Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

یار غار کا علمی مقام

یار غار کا علمی مقام
عنوان: یار غار کا علمی مقام
تحریر: عبد الصمد قادری
پیش کش: مرکزی جامعۃ المدینہ نیپال گنج نیپال

علماء و محققین نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ نفوس قدسیہ کی تکمیل کی ایک بڑی وجہ علم بھی ہے، جس کے سبب انسان اعلیٰ منصب اور درجۂ رفیعہ حاصل کر لیتا ہے۔ جس کے پاس جتنا علم زیادہ وہ اسی قدر اور اتنا ہی زیادہ احسن و اکمل اور افضل و اعلیٰ۔

اس بات پر تمام علمائے اہل سنت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ تمام لوگوں میں سب سے بڑے عالم، زاہد، مفتی، مجتہد، اصحاب رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہیں، اور ان اصحاب میں بھی سب سے بڑے عالم جن کا علم قرآن و حدیث اور اقوال ائمہ سے ثابت وہ یار غار مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

اب راقم الحروف یار غار کے علمی مقام و مرتبہ پر چند نقوش ضبط تحریر لاتا ہے۔

یار غار کا علمی مقام کیا ہے؟

یار غار مصطفی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے علمی مقام کو بیان کرنا طاقت بشریہ سے بالاتر ہے، مگر حصول برکت کے لیے ایک قرآنی آیت، چند اور اقوال ائمہ کے ذریعے علم یار غار مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو سننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

علم باعث افضلیت

چنانچہ اللہ پاک نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا:

الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ

ترجمہ: اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔ [المجادلۃ: 11]

اس آیت سے ثابت کہ علم باعث فضل کہ جس کے پاس جتنا زیادہ علم وہ اتنا ہی افضل و اعلیٰ۔

چند اقوال ائمہ

اب سنیں! حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کا علمی مقام اقوال ائمہ کی روشنی میں۔

حضرت امام ابو الحسن اشعری فرماتے ہیں:

تقديمه له دليل على أنه أعلم الصحابة وأقرأهم

یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو امامت کے لیے مقدم کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ یار غار مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم تمام صحابہ سے زیادہ علم والے اور بہتر قاری تھے۔ [مطلع القمرین]

امام ابو الحسن علی بن خلف بن عبدالملک بن بطال البکری القرطبی رحمہ اللہ تعالی شرح صحیح البخاری میں ایک مقام پر لکھتے ہیں:

إن أبا بكر أعلم الصحابة لأن أبا سعيد شهد له بذلك بحضرة جماعتهم ولم ينكر ذلك عليه أحد

یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ تمام صحابہ سے زیادہ علم والے تھے کیونکہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے صحابہ کرام کی ایک جماعت کے سامنے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی اعلمیت تسلیم کی اور کسی بھی صحابہ کرام نے اس بات کا انکار نہ کیا۔ [مطلع القمرین]

ابن قیم لکھتے ہیں:

كان أعلم الصحابة بالاتفاق الصحابة كما قال أبو سعيد الخدري وكان أبو بكر رضي الله تعالى أعلمنا

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بالاتفاق صحابہ میں سب سے زیادہ علم والے تھے، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں حضرت یار غار مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہم میں سب سے زیادہ علم والے تھے۔

محترم قارئین! ان تمام اقوال ائمہ سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ تمام عالم میں بعد الرسل والانبیاء حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سب سے بڑے عالم تھے اور ہو بھی کیوں نہیں کہ علما نے ارشاد فرمایا کہ علم حاصل کرنے کا سب سے پر اثر ذریعہ اہل علم کی صحبت میں بیٹھنا ہے اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت بابرکت میں اپنی پوری زندگی ہی گزار دی جس کے سبب یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد سب سے بڑے عالم تھے اور یہ بات مختلف مواقع سے ثابت بھی ہے۔

صلح حدیبیہ کا ایک حسین واقعہ

چنانچہ! اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب صلح حدیبیہ قرار پائی اور مسلمانوں کو بے دخول مکہ و طواف کعبہ مدینہ طیبہ کو واپس جانا ٹھہرا تو شمشیر برحق حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ بات سخت ناگوار گزری تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ مصطفی جان رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ بابرکت میں حاضر ہوئے اور عرض گزار ہوئے: کیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم خدا کے سچے نبی نہیں؟

تو آپ نے ارشاد فرمایا: کیوں نہیں۔

پھر عرض کیا: کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں؟

فرمایا: کیوں نہیں۔

تو عرض کیا: تو جب یہ حال ہے تو ہم اپنے دین میں ذلت کیوں آنے دیں؟

تو آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک میں خدا کا رسول ہوں اور اس کی نافرمانی نہیں کرتا اور وہ میری مدد کرنے والا ہے۔

عرض کیا کہ آپ ہم سے نہیں فرمایا کرتے تھے کہ ہم کعبہ پہنچیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟

فرمایا: کیوں نہیں! سو کیا میں نے تجھے یہ خبر دی تھی کہ ہم اس سال کعبہ پہنچیں گے؟

عرض کیا: نہیں۔

فرمایا: تو تو کعبہ پہنچے گا اور اس کا طواف کرے گا۔

الغرض جب یہ سوالات و جوابات ختم ہوئے تو آپ عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ اس امید سے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ان کی حمایت میں بولیں گے، تو آپ نے یہی تمام سوالات حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس جا کر عرض کیے۔

اب علم یار غار مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا اندازہ لگائیں۔

مروی ہے کہ جو جو سوالات کے جوابات مصطفی جان رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمائے تھے وہی بعینہ سوالات کے جوابات حضرت صدیق اکبر نے بھی ارشاد فرمائے گویا کہ یہ معلوم ہوتا تھا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی کی زبان مبارک سے حضرت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے جوابات ارشاد فرما رہے ہوں۔ [مطلع القمرین، ص: 427]

پیارے قارئین! ان تمام روایات سے یار غار کا علمی مقام سمجھا جا سکتا ہے کہ اللہ پاک نے جو جوابات مصطفی جان رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے قلب اطہر میں القا فرمائے وہی سوالات کے جوابات یار غار کے دل میں بھی القا فرمائے اور اس بات سے آپ کی عظمت رفیعہ بھی سمجھ میں آتی ہے۔

فضل است مر خدا را
بخشد بہ ہر کہ خواہد

یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہے اس میں وافر مقدار عطا فرما دے۔

اللہ پاک ہمیں بھی یار غار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل و علم کا صدقہ عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!