| عنوان: | سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی |
|---|---|
| تحریر: | حافظ افتخار احمد قادری |
| پیش کش: | محمد الطاف برکاتی |
عید الاضحیٰ عید الفطر کے بعد مسلمانوں کا دوسرا عظیم الشان تہوار ہے، جسے پوری امتِ مسلمہ دس ذی الحجہ کو انتہائی عقیدت، شان و شوکت، ایثار و قربانی اور تسلیم و رضا کے جذبے کے ساتھ مناتی ہے، عید الاضحیٰ کے پس منظر میں تاریخِ انسانی کا سب سے حیرت انگیز اور ایمان افروز واقعہ ہے، جب جد الانبیا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کی رضا جوئی اور خوشنودی کے لیے اپنے لختِ جگر، نورِ نظر، تمناؤں کے مرکز، دعاؤں کے ثمر اور گھر کے چشم و چراغ حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے آمادگی ظاہر فرمائی اور عین اس وقت جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے چہیتے اور لاڈلے نونہال کو پیشانی کے بل لٹا دیا اور چھری ہاتھ میں لے کر ذبح کرنے ہی والے تھے کہ وحیِ الہی نے شرفِ قبولیت کی بشارت کے ساتھ ہاتھ روک دیا، سورۃ الصافات میں ارشاد ہوا:
”جب ان دونوں (باپ اور بیٹے حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام) نے رضا و تسلیم کو اختیار کر لیا اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا تو ہم نے آواز دی اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچ کر دکھایا ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں، یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا اور ہم نے آنے والی نسلوں میں اس طرزِ عمل کو اسوہ اور سنت کے طور پر چھوڑ دیا۔“
چنانچہ قربانی کی یہی سنت حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اسوہ قرار دے کر بعد میں آنے والی امتوں پر لازم قرار دے دی گئی اور اسی سنت کو حضورِ اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنایا۔ اور اپنی امت کے لیے اسے لازمی سنت قرار دیا، حدیثِ پاک میں آتا ہے: ایک مرتبہ صحابہ کرام نے آپ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تمہارے والد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، تو صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ان قربانیوں سے کیا حاصل ہوگا؟ تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا، ایک ایک بال کے بدلے نیکی ملے گی۔
ترمذی شریف میں حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عمر فرماتے ہیں: نبیِ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مدینہ طیبہ میں دس سال اقامت پذیر رہے اور آپ ہر سال قربانی دیتے رہے، بعض روایات ایسی ملتی ہیں کہ حضورِ اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے گاہے گاہے دو قربانیاں دیں، ایک اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی طرف سے اور دوسری اپنی امت کے ان غربا کی طرف سے جو قربانی دینا تو چاہتے ہیں مگر بوجہِ ناداری و افلاس اس سنت کو پورا کرنے سے قاصر ہوں گے، اب یہی وہ سنتِ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہے جسے عالمِ اسلام کے مسلمان بڑے جذبہ و شوق، ولولے اور احترام و اکرام کے ساتھ ہر سال ادا کرتے ہیں، قربانی کی اصل روح خود قرآنِ مجید میں یوں بیان کی گئی:
”اللہ تک تمہاری قربانیوں کا گوشت پوست اور خون تو نہیں پہنچتا بلکہ اس کے ہاں تمہارا دلی جذبہ اور تقویٰ پہنچتا ہے۔“
بس ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانوں میں تقویٰ کی روح پیدا کی جائے جو اصل دین ہے، اصل عبادت ہے اور روحِ قربانی ہے۔ تقویٰ کا مفہوم یہ ہے: ہر کام میں اپنے پروردگار کی نافرمانی اور ناراضگی سے بچتے رہنا اور اس کام کو مسرت و شادمانی اور خوش دلی سے انجام دینا جو پروردگار کی رضا جوئی اور خوشنودی کا باعث ہو۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق نے حضرت ابی بن کعب سے پوچھا کہ تقویٰ کا کیا مفہوم ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: امیر المؤمنین کیا کسی ایسی پگڈنڈی سے گزر ہوا ہے کہ جس کے دونوں طرف خاردار جھاڑیاں ہوں! تو انہوں نے کہا جی ہاں ہوا ہے، تو حضرت ابی بن کعب نے پوچھا! وہاں سے کیسے گزرتے ہو؟ تو آپ نے فرمایا سنبھل سنبھل کے پاؤں رکھتا ہوں اور دامن کو سمیٹ کر رکھتا ہوں کہ دائیں بائیں کچھ الجھ کر نہ رہ جائے۔
فرمایا بس اسی احتیاط اور بچ بچاؤ کا نام تقویٰ ہے، جو شخص اس دنیا کی آلودگیوں اور شیطان کی باتوں سے بچ بچا کر اسلام کی راہ پر چلتا ہے وہ متقی ہے اور اسی جذبے کا نام تقویٰ ہے، قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر اہلِ ایمان کو تقویٰ اختیار کرنے کی دعوت دی گئی اور اس کا ذکر مذہبِ اسلام میں مترادف معنوں میں کیا گیا ہے، نیز قرآنِ مجید میں تقویٰ کا اعلیٰ مفہوم اس طرح ظاہر کیا گیا ہے: تقویٰ برائی سے بچنا ہی نہیں بلکہ برائی کے قریب تک جانے سے رکنے کا نام تقویٰ ہے۔ عید الاضحیٰ کو قربانی کی نسبت سے عیدِ قرباں کہا جاتا ہے، لفظِ قربان کا مادہِ اشتقاق قرب ہے، جو نزدیکی کے معنی میں آتا ہے، اسی بنا پر قربانی ہر اس عمل کو کہتے ہیں جو کسی مقصد کے حصول کے قریب کر دے، یعنی قربِ مقصد کا ذریعہ و واسطہ قربانی کہلاتا ہے، لہذا اسلامی اصطلاح میں جو عمل قربِ خداوندی کا باعث ہو وہ قربانی ہے، علامہ فخر الدین رازی فرماتے ہیں:
”وہ چیز جو قربِ الہی کا باعث بنے ذبیحہ ہو یا صدقہ (قربانی) کہلاتا ہے۔“ [تفسیر کبیر]
غور کیا جائے تو یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو کر سامنے آتی ہے: قربانی انسانی زندگی کا ماحصل ہے اس لیے کہ وہ دولت و منصب سے لے کر درجاتِ روحانی کے حصول تک کوئی بھی مرحلہ ایسا نہیں جہاں قربانی دینے کی ضرورت پیش نہ آئے، یہی وجہ ہے کہ قربانی اور انسانی زندگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ انسان کی بالکل ابتدائی زندگی کا واقعہ ہے جس کا ذکر قرآنِ مجید میں بھی ہے: حضرت آدم علیہ السلام نے ہابیل اور قابیل کے درمیان باہمی نزاع کے فیصلے کے لیے دونوں کی طرف سے قربانی پیش کی، قابیل کا زراعت کا پیشہ تھا اس لیے اس نے غلہ پیش کیا اور ہابیل بکریوں کا مالک تھا اس نے نہایت عمدہ بکری قربانی کے لیے پیش کی۔ ہابیل حق پر تھا اس کی قربانی قبول ہوئی اور قابیل کی قربانی شرفِ قبولیت حاصل نہ کر سکی۔
سورہ مائدہ کی آیت نمبر 27 تا 31 میں بیان کیے گئے اس واقعے کی تفصیل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ حیاتِ انسانی کے بالکل آغاز میں بھی قربانی کا تصور تھا کیونکہ یہ ایک فطری عمل ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے ارشاد فرمایا: ”اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر فرمائی ہے تاکہ اللہ کے دیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر اس کا نام لیں۔“ [سورۃ الحج]
آیتِ مذکورہ میں نہ صرف قربانی کا ذکر ہے بلکہ جانوروں کے ذبح کی صورت میں قربانی کا حکم بھی ہے، ابنِ اثیر نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے: جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ صحیح سلامت آگ سے باہر تشریف لے آئے تو نمرود نے کہا: میں نے تمہارے رب کی قدر و عظمت کا جو مظاہرہ دیکھا ہے اس کے پیشِ نظر میں اس کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنا چاہتا ہوں، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا جب تو اپنے دین پر قائم ہے تو اللہ تیری قربانی قبول نہیں فرمائے گا، اگرچہ نمرود اپنے باطل دین کو نہ چھوڑ سکا لیکن اس نے چار ہزار جانوروں کی قربانی پیش کر دی۔ [الکامل فی التاریخ]
پھر ایک وقت ایسا آیا کہ تاریخِ عالم نے ایک تعجب خیز واقعہ کو جنم دیا، اس کا نظارہ چشمِ فلک نے نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ آئندہ کبھی دیکھے گی، ہوا یوں کہ ایک عظیم شخصیت جسے خلیل اللہ کے لقب سے نوازا گیا جسے عالمِ انسانیت کی امامت کا سہرا پہنایا گیا جو اپنے رب کی طرف سے آنے والی ہر آزمائش میں کامیابی سے ہمکنار ہوا اس جد الانبیاء کو ایک عظیم امتحان میں ڈال کر اس کی اطاعت گزاری اور وفا شعاری کو آنے والی نسلوں کے لیے اسوہِ حسنہ قرار دیا گیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل کو ہماری راہ میں قربان کر دو، اللہ رب العزت کے اس مقبول و محبوب بندے نے اپنے فرزندِ ارجمند کو بلا کر بلا تردد قربانی کے لیے پیش کر دیا اور وفا شعار بیٹے نے بھی چوں و چرا کے بغیر سرِ تسلیم خم کر دیا۔
یہ فیضانِ نظر تھا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی
مقصد باپ کے ہاتھوں بیٹے کو قربان کرنا نہ تھا بلکہ کائناتِ ارضی میں بسنے والوں کو بتانا تھا کہ قربِ خداوندی کا حصول اور اس کے احکام و ارشادات کے سامنے سرِ تسلیم خم کیے بغیر ناممکن ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے احکام اور ابتلا و آزمائش سے انحراف کی راہ اختیار نہیں کرتا وہ ملک و ملت کا مقتدا و پیشوا بن جاتا ہے، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کو بارگاہِ خداوندی میں اس قدر مقبولیت حاصل ہوئی کہ اسے تاقیامت سنتِ ابراہیمی کے طور برقرار رکھا گیا۔
