Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تاج الشریعہ! ایک نادرِ دہر شخصیت

تاج الشریعہ! ایک نادرِ دہر شخصیت
عنوان: تاج الشریعہ! ایک نادرِ دہر شخصیت
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نجم القادری
پیش کش: ام عروج فاطمہ بنت اکرام رضوی
منجانب: جامعہ مصباح تاج الشریعہ، ردولی شریف، بہار

مدت کے بعد ہوتے ہیں پیدا کہیں وہ لوگ
مٹتے نہیں ہیں دہر سے جن کے نشاں کبھی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی فلاح و بہبود، ہدایت و رہنمائی، جادہِ حق پر استقامت اور دین و سنیت کی توسیع و اشاعت کے لیے ہر دور میں اپنے کرمِ کریمانہ، نوازشِ فیاضانہ سے اپنے کسی خاص بندے کو مبعوث فرماتا رہا ہے، وہ شخصیتیں حکمت و دانائی، طہارت و پاکیزگی، بلندیِ کردار اور اخلاق و اخلاص کا پیکرِ مجسم بن کر اس طرح ظہور و نمود فرماتی ہیں کہ نگاہیں ان کے دیدار کو ترسنے لگتی ہیں۔ دل خود بخود ان کی طرف کھنچنے لگتے اور قلوب ان کی یاد میں مچلنے لگتے ہیں۔ وہ روئے زمین کے لیے اللہ کی بڑی امانت اور عظیم نعمت ہوتی ہیں۔ ان کی رفاقت کے چشمہِ صافی میں جو بھی غوطہ لگا لیتا ہے، برسوں کا پاپ دھل کر زاویہِ حیات نکھر نکھر اٹھتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے ان کی صحبت میسر آ جائے تو صد سالہ طاعتِ بے ریا پر یہ چند لمحے بھاری ہو جاتے ہیں۔ نور و نجات کی ایسی ہی ضامن شخصیتوں میں ایک عظیم شخصیت دورِ حاضر میں حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی الشاہ محمد اختر رضا خان صاحب قادری، جانشین حضور مفتی اعظم کی شخصیت ہے۔

رچ بس گیا ہے ذہن میں ناصر کسی کا روپ
اب کیا کریں گے پھر کوئی شہکار دیکھ کر

وہ عظیم خانوادے کے عظیم چشم و چراغ ہونے کے ساتھ ساتھ ذاتی اوصاف و کمالات سے ایسے مزین ہیں کہ اگر انہیں علم و فضل کا نیرِ تاباں کہیں تو عقیدت تشنہ رہ جاتی ہے۔ شریعت و طریقت کا سنگم کہیں تو الفاظ، حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا کا گلہ کرتے ہیں۔ حقیقت و معرفت کا مجمع البحرین کہیں، تو جملے احساسِ کمتری کا شکار نظر آتے ہیں۔ مگر وجدان یہ کہہ کر خلجان کو تسلی دے لیتے ہیں کہ:

الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے

انہیں اعلیٰ حضرت کی ذات سے نسبتِ پدری اور نسبتِ مادری دونوں کا شرف حاصل ہے، اگر باپ کی طرف سے انہیں حضور حجۃ الاسلام کا فیض پہنچ رہا ہے تو ماں کی طرف سے حضور مفتی اعظم کی نوری برکات۔ یہ نسبتیں سونے پر سہاگہ کی بہار دکھا رہی ہیں۔ ان نسبتوں نے انہیں وہ بلندی بخش دی ہے کہ ان کی بلندی کو جھانکنے کے لیے سربلندوں کی سربلندیاں خم ہو جاتی ہیں۔

تم سا کوئی سادہ، کوئی شہزادہ نہیں ہے
کیا چیز ہو تم خود تمہیں معلوم نہیں ہے

ادیانِ عالم میں اسلام ہی تنہا وہ مذہب ہے جو کل جیسا تھا آج بھی ویسا ہی ہے اور پھر کل بھی ویسا ہی رہے گا اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ اس کی حفاظت وہ ذاتِ کریم فرما رہی ہے جو حی ہے، دائم ہے، باقی ہے، قائم ہے، اسی لیے ہر قرن میں جب اور جیسی ضرورت اسلام کو پڑتی ہے فیاضِ ازل اپنے نظامِ قدرت سے ایسا ہی اس کے لیے انتظام فرما دیتا ہے، کبھی کسی جانباز مجاہد کو بھیج کر زمینِ محبت کو لالہ زار کر کے، کبھی کسی امامِ مجتہد کو بھیج کر آفاقِ علم و خرد کو ضیا بار کر کے۔ کبھی کسی مجدد و مصلح کو بھیج کر فضائے فکر و عمل کو نوبہار کر کے اور کبھی غوث، کبھی خواجہ کو بھیج کر ردائے کفر و بدعت تار تار کر کے۔ کبھی کسی فقیہ و محدث کو بھیج کر مسندِ علم و عشق باوقار کر کے، حضرت شیخ الاسلام کے معنی خیز لفظوں میں: ”جب منکرینِ زکوٰۃ نے دین میں ارتداد کا راستہ نکالنا چاہا تو خدا نے صدیقِ اکبر کے ذریعہ پیغامِ رسول کی حفاظت فرمائی، قیصر و کسریٰ کی مغرور طاقتوں نے اسلام کو چیلنج کیا تو خدا نے اس کی حفاظت فرمائی فاروقِ اعظم کے ذریعہ، یونہی جب خوارج نے قرآنی آیات کے مفاہیم کو بدلنے کی شرمناک کوشش کی خدا نے پیغامِ مصطفوی کی حفاظت فرمائی مولائے کائنات کے ذریعہ، اسی طرح جب یزید نے سرکشی کا سر اٹھایا تو خدا نے اپنا دین بچایا حسین ابن علی کے ذریعہ، ایسے ہی جب اعتزال کے فتنوں کا پانی سر سے اونچا ہونے کو آیا تو خدا نے اپنا دین بچایا مجددِ الف ثانی کے ذریعہ، اسی طرح جب وہابیت و قادیانیت نے اپنی فتنہ سامانیوں کا مظاہرہ کیا تو خدا نے اپنا دین بچایا امام احمد رضا کے ذریعہ، ایمرجنسی کے دور میں ظالم و جابر حاکموں نے جب ظلم و جور کی انتہا کر دی تو ایسے خوف و ہراس کے عالم میں خدا نے اپنا دین بچایا حضور مفتی اعظم ہند کے ذریعہ“ میں ایک قدم آگے بڑھ کر یہ اظہارِ حقیقت کر دوں کہ اور حضور مفتی اعظم کے بعد جب افراتفری کے ماحول نے پوری ملّت کو مایوسی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا۔ جب خانقاہیں اپنا مقصدِ اصلی فراموش کر بیٹھیں۔ ذمہ دار شخصیتیں اپنا کعبہ الگ بنانے لگیں۔ جب درسگاہیں اپنی بولی بولنے لگیں تو ایسے ناگفتہ بہ حالات میں خدا نے اپنا دین بچایا حضور تاج الشریعہ کے ذریعہ، تاج الشریعہ کی خاموشی بول رہی ہے۔

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

حضور مفتی اعظم کے بعد جبکہ قیادت کی بساط سمٹ چکی ہے۔ آزاد خیالی اور کسمپرسی کا دور دورہ ہے۔ اپنا قبلہ الگ بنانے کا بھوت سوار ہے۔ اچھے اچھے قدم پھسل رہے ہیں۔ مسائل میں اباحت پسندی نظر آرہی ہے۔ نظریات میں جدت طرازی کا رنگ نمایاں ہو رہا ہے۔ کون کب تک، اور کس وقت اپنے افکارِ کہنہ سے رجوع کرے گا کہنا مشکل ہے۔ ایسے زہد و گداز ماحول میں صراطِ مستقیم پر، مستقیم رہنا۔ طوفانِ بلاخیز میں بھی پائے استقلال میں ذرہ بھر لغزش نہ آنا۔ افکارِ سلف کا دامن اسی مضبوطی سے تھامے رہنا مخالف فضا میں بھی حالات سے سمجھوتہ نہ کرنا۔ سب و شتم سننا، سہنا اور اپنے استحکام پر مسکرانا۔ بعض رفقائے مجلس کا بھی ساتھ چھوڑ دینا مگر بے نیاز رہنا، یہ وہ اوصاف و کمالات ہیں جس نے کل کے مولانا اختر رضا کو آج کا حضرت تاج الشریعہ بنا دیا ہے۔

اس زندگی کے حسن کی تابندی نہ پوچھ
جو حادثوں کی دھوپ میں تپ کر نکھر گئی

میں انہیں دور سے نہیں بہت قریب سے جانتا ہوں۔ آج سے نہیں 1975ء سے پہچانتا ہوں، یہی وہ سن ہے جس میں بریلی شریف فیضانِ رضا کے گل بوٹوں سے اپنی حیات کا خاکہ سجانے حاضر ہوا تھا، میں تقریباً دو سال حضرت کے پرانے مکان محلّہ خواجہ قطب کے بالاخانہ میں مقیم رہا ہوں، بازار سے سودا سلف لاتا اور حضرت کے دسترخوان سے نوع بہ نوع ریزے چنتا رہا ہوں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت عسجد میاں لڑکھڑاتے قدموں سے چلنے کی مشق کر رہے تھے۔ حضور تاج الشریعہ دار العلوم منظر اسلام کے صدر المدرسین کے منصب پر فائز تھے، مجھے ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہے۔ میں بڑے فخر سے کہتا ہوں کہ میں نے ان سے دو کتابیں [1] ازہار العرب [2] نخبۃ الفکر پڑھی ہیں، مجھے خوب یاد ہے جب وہ ازہار العرب پڑھاتے تو پہلا تاثر یہ ابھرتا تھا کہ ہم کسی ہندی عالم سے نہیں، خالص عرب نژاد عالم سے مصری لہجے میں درس لے رہے ہیں اور معاً یہ خیال سطح ذہن پر ابھرتا کہ ان کے اسلوب میں اتنی کشش ہے۔ اتنی مٹھاس، اتنی دلکشی اور اتنی مقناطیسیت ہے تو افصح العرب والعجم، جوامع الکلم حضور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلوبِ بیان، طرزِ ادا میں کتنی تاثیر و دلگیری ہوگی۔ اور دوسرا تاثر یہ سامنے آتا کہ انہیں نادر الفاظ کے معانی کے لیے کتبِ لغت کی حاجت نہیں ہے، عربی الفاظ کے معانی مختلف تعبیر کے ساتھ جیسے منتظر ہوں کہ یہ لب کھولیں اور ہم برسیں۔ اور جب نخبۃ الفکر پڑھاتے ہیں تو چودھویں صدی ہجری کے عبقری العصر، اسلام فکر و حنفی فقہ کے امام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی یاد افقِ خیال پر چلتی پھرتی، نازک خرامی کرتی محسوس ہوئی اور دل پکار اٹھتا کہ زبان ان کی فیضانِ احمد رضا کا ہے۔ یہ اب سے 40 برس پہلے کا واقعہ ہے۔ یہ حضور تاج الشریعہ کی ابتدائی علمی زندگی کی باتیں ہیں، اس چالیس سال کے مختلف النوع، تلخ و شیریں دورانیے نے، متنوع علمی معرکہ آرائیوں نے، زمانے کے سرد و گرم تجربات نے، عالم اسلام کے سب سے بڑے اور معتمد علیہ مفتی، حضور مفتی اعظم کی جانشینی کی نازک ہمہ گیر ذمہ داریوں نے، جدید حالات کے بطن سے جنم لینے والے نت نئے مسائل کی تحقیق و تنقید نے، عالمی سطح پر منعقد ہونے والی فقہی سمینار کی مجلسوں نے انہیں علمی اعتبار سے کتنا پختہ، فقہی اعتبار سے کتنا گہرا اور فکری اعتبار سے کیسا وسیع النظر اور باریک بیں بنا دیا ہے حقائق زمانہ کی نظروں کے سامنے ہیں۔ اسلام کا وہ کون سا عنوان اور فقہ کا وہ کون سا باب ہے جو ہر وقت پیش نظر نہیں ہے۔ خدائے علیم و بصیر نے علمی حضوری کی دولت سے ایسا مالا مال کر دیا ہے کہ سوال کیجیے اور جواب حاضر۔

ایک کنکر پھینک کر دیکھو ذرا تالاب میں
کس قدر موجیں اٹھیں گی سینہِ بیتاب میں

کا منظر نظر کے سامنے آ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے بحر العلوم، دور کے فقیہ النفس، زمانے کے محققِ عصر بھی ان کی بارگاہ میں تشنہ کام حاضر ہوتے اور فائز المرام لوٹتے ہیں۔ خدا نے ان کی ذات کو اسلام و سنیت کی ڈھال بنا دیا ہے۔ حضرت مفتی محمد مطیع الرحمان صاحب مضطر پورنوی راوی ہیں کہ ایک بار شافعی المسلک کچھ علماء کیرالا سے حضرت سے ملنے بریلی شریف آئے۔ وہ حضرات چونکہ عموماً اجلی شرٹ اور تہہ بند استعمال کرتے ہیں۔ تہہ بند بھی ٹخنے سے نمایاں اوپر پہنتے ہیں۔ نماز میں رفع یدین کرتے ہیں۔ بالجہر آمین کہتے ہیں۔ یہ علامتیں شمالی ہند میں وہابیوں کی ہیں۔ اس لیے رضا مسجد بریلی میں جب ان لوگوں نے نماز پڑھی تو ہر طرف یہ سرگوشیاں ہونے لگیں کہ کچھ وہابی آئے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ حضور تاج الشریعہ سے ملنا چاہتے ہیں۔ پڑھے لکھے زیرک و فہیم لوگ تھے حالات کا چہرہ ان لوگوں نے بھی پڑھ لیا کہ ہم لوگوں کو وہابی خیال کیا جا رہا ہے۔ حضور تاج الشریعہ تک خبر پہنچی کہ کچھ وہابی علماء آئے ہوئے ہیں ملنا چاہتے ہیں۔ انہیں آنے دیا جائے کہ نہیں! مفتی مطیع الرحمان صاحب نے مخبر سے کہا کہ تم یہ فیصلہ کیوں کر رہے ہو کہ آنے دیا جائے یا نہیں۔ اور پھر حضور تاج الشریعہ سے عرض کیا حضور اگر کچھ وہابی علماء ہی آئے ہیں اور ملنا چاہ رہے ہیں تو انہیں موقع دیا جائے ہو سکتا ہے حضور سے تبادلہ خیال کے بعد انہیں ہدایت نصیب ہو جائے۔ ان لوگوں کو جیسے ہی اجازت ملی اور حاضر ہوئے۔ شاید عافیت اسی میں سمجھا کہ پہلے رفعِ اوہام کر دیا جائے۔ اس لیے باریاب ہوتے ہی عرض کیا کہ حضور ہم بھی حسام الحرمین پر یقین رکھتے ہیں۔ مسلکِ اعلیٰ حضرت کے ماننے والے ہیں، لوگ جیسا سمجھ رہے ہیں ہم قطعی ایسے نہیں ہیں ہم شافعی المسلک کے ذمہ دار علماء ہیں۔ اب تو ماحول کا پورا رنگ بدل گیا، ان حضرات کے لیے اعلیٰ و عمدہ قسم کا ناشتہ آیا۔ اور اپنائیت کے ماحول میں خیالات کا علمی لین دین شروع ہوگیا۔ دورانِ گفتگو ان حضرات نے فقہِ امامِ اعظم پر، فقہِ امام شافعی کی برتری ثابت کرنی چاہی اور یہ کہہ کر فقہِ امامِ اعظم کو کمزور، عقل و قیاس کا ملغوبہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ فقہِ امامِ اعظم کی اساس عقل و قیاس پر ہے۔ جبکہ فقہِ امام شافعی کی اساس حدیثِ مصطفیٰ پر، شافعی مسلک میں حدیث کا عمل دخل غالب ہے، اور حنفی مسلک میں عقل و خرد کا عمل دخل غالب ہے، لہٰذا فقہِ شافعی کو فقہِ حنفی پر برتری حاصل ہے اور یہی تقاضائے عدل و انصاف ہے۔ یہ سن کر حضرت نے فرمایا آپ کا یہ خیال باطل ہے، فقہِ امامِ اعظم کا ہر جزئیہ حدیثِ مصطفیٰ کی تجلّیات و برکات سے مزین ہے، ہر اصل کا ماخذ کوئی نہ کوئی حدیث ضرور ہے، یقین نہ ہو تو آپ فقہِ امامِ اعظم کا کوئی جزئیہ پیش کریں ہم اس کو حدیث سے ثابت کریں گے۔ ہر اصل کا ماخذ ہم حدیثِ مصطفیٰ قرار دیں گے۔ وہ حضرات جزئیات پیش کرتے جا رہے ہیں اور حضرت اس کا ماخذ حدیثِ مصطفیٰ بیان کرتے جا رہے ہیں۔ وہ جو بھی جزیہ جو بھی اصل پیش کرتے حضرت فوراً اسے حدیث سے مدلل کر دیتے۔ ان حضرات نے جتنے جزئیات پیش کیے حضرت نے سب کو حدیث سے ثابت کر دکھایا اور حاضرین و سامعین کو حیران و ششدر کردیا۔ مفتی محمد مطیع الرحمان فرماتے ہیں کہ اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ حضرت کی زبان سے اعلیٰ حضرت کا علم اور مفتی اعظم کا عرفان بول رہا ہے۔

شاعر و نغمہ گرو سنگ تراشو دیکھو
اس سے مل لو تا بتانا کہ حسیں تھا کوئی

ہر فقہی جزئیے کو حدیث سے ثابت کرنے کی ہمت وہی کرسکتا ہے جسے علم حدیث میں کامل درک و ممارست ہو۔ جس کی پناہ علوم میں ایک طرف فقہ حنفی کے جزئیات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہو، تو دوسری طرف حدیث کی سینکڑوں کتابوں میں پھیلے ہوئے ایک ایک حدیثِ مصطفیٰ پر عقابی گرفت۔ پھر شاہین سی چستی و پھرتی کہ جزئیہ پیش ہوا اور حدیث حاضر۔ اور حدیث بھی ایسی جو جرح و قدح سے پاک ہو، اگر اپنی کوتاہ نظری سے کوئی اس پر تنقید کی انگلی رکھنا چاہے تو اس کی تنقیح کی بھرپور صلاحیت ہو چونکہ سائل خالی دامن نہیں ہے گوہرِ مطالعہ سے مرصع ہے، بنا بریں سائل جزئیات کی پیش کشی میں کوئی تنگی محسوس نہیں کر رہا ہے، جب ان کےوفورِ علم کا یہ عالم ہے کہ تو خود محدثِ بریلوی کے بحرِ حدیث کے ہنر کا عالم کیا ہوگا۔ جو فقہ حنفی کی ماخذ حدیثوں پر ایسا علمی استحضار رکھتا ہو اسے بجا طور پر اپنے زمانے کا ممتاز المحدثین، دورِ حاضر کا محدثِ اعظم کہیے۔

بلاغت جھومتی ہے ان کے اندازِ تکلم پر
لب اعجاز پر ان کے فصاحت ناز کرتی ہے

ان علمی فکری تناظر میں اگر میں یہ کہوں تو بجا ہوگا کہ مجددِ اعظم کے علم، مفسرِ اعظم کے حلم اور مفتی اعظم کی فکر کے حسین مجموعہ کا نام ہے تاج الشریعہ، مجددِ اعظم کی تحریر، مفسرِ اعظم کی تقریر اور مفتی اعظم کی تنویر کا نام ہے تاج الشریعہ۔ مجددِ اعظم کی بیباکی، مفسرِ اعظم کی گویائی اور مفتی اعظم کی خاموشی کا نام ہے تاج الشریعہ، ان فیوضات و نوازشات نے وہ کرم فرمائی کی ہے جس بزم میں جاتے ہیں چھا جاتے ہیں۔ جس محفل میں ہوتے ہیں جانِ محفل اور میرِ مجلس ہوتے ہیں۔ شخصیت عظیم کب اور کیسے ہوتی ہے اس تعلق سے دانشوروں کے بہت سے اقوال ہیں، مگر ایک قول جس پر اکثر دانشوروں کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ ”کسی فرد کو عظیم شخصیت، یا مقتدائے زمانہ ہونے یا قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں یہ چار بنیادی خوبیاں اور یہ خوبیاں جس قدر زیادہ ہوں گی بحیثیت مقتدر اس کا مقام اتنا ہی بلند اور عظیم تر ہوگا۔ (1) جوہرِ ذاتی (2) خلوص (3) ایثار (4) جہدِ مسلسل“ حضور ازہری میاں کی شخصی عظمت کو جاننے کے لیے ان نکات کی میزان پر اب انہیں تولنے کی ضرورت نہیں ہے، ان کی قبولیتِ عامہ، ان کی قیادتِ مطلقہ، قدموں کے دیوانوں کا جمگھٹ اردگرد فرزانوں کا مجمع رات و دن پروانوں کا ہجوم اعتماد کی بے پناہ دولت، قول و قرار پر اعتبار، کسی اہم دینی مہم میں ان کے فیصلے کا انتظار، یہ ساری چیزیں اعلان کر رہی ہیں کہ سارے نکات عظمتِ نور و سرور بن کر فطرت کی سیرت و حیات میں ایسے سما چکے ہیں کہ اب ان کر ہر قول و فعل بجائے خود نشانِ عظمت بن چکا ہے۔

بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا

یہ علم ہی کی برکت تھی جس نے فطرتِ آدم علیہ السلام کو مسجودِ ملائک بنا دیا اور یہ فیضانِ فطرتِ آدم ہے جس نے آپ کو مقبولِ خلائق بنا دیا ہے۔ ان کے منزل فی الارض کی کیا بات کی جائے زمانہ حیران ہے۔ جہاں چلے جاتے ہیں خلقِ خدا کی بھیڑ لگ جاتی ہے۔ جہاں ٹھہر جاتے ہیں آبادی کا دامن تنگ ہو جاتا ہے۔ جلسے جلوس میں حضرت کی شرکت پر لوگوں کے جمِ غفیر کا یہ عالم کہ مجمع کنٹرول سے باہر ہو جاتا ہے۔ کئی جگہ انتظامیہ کو مجبوراً پولیس کا سہارا لینا پڑا تب لوگوں کے جذبات پر قابو پایا جاسکا، اور اب تو ہر جلسے میں یہی منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آپ کی اس ہردلعزیزی نے آپ کو محسودی بنا دیا ہے، وہ جو حدیثِ شریف میں ہے ”كُلُّ ذِي نِعْمَةٍ مَحْسُوْدٌ“ ہر صاحبِ نعمت محسود ہے۔ اس حدیث کی چلتی پھرتی تفسیر دیکھنی ہو تو حضور تاج الشریعہ کو دیکھ لیجیے۔ میں نے جب سے انہیں دیکھا ہے۔ مخالفت کی بادِ صرصر میں گھرا ہی پایا ہے مگر اللہ اور اس کے پیارے رسول پر توکل ایسا کہ طوفان آتا ہے گزر جاتا ہے۔ آندھی آتی ہے چلی جاتی ہے۔ استقامت علی الشریعہ کی کرامت ایسی کہ نہ مادح کی مدح سن کر اتراتے ہیں، اور نہ قادح کی قدح سے گھبراتے ہیں۔ یہ وہ چراغِ رضا ہے جو ماحول کے تقاضے سے بے پرواہ جل رہا ہے۔ یہ موافق مخالف شبستاں میں یکساں تجلّی بکھیر رہا ہے۔ شمع کی ضرورت کسے نہیں ہے کہاں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا متمنی رہتی ہے۔ یہ ملک ان کی جولانگاہ ہے۔ جہاں جاتے ہیں اختر رضا بن کر جاتے ہیں گوہرِ رضا لٹاتے ہیں۔ اور صفدر رضا بن کر واپس آتے ہیں۔

پہلے کردار پھولوں سا پیدا کرو
لوگ چاہیں گے پھر خوشبوؤں کی طرح

مستجاب الدعوات ایسے کہ جس کو جو کہہ دیتے ہیں ہو جاتا ہے۔ دعا دیتے ہیں نصیبہ چمکتا ہے، چھو دیتے ہیں وجود ناز کرتا ہے، باوجودیکہ آپ میں جمال کی خنکی نہیں جلال کی گرمی ہے، مگر عقیدت مندوں کی وارفتگی ایسی جو جمال و جلال کی حد بندیوں سے آزاد ہے۔ جلال کو جمال کا اب زلال سمجھ کر لوگ بہمہ حال شادکام ہو رہے ہیں۔ لو لگی ہے تو انہیں سے۔ آس بندھی ہے تو انہیں سے، فریاد کرنی ہے تو انہیں سے، مرید ہونا ہے تو انہیں سے، مراد پانا ہے تو انہیں سے، اس جذبےِ خودی کو کوئی کچھ نہیں کرسکتا، یہ خدائی دین ہے۔ یہ مصطفائی عطا ہے، یہ غوثیہ صدقہ ہے، لوگوں کی یہ ازخود وارفتگی بلا وجہ نہیں ہے تجربات کا نچوڑ ہے۔ مشاہدات کا عطر ہے۔ پیش آمدہ حالات کی صدا ہے۔ میسور میں حضرت کے ایک مرید کی دکان کے بازو میں کسی متعصب مارواڑی کی دکان تھی، وہ بہت کوشش کرتا تھا کہ دکان اس کے ہاتھ سے بیچ کر یہ مسلمان یہاں سے چلا جائے، اپنی اس جدوجہد میں وہ انسانیت سوز حرکتیں بھی کر گزرتا، اخلاقی حدوں کو پار کر جاتا، مجبور ہوکر حضرت کے اس مرید نے حضرت کو فون کیا، حالات کی خبر دی، معاملات سے مطلع کیا، حضرت نے فرمایا، میں یہاں تمہارے لیے دعاگو ہوں، تم وہاں ہر نماز کے بعد خصوصاً اور چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے عموماً یا قادر کا وِرد کرتے رہو۔ اس وظیفے کے وِرد کو ابھی پندرہ ہی دن ہوا تھا کہ نہ معلوم اس مارواڑی کو کیا ہوا، وہ جو بیچارے مسلمان کو دکان بیچنے پر مجبور کر دیا تھا کہ اب خود اسی کے ہاتھ اپنی دکان بیچنے پر اچانک تیار ہوگیا۔ مارواڑی نے دکان بیچی، مسلمان نے دکان خریدی، جو شکار کرنے چلا تھا خود شکار ہوکر رہ گیا۔ آج وہ حضرت کا مرید باغ و بہار زندگی گزار رہا ہے۔ ہبلی میں ایک صاحب نے کروڑوں روپئے کے صرفے سے عالیشان محل تیار کیا، مگر جب سکونت اختیار کی تو یہ غارت گرِ سکون تجربہ ہوا کہ رات میں پورے گھر میں تیز آندھی چلنے کی آواز آتی ہے۔ گھبرا کر مجبوراً اپنا گھر چھوڑ کر پھر پرانے گھر میں مکین ہونا پڑا۔ اس اثنا میں جس کو بھی بھاڑے پر دیا سب نے وہ آواز سنی اور گھر خالی کردیا۔ ایک عرصے سے وہ مکان خالی پڑا تھا کہ ہبلی میں حضرت کا پروگرام طے ہوا، صاحبِ مکان نے انتظامیہ کو اس بات پر راضی کر لیا کہ حضرت کا قیام میرے نئے کشادہ مکان میں رہے گا، مہمان نوازی اور دیگر لوازمات کی بھی ذمہ داری اس نے قبول کرلی، حضرت ہبلی تشریف لائے اور رات میں صرف چند گھنٹہ اس مکان میں قیام کیا، عشاء اور فجر دو وقت کی نماز باجماعت ادا فرمائیں، اس مختصر قیام کی برکت یہ ہوئی کہ کہاں کی آندھی اور کہاں کا طوفان، کہاں کی سنسناہٹ اور کہاں کی گڑگڑاہٹ سب یکسر معدوم، آج تک وہ مکان سکون و اطمینان کا گہوارہ ہے۔ اس سے یہ مستحق ہوتا ہے کہ جہاں آپ قیام کرلیتے ہیں وہاں سے بلائیں بھاگ جاتی ہیں۔ پریشانیاں دور ہو جاتی ہیں۔ صوفیاء اس صفت کو نائب غوثِ اعظم کی صفت بتاتے ہیں، پتہ چلا کہ دورِ حاضر میں آپ نائب غوثِ اعظم بھی ہیں۔ صوری جمال ایسا ہے کہ منگلور ضلع کے کائی کمبا گاؤں میں حضرت کا پروگرام تھا۔ قیام گاہ سے طعام گاہ کی طرف بذریعہ کار جا رہے تھے راستہ جام ہونے کی وجہ سے گاڑی رکی ہوئی تھی۔ کنارہ سڑک پر کھڑے، ہاتھ میں ترشول لیے، گیروا لباس پہنے چند پنڈتوں کی نظر اچانک حضرت کے چہرے پر پڑی، پہلے تو دور ہی سے وہ سب بغور دیکھتے رہے، جب دل نہ مانا تو قریب آگئے۔ اور حیرت زدہ مسلسل حضرت کی زیارت کرتے رہے، کسی نے پوچھا کیا دیکھ رہے ہیں جواب دیا ایسی موہنی صورت پہلی بار دیکھی ہے۔ اتنے خوبصورت روپ بھی دنیا میں ہیں یہ پہلی بار مشاہدہ ہوا اس لیے آنکھ کے راستے سے دل کی مسند پر ان کو بٹھا رہا تھا۔

خوبصورت کو سنورنے کی ضرورت کیا ہے
سادگی میں بھی قیامت کی ادا ہوتی ہے

یہ وقت کا بہت بڑا المیہ ہے کہ آج جس قدر لوگ ان سے جلتے ہیں شاید ہی کسی سے جلتے ہوں گے، لوگ ان کی شخصی عظمت سے جلتے ہیں۔ ان کی حیثیتِ عرفی سے جلتے ہیں۔ ان کے نام اور پروگرام سے جلتے ہیں۔ شہرت و مقبولیت سے جلتے ہیں۔ ان کے استقلال و استقامت سے جلتے ہیں۔

جب بھی آتا ہے میرا نام تیرے نام کے بعد
جانے کیوں لوگ میرے نام سے جل جاتے ہیں

غرض ان کی ہر ادا میں ندرت، ان کی ہر صدا میں بانکپن، ان کی ہر روش میں اچھوتا پن اور ان کے ہر انداز میں انفرادیت ہے۔ وہ محبت کرنے کی چیز ہیں ان پر عقیدت نچھاور کی جائے گی۔ وہ اپنانے کی چیز ہیں، انہیں اپنا بنایا جائے، وہ حق و صداقت کی آواز ہیں ان کا ساتھ دیا جائے۔ وہ مسلکِ حق کے علم بردار ہیں ان کی صف میں جگہ بنائی جائے۔ وہی اسلام و سنیت کا صیقل آئینہ ہیں۔ لہٰذا اپنی اپنی تصویر جگمگاتی جائے۔ ان کی علمی جلالتِ عالمانہ، طمطراق کو سلام، ان کی شانِ استغناء اور جرأتِ اظہار کو سلام، ان کی استقامت علی الشریعت اور فکری استحکام کو سلام، ان کے دعائیہ کلمے اور فقہی ایک ایک جملے کو سلام۔

وہ عجیب پھول سے لفظ تھے
تیرے ہونٹ جن سے مہک اٹھے
میرے دشتِ داغ میں دور تک
کوئی باغ جیسے لگا گئے

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!