| عنوان: | سیرتِ صدر الشریعہ رحمۃ اللّٰہ علیہ |
|---|---|
| تحریر: | غلام رسول عطاری |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
اسلامی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو علم و عمل کے آسمان پر درخشاں ستاروں کی مانند روشن رہتی ہیں۔ انہی جلیل القدر ہستیوں میں ایک عظیم نام حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کا ہے، جو اپنے علم، تقویٰ اور خدماتِ دینیہ کی بنا پر ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔ آپ نہ صرف ایک جلیل القدر عالمِ دین تھے بلکہ فقہِ حنفی کے ماہر، مسلکِ اہلسنت کے مضبوط ترجمان اور عاشقِ رسول بھی تھے۔ آپ کو ”صدر الشریعت“ اور ”بدر الطریقت“ جیسے عظیم القابات سے یاد کیا جاتا ہے، جو آپ کی علمی و روحانی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ آپ نے اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف ”بہارِ شریعت“ کے ذریعے دینی مسائل کو نہایت آسان اور عام فہم انداز میں پیش کیا، جو آج بھی اہلِ علم اور عوام دونوں کے لیے رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہے۔ جس طرح چمکتا ہوا چراغ اندھیروں کو دور کر کے راستہ دکھاتا ہے، اسی طرح آپ نے اپنے علم و فضل سے جہالت کے اندھیروں کو مٹایا اور امتِ مسلمہ کو ہدایت کا راستہ دکھایا۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ علم، عمل، اخلاص اور عاشقِ رسول کا حسین امتزاج تھی۔ اسی عظیم شخصیت کی سیرتِ مبارکہ کو بیان کرنا دراصل ایک روشن باب کو کھولنے کے مترادف ہے، جس سے ہمیں نہ صرف دینی رہنمائی حاصل ہوتی ہے بلکہ اپنی زندگی کو سنوارنے کا بھی حوصلہ ملتا ہے۔
ابتدائی حالات
صدرِ شریعت، بدرِ طریقت، محسنِ اہلسنت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، مصنفِ بہارِ شریعت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رضوی سنی حنفی قادری برکاتی علیہ رحمۃ اللہ القوی ۱۳۰۰ھ مطابق ۱۸۸۲ء میں مشرقی یوپی (ہند) کے قصبے مدینۃ العلماء گھوسی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدِ ماجد حکیم جمال الدین علیہ رحمۃ اللہ المبین اور دادا حضور خدا بخش رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فنِ طب کے ماہر تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے دادا حضرت مولانا خدا بخش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے گھر پر حاصل کی پھر اپنے قصبہ ہی میں مدرسہ ناصر العلوم میں جا کر گوپال گنج کے مولوی الہٰی بخش صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ سے کچھ تعلیم حاصل کی۔ پھر جونپور پہنچے اور اپنے چچا زاد بھائی اور اُستاذ مولانا محمد صدیق رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ سے کچھ اسباق پڑھے پھر جامع معقولات و منقولات حضرت علامہ ہدایت اللہ خان علیہ رحمۃ الرحمن سے علمِ دین کے چھلکتے ہوئے جام نوش کیے اور یہیں سے درسِ نظامی کی تکمیل کی۔ پھر دورۂ حدیث کی تکمیل پیلی بھیت میں اُستاذ المحدثین حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے کی۔ حضرت محدث سورتی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اپنے ہونہار شاگرد کی عبقری (یعنی اعلی صلاحیتوں کا) اعتراف ان الفاظ میں کیا: ”مجھ سے اگر کسی نے پڑھا تو امجد علی نے۔“
حیرت انگیز قوتِ حافظہ
صدر الشریعہ، بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی کا حافظہ بہت مضبوط تھا۔ حافظہ کی قوت، شوق و محنت اور ذہانت کی وجہ سے تمام طلبہ سے بہتر سمجھے جاتے تھے۔ ایک مرتبہ کتاب دیکھنے یا سننے سے برسوں تک ایسی یاد رہتی جیسے ابھی ابھی دیکھی یا سنی ہے۔ تین مرتبہ کسی عبارت کو پڑھ لیتے تو یاد ہو جاتی۔ ایک مرتبہ ارادہ کیا کہ کافیہ کی عبارت زبانی یاد کی جائے تو فائدہ ہوگا تو پوری کتاب ایک ہی دن میں یاد کر لی۔
صدرِ شریعت اعلیٰ حضرت کی بارگاہِ عظمت میں
ذریعۂ معاش سے مطمئن ہو کر جمادی الاولیٰ ۱۳۲۹ھ میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کسی کام سے لکھنؤ تشریف لے گئے۔ وہاں سے اپنے اُستاذِ محترم رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں پیلی بھیت حاضر ہوئے۔ حضرت محدث سورتی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو جب معلوم ہوا کہ ان کا ہونہار شاگرد تدریس چھوڑ کر مطب میں مشغول ہو گیا ہے تو انھیں بے حد افسوس ہوا۔ چونکہ صدر الشریعہ علیہ رحمۃ رب الوریٰ کا ارادہ بریلی شریف حاضر ہونے کا بھی تھا چنانچہ بریلی شریف جاتے وقت محدث سورتی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے ایک خط اس مضمون کا اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ رب العزت کی خدمت میں تحریر فرما دیا تھا کہ جس طرح ممکن ہو آپ ان (یعنی حضرت صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ) کو خدمتِ دین و علمِ دین کی طرف متوجہ کیجیے۔ جب میرے آقا اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ رب العزت کے درِ دولت پر حاضری ہوئی تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت لطف و کرم سے پیش آئے اور ارشاد فرمایا: ”آپ یہیں قیام کیجیے اور جب تک میں نہ کہوں واپس نہ جایئے۔“ اور دل بستگی کے لیے کچھ تحریری کام وغیرہ سپرد فرما دیے۔ تقریباً دو ماہ بریلی شریف میں قیام رہا اور میرے آقا اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ رب العزت کی صحبت میں علمی استفادہ اور دینی مذاکرہ کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ رمضان المبارک قریب آگیا۔ صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے گھر جانے کی اجازت طلب کی تو میرے آقا اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ رب العزت نے ارشاد فرمایا: ”جایئے لیکن جب کبھی میں بلاؤں تو فوراً چلے آئیے۔“
اس پہ دائم لطف فرما چشمِ حق بینِ رضا
مرشدِ کامل کا منظورِ نظر امجد علی
صدرِ شریعت کا خطاب کس نے دیا؟
”الملفوظ“ حصہ اول صفحہ ۱۸۳ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ میں ہے کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ رب العزت نے فرمایا: ”آپ موجودین میں تفقہ جس کا نام ہے وہ مولوی امجد علی صاحب میں زیادہ پائے گا، اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ استفتاء سنایا کرتے ہیں اور جو میں جواب دیتا ہوں لکھتے ہیں، طبیعت اخاذ ہے، طرز سے واقفیت ہو چکی ہے۔“ میرے آقا اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ رب العزت نے ہی حضرت مولانا امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کو صدر الشریعہ کے خطاب سے نوازا۔
اٹھا تھا لے کے جو ہاتھوں میں پرچم اعلیٰ حضرت کا
وہ میرِ کارواں ہے کاروانِ اہلسنت کا
صبر و تحمل
بڑے صاحبزادے حضرت مولانا حکیم شمس الہدیٰ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہو گیا تو صدر الشریعہ علیہ رحمۃ رب الوریٰ اُس وقت نمازِ تراویح ادا کر رہے تھے۔ اطلاع دی گئی تشریف لائے۔ ”إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“ پڑھا اور فرمایا: ”ابھی آٹھ رکعت تراویح باقی ہیں“، پھر نماز میں مصروف ہو گئے۔
نماز کی پابندی
سفر ہو یا حضر صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کبھی نماز قضا نہ فرماتے۔ شدید سے شدید بیماری میں بھی نماز ادا فرماتے۔ اجمیر شریف میں ایک بار شدید بخار میں مبتلا ہو گئے یہاں تک کہ غشی طاری ہوگئی۔ دو پہر سے پہلے غشی طاری ہوئی اور عصر تک رہی۔ حافظِ ملت مولانا عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ خدمت کے لیے حاضر تھے، صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ رحمۃ رب الوریٰ کو جب ہوش آیا تو سب سے پہلے یہ دریافت فرمایا: ”کیا وقت ہے؟ ظہر کا وقت ہے یا نہیں؟“ حافظِ ملت علیہ رحمۃ رب العزت نے عرض کی کہ اتنے بج گئے ہیں اب ظہر کا وقت نہیں۔ یہ سن کر اتنی اذیت پہنچی کہ آنکھ سے آنسو جاری ہو گئے۔ حافظِ ملت علیہ رحمۃ رب العزت نے دریافت کیا: ”کیا حضور کو کہیں درد ہے کہیں تکلیف ہے؟“ فرمایا: ”بہت بڑی تکلیف ہے کہ ظہر کی نماز قضا ہوگئی۔“ حافظِ ملت علیہ رحمۃ رب العزت نے عرض کی حضور بیہوش تھے۔ بیہوشی کے عالم میں نماز قضا ہونے پر کوئی مواخذہ (قیامت میں پوچھ گچھ) نہیں۔ فرمایا: ”آپ مواخذہ کی بات کر رہے ہیں وقتِ مقررہ پر دربارِ الٰہی عزوجل کی ایک حاضری سے تو محروم رہا۔“
نمازِ باجماعت کا جذبہ
حضرت صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ اس پر بہت سختی سے پابند تھے کہ مسجد میں حاضر ہو کر باجماعت نماز پڑھیں۔ بلکہ اگر کسی وجہ سے مؤذن صاحب وقتِ مقررہ پر نہ پہنچتے تو خود اذان دیتے۔ قدیم دولت خانے سے مسجد بالکل قریب تھی وہاں تو کوئی دقت نہیں تھی لیکن جب نئے دولت خانے قادری منزل میں رہائش پذیر ہوئے تو آس پاس میں دو مسجدیں تھیں۔ ایک بازار کی مسجد دوسری بڑے بھائی کے مکان کے پاس جو نوّا کی مسجد کے نام سے مشہور ہے۔ یہ دونوں مسجدیں فاصلے پر تھیں۔ اس وقت بینائی بھی کمزور ہو چکی تھی، بازار والی مسجد نسبتاً قریب تھی مگر راستے میں بےتکی نالیاں تھیں۔ اس لیے ”نوّا کی مسجد“ نماز پڑھنے جاتے تھے۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ صبح کی نماز کے لیے جا رہے تھے، راستے میں ایک کنواں تھا، ابھی کچھ اندھیرا تھا اور راستہ بھی ناہموار تھا، بے خیالی میں کنویں پر چڑھ گئے قریب تھا کہ کنویں کے غار میں قدم رکھ دیتے۔ اتنے میں ایک عورت آگئی اور زور سے چلائی! ارے مولوی صاحب کنواں ہے رک جاؤ اور نہ گر پڑیو! یہ سن کر حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے قدم روک لیا اور پھر کنویں سے اتر کر مسجد گئے۔ اس کے باوجود مسجد کی حاضری نہیں چھوڑی۔
بیماری میں بھی روزہ نہ چھوڑا
ایک بار رمضان المبارک میں سخت سردی کا بخار چڑھ گیا۔ اس میں خوب ٹھنڈ لگتی اور شدید بخار چڑھتا ہے نیز پیاس اتنی شدت سے لگتی ہے کہ ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے۔ تقریباً ایک ہفتہ تک اس بخار میں گرفتار رہے۔ ظہر کے بعد خوب سردی چڑھتی پھر بخار آ جاتا مگر قربان جایئے! اس حال میں بھی کوئی روزہ نہیں چھوڑا۔
درودِ رضویہ پڑھنے کا جذبہ
کتنی ہی مصروفیت ہو نمازِ فجر کے بعد ایک پارے کی تلاوت فرماتے اور پھر ایک حزب (باب) دلائل الخیرات شریف پڑھتے اس میں کبھی ناغہ نہ ہوتا، و بعد نمازِ جمعہ بلا ناغہ ۱۰۰ بار درودِ رضویہ پڑھتے حتیٰ کہ سفر میں بھی جمعہ ہوتا تو نمازِ ظہر کے بعد درودِ رضویہ نہ چھوڑتے، چلتی ہوئی ٹرین میں کھڑے ہو کر پڑھتے۔ ٹرین کے مسافر اس دیوانگی پر حیرت زدہ ہوتے مگر انھیں کیا معلوم:
دیوانے کو تحقیر سے دیوانہ نہ کہنا
دیوانہ بہت سوچ کے دیوانہ بنا ہے
اصلاح کرنے کا انداز
اولاد اور طلبہ کی عملی تعلیم و تربیت کا بھی آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ خصوصی خیال فرماتے تھے۔ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کا تقویٰ و تدین اس امر کا متحمل ہی نہ تھا کہ کوئی آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے خلافِ شرع کام کرے اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے علم میں طلبہ یا اولاد کے بارے میں کوئی ایسی بات آتی جو احکامِ شریعت کے خلاف ہوتی تو چہرہ مبارکہ کا رنگ بدل جاتا تھا کبھی شدید ترین برہمی کبھی زجر و توبیخ (ڈانٹ ڈپٹ) اور کبھی تنبیہ و سزا اور کبھی موعظۂ حسنہ غرض جس مقام پر جو طریقہ بھی آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ مناسب خیال فرماتے استعمال میں لاتے تھے۔
مدینے کا مسافر ہند سے پہنچا مدینے میں
خلیفۂ صدرِ شریعت، پیرِ طریقت حضرت علامہ مولانا حافظ قاری محمد مصلح الدین صدیقی القادری علیہ رحمۃ اللہ القوی سے میں نے سنا ہے، وہ فرماتے تھے مصنفِ بہارِ شریعت حضرت صدر الشریعہ مولانا محمد امجد علی اعظمی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ہمراہ مجھے مدینۃ الاولیا احمد آباد شریف (ہند) میں حضرت سیدنا شاہ عالم رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے دربار میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی، ان دونوں تختوں کے نیچے حاضر ہوئے اور اپنے اپنے دل کی دعائیں کر کے جب فارغ ہوئے تو میں نے اپنے پیر و مرشد حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ سے عرض کی: ”حضور! آپ نے کیا دعا مانگی؟“ فرمایا: ”ہر سال حج نصیب ہونے کی۔“ میں سمجھا حضرت کی دعا کا منشا یہی ہوگا کہ جب تک زندہ رہوں حج کی سعادت ملے لیکن یہ دعا بھی خوب قبول ہوئی کہ اسی سال حج کا قصد فرمایا۔ سفینۂ مدینہ میں سوار ہونے کے لیے اپنے وطن مدینۃ العلماء گھوسی سے بمبئی تشریف لائے۔ یہاں آپ کو نمونیہ ہو گیا اور سفینے میں سوار ہونے سے قبل ہی ۱۳۶۷ھ کے ذیقعدۃ الحرام کی دوسری شب ۱۲ بجکر ۲۶ منٹ پر بمطابق ۶ ستمبر ۱۹۴۸ء کو آپ وفات پا گئے۔
مدینے کا مسافر ہند سے پہنچا مدینے میں
قدم رکھنے کی بھی نوبت نہ آئی تھی سفینے میں
سبحان اللہ! مبارک تخت کے تحت مانگی ہوئی دعا کچھ ایسی قبول ہوئی کہ اب آپ ان شاء اللہ عزوجل قیامت تک حج کا ثواب حاصل کرتے رہیں گے۔ خود حضرت صدر الشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب بہارِ شریعت حصہ ۶ صفحہ ۵ پر یہ حدیثِ پاک نقل کی ہے جو حج کے لیے نکلا اور فوت ہو گیا تو قیامت تک اس کے لیے حج کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا اور جو عمرہ کے لیے نکلا اور فوت ہو گیا اس کے لیے قیامت تک عمرہ کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا اور جو جہاد میں گیا اور فوت ہو گیا اس کے لیے قیامت تک غازی کا ثواب لکھا جائے گا۔
آپ کا مزار مبارک
بعدِ وفات حضرت صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کے وجودِ مسعود کو بذریعہ ٹرین ممبئی سے مدینۃ العلما گھوسی لے جایا گیا۔ وہیں آپ کا مزارِ مبارک مرجعِ خواص و عوام ہے۔
جس کی ہر ہر ادا سنتِ مصطفیٰ
ایسے صدرِ شریعت پہ لاکھوں سلام
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کی سیرتِ مبارکہ کا مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ علمِ دین حاصل کرنا، اس پر عمل کرنا اور اسے عام کرنا ایک مومن کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ آپ کی پوری زندگی شریعت کی خدمت، سنت کی پیروی اور مسلکِ اہلسنت کی اشاعت میں گزری، جو ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے۔ آپ نے جس اخلاص، محنت اور لگن کے ساتھ دینِ اسلام کی خدمت انجام دی، وہ رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔ آپ کی تصانیف، خصوصاً ”بہارِ شریعت“، آج بھی مسلمانوں کے لیے ایک قیمتی خزانہ ہیں، جن سے لوگ اپنی دینی و عملی زندگی کو سنوارتے ہیں۔ اگر ہم بھی آپ کی تعلیمات پر عمل کریں، علم کو عام کریں اور اپنے کردار کو شریعت کے مطابق ڈھالیں تو یقیناً ہم دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے۔ آمین۔
