Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

وراثت کا اسلامی نظریہ (قسط: اول)

وراثت کا اسلامی نظریہ (قسط: اول)
عنوان: وراثت کا اسلامی نظریہ (قسط: اول)
تحریر: مفتی شمیم اختر مصباحی
پیش کش: بنت شہاب عطاریہ

اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ عقائد و نظریات اور عبادت سے لے کر زندگی کے اخلاقی و معاشرتی، معاشی و سیاسی اور تہذیبی و تمدنی مسائل تک میں وہ ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام نے صحت مند معاشرہ کو معرض وجود میں لانے کے لیے کنبہ کو بڑی اہمیت دی ہے اور اس کے افراد کے مفاد کو یوں ایک دوسرے سے وابستہ کر دیا ہے کہ محبت و قرابت کا باہمی رشتہ بھی ٹوٹنے نہ پائے۔ اس کے لیے جو اصول و ضوابط اختیار کیے ہیں، انھیں میں سے ایک نظام وراثت ہے۔ اسلام نے مال کی منصفانہ تقسیم کے لیے نظام وراثت جیسا پاکیزہ نظام عطا فرمایا تا کہ ناجائز طریقہ پر مال کی جمع اندوزی اور دوسروں کے حقوق کی پامالی سے بچا جائے۔ لیکن آج جب ہم اپنے گرد و نواح میں نظر دوڑاتے ہیں تو اس خدائی پیغام کی کھلی نافرمانی نظر آتی ہے، اور شرعی اصولوں پر اموال و جائداد کی تقسیم کرنے والے خال خال نظر آتے ہیں، بلکہ بہتیرے ایسے لوگ ہیں کہ جنھوں نے میراث کا نام ہی نہیں سنا اور اگر سنا بھی تو بس اس حد تک کہ یہ میرے باپ کی میراث ہے اور یہ میرا حق ہے۔

وراثت کا معنی:

لغت میں وراثت کے معنی منتقل کرنے کے ہیں۔ اس کا استعمال خاص طور پر مال اور جائداد، عزت و شرف کے لیے ہوتا ہے۔ جیسے وَرِثَ الْمَالَ وَالْمَجْدَ عَنْ فُلَانٍ (وہ فلان شخص کے مال اور اس کی عظمت کا وارث ہوا)۔ اور اصطلاحِ شرع میں کسی شخص کی وفات کے بعد اس کے ترکہ کو مستحق لوگوں کی طرف منتقل کرنے کو وراثت کہتے ہیں۔ اس علم کو ”علم فرائض“ کہتے ہیں، فرائض فریضہ کی جمع ہے، فریضہ کا معنی مقرر حصہ ہے اور اس کا نام قرآن و حدیث سے ماخوذ ہے۔

علم فرائض کی اہمیت و فضیلت:

علم فرائض فقہ اسلامی کا اہم جز اور قانون اسلامی کا شاندار باب ہے۔ فقہ اسلامی کی تمام خصوصیات فرائض و میراث کے احکام پر منطبق ہوتے ہیں۔ علم فرائض کو تمام فقہ اسلامی میں یہ شرف و برتری حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں اس کے احکام تفصیل سے بیان فرمائے ہیں اور اس کے زیادہ تر مسائل براہ راست نصوص شرعیہ سے مستنبط ہیں۔ اس باب میں ائمہ مجتہدین کا دیگر ابواب فقہیہ کی بہ نسبت بہت کم اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس علم کی اہمیت کے پیش نظر محدثین عظام و فقہائے کرام نے اس کے لیے مستقل باب باندھا ہے اور امام بخاری نے صحیح بخاری میں ”تعلیم الفرائض“ کے نام سے ایک مستقل باب باندھا ہے۔ اس تعلق سے چند احادیث پیش خدمت ہیں:

  1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا، فَإِنَّهَا نِصْفُ الْعِلْمِ، وَهُوَ يُنْسَى، وَهُوَ أَوَّلُ شَيْءٍ يُنْزَعُ مِنْ أُمَّتِي“ [ابْنِ مَاجَه: 90820، دَارُ قُطْنِي: 674] ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم فرائض سیکھو، اور اس کی تعلیم دو، کیوں کہ یہ آدھا علم ہے، وہ بھلا دیا جائے گا، اور یہ (علم) سب سے پہلے میری امت سے اٹھا لیا جائے گا۔
  2. عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَضْلٌ: آيَةٌ مُحْكَمَةٌ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ“ [سُنَنِ أَبُو دَاوُد: 1072، سُنَنِ ابْنِ مَاجَه: 211] ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم (حقیقی) تین ہیں، جو اس کے علاوہ ہیں زائد (واسطہ) ہیں، محکم آیتیں (قرآن کریم کی وہ آیتیں جو غیر منسوخ ہیں)، سنت قائمہ (احادیث جو بسند صحیح رسول کریم سے منقول ہیں)، اور فریضہ عادلہ (میراث کا علم جو عدل و انصاف کے بنیادی اساس پر قائم ہے)۔
  3. عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ، وَتَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا، فَإِنِّي امْرُؤٌ مَقْبُوضٌ، وَالْعِلْمُ مَرْفُوعٌ، وَيُوشِكُ أَنْ يَخْتَلِفَ اثْنَانِ فِي الْفَرِيضَةِ وَالْمَسْأَلَةِ فَلَا يَجِدَانِ أَحَدًا يُخْبِرُهُمَا“ [سُنَنِ تِرْمِذِي: 2656، مُسْتَدْرَك لِلْحَاكِمِ: 3334] ترجمہ: حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرآن سیکھو، لوگوں کو قرآن سکھاؤ، علم میراث سیکھو اور سکھاؤ، کیوں کہ میں (ظاہری حیات سے) وصال پانے والا ہوں، اور علم اٹھا لیا جائے گا، اور عنقریب ایسا ہوگا کہ دو شخص میراث کے مسائل میں اختلاف کریں گے تو کسی کو نہیں پائیں گے جو ان کے مسئلہ کا حل بتائے۔

امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی مشہور زمانہ تصنیف ”مؤطا شریف“ میں کثرت سے آثار صحابہ اور تابعین اس تعلق سے نقل فرمائے ہیں۔ امام شیرازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”الْفَرَائِضُ بَابٌ مِنَ الْعِلْمِ، وَتَعَلُّمُهَا فَرْضٌ مِنْ فُرُوضِ الدِّينِ“ [الْفَرَائِضُ وَالْمَوَارِيثُ وَالْوَصَايَا لِلْأُسْتَاذِ مُحَمَّد الزُّحَيْلِي، ص: 17]

ترجمہ: علم فرائض علم و معرفت کا ایک عالیشان باب ہے، اور اس کا سیکھنا دین کے فرائض میں سے ایک فرض ہے۔ مذکورہ بالا احادیث و اقوال علما سے علم میراث کی اہمیت و فضیلت عیاں ہو جاتی ہے، اور ایسا کیوں کر نہ ہو؟ کہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علم شریف کو نصف علم قرار دیا کیوں کہ پورے فقہ اسلامی کا دائرہ انسان کے حیات ظاہری سے متعلق ہے خواہ عبادات ہوں یا معاملات، معاشرت ہو یا اخلاقیات، معاشیات ہو یا سیاست، اور ما بعد الموت کے احکام و مسائل علم میراث سے متعلق ہیں خواہ تجہیز و تکفین کا مسئلہ ہو یا دیون کی ادائیگی، وصایا کی تکمیل کا مسئلہ ہو یا تقسیم جائداد، اس لیے اسے نصف علم کہا گیا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!