| عنوان: | محفلِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مخالفین کے اعتراضات |
|---|---|
| تحریر: | رفعت برکاتی |
| پیش کش: | بنت ریاض شیخ |
محفلِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دیوبندیوں کی تحریر و تقریر میں ایک بات آپ ضرور پائیں گے کہ وہ ہم اہلِ سنت و جماعت (بریلوی) پہ بہتان بازی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ لوگ میلاد کی محفل یا جلوس میں شرکت نہ کرنے والوں کو کافر یا ابلیس کہتے ہیں اور بطورِ ثبوت یہ شعر پیش کرتے ہیں:
نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاول
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں
حالانکہ یہ شعر مبنی بر حقیقت ہے، یعنی ولادتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ابلیس کو خوشی نہیں ہوئی بلکہ چلا کر رویا، چنانچہ البدایہ والنہایہ کا اردو ترجمہ ”تاریخ ابن کثیر“ کے نام سے اصغر مغل وہابی دیوبندی نے کیا ہے: ”ابلیس چار بار چلا کر رویا۔ (اور تیسرے نمبر پہ لکھا ہے کہ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی۔“ [تاریخ ابن کثیر، حصہ دوم، ص: 723]
مگر دیوبندی وہابی اس ”ابلیس“ سے مراد خود کو لیتے ہیں، حالانکہ سچ یہ ہے کہ دنیا بھر میں کہیں بھی کسی کو بھی میلاد کے جلسے جلوس میں شرکت نہ کرنے پر کافر یا ابلیس نہیں کہا جاتا، کیونکہ ہمارے احباب اور اہلِ محلہ (جو پکے سنی صحیح العقیدہ ہوتے ہیں) ان میں سے بھی بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی عذر کی بنا پر نہ ہی محفلِ میلاد میں شامل ہوتے ہیں، نہ جلوس میں اور انہیں کافر یا ابلیس نہیں کہا جاتا۔
تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر کیا وجہ ہے کہ سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں، اس سے دیوبندی وہابی خود کو مراد لیتے ہیں، اگر دلائل کی روشنی میں بات کی جائے تو سچ یہ ہے کہ یہ لوگ واقعی شیطان ہی ہیں، جیسا کہ اشرف علی تھانوی کہتا ہے: ”ایک شیخ تھے، پیری مریدی کرتے تھے، ان پر ایک حالت طاری ہوئی جس میں وہ سمجھ گئے کہ میں شیطان ہو گیا ہوں۔“ [ملفوظات حکیم الامت، ج: 5، ص: 248]
اسی طرح ایک ”قریشی“ پیر کے بارے میں محمد صادق آبادی دیوبندی لکھتا ہے: ”میں کالا کتا، اس پاک دیس کو کیسے ناپاک کر دوں۔“ [اکابر کا مقامِ تواضع، ص: 192]
اس میں دیوبندیوں وہابیوں کے پیر ”حضرت قریشی“ نے خود کو ”کالا کتا“ کہا ہے، مگر کیوں؟ کیونکہ حدیثِ شریف میں ”کالا کتا“ شیطان کو کہا گیا ہے؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: إِنَّ الْأَسْوَدَ شَيْطَانٌ یعنی کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔ [المعجم الاوسط، مترجم، جلد دوم، حدیث: 2685]
غالباً یہی وجہ ہے کہ دیوبندیوں وہابیوں کے اس طرح شیطان بننے پر ان کا ایک ”حضرت جی“ ڈانٹتے ہوئے ان دیوبندیوں وہابیوں سے پوچھتا ہے: ”ہم تم سے کس نے کہہ دیا کہ شیطان بنو۔“ [اہل کے انمول اقوال، ص: 244]
اس قسم کی تفصیلی معلومات کے لیے راقم الحروف کا رسالہ ”دیوبندیوں کی شیطان سے محبت“ جو انٹرنیٹ پر موجود ہے، ملاحظہ فرمائیں، المختصر یہ کہ شعر میں شاعر نے ملعون ”ابلیس“ کی بات کی ہے مگر دیوبندی وہابی اس سے یہ سمجھتے اور سمجھاتے پھرتے ہیں کہ دیکھو، اس شعر میں ہمیں ”ابلیس“ کہا گیا ہے، تو ہم نے اس بات کی تحقیق کی کہ آخر یہ لوگ خود کو ابلیس کہنے پر اتنے مصر اور بضد کیوں ہیں؟ تو اس حقیقت کا انکشاف ہوا کہ واقعی دیوبندی وہابی ابلیس شیطان ہی ہیں، جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا، اسی لیے خطیبِ مشرق علامہ مشتاق نظامی علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ خدا جب دین لیتا ہے تو عقلیں چھین لیتا ہے۔
[سنی دنیا، بریلی شریف، نومبر 2023ء، ص: 19]
