Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

قوموں کے عروج و زوال کی بنیادیں قرآنِ مجید کی روشنی میں (قسطِ اول)

قوموں کے عروج و زوال کی بنیادیں قرآنِ مجید کی روشنی میں (قسطِ اول)
عنوان: قوموں کے عروج و زوال کی بنیادیں قرآنِ مجید کی روشنی میں (قسطِ اول)
تحریر: محمد احسان شمسی
مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
پیش کش: بشیر مدنی

”عروج“ و ”زوال“ قدرت کا ایک اٹل قانون اور غیر متزلزل نظام ہے۔ کسی قوم کے عروج کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو نظام قائم فرمایا ہے، جب تک وہ قوم اس نظام کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے، اپنے مالکِ حقیقی کے سامنے جبینِ نیاز خم رکھتی ہے، اپنے فروغ، اپنی افادیت اور نفع رسانی کے لیے کوشاں رہتی ہے، اس وقت تک زندہ و سلامت رہتی ہے، اس کا آفتابِ اقبال درخشاں و تاباں رہتا ہے، لیکن جب وہ اس الٰہی نظام کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے اور اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے لگتی ہے، تو موت اپنا منہ کھول کر اس کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے، پھر ایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ قوم زوال کے دامن میں ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس زوال پذیر قوم کو راہِ عروج سے ہٹا کر دوسری قوم کو آگے بڑھاتا ہے، تاکہ وہ قوم اپنی نوخیز قوتوں اور جوان صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر عروج کے الٰہی نظام کی باگ ڈور سنبھالے اور زوال کی قعرِ مذلت میں چلی جانے والی قوم کی جانشین ہو۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور قرآنِ حکیم کا فیصلہ ہے کہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ جو قومیں اس منصب پر فائز ہیں انہیں اپنے اس منصب کی نازک ذمہ داریوں کا پورا احساس ہونا چاہیے اور انہیں ہر لحظہ چوکنا رہنا چاہیے کہ ادائے فرض میں ان سے کوئی کوتاہی سرزد نہ ہونے پائے، تاکہ عروج کی جو نعمت مُنعِم حقیقی کی طرف سے انہیں حاصل ہوئی ہے، اللہ کے غضب و جلال کا شکار ہو کر اس سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں اور زوال پذیر نہ ہو جائیں۔

وہ کون سے اصول ہیں جنہیں اپنا کر کوئی قوم عروج کی دولتِ بے بہا سے بہرہ ور ہوتی ہے اور کن اصولوں کی بنیادوں پر زوال کی بھٹی میں پہنچ جاتی ہے ان کا تعین قرآنِ کریم نے واضح لفظوں میں فرما دیا ہے۔

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

پھیل گیا ہے فساد بر و بحر میں بوجہ ان کرتوتوں کے جو لوگوں نے کیے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ چکھائے انہیں کچھ سزا ان کے (برے) کی شاید وہ باز آ جائیں۔ [سورۃ الروم: 41]

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں سیر فی الارض کا حکم دیا، تاکہ لوگ مختلف ممالک کی سیر و سیاحت کے درمیان اجڑے ہوئے دیار و امصار دیکھ کر عبرت حاصل کریں، جن کے ویران اور سنسان کھنڈرات یہ گواہی دے رہے ہیں کہ یہاں بسنے والوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا، فسق و فجور میں مبتلا ہوئے، ظلم و ستم کی حد کر دی تو مُکافاتِ عمل کے بے لاگ قانون نے انہیں تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ اس لیے جس طرح پہلے لوگ تمہارے لیے عبرت کا سامان بنے تم آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے باعثِ عبرت نہ بنو بلکہ دینِ قَیِّم کو مضبوطی سے تھام لو اور اس کی کتابِ ہدیٰ کو اپنی زندگی کا رہنما بنا لو، دینِ قیم ہی تمہاری دنیوی معیشت کی ترقی اور اخروی فلاح کا ضامن ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلُ كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُشْرِكِينَ ۝ فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيِّمِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللّٰهِ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ ۝

اے محبوب! آپ انہیں فرمائیے سیر و سیاحت کرو زمین میں اور دیکھو کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزرے ان میں سے اکثر مشرک تھے۔ پس کر لو اپنا رخ اس دینِ قیم کی طرف اس سے پہلے کہ آ جائے وہ دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے جسے ٹلنا نہیں اس روز یہ لوگ جدا جدا ہو جائیں گے۔ [سورۃ الروم: 42، 43]

قرآنِ کریم نے قوموں کے عروج و زوال کے اسباب و اصول کی طرف بھی رہنمائی فرمائی ہے۔ قرآن نے اس زمین کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے جہاں عروج و زوال کی تخم ریزی ہوتی ہے ارشاد فرمایا:

إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ

بے شک اللہ کبھی نہیں بدلتا کسی قوم کی (اچھی یا بری) حالت کو جب تک وہ لوگ اپنے (انفس) آپ میں تبدیلی پیدا نہیں کرتے۔ [سورۃ الرعد: 11]

اور فرمایا:

ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللّٰهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَىٰ قَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ

یہ اس لیے کہ اللہ نہیں بدلنے والا کسی نعمت کو جو اس نے انعام فرمایا ہو کسی قوم پر یہاں تک کہ وہ بدل ڈالیں اپنے (انفس) آپ کو۔ [سورۃ الانفال: 53]

دونوں آیاتِ کریمہ سے پتہ چلتا ہے ”انفس“ ہی وہ زمین ہے جہاں عروج و زوال کی تخم ریزی ہوتی ہے۔

اس کی صورت یہ ہے کہ انقلاب عروج کی طرف ہو یا زوال کی طرف اس کے دو درجے ہیں (1) ذہنی و نفسی انقلاب (2) عملی و اخلاقی انقلاب۔ پہلے کا تعلق اندرونی تبدیلی سے ہے اور دوسرے کا تعلق بیرونی تبدیلی سے۔ یعنی جب کوئی قوم ترقی کی منزلیں طے کرتی ہے تو ابتدا میں اندرونی قوتوں کی اصلاح ہوتی ہے افکار و احساسات اور تصوراتِ زندگی وغیرہ بدلتے ہیں پھر ”جواہر“ کی نشوونما ہو کر رفتہ رفتہ عملی طور پر زندہ رہنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور جب کسی قوم پر ذلت و نَکبَت مسلط ہوتی ہے تو پہلے اندرونی قوتیں خراب ہوتی ہیں فکر و نظر میں تبدیلی ہوتی ہے پھر رفتہ رفتہ وہ جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں جو زندہ رہنے کی اہلیت فنا کر دیتے ہیں۔

اسے ہم اور واضح لفظوں کے ساتھ یوں بھی کہہ سکتے ہیں، کہ عروج و ترقی، عزت و خوشحالی اور امن و عافیت کی جن نعمتوں سے کوئی قوم بہرہ ور ہوتی ہے، ان سے اس کو بلاوجہ محروم نہیں کر دیا جاتا بلکہ جب وہ خود اپنے اچھے اعمال کو برے اعمال سے، پسندیدہ خِصال کو ناپسندیدہ اطوار سے، فرض شناسی، محنت، جفاکشی کی صفات کو نافرض شناسی، سہل انگاری اور دوں ہمتی سے بدل دیتی ہے، اس وقت قدرت کا اٹل قانون اسے عزت کی بلندیوں سے ذلت و نامرادی کی پستیوں میں دھکیل دیتا ہے۔ اسی طرح کسی خستہ قوم کو بلاوجہ خوشحال نہیں بنا دیا جاتا بلکہ پہلے اسے اپنی مذموم خصلتیں چھوڑنی پڑتی ہیں اور خصالِ حمیدہ سے اپنے آپ کو متصف کرنا پڑتا ہے تب اس کی بدحالی خوشحالی سے بدل جاتی ہے۔

ان دونوں آیات کے مفہوم سے نتیجہ برآمد ہوتا ہے، کہ عروج و بقا کا اصل سنگِ بنیاد اخلاق ہے۔ تمام شعبہ ہائے زندگی میں اخلاق کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس کے اندر مالکِ حقیقی کی نیابت کا رنگ پایا جاتا ہے۔ چنانچہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللّٰهِ

اللہ والے اخلاق کو اپنے اخلاق بناؤ۔ اب ظاہر ہے جو قوم اخلاقی زندگی میں نیابت کی شان پیدا کرے گی وہی زمین میں اللہ کی نیابت کی مستحق قرار پائے گی۔ جن اخلاقی اوصاف کا تذکرہ قرآنِ حکیم کے مختلف مقامات پر ملتا ہے ان کی تفصیل درج کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ مندرجہ ذیل اخلاق ہیں:

اطاعتِ حق، ضمیر کی آزادی، شجاعت و بہادری، سچائی، انصاف، رحم، رواداری، ایفائے عہد، امانت و دیانت، عفو و درگزر، دشمنوں کے ساتھ حسنِ سلوک، مساوات، ایثار و قربانی، توکل و اعتماد، اطمینان و خود داری، شیریں کلامی، میانہ روی، عزم و استقلال، امید، پیش بینی، احتسابِ نفس، احساسِ ذمہ داری، ہر کام میں ایمانداری، حیا و شرافت، عفت و پاکدامنی، محبت و مروت، صبر و ثبات، اخلاص و بے نفسی، نیکی سے الفت، برائیوں سے نفرت، بے غرضی کے ساتھ دوسروں کی خدمت کا جذبہ وغیرہ۔

جس طرح قوموں کے عروج و ارتقا کی بنیاد اخلاق پر ہے، اسی طرح زوال و انحطاط کی بنیاد بد اخلاقی پر رکھی گئی ہے۔ قرآنِ حکیم نے بھی اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ قوموں کی ہلاکت و بربادی کا سبب ان کی بدعملی اور اخلاقی پستی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيرًا ۝ وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِنْ بَعْدِ نُوحٍ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا ۝

اور جب ہم ارادہ کرتے ہیں کہ ہلاک کر دیں کسی بستی کو (اس کے گناہوں کے باعث) تو (پہلے) ہم (نبیوں کے ذریعے) وہاں کے رئیسوں کو (نیکی کا) حکم دیتے ہیں مگر وہ (الٹا) نافرمانی کرنے لگتے ہیں اس میں پس واجب ہو جاتا ہے ان پر (عذاب کا) فرمان پھر ہم اس بستی کو جڑ سے اکھیڑ کر رکھ دیتے ہیں اور کتنی قومیں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا ہے نوح کے بعد اور آپ کا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں سے اچھی طرح باخبر ہے (اور انہیں) خوب دیکھنے والا ہے۔ [سورۃ الاسراء: 16، 17]

مطلب یہ ہے کہ جب کسی قوم کے اندر بد اخلاقی اتنی عام ہو جاتی ہے کہ بار بار سمجھانے اور راہِ ہدایت کی طرف توجہ دلانے کے باوجود بھی وہ باز نہیں آتے تو اس وقت عذاب کی بجلی اس طرح کوندتی ہے کہ ان کا خَرمَنِ حیات جل کر راکھ ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس علاقے کی حکومت سرکش اہلِ ثروت کے ہاتھ کر دیتا ہے اور وہ دولت و اقتدار کے نشے میں فتنہ و فساد کا بازار گرم کرتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے نافرمانوں کی وہ پوری بستی ہلاک و برباد ہو کر بے نام و نشان ہو جاتی ہے۔

مذکورہ بالا حقیقت کا ثبوت قوموں کی تاریخ سے بہم پہنچتا ہے کہ ہمیشہ غیر صالح بد اخلاق و تخریبی سرگرمیوں میں مصروف قوم کو ہلاک و برباد کر کے ان کی جگہ صالح فکر اور عمدہ اخلاق رکھنے والی قوم کو لایا جاتا ہے اور وہ اپنی ماقبل قوم سے بہتر ہوتی ہے وہ حق و عدالت اور تعمیری نشو و ارتقا کا کام بخوبی انجام دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ

اور اگر تم روگردانی کرو گے تو (اس سعادت سے محروم کر دیے جاؤ گے) اور تمہارے عوض وہ دوسری قوم لے آئے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔ [سورۃ محمد: 38]

یعنی اللہ تعالیٰ جس قوم کو عروج بخش کر انہیں اپنے دین کا علمبردار بننے کی سعادت عطا فرمائے اور اصلاحِ عالم کا اہم فریضہ اور عظیم ذمہ داری تفویض کرے، جب تک وہ قوم اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوشاں رہتی ہے، اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اس کے شاملِ حال رہتی ہے اور اس کی تدبیر ہم آہنگِ تقدیر ثابت ہوتی ہے، اس کا ہر قدم منزل کی طرف اٹھتا ہے اور ہر قسم کی عزتیں اور سرفرازیاں اس پر نچھاور کی جاتی ہیں، لیکن جب قوم اس نعمتِ عروج کی قدر نہیں کرتی، احکامِ الٰہی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتی، دین کی راہ میں بے دریغ قربانیوں سے پس و پیش کرتی ہے، اس کی قوتِ عمل میں کاہلی اور سستی کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں، حتیٰ کہ وہ سرتابی اور سرکشی جیسے جرم سے بھی نہیں چوکتی تو اسے عروج کے منصبِ جلیل سے ہٹا کر زوال کی کھائیوں میں دھکیل دیا جاتا ہے اور کسی دوسری قوم کو وہ منصبِ عظیم سنبھالنے کی عزت بخشی جاتی ہے، وہ نئی قوم نئے جوش، نئے ولولے، نئے جذبے اور نئی ترنگ کے ساتھ حتی الامکان عروج کی قدر کرتی ہے اور احکامِ الٰہی کی تعمیل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی اور اپنے عروج کی بقا کو غنیمت جانتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ایک مقام پر اہلِ مکہ کو مخاطب کر کے ارشاد فرماتا ہے:

وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ وَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ ۝ ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ۝

اور بے شک ہم نے ہلاک کر دیا، کئی قوموں کو جو تم سے پہلے تھیں، جب وہ زیادتیاں کرنے لگے اور آئے ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر اور وہ (ایسے) نہیں تھے، کہ ایمان لاتے، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں، مجرم قوم کو پھر ہم نے بنایا، تمہیں جانشین زمین میں ان کے بعد تاکہ ہم دیکھیں، کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ [سورۃ یونس: 13، 14]

اس آیتِ کریمہ میں اہلِ مکہ کو بتایا جا رہا ہے، کہ جو رَوِش تم نے اختیار کر رکھی ہے، وہ کسی عقلمند اور عاقبت اندیش انسان کی روش نہیں، اپنے گناہوں پر تمہیں کچھ ندامت نہیں، ہر بھلائی اور آرام کو حاصل کرنے کے لیے تم بہت بے چین ہو، جب تمہیں کوئی مصیبت گھیر لیتی ہے، تو ادھر سے آنکھیں پھیر لیتے ہو، احسان مندی اور شکر گزاری کا کوئی اثر تمہارے قول و فعل میں نظر نہیں آتا۔ یاد رکھو! تم سے پہلے بھی اس قِماش کے لوگ گزرے ہیں، ہم نے ان کو بھی سمجھنے اور سنبھلنے کے لیے کافی مہلت دی، انہیں راہِ ہدایت دکھانے کے لیے رسول بھیجے، لیکن جب وہ سرکشی سے باز نہ آئے، تو انہیں عذاب کی چکی میں پیس دیا گیا اور ان کا نام و نشان تک بھی باقی نہ رہا۔ اہلِ مکہ! آنکھیں کھولو! اور نزولِ عذاب سے پہلے اپنی نجات کا سامان کرو کہیں تم سے پہلے ان قوموں کی طرح تمہیں بھی زوال سے دوچار اور بے نام و نشان نہ ہونا پڑے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں متعدد قوموں کے عروج و زوال کے واقعے بیان فرمائے ہیں، جس قوم کا ذکر قرآن میں سب سے زیادہ ہے، وہ ”بنی اسرائیل“ ہے۔ بنی اسرائیل کی پوری تاریخِ عروج و زوال کا ادراک قرآنِ مجید کی آیاتِ بینات سے بخوبی ہوتا ہے۔ ہم مناسب سمجھتے ہیں، کہ مثال کے لیے اس قوم کی تاریخِ عروج و زوال کے چند صفحات پیش کر دیں، تاکہ قوموں کے عروج و زوال کی بنیادوں کا صحیح اندازہ کرنا ہمارے لیے آسان ہو سکے۔

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے جانی دشمن فرعون سے نجات عطا فرمائی۔ بنی اسرائیل کے لیے دریائے قُلزُم کا پانی ہٹ گیا اور بیچ دریا میں راستہ پیدا ہو گیا جس سے بنی اسرائیل نے بآسانی دریا پار کر لیا اور فرعون اپنے لشکر سمیت جب دریا کے پیدا کردہ اسی راستے میں چلا تو وہ اور اس کا سارا لشکر دم زدن میں نیست و نابود ہو گیا۔ ”تیہ“ کے بے آب و گیاہ ریگستان میں بنی اسرائیل پر اللہ نے بادلوں کا سایہ کیا میدانِ تیہ میں ان کے کھانے کے لیے ”من و سلویٰ“ کی خوراک مہیا کی۔ پیاس سے تڑپنے لگے تو اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پتھر پر اپنا عصا مارا تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور بنی اسرائیل نے اپنی پیاس بجھائی۔ منجملہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو عروج کے ایسے مقام پر فائز فرمایا، کہ انہیں ساری دنیا پر فضیلت و برتری کا تمغہ عطا کیا گیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ

اور بے شک ہم نے عطا فرمائی، بنی اسرائیل کو کتاب، حکومت اور نبوت اور ہم نے ان کو پاکیزہ رزق دیا اور انہیں فضیلت دی (اپنے زمانے کے) اہلِ جہاں پر۔ [سورۃ الجاثیہ: 16]

اس زمانے میں جتنی قومیں تھیں، ان میں سب سے زیادہ یہی لوگ بارِ امانت کو اٹھانے کی صلاحیت رکھتے تھے، اس لیے اپنی ہم عصر اقوام پر ان کو فضیلت بخشی گئی۔ عروج و ارتقا کی بہاروں میں زندگی گزارنے والی اس قوم کے زوال کی چند مثالیں بھی ملاحظہ فرما لیں، کہ اللہ نے ان پر انعام و اکرام کی بارش کی، مگر انہوں نے احکامِ الٰہی سے بے پرواہ ہو کر اپنی طبیعت کے اقتضا کے مطابق زندگی گزارنے کو ترجیح دی، تو ان کا ایسا انجام ہوا، کہ یہ قوم آنے والی نسلوں کے لیے عبرت و نصیحت کا سامان بن گئی اور ذلت و نَکبَت، خواری و رسوائی اور غربت و مسکنت اس کا مقدر بن گیا۔ ارشادِ باری ہے:

وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللّٰهِ

اور مسلط کر دی گئی ان پر ذلت اور غربت اور مستحق ہو گئے غضبِ الٰہی کے۔ [سورۃ البقرہ: 61]

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنی نعمتیں یاد دلا کر انہیں حد سے تجاوز نہ کرنے کا حکم دیا اور کھلے لفظوں میں انہیں باور کرا دیا، کہ اگر تم نافرمانیوں سے باز نہ آئے، تو غضبِ الٰہی کے مستحق قرار پاؤ گے اور جس پر غضبِ الٰہی ہوا وہ تباہ و برباد ہو گیا۔ چنانچہ ارشادِ باری ہے:

كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِي وَمَنْ يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِي فَقَدْ هَوَىٰ

کھاؤ ان پاک چیزوں سے جو ہم نے تم کو عطا کی ہیں اور اس میں حد سے تجاوز نہ کرنا ورنہ اترے گا تم پر میرا غضب اور وہ (بد نصیب) اترتا ہے جس پر میرا غضب تو یقیناً وہ گر کر رہا ہے۔ [سورۃ طہ: 81]

پھر بھی یہ لوگ شر انگیزیوں، نافرمانیوں، حد سے تجاوز اور عناد و سرکشی سے باز نہ آئے، تو ان کا حشر یہ ہوا، کہ وہ کئی ٹکڑوں میں بٹ کر تتر بتر کر دیے گئے۔ چنانچہ ارشادِ باری تبارک و تعالیٰ ہے:

وَقَطَّعْنَاهُمْ فِي الْأَرْضِ أُمَمًا

اور ہم نے بانٹ دیا انہیں زمین میں کئی گروہوں میں۔ [سورۃ الاعراف: 168]

یعنی ہم نے ان کی جمعیت کو منتشر کر دیا۔ ان کا شیرازہ بکھیر دیا گیا۔ وہ دنیا کے ممالک میں ایک بے بس اقلیت بن کر رہ گئے۔ بنی اسرائیل کی تاریخِ عروج و زوال کے یہ چند اوراق تھے، جنہیں ہم نے قرآنِ کریم کی آیاتِ بینات کی روشنی میں اختصاراً بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ مذکورہ بالا سطور کے آئینے میں یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں، کہ انہیں اللہ کے احکام کی تعمیل اور اوامرِ الٰہی کے مقتضیات کو پورا کرنے کی برکت سے نعمتیں حاصل تھیں اور جب انہوں نے احکامِ الٰہیہ کی خلاف ورزی اور اطاعتِ خداوندی سے روگردانی کی تو اللہ نے انہیں ذلت و خواری، اور انحطاط و زوال کی دلدل میں گرفتار کر دیا۔

غرض یہ کہ بنی اسرائیل کے عروج و ارتقا اور زوال و انحطاط کی تاریخ سے اظہر من الشمس ہے کہ کسی بھی قوم کو عروج و ارتقا کی دولت جبھی میسر آتی ہے جب مجموعی اعتبار سے وہ قوم اپنے اوپر عائد ہونے والے دینی فرائض کو پوری دیانتداری سے ادا کرے، اس کے اخلاقی اقدار بلند ہوں۔ جب لوگ اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی اور بددیانتی سے کام لینے لگتے ہیں اخلاقی پستی کا شکار ہو جاتے ہیں تو ان کے ترقی کے لالے پڑ جاتے ہیں اور انہیں عروج کی دولت سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ [ماہنامہ پیغامِ شریعت، دہلی، اپریل 2017ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!