Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

کثرت طلاق کی وجوہات اور ان کا شرعی حل (قسط: سوم)

کثرت طلاق کی وجوہات اور ان کا شرعی حل (قسط: سوم)
عنوان: کثرت طلاق کی وجوہات اور ان کا شرعی حل (قسط: سوم)
تحریر: مفتی مشتاق احمد امجدی
پیش کش: بنت شہاب عطاریہ

  1. ایک دوسرے کے حقوق پورے نہ کرنا: پیغمبر اسلام نے ایک پر امن معاشرہ کی تشکیل کے لیے جو رہنما اصول مقرر کیے ہیں ان میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے سماج کے جملہ افراد کے حقوق معین فرما کر ان کی ادائیگی کی تاکید کرتے ہوئے یہ بھی ضابطہ ارشاد فرما دیا: ”فأعطوا كل ذي حق حقه“ یعنی ہر حق والے کو اس کا حق دو، جب تک پیغمبر اسلام کے اس پُر امن قانون پر عمل ہوتا رہا سماج میں کسی قسم کی بے چینی و بدامنی پیدا نہ ہوئی، اور جب جب اس سے روگردانی کی گئی تب تب معاشرہ میں فساد و بگاڑ پیدا ہوا۔

    اسلامی نقطہ نظر سے میاں بیوی کے اوپر ایک دوسرے کے کچھ حقوق و فرائض ہیں جب تک دونوں خوش اسلوبی سے ایک دوسرے کے حقوق پورے کرتے رہیں گے زندگی میں تلخی پیدا نہ ہوگی، ہنسی خوشی سے پورا گھر روشن مستقبل کی طرف رواں دواں رہے گا، بہت سے مرد و عورت ایک دوسرے کے حقوق سے باخبر نہیں ہوتے اور بہتوں کو حقوق زوجین کا علم تو ہوتا ہے مگر اس کی ادائیگی میں سستی کوتاہی کرتے ہیں، جس سے زندگی میں تلخیاں شروع ہو جاتی ہیں بلکہ بسا اوقات یہی تلخیاں میاں بیوی میں جدائی کا سبب بن جاتی ہیں، لہذا میاں بیوی کو اچھی طرح اپنے اوپر عائد ہونے والے حقوق جاننے چاہئیں اور انہیں پوری دیانت داری سے ادا کرتے رہنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔
  2. ناجائز مطالبات: بے جا مطالبات عورتوں کی جانب سے پایا جانے والا بہت بڑا اور اہم سببِ طلاق ہے، یہ ایک نا قابل انکار حقیقت ہے کہ جس عورت کو چٹخارے اور شوق اڑانے کی مذموم عادت اور کھانے پینے، پہننے اوڑھنے میں فضول خرچی کی لت لگی ہو ایسی عورت بار بار اپنے شوہر سے بے جا مطالبات کرتی ہے اور اس کے ناجائز مطالبات پورے نہ ہونے پر وہ عورت طرح طرح کی برائیوں میں مبتلا ہوتی چلی جاتی ہے مثلاً کبھی اپنے خاوند کے مال میں خیانت و چوری کی مرتکب ہونا اور کبھی دوسروں سے قرض لے کر شوہر کو مقروض بنانا وغیرہ، ایسی عورت کی زبان پر سدا ناشکری کے الفاظ ہوتے ہیں اور شکوہ و شکایت اس کا عام شیوہ بن جاتا ہے، نتیجہً مرد اپنی بیوی کی ناشکریوں کی تاب نہ لا کر اس سے جدائی ہی میں عافیت سمجھتا ہے اور پھر بات طلاق تک پہنچتی ہے۔ اس لیے عورت کو ہمیشہ قناعت پسند، سلیقہ شعار، شوہر کے مال کا محافظ اور شوہر کی آمدنی کو مد نظر رکھ کر اخراجات کرنے والی ہونا چاہیے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشادِ عالی شان سے واضح ہوتا ہے اللہ رب العزت جل وعلا ارشاد فرماتا ہے: فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ[النساء: 34]

    تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا۔[کنز الایمان]

    اور یہی سچ و حق ہے کہ جو عورت اپنی زندگی میں ان خوبیوں کو اپنائے گی اور بے جا مطالبات سے خود کو محفوظ رکھے گی وہ ہمیشہ خوش و خرم، شاد و آباد اور شوہر اور اس کے اہل خانہ کی نظر میں محبوب و مقبول ہوگی، بلکہ اس کی زندگی اس معاشرہ کی دوسری عورتوں کے لیے نمونۂ عمل ہوگی۔
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!