Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

صوبۂ بہار کی ایک عظیم، عبقری اور یادگار شخصیت سرکارِ محبی علیہ الرحمہ

صوبۂ بہار کی ایک عظیم، عبقری اور یادگار شخصیت سرکارِ محبی علیہ الرحمہ
عنوان: صوبۂ بہار کی ایک عظیم، عبقری اور یادگار شخصیت سرکارِ محبی علیہ الرحمہ
تحریر: محمد مشرف علی قادری مجددی تیغی، مظفر پور، بہار
پیش کش: لباب اکیڈمی

صوبۂ بہار کی ایک عظیم، عبقری اور یادگار شخصیت سرکارِ محبی علیہ الرحمہ

پایا ہے شاہِ بریلی سے محبی کا لقب
کس قدر تھے شادماں خود اعلیٰ حضرت آپ سے

سرکارِ محبی حضرت عبدالرحمٰن قادری حلیمی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت سنہ ۱۲۷۲ھ بمطابق ۱۸۵۶ء میں پوکھریرا، ضلع مظفرپور (موجودہ سیتامڑھی) میں ہوئی۔ آپ ایک علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے اور ابتدا ہی سے دینی ذوق اور خدمتِ اسلام کا جذبہ آپ کی شخصیت میں نمایاں تھا۔

آپ کو اولادِ غوثِ اعظم، حضرت سید شاہ نورالحلیم کاشغری رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت و خلافت حاصل ہوئی۔ آپ کا یہ روحانی سلسلہ حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت علیہ الرحمہ کے واسطے سے حضور غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ تک اور وہاں سے حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک جا پہنچتا ہے۔ اس عظیم نسبت نے آپ کی زندگی کو دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔

آپ نے صوبۂ بہار میں دینِ اسلام اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس دور میں جب فتنۂ دیوبندیت و وہابیت زوروں پر تھا، آپ نے مناظروں، جلسوں اور علمی مجالس کے ذریعے اہلِ سنت کا دفاع کیا اور عوام کو صحیح عقیدہ سے روشناس کرایا۔ آپ کی تقریریں اور مناظرے نہ صرف علمی اعتبار سے مضبوط ہوتے تھے بلکہ عوام کے دلوں پر بھی گہرا اثر چھوڑتے تھے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ آپ سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو ”محبِ اعلیٰ حضرت“ اور ”عاشقِ اعلیٰ حضرت“ جیسے القابات سے نوازا گیا۔ یہ محبت محض الفاظ تک محدود نہیں تھی بلکہ آپ کی پوری زندگی میں اس کا عملی اظہار نظر آتا ہے۔

آپ نے دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے یہ محسوس کیا کہ صرف جلسوں اور تقاریر سے دینِ سنت کی بقا ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے مضبوط تعلیمی اداروں کا قیام ضروری ہے۔ چناں چہ آپ نے بریلی شریف کے مشہور ادارے منظرِ اسلام کے قیام سے تقریباً دس سال قبل ہی پوکھریرا میں مدرسہ ”نور الہدیٰ“ کی بنیاد رکھی۔ یہ مدرسہ اہلِ سنت کی تعلیم و تربیت کا ایک اہم مرکز بن گیا اور اس سے بے شمار علما و فضلا نے فیض حاصل کیا۔

تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی آپ کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ آپ نے متعدد کتب تصنیف فرمائیں، جن میں سے بعض مطبوعہ ہیں اور بعض ابھی بھی غیر مطبوعہ حالت میں موجود ہیں۔ آپ کی اہم تصانیف میں نسائی شریف کی شرح، مختصر تفسیرِ قرآن، اور فارسی زبان میں مکمل قرآنِ مجید کا ترجمہ شامل ہیں۔ یہ علمی سرمایہ آج بھی امت کے لیے نہایت قیمتی ہے، اور اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ان کتب کو تحقیق، ترتیب، تخریج اور تسہیل کے ساتھ شائع کیا جائے تاکہ عام لوگ بھی ان سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔

آپ کا وصال سنہ ۱۳۵۱ھ بمطابق ۱۹۳۱ء میں ہوا، مگر آپ کی دینی، علمی اور روحانی خدمات آج بھی زندہ ہیں اور اہلِ سنت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

آپ کے اقوال بھی نہایت حکمت و دانائی سے بھرپور ہیں، جو آج کے دور میں بھی ہماری رہ نمائی کرتے ہیں:

  • فرصت کو غنیمت جانو۔
  • علم اور ہنر حاصل کرنے میں سعی کرو۔
  • تھوڑے دن محنت کرنے سے عمر بھر آرام ملتا ہے۔
  • اول محنت نہ کرنا، آخر حسرت اٹھانا ہے۔
  • پوری محنت کرکے اپنے کو افلاس سے بچاؤ۔
  • سب سے زیادہ علم حاصل کرو تاکہ عزیزِ خلائق بنو۔
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!