| عنوان: | سیرت طیبہ اور ضعیفوں کے حقوق |
|---|---|
| تحریر: | مفتی مظفر رضا قادری |
| پیش کش: | بنت جمال الدین اشرفی |
یہ ایک داستان ہے، اس دور کی جب وقت نے پر لگا کر اڑنا شروع کر دیا ہے اور زندگی ایک بے لگام گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑ رہی ہے۔ اس دوڑ میں سب کچھ پیچھے رہ جاتا ہے اور دھندلا جاتا ہے۔
ہمارے ہاتھ میں یہ دنیا سمٹ آئی ہے، مگر ہم اپنے دلوں میں اکیلے رہ گئے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا؟ اس برق رفتار معاشرت کے طوفان میں، سب سے پہلے کون ڈوبتا ہے؟ وہ نہیں جو طاقت ور ہے، وہ نہیں جو چھوٹا ہے، بلکہ وہ بھلا دیا جاتا ہے، وہ جس کے مسلسل بڑھاپے کی کمزوری میں لاٹھیاں لگ چکی ہیں، وہ جس کی آنکھوں کا نور مدھم ہو چکا ہے اور وہ جس کے ہاتھوں کی رفتار ماند پڑ گئی ہے۔
آج کے اس شہرِ بے حسی میں، ہمارے بڑے بزرگ محض ایک فالتو شے تصور کیے جا رہے ہیں، وہ والدین جو ہمارے بچپن میں ہماری پیٹھ کا سہارا تھے، آج خود اپنے گھروں میں مسافر کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ ان کی سفید داڑھیاں اور جھریوں بھرے چہرے یہ بتاتے ہیں کہ وقت کتنا بے رحم ہے۔ ایک وقت تھا جب ان کی حکایتیں محفلوں کی جان تھیں مگر آج ہمارے پاس وقت نہیں کہ ان کی آواز سنیں، نہ ہی ان کو یاد کریں۔ غیر مسلم اقوام میں، جہاں خاندانی نظام برباد ہو چکا ہے، وہاں ہر بڑا شخص اجرت کی ادائیگی پر کسی این جی او یا اولڈ ایج ہوم میں جاتا ہے، وہاں محبت اور شفقت اداروں کی دیواروں کے اندر تلاش کی جاتی ہے۔ ہم الحمد للہ کہ وہ لوگ ہیں جنہیں ابھی بڑے بزرگوں کو اہلِ و عیال کی یادوں کے پیشِ نظر بے وقعت نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی اس سے محبت ختم ہوئی ہے۔ ہم مسلمانوں نے اگرچہ اپنے بزرگوں کو جسمانی طور پر خاندان سے علیحدہ نہیں کیا ہے، تو کیا انہیں جذباتی طور پر بھی دھتکار نہیں دیا ہے؟ ہم نے اگر انہیں گھر سے نہیں نکالا تو کیا دلوں سے بھی نہیں نکالا؟
اس فلسفیانہ پس منظر میں، جہاں بوڑھوں کی عدم دیکھ بھال عام ہو چکی ہے، ہمیں ایک عجیب و غریب تلاش ہے۔ ایک ایسا نظام جو اس ٹوٹے رشتے کو دوبارہ جوڑ دے، ایک ایسا دستور جو ہمیں یہ یاد دلا دے کہ ہماری اصل طاقت ہمارے بزرگوں کے تجربے میں پنہاں ہے اور وہ ہمارے مؤمن و متقی ورثے کے محافظ ہیں اور صرف سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پرتو انہی میں جلوہ گر ہے۔ سیرتِ طیبہ کا ہر درس اصلاً کتاب اللہ کی تعبیر ہے، اور ہمارے بزرگوں کے حقوق ان سب سے ملا ہوا ایک عالمانہ باب ہے۔ خود قرآنِ مجید نے بطورِ خاص والدین کے حقوق کو توحید کے فوراً بعد ذکر کر کے اسے ایک عظمت و تقدس عطا کیا ہے، جو ”اُف“ کہنا کیوں منع کیا گیا؟ کیوں کہ یہ محض ایک لفظ نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی ہتھیار ہے جو بزرگوں کے نازک دلوں کو توڑ سکتا ہے۔ جو بات ہمیں چھوٹی سی لگتی ہے، وہ ضعیف العمری میں معمولی سے معمولی بات بھی برداشت کے قابل نہیں ہوتی۔ والدین کے لیے ”اُف“ کہنا گناہ ہے، تو پھر کسی اتنے بزرگ، رشتہ دار یا کمزور بڑھاپے کے ساتھ تلخ کلامی یا حقیر کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟
آیت ایک آئینی و دستوری فرمان ہے جو معیار قائم کرتا ہے کہ جب ایک انسان بڑھاپے کی کمزوری میں داخل ہو جائے، تو اس سے بات کرتے وقت ہماری زبان سے نکلنے والا ہر لفظ عزت اور نرمی کی چادر میں لپٹا ہوا ہونا چاہیے۔ ایک اخلاقی پیغام ہے کہ کوئی بھی بوڑھا انسان، چاہے وہ اس کا قرابت دار نہ ہو اور نہ ہی اس کا ہم مذہب، ہمارے معاشرے میں دیانت و احترام کی خاص توجہ کا مستحق ہے۔
قرآنِ کریم نے بڑے بوڑھوں کے حقوق کی نظریاتی بنیاد رکھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عملی جامہ پہنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بوڑھوں کا اکرام اور بڑے کی عزت کو ایمانی اخلاق کا جزو قرار دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَلَمْ يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا
یعنی ”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا اکرام نہ کرے۔“ (ترمذی، حدیث: ۱۹۲۰)
یہ جملہ گویا نبوت کی تلوار ہے جو معاشرتی رشتوں کے بگڑے ہوئے جوڑ کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ بزرگ جو اپنی کمزوری اور انکساری کے ساتھ ہیں، وہ آپ کی قانونی اور دنیاوی طاقت کا مرکز نہیں، بلکہ وہ اس امت کی رحمت کے دائرے سے قریب تر ہیں۔ آپ نے اعلان کر دیا کہ کسی امت کی پہچان، اس کا مورخ اور اس کا وقار وہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے مسلمانوں کی عزت کو خدا کی عظمت کے ساتھ جوڑ کر انہیں ایک ناقابلِ تسخیر مقام عطا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ مِنْ إِجْلَالِ اللَّهِ إِكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ
یعنی ”اللہ کی تعظیم میں سے ہے کہ مسلمان بوڑھے کا اکرام کیا جائے۔“ (ابو داؤد، حدیث: ۴۸۴۳)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بوڑھوں کے احترام کو اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ ایک معاشرتی سرمایہ کاری بھی قرار دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا أَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخًا لِسِنِّهِ إِلَّا قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ مَنْ يُكْرِمُهُ عِنْدَ سِنِّهِ
یعنی ”جو نوجوان کسی بوڑھے کا اس کی بڑی عمر کی وجہ سے اکرام کرتا ہے تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ بڑھاپے میں اس کے اکرام کا انتظام فرماتا ہے۔“ (ترمذی، حدیث: ۲۰۲۲)
لہٰذا آج کا نوجوان جب اپنے بزرگ کے لیے جگہ خالی کرتا ہے، ان کا ہاتھ تھامتا ہے، تو وہ دراصل اپنے کل کے لیے رحمت کا بیج بو رہا ہوتا ہے۔ یہ ”اکرام الشیوخ“ عمل کے بدلے میں خود کو اپنے بڑھاپے میں کریم معاشرے کا حقدار بنا رہا ہے۔ حدیث کے مطابق اگر نوجوانوں کو یہ حکم ہو کہ وہ اپنے بزرگوں کو حقیر نہ جانیں، تو کبھی ادب و محبت میں آج جو کمی ہے، وہ دور ہو جائے گی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ہمیشہ یہ اصول نافذ رہا کہ ادب میں بڑے کو اہمیت دی جائے۔ یہاں تک کہ بات کرنے میں بھی بزرگ کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ جب حضرت عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے، تو ان کے بھائی عبدالرحمن بن سہل اور ان کے چچا زاد بھائی حویصہ اور محیصہ (رضی اللہ عنہم) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گفتگو کرنے کے لیے آئے۔ عبدالرحمن بن سہل جو ان میں سب سے چھوٹے تھے، بولنے کے لیے آگے بڑھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الْكُبْرَ الْكُبْرَ
یعنی ”بڑوں کو مقدم کرو، بڑوں کو،“
پھر فرمایا:
لِيَتَكَلَّمِ الْأَكْبَرُ
یعنی ”بڑے کو پہلے بولنے دو۔“ (بخاری، حدیث: ۳۱۷۳)
یہ حدیثِ پاک سکھاتی ہے کہ بڑوں کی عزت صرف خبر گیری تک محدود نہیں، بلکہ گفتگو، فیصلہ سازی اور انصاف کے اہم ترین معاملے میں بھی اسی کو پہلا مقام حاصل ہے۔ اس موقع پر، جہاں ایک جوان اپنے چچا زاد بھائی کے قتل پر انتقامی طور پر آگے بڑھتا ہے، وہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غم و غصے کے باوجود بزرگوں کے احترام کو مقدم رکھا۔ آپ نے ایک انتہائی پُر کشش ضابطہ دیا اور مسلمانوں کو بتا دیا کہ بات کرنے کا حق بھی کسی عمومی معاملے میں پہلے بڑے (بزرگ) کا ہے۔ اس لیے جب کسی محفل میں ایک بزرگ موجود ہو تو ہماری زبان، ہمارے اشارے، اور ہمارے مقدمات یہ مظاہرہ کریں کہ بزرگ کی حیثیت تم سے مقدم ہے۔ بزرگوں کا اکرام محض ایک رسمی معاشرتی روایت نہیں، بلکہ وہ روحانی معاملہ ہے جس میں ہمیں یکساں رہنا چاہیے۔ اس کی ابتدا سلام سے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ
یعنی ”چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔“ (ترمذی، حدیث: ۲۷۰۳)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹے کو بڑے کے عملی معاملات میں بھی تعلیم دی کہ بڑے کو مقدم رکھنا، احترام کا عمومی طریقہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ مسواک فرمائی اور اس کے بعد جب مسواک تقسیم کرنے کا وقت آیا تو آپ نے دو صحابہ کرام میں سے بڑی عمر والے کو پہلے مسواک عنایت فرمائی۔ (ابو داود، احکام الطہارۃ، رقم الحدیث: ۵۰)
اگرچہ مسواک ایک معمولی سی چیز ہو، مگر اس میں بھی بزرگ کو ترجیح دے کر، آپ نے سکھایا کہ اکرام کوئی بڑی بات نہیں، بلکہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں شامل ہونا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شیخوخیت کی افرادی حمایت کو اخلاقی ذمہ داری قرار دیا اور اسے رزق و برکت کا ذریعہ بھی قرار دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الْبَرَكَةُ مَعَ أَكَابِرِكُمْ
یعنی ”برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے۔“ (معجم الکبیر، رقم الحدیث: ۲۰)
آج جو لوگ برکت کے نہ ہونے کے شاکی ہیں، انہیں یہ آسان نسخہ یاد رکھنا چاہیے: ”برکت بزرگوں کے قدموں میں ہے۔“ لہٰذا ہماری مادی طاقت اور ترقی ہمارے بازوؤں کی قوت سے نہیں، بلکہ ہمارے ضعیف بزرگوں کی دعاؤں کی قوت سے وابستہ ہے۔
سیرتِ طیبہ کا وہ مقام، جہاں طاقت اور فتح اپنے عروج پر تھی، وہاں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی اکرام کا وہ معیار قائم کیا جو تاریخِ دنیا کا اخلاقی معراج ہے۔ فتحِ مکہ کے موقع پر، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم فاتح کی حیثیت سے شہر میں داخل ہوئے تو وہاں ایک انتہائی حیرت انگیز واقعہ پیش آیا، جو ضعیفوں کے احترام کی ایک عملی دستاویز ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد محترم، حضرت ابو قحافہ، ضعیف العمری کی وجہ سے انتہائی کمزور ہو چکے تھے۔ وہ اسلام قبول کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا کہ انہیں گھر ہی میں رہنے دو، میں خود ان کے پاس آ جاتا۔ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انہیں لے کر حاضر ہوئے اور کمزوری کی وجہ سے وہ کانپ رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
هَلَّا تَرَكْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى آتِيَهُ
یعنی ”ان کو گھر ہی میں کیوں نہ چھوڑا؟ میں خود ان کے گھر چل کر آ جاتا۔“ (البدایۃ والنہایۃ، ج ۴، ص ۳۰۵، دار ابن الکثیر، بیروت)
تصور کیجیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں فاتح بن کر داخل ہو رہے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب دنیا کا ہر حکمران فتح کے نشے میں، اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ لیکن ہمارے پیغمبر خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم رحمت للعالمین تھے، انہوں نے ایک بوڑھے شخص کی تکلیف کو اپنے آنے سے زیادہ مقدم جانا۔ آپ نے فرمایا کہ میرے لیے بڑے کو زحمت دے کر مت لاؤ، میں خود ان کے پاس جاتا تاکہ انہیں تکلیف نہ پہنچے۔
یہ وہ اخلاق ہے جو عمل میں لکھا جاتا ہے کہ عظمت فاتح اور حاکم بننے میں نہیں، بلکہ کمزور کے لیے جھک جانے میں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ رہنمائی اور ہدایت دین کی بقا کا وہ یقینی عمل ہے جو ان طریقوں سے بالکل مختلف ہے، جنہیں قرآن نے خود بادشاہوں کے دکھائے گئے طریقے کے طور پر بیان کرتے ہوئے فرمایا:
إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً وَكَذَلِكَ يَفْعَلُونَ
”جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے برباد کر دیتے ہیں اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کر دیتے ہیں اور ایسا ہی کرتے ہیں۔“ (النمل: ۳۴)
دنیا کے فاتحین کا امتیازی نشان اہلِ عزت کو ذلیل کرنا ہوتا ہے، تاکہ ان کی طاقت کا خوف بیٹھے۔ مگر فتحِ مکہ کا وہ منظر یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ضعیف اور کمزور کو عزت بخشتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاتح ہونے کے باوجود حضرت ابو قحافہ کو گھر پر چھوڑنے کی بات کر کے یہ ثابت کیا کہ اسلامی حکمرانی اور فتح کا مقصد تباہی پھیلانا یا ظلم کرنا نہیں، بلکہ کمزوروں کا اکرام اور انسانیت کی قدرو قیمت کو بلند کرنا ہے۔
سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ منفرد طرزِ عمل جس کا آغاز قرآن کے تحت تقدس سے ہوا، اور جس کا اختتام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی جاں نثاری پر ہوتا ہے، ہمیں یہ قابلِ تقلید درس دیتا ہے کہ ضعیف بزرگوں کا اکرام کر کے ایک اخلاقی قوت کو بیدار کرنا، ہماری تہذیب ہے۔ یہ درس اگر چھوٹ جائے تو اس کا انجام وہی ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کا احترام نہ کرنے والے کے لیے وعید فرمائی ہے کہ ”جس نے چھوٹوں پر رحم نہ کیا اور بڑوں کی عزت نہ کی تو وہ ہم میں سے نہیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی واضح فرمایا کہ ”مسلمان بوڑھے کا احترام کرنا، اللہ کی تعظیم میں سے ہے۔“
لہٰذا ان نصوص کی روشنی میں، یہ لازم و ضروری ہے کہ ہم اس فریضے کی تکمیل پر کمربستہ ہو کر بزرگوں کو مشفق، محترم، مکرم بنائیں، کیونکہ ان کا وجود ہی ہماری برکت اور بزرگی کا سبب ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے ضعیف والدین اور تمام عمر رسیدہ بزرگوں کے حقوق پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے، ان کی کمزوریوں پر صبر، ان کی خطاؤں پر پردہ اور ان کی خدمت میں استقامت نصیب فرمائے۔ آمین یا مجیب الداعین، آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، جنوری ۲۰۲۶ء، ص ۲۵
