| عنوان: | امام احمد رضا اور ان کے اصلاحی نقوش (قسط دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی عبد الرحیم نشتر فاروقی |
| پیش کش: | غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما |
ایسے گمراہ اور گمراہ گر صوفیوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے امام احمد رضا خان قادری قدس سرہ فرماتے ہیں:
”صوفی وہ ہے کہ اپنی خواہشوں، اپنی مرادوں کو شریعت کے تابع کرے، بے اتباعِ شرع کسی خواہش پر نہ لگے نہ کہ وہ ہوس اور نفسانی خواہشوں کی خاطر شرع سے دست بردار ہو اور اتباعِ شریعت سے آزاد، شریعت غذا ہے اور طریقت قوت، جب غذا ترک کی جائے گی قوت آپ زوال پائے گی، شریعت آنکھ ہے اور طریقت نظر، اور آنکھ پھوٹ کر نظر کا باقی رہنا غیر متصور، عقلِ سلیم قبول نہیں کرتی تو شریعتِ مطہرہ میں کب مقبول و معتبر، منزل تک پہنچنے کے بعد اگر اتباعِ شریعت سے بے پرواہی ہوتی اور احکامِ شرع کا اتباع لازم و ضروری نہ رہتا یا بندہ اس میں مختار ہوتا تو سید العالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور امام الواصلین علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ اس کے ساتھ احق ہوتے اور ترکِ بندگی اور اتباعِ شرع کے باب میں سب سے مقدم، نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ جس قدر قربِ حق زیادہ ہوتا ہے شرع کی باگیں اور زیادہ سخت ہوتی ہیں۔“ [اعتقاد الاحباب، ص: 37]
مکار صوفیوں کی حقیقت آشکار کرتے ہوئے ایک مقام پر حضرت شیخ جنید بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں:
قول 10: حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی گئی: کچھ لوگ زعم کرتے ہیں کہ إِنَّ التَّكَالِيْفَ كَانَتْ وَسِيْلَةً إِلَى الْوُصُوْلِ وَقَدْ وَصَلْنَا یعنی احکامِ شریعت کی تکلیفیں تو وصول کا وسیلہ تھیں اور ہم واصل ہو چکے، اب ہمیں شریعت کی کیا حاجت؟ فرمایا: صَدَقُوْا فِي الْوُصُوْلِ وَلٰكِنْ إِلٰى سَقَرَ وَالَّذِيْ يَسْرِقُ وَيَزْنِيْ خَيْرٌ مِّمَّنْ يَّعْتَقِدُ ذٰلِكَ وَلَوْ أَنِّيْ بَقِيْتُ أَلْفَ عَامٍ مَّا نَقَصْتُ مِنْ أَوْرَادِيْ شَيْئًا إِلَّا بِعُذْرٍ شَرْعِيٍّ سچ کہتے ہیں، واصل ضرور ہوئے لیکن کہاں؟ جہنم تک، چور اور زانی ایسے عقیدے والوں سے بہتر ہیں، میں اگر ہزار برس جیوں تو فرائض و واجبات تو بڑی چیزیں ہیں جو نوافل و مستحبات مقرر کر لیے ہیں بے عذرِ شرعی ان میں سے بھی کچھ کم نہ کروں۔ [مقالِ عرفا، مشمولہ فتاویٰ رضویہ جدید، ج: 7، ص: 313]
بغیر علم تصوف کی راہ میں جادہ پیمائی کرنا اپنے آپ کو شدید ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے، چنانچہ اس سلسلے میں امام احمد رضا حضرت شیخ سری سقطی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں جو انہوں نے حضرت سیدنا جنید بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے بطورِ دعا ارشاد فرمایا:
قول 8: حضرت سیدنا جنید بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے پیر حضرت شیخ سری سقطی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے دعا دی: جَعَلَكَ اللهُ صَاحِبَ حَدِيْثٍ صُوْفِيًّا وَلَا جَعَلَكَ صُوْفِيًّا صَاحِبَ حَدِيْثٍ اللہ تمہیں حدیث داں کر کے صوفی بنائے اور حدیث داں ہونے سے پہلے تمہیں صوفی نہ کرے۔
قول 9: امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی اس دعائے حضرت سری سقطی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شرح فرماتے ہیں: أَشَارَ إِلٰى أَنَّ مَنْ حَصَّلَ الْحَدِيْثَ وَالْعِلْمَ ثُمَّ تَصَوَّفَ أَفْلَحَ وَمَنْ تَصَوَّفَ قَبْلَ الْعِلْمِ خَاطَرَ بِنَفْسِهٖ حضرت سری سقطی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ جس نے پہلے حدیث و علم حاصل کر کے تصوف میں قدم رکھا وہ فلاح کو پہنچا اور جس نے علم حاصل کرنے سے پہلے (تصوف اختیار کیا اس نے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا)۔ صوفی بننا چاہا اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا۔ [مقالِ عرفا، مشمولہ فتاویٰ رضویہ جدید، ج: 7، ص: 317]
خیر القرون کے بعد لوگوں کے اعتقاد و عمل میں بگاڑ اور بے اعتدالیاں پیدا ہوئیں، علم و عمل، تقویٰ و طہارت، خوف و خشیتِ الٰہی سے خالی افراد نے ازراہِ فریب صوفیہ اور مشائخ کا لبادہ اوڑھ لیا اور سادہ لوح عوام کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کرنے لگے، کچھ نام نہاد صوفیوں نے عورتوں کی طرح بال بڑھائے اور نصف درجن انگوٹھیاں پہن لیں، چنانچہ امام احمد رضا سے سوال ہوا کہ بال بڑھانے والے مکار صوفیا حضرت شیخ گیسو دراز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زلفِ دراز کو اپنے لیے دلیل بناتے ہیں، آپ نے ایسے بدعات و خرافات کے دلدادہ صوفیوں کا ردِ بلیغ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”جہالت ہے، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بکثرت احادیثِ صحیحہ میں ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں سے مشابہت پیدا کریں اور ان عورتوں پر جو مردوں سے، اور کسی کے لیے ہر بات میں پوری وضع بتانا ضروری نہیں، ایک ہی بات میں مشابہت کافی ہے، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک عورت کو ملاحظہ فرمایا کہ مردوں کی طرح کندھے پر کمان لٹکائے جا رہی تھی، اس پر بھی یہی فرمایا کہ ان عورتوں پر لعنت جو مردوں سے تشبہ کریں، ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک عورت کو مردانہ جوتا پہنے دیکھا، اس پر بھی یہی حدیث روایت فرمائی کہ مردوں سے تشبہ کرنے والیاں ملعون ہیں، جب صرف جوتے یا کمان لٹکانے میں مشابہت موجبِ لعنت ہے تو عورتوں کے سے بال بڑھانا اس سے سخت تر موجبِ لعنت ہوگا کہ وہ ایک خارجی چیزیں ہے اور یہ خاص جزوِ بدن، تو شانوں سے نیچے گیسو رکھنا بحکمِ احادیثِ صحیحہ ضرور موجبِ لعنت ہے اور چوٹی گندھوانا اور زیادہ اور اس میں مینڈاف ڈالنا اور اس سے سخت تر۔
حضرت سیدی محمد گیسو دراز قدس سرہ نے تشبہ نہ کیا تھا، ایک گیسو محفوظ رکھا تھا اور اس کے لیے ایک وجہِ خاص تھی کہ اکابر علما و اجلہ سادات سے تھے، جوانی کی عمر تھی، سادات کی طرح شانوں پر دو گیسو رکھتے تھے کہ اس قدر شرعاً جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے، ایک بار سرِ راہ بیٹھے حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی سواری نکلی، انہوں نے اٹھ کر زانوئے مبارک پر بوسہ دیا، حضرت خواجہ نے فرمایا: سید فروتر، سید اور نیچے بوسہ دو، انہوں نے پائے مبارک پر بوسہ لیا، فرمایا: سید فروتر، انہوں نے گھوڑے کے سم پر بوسہ دیا، ایک گیسو کہ رکابِ مبارک میں الجھ گیا تھا وہیں الجھا رہا اور رکاب سے سم تک بڑھ گیا، حضرت نے فرمایا: سید فروتر، انہوں نے ہٹ کر زمین پر بوسہ دیا، گیسو رکابِ مبارک سے جدا کر کے حضرت تشریف لے گئے، لوگوں کو تعجب ہوا کہ ایسے جلیل سید، اتنے بڑے عالم نے زانو پر بوسہ دیا اور حضرت راضی نہ ہوئے اور نیچے بوسہ دینے کو حکم فرمایا، انہوں نے پائے مبارک کو بوسہ دیا اور نیچے کو حکم فرمایا، گھوڑے کے سم پر بوسہ دیا اور نیچے کو حکم فرمایا، یہاں تک کہ زمین پر بوسہ دیا۔
یہ اعتراض حضرت سید گیسو دراز نے سنا فرمایا: لوگوں نہیں جانتے کہ میرے شیخ نے ان چار بوسوں میں کیا عطا فرما دیا، جب میں نے زانوئے مبارک پر بوسہ دیا، عالمِ ناسوت منکشف ہو گیا، جب پائے اقدس پر بوسہ دیا عالمِ ملکوت منکشف ہوا، جب گھوڑے کے سُم پر بوسہ دیا عالمِ جبروت منکشف تھا، جب زمین پر بوسہ دیا لاہوت کا انکشاف ہو گیا، اس ایک گیسو کو کہ جلیل نعمت کا یادگار تھا اور اسے ایسی تجلیِ رحمت نے بڑھایا تھا نہ ترشوایا، اسے تشبہ سے کیا علاقہ؟ عورتوں کا ایک گیسو بڑا نہیں ہوتا، نہ اتنا دراز اور اس کے محفوظ رکھنے میں یہ راز، اس کی سند ابو محذورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فعل ہے، جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے طائف شریف فتح فرمایا، اذان ہوئی، بچوں نے اس کی نقل کی، ان میں ابو محذورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے، ان کی آواز بہت بلند تھی، حضور نے آپ کو بلایا اور سر پر دستِ مبارک رکھا اور ان کو مؤذن مقرر فرمایا، ماں نے برکت کے لیے پیشانی کے ان بالوں کو جن پر دستِ اقدس رکھا گیا تھا، محفوظ رکھا، جس وقت بال کھولے جاتے تو زمین پر آ جاتے تھے، اسے تشبہ سے کچھ علاقہ نہیں، عورتیں فقط پیشانی کے بال نہیں بڑھاتیں اور ان کا محفوظ رکھنا اس کی برکت کے لیے تھا۔“ [الملفوظ، حصہ دوم، ص: 103-105]
کچھ ڈھونگی صوفی عورتوں کے وضع قطع میں رہتے ہیں، طرح طرح کی گندی گالیاں، خلافِ شرع افعال و اقوال کا ارتکاب اور کہتے ہیں کہ ہم مجذوب ہیں جیسے حضرت موسیٰ سہاگ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جب ان کے لیے جائز ہے تو ہمارے لیے کیوں نہیں؟ امام احمد رضا حضرت موسیٰ سہاگ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ایسے گمراہ گر صوفیوں کے بارے میں فرماتے ہیں:
”سچے مجذوب کی یہ پہچان ہے کہ شریعتِ مطہرہ کا کبھی مقابلہ نہ کرے گا، حضرت سیدی موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مشہور مجاذیب سے تھے، احمد آباد میں مزار شریف ہے، میں زیارت سے مشرف ہوا ہوں، زنانہ وضع رکھتے تھے، ایک بار قحطِ شدید پڑا، بادشاہ، قاضی و اکابر جمع ہو کر حضرت کے پاس دعا کے لیے گئے، انکار فرماتے رہے کہ میں کیا دعا کے قابل ہوں، جب لوگوں کی التجا زاری حد سے گزری، ایک پتھر اٹھایا اور دوسرے ہاتھ کی چوڑیوں کی طرف لائے اور آسمان کی جانب منہ اٹھا کر فرمایا: مینہ بھیجئے یا اپنا سہاگ لیجئے، یہ کہنا تھا کہ گھٹائیں پہاڑ کی طرح امڈیں اور جل تھل بھر دیے۔
ایک دن جمعہ کے وقت بازار میں جا رہے تھے، ادھر سے قاضیِ شہر کہ جامع مسجد کو جاتے تھے، آئے، انہیں دیکھ کر امر بالمعروف کیا کہ یہ وضع مردوں کو حرام ہے، مردانہ لباس پہنئے اور نماز کو چلئے، اس پر انکار و مقابلہ نہ کیا، چوڑیاں اور زیور اور زنانہ لباس اتارا اور مسجد کو ساتھ ہو لیے، خطبہ سنا جب جماعت قائم ہوئی اور امام نے تکبیرِ تحریمہ کہی، اللہ اکبر سنتے ہی ان کی حالت بدلی، فرمایا: اللہ اکبر میرا خاوند ’حی لا یموت‘ ہے کہ کبھی نہ مرے گا اور یہ مجھے بیوہ کیے دیتے ہیں، اتنا کہنا تھا کہ سر سے پاؤں تک وہی سرخ لباس تھا اور وہی چوڑیاں۔
اندھی تقلید کے طور پر ان کے مزار کے بعض مجاوروں کو دیکھا کہ اب تک بالیاں، کڑے، جوشن پہنتے ہیں، یہ گمراہی ہے، صوفی صاحبِ تحقیق اور ان کا مقلد زندیق۔“ [الملفوظ، حصہ دوم، ص: 89]
[ماہنامہ سنی دنیا، امام احمد رضا نمبر، نومبر 2018ء، ص: 11-14]
