Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

جمیعۃ علمائے ہند ماضی کے آئینے میں (دوسری قسط)

جمیعۃ علمائے ہند: ماضی کے آئینے میں (قسط: اول)
عنوان: جمیعۃ علمائے ہند: ماضی کے آئینے میں (قسط: اول)
تحریر: مفتی ذوالفقار خان نعیمی ککرالوی
پیش کش: مفتیہ ام ہانی امجدی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

تبلیغ کرنے والے کے خلاف جمیعت کے مفتی کفایت اللہ دہلوی کا وہ فتویٰ ہے جس میں انہوں نے غازی عبدالرشید، جنہوں نے شردھانند کو فی النار کیا، سے متعلق جنت کی خوشبو سے محروم ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔ جمیعت کی اس ناپاک پالیسی اور صنم پرستوں کے حسبِ منشا فتویٰ بازی سے متعلق زبردست ریمارک فرماتے ہوئے صدر الافاضل رقم طراز ہیں:

”جمیعۃ علمائے اسلام و مسلمین نے جو خدمتیں انجام دی ہیں ان سے تمام ہندوستان کے مسلمان واقف ہیں۔ ان میں بہت نمایاں کارنامہ جمیعت کا تو یہ ہے کہ اس نے ہندوؤں میں فنا ہو جانا یا ہندوؤں پر فدا ہو جانا منظور کیا، اور جمہور مسلمین سے علیحدگی کر لی۔ کثیر التعداد مسلمانوں کے علیحدہ ہو جانے کی اس کو ہندوؤں کی دوستی کے مقابل کچھ پروا نہیں ہے۔ جمیعت کے کارکن مسلمانوں میں ہندو تحریکات کی تبلیغ و اشاعت کر کے ان میں باہمی جنگ کی بنیاد قائم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اور اس حمیت کے مساعی کی بدولت ہندوستان کے مسلمانوں میں جگہ بجگہ جنگی محاذ قائم ہو گئے ہیں۔ اس جمیعت کے نمایاں کاموں میں سے ہندوؤں کے حسبِ منشا فتویٰ دینا بھی ہے۔ کبھی کونسل کے بائیکاٹ کا فتویٰ ہے کبھی جواز کا، جس وقت ان کے خداوندانِ نعمت کا جو منشا ہے اس وقت ان کے فتویٰ کا رخ اسی طرف ہو جاتا ہے۔ غازی عبدالرشید کو جنت کی خوشبو سے اسی جمیعت کا مفتی محروم کرتا ہے۔ آزادی کے معنی ان کی اصطلاح میں ہندو پرستی ہے۔ آج جمیعۃ العلما کے صدر مولوی کفایت اللہ صاحب کا ایک فتویٰ ہماری نظر کے سامنے ہے ان میں انہوں نے مسلمانوں پر جو عتابیں کی ہیں اور ہندوؤں کا جس قدر حقِ دوستی ادا کیا ہے اور دیانت و راست بازی کی جو قدر فرمائی ہے وہ قابلِ ملاحظہ ہے۔“ [السواد الاعظم، مراد آباد، جمادی الاولیٰ 1349ھ، ص: 2]

جمیعت نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ یہ قوم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات پر ہر دن نت نئے فتنے اور گستاخی کے نئے نئے حربے تلاش کر بارگاہِ رسالت کے تقدس کو مجروح کرنے کی کوششِ ناپاک میں مصروف رہتی ہے، کبھی رنگیلا رسول، کبھی ستیارتھ پرکاش، اور بہت سی کتابوں اخبارات کے ذریعے نبیِ پاک کی توہین کا ارتکاب آئے دن کرتی رہتی ہے تو کبھی نبیِ پاک کی فرضی تصویریں عام کر کے اور اپنی تقریروں میں سامعہ خراش، جگر پاش باتیں کر کے اسلام اور بانیِ اسلام کے خلاف دریدہ دہنی کا ثبوت دیتی ہوئی نظر آتی ہے۔

اپنے آقاؤں کو مزید خوش کرنے کے لیے ان کے پیشواؤں کے چرنوں میں اپنے ایمان کی سوغات پیش کر دی۔ قومِ ہنود نے جب اپنے پیشوا کرشن کی نیاز مندی اور عقیدت کیشی کا ثبوت دیتے ہوئے اخبار ”حج“ میں کرشن نمبر کی اشاعت کی تو بھلا جمیعت کس طرح پیچھے رہ سکتی تھی، اسے اپنا حقِ دوستی ادا کرنا تھا اسی لیے جمیعت کے ناظم مولوی احمد سعید کی نمائندگی کرتے ہوئے ”حج“ اخبار کے کرشن نمبر کے لیے مضمون پیش کیا اور اس میں کرشن کے لیے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے خوب خوب عقیدتوں کے پھول نچھاور کیے۔

مدیرِ رسالہ السواد الاعظم رقم طراز ہیں:
”حج کا کرشن نمبر بہت آب و تاب کے ساتھ چھپا ہے ہندوؤں نے اپنی عقیدتوں کا جس طرح بھی اظہار کیا ہے وہ ان کے دینی جوش کا نمونہ ہے مگر افسوس کہ وہ اصحاب جو باوصفِ دعویٰ اسلام حضور پر نور سیدِ انبیا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محافلِ میلادِ مبارک و معراج شریف کی مخالفت میں سرگرم رہا کرتے ہیں کرشن کے احترام میں سر افکندہ نظر آئے۔ ان میں احمد سعید صاحب دہلوی ناظم جمیعۃ العلما خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں جو اپنے وعظوں میں میلادِ مبارک کی محافلِ متبرکہ پر آوازیں کسنے اور اس کا تمسخر اڑانے کے عادی ہیں، آپ نے اپنی عقیدت کے جذبے کرشن کے چرنوں میں پیش کرنے کی عزت حاصل کی ہے، مسلمان ان کو پہلے ہی ہندو پرست جانتے تھے آپ نے خود اپنے قلم سے اس کا یہ ایک نیا ثبوت بہم پہنچایا ہے آپ نے اپنے مضمون میں جو حج کے کرشن نمبر میں چھپا ہے اپنی نیاز کیشی و عقیدت اندیشی کے مخلصانہ جذبے کرشن کے قدموں میں ڈالے ہیں آپ کا سر تو جھک گیا مگر کرشن کے قدم کہاں پائیں گے اسے بھی غور فرمایا۔ ہندوؤں کا اعتقاد کتنا ہی توہم سہی جس جون میں مانتا ہوگا، جس کا یویہ نہ آپ کو ملے نہ ہندوؤں کو، پھر آپ کی وہ مخلصانہ نیاز مندیاں کرشن کے چرنوں کی تلاش میں کس کس کے قدموں میں ٹھوکریں کھاتی پھریں گی۔ جس شخص کا یہ حال ہو، مسلمانوں میں واعظ بن کر منبر پر بیٹھا کرے اور ہندوؤں کی خوشامد میں کرشن کے قدم ڈھونڈتا پھرے وہ مسلمانوں کے لیے عار ہے اسلام کے لیے ننگ ہے مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے شخص کو مولوی نہ کہیں، اس کے وعظ میں شریک نہ ہوں، اس کی تقریر نہ سنیں، اس کو منبر پر جگہ نہ دیں۔ کیا احمد سعید صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ ہندو انہیں اپنی طرح کرشن کا مخلص عقیدت مند سمجھ لیں گے یہ خیال تو غلط ہے، وہ یہ سمجھیں گے کہ یہ شخص نہایت طماع ہے، خوشامدی ہے۔“ اپنے ضمیر کے خلاف ہندوؤں کو مغالطہ دے رہا ہے۔ لیکن ایک مسلمان نام رکھنے والے شخص کا اس طرح اظہارِ نیاز کرنا دوسرے ناواقف مسلمانوں کے عقیدتوں کو متزلزل کرے گا، اس خواہش میں وہ اس قسم کے دین فروشانہ مضامین کو چھاپتے بھی ہیں اور ایسے مضمون لکھنے والوں کی جس طرح مناسب سمجھتے ہیں حوصلہ افزائی بھی کر دیتے ہیں، افسوس طمعِ دنیا آدمی کو کتنا خوار کرتی ہے۔ [السواد الاعظم، بحوالہ الحرام، 1351ھ، ص: 25]

1924ء میں جب حرمین طیبین پر نجدی اقتدار ہوا، حجاجِ کرام اور خاص کر اہلِ حرمین پر نجدیوں نے خوب ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، مقاماتِ مقدسہ و مزاراتِ معظمہ کو منہدم کیا اور آثارِ متبرکہ کی بے حرمتی کی تو اخباراتِ ہند میں چند اہلِ سنت کے اخبارات ہی نجدی بربریت کے خلاف آوازِ حق بلند کرتے نظر آ رہے تھے نیز اہلِ سنت کی جملہ تنظیمات اس کی مخالفت میں کمر بستہ دکھ رہی تھیں، لیکن جمیعت اپنی قدیم روش پر قائم رہتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف نجدی سلطان کی طرفداری میں سارا زور صرف کر رہی تھی۔ اخبار ”خبرِ عالم“ مراد آباد لکھتا ہے:
”مسلمانوں کی بدقسمتی سے ہندوستان میں تحریکِ بغاوت کے وقت ایک جمیعت قائم ہوئی جس کا نام جمیعۃ العلما رکھا گیا، اس نے اپنے غلط فتاویٰ سے مسلمانوں کو گمراہ کیا اور جس قدر تباہی ممکن تھی مسلمانوں پر آئی، اس کی غلط کاریوں اور بیہودگی کے باعث اب خلافت کمیٹی کی طرح اس جمیعت کا بھی کوئی اقتدار نہیں رہا اور لوگوں کی نظروں میں یہ جمیعت اب جمیعۃ العلما نہیں بلکہ اس کے لیے جمیعۃ الحمقاء کا لقب بہت ہی زیادہ موزوں ہے، یہ جمیعت مثلِ خلافت کمیٹی کے ابنِ سعود ملعون کی بے حد طرفدار رہی، اس نجدی ملعون کی تمام سفاکیوں، بے دینیوں اور ظلم و ستم کے اخفاء میں اس سے زیادہ کوشش کی جو ایک حجام معزز ہو جانے کے بعد اپنی ذات اور پیشہ چھپانے کے لیے کرتا ہے، اس جمیعت کا جو اجلاس پچھلے دنوں کلکتہ میں ہوا اس میں جو قراردادیں پاس ہوئیں ان میں سے پہلی قرارداد میں لوگوں کو مشورہ دیا گیا کہ امسال ضرور حج میں شامل ہوں تاکہ نجدی ملعون کو کافی روپیہ حاصل ہو۔“ [خبرِ عالم، 28 مارچ 1926ء، ص: 2، 5]

ابنِ سعود نے جب مؤتمر کا ارادہ کیا تو ہندوستان سے صرف تین جماعتوں کو ہی مدعو کیا اور وہ بھی وہ جن کا ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان کوئی وقار نہیں تھا: اہلِ حدیث کانفرنس، جمیعۃ علمائے ہند، خلافت کمیٹی۔ ظاہر ہے انہیں تینوں کو مدعو کرنے کا صاف مقصد یہی تھا کہ یہ تینوں جماعتیں ہندوستان میں اسی کی طرفداری میں وقت گزار رہی تھیں تو انہیں کا مؤتمر میں شرکت کا حق تھا، دنیا کو یہ ظاہر ہو جائے گا کہ ہندوستان سے مسلمانوں کی نمائندہ تین جماعتیں شاملِ مؤتمر ہوئیں، حالانکہ یہ تینوں جماعتیں کسی بھی صورت میں مسلمانانِ ہند کی نمائندہ نہیں تھیں۔

ملاحظہ فرمائیں اخبار ”الفقیہ“ کی درج ذیل سطور:
”قرنِ الشیطان ثانی ابنِ سعود نے جس مؤتمر کے انعقاد کا اعلان کیا ہے اس کا نام مؤتمرِ اسلامی رکھا جاتا ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس مؤتمر کے لیے دنیا کے تمام مسلمانوں کو نمائندہ بھیجنے کے لیے نہیں لکھا گیا بلکہ محض اپنے مویدین اور ہم خیالوں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنے نمائندے بھیجیں۔ چنانچہ ہندوستان میں سے صرف خلافت کمیٹی، جمیعۃ العلما اور اہلِ حدیث کانفرنس کے نمائندے طلب کیے گئے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ تین جماعتیں ہندوستان میں قرنِ الشیطان کی موید اور حامی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ابنِ سعود ملعون صرف انہیں تین جماعتوں کو جانتا ہے یا اس کا خیال ہے کہ یہی تین جماعتیں ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ جماعتیں ہیں تو بالکل لغو اور سراپا غلط خیال ہے۔ ابنِ سعود ملعون اچھی طرح سے جانتا ہے کہ اب خلافت کمیٹی کا اقتدار ہندوستان میں نہیں۔ ایمان دار، دیانت دار اور سمجھدار ہستیاں اس سے متنفر ہو کر الگ ہو چکی ہیں۔ جمیعۃ العلما کی اب قطعا وہ عزت نہیں بلکہ جس طرح عام طور پر اپنے پرائیویٹ تذکروں میں خلافت کمیٹی کو حماقت کمیٹی اور خباثت کمیٹی کے ناموں سے موسوم کر رہے ہیں اسی طرح جمیعۃ العلما کے لیے جمیعۃ الحمقاء کا لقب استعمال کیا جاتا ہے، یہی دو جماعتیں ہیں جو منافقانہ طرز کو اختیار کر کے اپنے آپ کو کھلم کھلا وہابی نہیں کہتیں۔ اور درحقیقت ان کا مذہب کوئی ہے بھی نہیں اور ابنِ سعود نامسعود اچھی طرح جانتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی اکثریت اس کے خلاف ہے اس کی مخالف انجمنیں کچھ چھپی ہوئی نہیں بلکہ انجمن خدام الحرمین کا وفد اس ملعون کا ناطقہ بند کرنے اور اس کی بے ایمانیوں، شیطنتوں اور بدکرداریوں کا راز فاش کرنے اور وفدِ خلافت کے صدر کی طرح ایمان اور ملت فروشی سے انکار کرنے کے جرم میں قید ہو کر عرب سے نکال دیا گیا ہے تو ابنِ سعود ملعون کی لاعلمی کا خیال خیالِ باطل اور جنون سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ اس سے ثابت ہوا کہ قرنِ الشیطان ملعون نے درحقیقت مؤتمرِ اسلامی کا جلسہ طلب نہیں کیا بلکہ اس مؤتمر کا صحیح نام ’مؤتمرِ شیطانی‘ ہو سکتا ہے۔“

بریلی شریف میں حضور حجۃ الاسلام کی صدارت میں نجدی تسلط کے برخلاف علمائے کرام کا ایک جلسہ منعقد کیا گیا جس میں چند تجاویز پاس ہوئیں ان میں سے ایک تجویز یہ بھی پاس ہوئی:
”جمیعۃ العلما ایک فرقہِ خاص کی جماعت ہے، عام مسلمانانِ ہند کی نمائندہ نہیں ہے اس لیے اس کی آواز مسلمانانِ ہند کی آواز نہیں، اسی طرح خلافت کمیٹی بھی مسلمانوں کی نمائندہ نہیں ہے۔“ [28 مئی 1926ء، ص: 11]

جمیعۃ کی نجدی طرفداری کے حوالے سے جمیعۃ خدام الحرمین دہلی کے مدیر و ناظم جناب اسحاق صاحب لکھتے ہیں:
”جس طرح سے خلافت کمیٹی نے غلطی کا ارتکاب کر کے اپنے اقتدار اور مسلمانانِ عالم کے مذہبی مفاد کو خاک میں ملایا ہے اسی طرح جمیعۃ علمائے ہند نے بھی ابنِ سعود کی حمایت کر کے اپنے اقتدار اور مسلمانوں کے مفاد کو برباد کر دیا ہمارے پاس کافی ثبوت ہیں کہ جمیعۃ العلما کے صدرِ ناظم نے ارکانِ جمیعۃ کے خلاف جن میں علمائے دیوبند بھی شریک ہیں، تبلیغ و تنظیم کے مقابلے میں علی برادران کو خوش کرنے کے لیے خودسرانہ کارروائیاں کی ہیں ورنہ جمیعۃ العلما کا فرض تھا کہ جب حجاز سے اس کا نمائندہ واپس آیا تھا جماعتِ عاملہ کو طلب کر کے فیصلہ کرتی مگر افسوس ایسا نہیں کیا گیا بلکہ ناظم اور صدر جو چاہتے کرتے رہے اب جمیعۃ العلما کو بھی ہم توجہ دلاتے ہیں کہ وہ اپنے فرائض کا احساس کرے، ابنِ سعود کی غداریوں کے راز فاش کرے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرے۔ محمد اسحاق مدیرِ مبلغ و ناظم جمیعۃ خدام الحرمین دہلی۔“ [21 جنوری 1926ء، ص: 10، 11]

الحاصل: جمیعۃ علمائے ہند اسلامی جمیعۃ کا نام نہیں ہے بلکہ دیوبندی مکتبِ فکر سے وابستہ لیکن باطل طاقتوں کے زیرِ اثر اور ان کے ماتحت ایک جمیعۃ ہے۔
اللہ پاک مسلمانانِ اہلِ سنت کے ایمان و عقائد کی حفاظت فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین الکریم علیہ الصلوۃ والتسلیم۔

[بحوالہ: الرضا، پٹنہ، جنوری، فروری 2017ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!