکمال
940ھ میں آپ کا وصالِ باکمال ہوا۔ امجھر شریف میں آپ کا مزارِ اقدس مرجعِ خلائق بنا ہوا ہے۔ یکم ربیع النور شریف کو ہر سال آپ کا عرسِ پاک منایا جاتا ہے۔ [تذکرة الواصلین، ص: 142]
