Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تاریخ جماعت رضائے مصطفیٰ

تاریخ جماعت رضائے مصطفیٰ
عنوان: تاریخ جماعت رضائے مصطفیٰ
تحریر: محمد شہاب الدین رضوی
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

کام وہ لے لیجیے تم کو جو راضی کرے
ٹھیک ہو نامِ رضا تم پہ کروڑوں درود

حرفِ آغاز

برصغیر ہند و پاک میں اہلِ سنت و جماعت کی اکثریت ہے۔ اور باقی اقلیتی طبقہ میں شیعہ، بوہرہ، خوجہ، قادیانی، ندوی، دیوبندی، غیر مقلد اور جماعتِ اسلامی وغیرہ آتے ہیں۔ فیصلہ شدہ بات ہے کہ جس ملک میں جو افراد اکثریت میں ہوں، تو قیادت کی عنان انہی کے ہاتھوں میں ہو گی۔ مگر ہندوستان میں مسلمانوں کا اکثریتی طبقہ قیادت کے حقوق سے محروم ہے، اور اقلیتی طبقہ مسلمانوں کا قائد و رہبر بنا ہوا ہے۔ آخر ایسا کیوں؟ کبھی علمائے اہلِ سنت نے اس بات پر غور کیا؟ ہرگز نہیں۔ تقسیمِ ہند سے قبل متحدہ ہندوستان کی عنانِ قیادت اہلِ سنت کے پاس تھی، ان کا ایک پلیٹ فارم تھا، اور نمائندہ جماعت بھی یعنی آل انڈیا جماعتِ رضائے مصطفیٰ بریلی۔ مگر ۱۹۴۷ء کے بعد اہلِ سنت کی قیادت نے آپسی چپقلش کا شکار ہو کر اپنی اہمیت و افادیت کو کھو دیا۔ وقت اب بھی موجود ہے، غلطیوں کی اصلاح ممکن ہے۔ ماضی کے شاندار کارنامے، علمائے اہلِ سنت کی بے باکانہ حق گوئی، ملی و قومی خدمات کو دوبارہ نظروں کے سامنے لا کر پھر سے ملک و ملت کی تعمیر، اور مسلمانوں کی شیرازہ بندی کی جا سکتی ہے۔ اگر خلوصِ دل سے کوششیں کی جائیں تو۔

اہلِ سنت کے قد آور ادیب مولانا یٰسین اختر مصباحی نے سنی قیادت پر تبصرہ کرتے ہوئے خود احتسابی کی دعوت دی ہے، اور ان سے تیکھے سوال طلب کیے ہیں۔ رقم طراز ہیں:

”یہاں غیروں کا تو گلہ شکوہ ہی بے کار ہے، کہ ان کا جو وطیرہ ہے اس پر وہ عمل کرتے ہی رہیں گے۔ البتہ احتسابِ خود اپنا کرنا چاہیے، کہ اپنی خدمات اور کثرتِ تعداد کے باوجود ہم سے یہ بے توجہی، اور ہماری یہ ناقدری کیوں ہے؟ عند اللہ ہمیں اپنے کاموں کا جو اجر ملے گا اس کا ہمیں جو کچھ کرنا چاہیے اس پر نہایت سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ حالات جوں کے توں باقی رہیں گے، اور مخالفین کی ظاہری بالادستی ہمارے اوپر اسی طرح قائم رہے گی۔ جیسے پچیس فی صد ووٹ کے ساتھ چالیس سال (چند سال کا استثناء) سے کانگریس پارٹی ۷۵ فی صد ووٹ پانے والی اپوزیشن پارٹیوں پر حاوی اور مسلط ہوتی چلی آرہی تھی۔ اور اپنی اصلاح کے لیے بلا تکلف اس حقیقت کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ ہمارے اندر جماعتی شعور، اور تنظیمی صلاحیت کا افسوس ناک حد تک فقدان ہے۔ اور اس ایک کمی نے ہمارے وزن اور قدر و قیمت کو داؤ پر لگا رکھا ہے۔“

بس اک قدم اٹھا تھا غلط راہِ شوق میں
منزل تمام عمر ہمیں ڈھونڈتی رہی

پھول بننے کی خوشی میں مسکرائی تھی کلی
کیا خبر تھی یہ تغیر موت کا پیغام ہے

حقائق کا اعتراف زندہ قوموں کی علامت ہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد اس میں کوئی شک نہیں کہ اہلِ سنت و جماعت ہمیشہ دفاع کی پوزیشن میں رہی، تعمیر و ترقی اور پیش قدمی کی طرف کوئی جدوجہد نہ کر سکے۔ اور ہماری تمام صلاحیتیں، ملت کا عظیم سرمایہ، بند دفاعی محاذ پر صرف ہوتا رہا۔ اگر یہی قوت پیش قدمی اور ارتقا کی جانب لگا دی جاتی تو کروڑوں مسلمانوں کے ہزاروں مسائل کا علاج ممکن ہو جاتا۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا اور غیر معیاری امور میں مصروفِ کار رہے۔ حق یہ ہے کہ علماء و قائدینِ اہلِ سنت کسی سازش کا شکار ہو گئے۔ علامہ ارشد القادری نے اہلِ سنت کے کل ہند تنظیمی جماعتوں کے سربراہوں کے نام ایک درد انگیز مکتوب میں اپنی کثرت کے باوجود بکھراؤ کی حقیقت کا برملا اعتراف کرتے ہوئے جھنجھوڑا ہے:

”کیا اب بھی وہ مسعود اور فرخندہ گھڑی نہیں آئی ہے، کہ ایک ہی منزل کے دو مسافر، ایک ہی ایوانِ دولت کے دو نیازمند، اور ایک ہی چراغِ حرم کے دو وارفتہ جگر پروانے مشترک مقصد کی والہانہ شیفتگی کے ساتھ ایک جگہ جمع ہو جائیں اور باطل پرستوں کی مغرور دنیا کو اس بات کا یقین دلا دیں، کہ ہزاروں حلقوں، سیکڑوں خاندانوں، اور بے شمار تنظیمی اداروں میں بکھرے ہوئے کئی کروڑ سُنی وقت کی پکار پر سرشار دیوانوں کی ایک ایسی صف بھی وجود میں لا سکتے ہیں جس کے دونوں کنارے جنوب و شمال کی آخری حدوں سے جا ملیں۔“

اہلِ سنت و جماعت کے قائدین کی فکر انگیز تحریروں و تقریروں سے کیا فائدہ پہنچا؟ اور کیا تحریک شعور بیدار ہوا، یا تنظیمی ڈھانچہ درست ہو گیا؟ ان سوالات کے جوابات اہلِ دانش کی آنکھوں کے سامنے گشت کر رہے ہیں:

اندر سے اصولوں کی طرح ٹوٹے ہوئے لوگ
بک جائیں تو دیکھو، نہ تعجب کی نظر سے

اب کوئی خوشبو نہ مانگے پھول سب ہم جھڑ گئے
راکھ بھر دی ہے کسی نے زیست کے گلدان میں

ہندوستان کا دارالسلطنت دہلی، بریلی اور دیوبند کی مسافت کے اعتبار سے قریب قریب برابر ہے۔ دہلی ہر محاذ کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اور آج کے دور میں اور بھی زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ دیوبند نے جس طرح دہلی کو اپنا مرکز بنایا، بریلی نے ماضی میں کبھی اس طرف دھیان نہیں دیا۔ مگر آج اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اہلِ سنت و جماعت نے اس کی اہمیت کو سمجھا، اور اپنا مرکز بنانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ اہلِ سنت کے نڈر صحافی یوسف تاتاری ماضی کے حالات کا جائزہ پیش کرتے ہیں:

”آج بارہ سال سے مسلم علما، اہلِ سنت و جماعت کی خاموش زبانی نے مسلمانانِ اہلِ دہلی کی اور کتنی پیاس بڑھا دی ہے کہ وہ جہاں کہیں دور سے دُور کسی سنی عالم کی آمد کی خبر پاتے ہیں، کس طرح دوڑے ہوئے جاتے ہیں، کہ جس طرح محفل میں شمع روشن ہو، اور پروانے فدا ہونے آجاتے ہیں اور ہر طرف سے اس مردِ مجاہد کو گھیر لیتے ہیں۔ مگر وہ کچھ دنوں میں دعوتِ حق کے لیے انکار کر دیتا ہے، اگر یہی حالت رہی تو مسلمانانِ ہند نہ صرف ہمیں داغدار کر دیں گے، بلکہ یہ تیری غلامی کا بھی طوق اتار پھینکیں گے، اور ہماری بارہ سالہ محنت اس طرح سے برباد ہو جائے گی جیسے گدھے کے سر سے سینگ جاتے رہے۔“

اہلِ سنت و جماعت کے اکابرین، جنہوں نے ملتِ اسلامیہ کے لیے بے شمار خدمات انجام دیں، مگر ہم ان کے روشن کارناموں کو صفحۂ قرطاس پر سپردِ قلم نہ کر سکے۔ اور وہ لوگ جنہوں نے ”انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھوایا“ ان کی تاریخ و تذکرے کئی جلدات میں تصنیف ہوئے اور ان کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ ماضی کے اوراق الٹ کر دیکھیے، قدیم ریکارڈ اہلِ سنت اکابرینِ ملت کے کارناموں سے پُر ہے۔ مگر ایک زمانہ گزر گیا، تاریخ سازی کی طرف کوئی توجہ نہ کی گئی۔ صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی، حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا بریلوی، محدثِ اعظم ہند میاں کچھوچھوی، امیرِ ملت پیر سید جماعت علی شاہ علی پوری، مفتیِ اعظم مولانا شاہ مصطفیٰ رضا بریلوی، مبلغِ اسلام مولانا عبدالعلیم صدیقی، صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی، مولانا حشمت علی خان لکھنوی، مولانا قطب الدین برہمچاری، مولانا ہدایت رسول رامپوری وغیرہ کو جو مقام و منصب ملنا چاہیے تھا وہ نہ مل سکا، ان کی بیش بہا خدمات دبیز پردوں میں دب کر رہ گئیں۔

وہ لوگ کیا ہوئے، وہ زمانہ کدھر گیا

ان علمائے کرام نے ہر محاذ پر اہلِ سنت کی نمائندگی کی، میدانِ عمل ہو یا جہاد، مذہب ہو یا سیاست۔ انہوں نے اسلام اور بانیِ اسلام حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خاطر جان و مال کو قربان کر دیا۔ آج ان کی بے پایاں قربانیوں کو فراموش کر دیا گیا، عوام تو عوام اکثر علماء بھی بے خبر ہیں۔ مذکورہ علمائے کرام نے وہابیت کی آندھی و طوفان میں بھی تحریکیں زندہ رکھیں، طوفان کے تھپیڑوں کا کلیجہ چیر دیا، اور ان کے قدم کبھی متزلزل نہ ہوئے، ثابت قدمی اور اولوالعزمی سے مردانہ وار مقابلہ کر کے باطل کی کشتی کو غرقاب کر دیا۔

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمدیؐ اس کے بدن سے نکال دو (ڈاکٹر اقبال)

آج کے مادی دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ عصرِ حاضر کے تمام تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے افراط و تفریط سے بچ کر لٹریچر پیش کیا جائے۔ جماعتِ اہلِ سنت میں قلم کاروں اور ادیبوں کی کمی نہیں ہے، مگر وہ ذہنی الجھنوں اور معاشی فکر میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے سکون و اطمینان درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ موجودہ تنظیموں و جماعتوں (اگر ہیں تو؟) کو چاہیے کہ ایسے تمام افراد کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے کر، بہتر افراد کی تشکیل کریں۔ ورنہ اغیار نے ہر محاذ پر کامیابی کے بعد لٹریچر پر چھاپ بڑھا دی ہے، اور گرفت مضبوط کر دی ہے۔ اردو، عربی کے علاوہ انگریزی، ہندی اور علاقائی زبانوں میں اپنا لٹریچر شائع کر رہے ہیں۔ یہیں بس نہیں کیا بلکہ ترمیم و تنسیخ کی پوری منظم سازش رچی گئی، جیسا کہ جناب نوشاد عالم چشتی انکشاف کرتے ہیں:

”آج کل یوں بھی ہمارے بزرگوں کی کتابوں میں تحریف و خیانت، اور کتر بیونت کا کام بڑے خاموش انداز میں جاری ہے۔ تاریخ کو بدلنے اور اس کو مسخ کرنے کا کام ایک بڑے منظم انداز میں شروع کر دیا گیا ہے، تاکہ یہ پاکباز نفوس اپنے بزرگوں کی ان کرتوتوں پر پردہ ڈال سکیں، جن سے ماضی میں مسلمانوں کو سخت نقصان دینی، جانی، مالی تمام اقسام کا پہنچا ہے۔ کاش محققین اس پر بھرپور توجہ دیتے۔“

افکار سے ہوشیار کہ یہ وقت کی موجیں
پیغام بدل دیتی ہیں، خدوخال بدل کر

جماعت رضائے مصطفیٰ کے بانی اور سرپرستِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی کی عظیم خدمات آفتاب کی طرح روشن ہیں۔ انھوں نے باطل نظریات کا ردِ بلیغ فرمایا۔ اور جب مخالفین سے کچھ نہ بن سکا تو انھوں نے کردار کشی کی تحریک چلائی، اور یہ الزام لگایا کہ امام احمد رضا انگریز نواز تھے، اور ان کی تحریک جماعت رضائے مصطفیٰ بھی انگریز نواز ہے۔

یہ ایک ایسا سفید جھوٹ اس صدی میں بولا گیا ہے جس کی نظیر پیش کرنے سے زمانہ قاصر ہے۔ وہابی علماء کی یہ چال جب کارگر ثابت نہ ہوئی تو انھوں نے گورنمنٹ سطح کی کارروائی کی، اور حکومتِ وقت کا سہارا لیا۔ حکومتی پیمانہ پر جاری شدہ سی آئی ڈی کی رپورٹ تمام اخبارات میں جلی سرخیوں سے شائع کی گئی۔ اور وہابی خیمہ نے اس رپورٹ کو مزید ہوا دی۔ چونکہ وہ اپنی تحریک میں بزعمِ خویش کامیاب ہو گئے تھے۔

سی آئی ڈی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

”جماعت رضائے مصطفیٰ ۱۹۱۰ء میں بریلی میں قائم یہ انگریز نواز، اور کانگریس دشمن تھی، اس کے بانی مولانا احمد رضا خاں تھے، اس وقت ان کے بیٹے مولانا مصطفیٰ رضا خاں اس کے صدر ہیں، اس کی برانچیں مولانا حامد علی صاحب نے رائے پور، جبل پور، سلطان پور اور پیلی بھیت میں ۱۹۰۰ء میں قائم کیں۔ بانی (جماعت رضائے مصطفیٰ) اس وقت اسمبلی میں وقف بل اور قاضی بل کی مخالفت کر رہی ہے۔“

مذکورہ سی آئی ڈی رپورٹ کو بار بار پڑھیں، اور غور کریں کہ جس کا بانی انگریزی ملکہ کا ٹکٹ جب ڈاک پر لگاتا تھا تو بطور توہین اس کا سر نیچے کر دیا کرتا تھا، ایسی صورت میں کوئی بھی غیر جانبدار محقق و دانشور اس بات کو ماننے کے لیے ہرگز تیار نہ ہوگا کہ وہ اور ان کی تنظیم انگریز نواز تھی۔ جبکہ ان کے مخالفین انگریز نوازی اور شمس العلماء جیسے خطابات کے حصول میں مشہورِ زمانہ ہیں۔

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر تم ہم پہ پھینکتے
دیوارِ آہنی پہ حماقت تو دیکھیے

جماعت رضائے مصطفیٰ کی مقبولیت اور عالمگیر شہرت مخالفین کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی رہی، اور ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ اس تحریک کو دم زدن میں ختم کر دیا جائے، اور اگر اس کو دفنانے میں وقت لگا تو ہم خود دفن کر دیئے جائیں گے۔ بالاآخر انہوں نے حکمت کا سہارا لیا اور اس میں وہ کامیاب بھی رہے۔ بریلی شریف کی معروف شخصیت مرزا عبدالوحید بیگ رضوی نے اپنا ردعمل اس طرح ظاہر فرمایا ہے:

”ملک کے ذمہ دار اور سرکاری اداروں میں بھی فرقہ پرستی کا پودا عظیم الشان درخت بن رہا ہے، اور برابر اس پودے کی آبیاری ہو رہی ہے۔ اس امر کا ثبوت محکمہ خفیہ کی وہ رپورٹ ہے جس میں آل انڈیا جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی کو فرقہ پرست بتایا گیا ہے، اور اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے بلکہ لغو بہتانات اور الزامات دل کھول کر لگائے گئے ہیں۔ اگرچہ یہ جماعت ملک کے بہترین قائدین، مفکرین اور مدبرین کی امارت اور نظامت میں ملک و قوم و ملت کی خدمات میں سرگرم ہے۔ ان جماعتوں کے قائدین وہ لوگ ہیں جو انسانیت کے محسنِ اعظم، رحمۃ للعالمین (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے صحیح اور سچے جانشین ہیں۔ اور جن کا اصولی، ذرہ پرست، متعصب اور تنگ نظر ہونا ناممکن ہی نہیں، بلکہ محال ہے، مگر برا ہو فرقہ پرستی کا کہ ان اصولی جماعتوں میں بھی فرقہ پرستی کے کیڑے نظر آنے لگے۔“

امام احمد رضا بریلوی، اور ان کی تحریک جماعتِ رضائے مصطفیٰ کو بدنام کرنے اور سرگرمیوں کو ماند کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ مگر حق ہمیشہ بلند رہا ہے اور تا قیامت ان شاء اللہ تعالیٰ بلند و بالا رہے گا۔

کیا بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دورِ زماں ہمارا

۱۹۸۹ء میں راقم نے رام پور رضا لائبریری رام پور، صولت پبلک لائبریری رام پور میں موجود قدیم اخبارات و رسائل کی فائلیں دیکھنا شروع کیں۔ ان میں ہفت روزہ دبدبہ سکندری کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اخبار کی ورق گردانی کر رہا تھا کہ جگہ جگہ جماعتِ رضائے مصطفیٰ کی رپورٹیں، مراسلے اور احتجاجی کارروائیاں نظر سے گزریں، معاََ ذہن میں یہ خیال گزرا کہ خدا نے فرصت دی تو جماعتِ رضائے مصطفیٰ کی تاریخ ضرور مرتب کروں گا۔ بالآخر تقریباً چھ ماہ کی مدت میں روزانہ شب و روز کی محنتِ شاقہ پر ۲۵ سال کی ۲۵ جلدیں مکمل دیکھیں، اور ساتھ ہی اس کا ایک اشاریہ بھی مرتب کر دیا۔ یاد رہے کہ یہ کام استادِ گرامی مولانا مفتی شاہد علی رضوی شیخ الحدیث الجامعۃ الاسلامیہ رام پور کی ایماء پر کیا تھا۔

راقم السطور کے مرتب کردہ اشاریہ کی بنیاد پر دبدبہ سکندری کی فوٹو اسٹیٹ کرائی گئی، بعدہٗ موصوف کے حکم پر اشاریہ اور پوری کاپیاں موصوف ہی کو سپرد کر دی گئیں، جس کی کوئی کاپی احقر کے پاس نہ رہ سکی، مگر راقم کے دل میں روز بروز جذبہ پروان چڑھتا رہا کہ جماعتِ رضائے مصطفیٰ کی تاریخ ضرور بالضرور مرتب ہونا چاہیے۔ اس احساس کو تقویت اس وقت ملی جب راقم مولانا عبد المصطفیٰ ردولوی کے منعقدہ امام احمد رضا سیمینار لکھنؤ (۱۹۹۲ء) میں شرکت کی غرض سے لکھنؤ حاضر ہوا، اور ساتھ ہی ساتھ صرف مطالعہ اور معلومات کی بنیاد پر جماعت رضائے مصطفیٰ کا سرسری جائزہ بھی لکھ کر لے گیا تھا۔ دورانِ سیمینار مولانا یٰسین اختر مصباحی نے مقالہ ملاحظہ فرمایا۔ موصوف مقالے کے اوراق الٹ رہے تھے اور احقر کے لیے دعا کر رہے تھے، ایک سرسری نظر کے بعد باقاعدہ اس کی تاریخ لکھنے کی طرف توجہ دلائی، اور مزید تاریخی دستاویزات اور حوالہ جات کی نشاندہی بھی فرمائی۔ مقالے کی ایک کاپی ناظمِ سیمینار کو سپرد کر دی گئی، جبکہ راقم السطور کو سیمینار کی نشست میں مقالہ پڑھنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ سیمینار میں مشمولہ تمام مقالات کو مولانا عطا محمد رضوی اترولوی نے مجموعہ کی شکل میں شائع کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اور مقالات پر نظرِ ثانی کے لیے مولانا محمد احمد مصباحی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ با وجود کوشش مولانا اترولوی اپنے منصوبے میں ناکام رہے۔ ابھی ایک ماہ بھی نہ گزرا تھا کہ مولانا محمد احمد مصباحی کا مکتوبِ گرامی موصول ہوا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ جماعتِ رضائے مصطفیٰ کی تاریخ لکھنے کے لیے تمھارا انتخاب ہوا ہے۔ دوسری جانب صاحبزادہ وجاہت رسول قادری صدر ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی سے ملاقات ہوئی، انھوں نے بھی اس کی افادیت و اہمیت کی طرف توجہ دلائی۔ جبکہ مولانا یٰسین اختر مصباحی کا برابر اصرار اور حکم تھا کہ یہ کام بہت جلد شروع کر دو۔ راقم السطور ماہنامہ سنی دنیا بریلی کی مصروفیات کی وجہ سے ٹال دیتا تھا، مگر مولانا مصباحی کا حکم سخت سے سخت تر ہوتا چلا گیا اور احقر کو حکم کی بجا آوری کے لیے سر خم کرنا پڑا۔ ابتداءً اُستاد گرامی سے رابطہ قائم کیا، مگر سوئے اتفاق کہ وہ بے سود ہی رہا، بالآخر احقر نے رضا لائبریری رام پور میں دوبارہ محنت کر کے بمشکل تمام مواد جمع کیا۔

”تاریخِ جماعت رضائے مصطفیٰ“ کی ترتیب و تدوین کا کام عین بابری مسجد کی شہادت کے دو دن یعنی ۲ دسمبر ۱۹۹۲ء سے شروع ہوا، جماعت رضائے مصطفیٰ کے بانی و سرپرستِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کے روضۂ انوار میں بیٹھ کر کتاب کا آغاز کیا۔ یہ تاریخ ایسے بھیانک وقت میں لکھی گئی جب ہندوستان فرقہ وارانہ آگ کی لپیٹوں میں تھا، اور یہ قومِ مسلم کے لیے مقتل بنا ہوا تھا۔ مسلمانوں کے تقدس و عظمت کی پامالی، ماں بہنوں کی عصمتوں سے کھلواڑ کیا جا رہا تھا۔ تاریخ جماعت رضائے مصطفیٰ لکھتے وقت قلب و جگر کانپ رہے تھے، اور آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں دواں تھا۔ ریڈیو اخبارات کی خبریں آئے دن ایک پر تشدد اور خوفناک صورتِ حال سے دوچار کر دیتی تھیں مگر سوائے کفِ افسوس کے اور کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ:

میرے ذوقِ جنوں پہ پہرہ ہے
دل شکستہ ہے زخم گہرا ہے

ہم سے زینت ملی ہے مقتل کو
دار کو بڑھ کے ہم نے چوما ہے

زیرِ نظر کتاب کی تالیف کے دوران راقم السطور نے ملک کی شہرت یافتہ لائبریریوں کا دورہ کیا، اور وہاں پر رہ کر مواد کی فراہمی میں منہمک رہا۔ مثلاً دارالمصنفین اعظم گڑھ، برہانیہ کالج لائبریری بمبئی، لائبریری انجمن اسلامیہ بمبئی، پبلک لائبریری دہلی، جامعہ ملیہ لائبریری دہلی، شبلی کتب خانہ ندوۃ العلما لکھنؤ، لائبریری جامعہ اشرفیہ مبارکپور، مولانا ابوالکلام آزاد لائبریری مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، ذاتی کتب خانہ محب الحق بن مفتی شریف الحق امجدی گھوسی، شمس العلوم لائبریری بدایوں، پیلی بھیت، مراد آباد، رام پور، آگرہ، کلکتہ وغیرہ کی مختلف چھوٹی بڑی لائبریریوں سے استفادہ کیا۔ کتاب کی تکمیل کے سلسلہ میں زیادہ تر مواد جناب مرتضیٰ علی رضوی بانس منڈی بریلی نے فراہم کیا، چونکہ آپ کے والد ماجد شیخ مشتاق علی رضوی مرحوم جماعت رضائے مصطفیٰ کے رکنِ رکین تھے جس کی وجہ سے موصوف کے یہاں خاطر خواہ ذخیرہ موجود ہے۔ راقم السطور موصوف کی اس علم دوستی اور فراخدلی کا ممنون ہے۔

”تاریخِ جماعت رضائے مصطفیٰ“ کی تکمیل مختصر سی مدت تقریباً ۳ ماہ میں ہو گئی تھی، مگر دوسرا اہم مسئلہ نظرِ ثانی کا درپیش تھا، مولانا یٰسین اختر مصباحی کی خدمت میں عرض کیا گیا تو انہوں نے مولانا محمد احمد مصباحی کی طرف رجوع کرنے کے لیے فرمایا۔ الغرض ہزار خوشامد کر کے جیسے تیسے راضی کر لیا، مولانا بے انتہا مصروف شخصیت ہیں جس کی وجہ سے نظرِ ثانی میں کافی تاخیر ہوئی، مگر مولانا عبدالمبین نعمانی قادری کی بار بار یاد دہانیاں اپنا اثر کر گئیں اور وہ خود انھوں نے نظر ثانی فرمادی۔ احقر بصمیم قلب مشکور و ممنون ہے۔

احقر کی تحقیق و تلاش کا نچوڑ ”تاریخ جماعت رضائے مصطفیٰ“ آپ کے سامنے ہے۔ جہاں علمائے کرام و دانشورانِ ملت نے راقم کا علمی تعاون فرمایا، وہیں رضا اکیڈمی کے سرگرم اراکین نے اشاعت کا بار اٹھا کر ایک اہم ملی و قومی خدمت سرانجام دی۔ رضا اکیڈمی بمبئی کے سربراہ اور بانی مولانا الحاج محمد سعید نوری نے ہمیشہ راقم کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے نیز ”تاریخ جماعت رضائے مصطفیٰ“ کی اشاعت کا سہرا آپ ہی کے سر جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جملہ معاونین و کرم فرما حضرات کو دارین کی نعمتوں سے سرفراز فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

آخر میں رضویات کے ماہرین اور محققین کی خدمت میں التماس ہے کہ کہیں بھی کوئی فروگزاشت نظر سے گزرے تو ضرور مطلع کرنے کی زحمت فرمائیں۔ احقر اپنی کوشش میں کہاں تک کامیاب ہوا ہے اس کا اندازہ تو محققین اہلِ علم ہی لگا سکتے ہیں۔

کہہ رہا ہے موجِ دریا سے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ لے جائیگا

۲۵ محرم الحرام ۱۴۱۶ھ / ۲۵ جون ۱۹۹۵ء
موضع شیداپور پوسٹ قیصر گنج ضلع بہرائچ (یو پی)
احقر محمد شہاب الدین رضوی غفرلہ

ماخوذ از: ماہ نامہ تاریخ جماعت رضائے مصطفے ص ۲۵ تا ۳۵

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!