Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اکبر المشائخ چشتی (قسط: اول) محمد احمد مصباحی

اکبر المشائخ چشتی (قسط: اول)
عنوان: اکبر المشائخ چشتی (قسط: اول)
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: عالمہ نازیہ فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

مولانا سید محمد اکبر چشتی (۱۳۴۶ھ - ۱۴۲۹ھ) خانوادہ صمدیہ کے چشم و چراغ، جامعہ صمدیہ پھپھوند شریف کے بانی، اتباع سنت و شریعت کے پیکر اور دور آخر میں اسلاف کے کردار و عمل کا نمونہ تھے۔ میں ان کے اوصاف جمیلہ میں سب سے زیادہ جس چیز سے متاثر ہوا وہ بایں شان سیادت و جلالت ان کی سادگی و خاکساری ہے۔

ز گردن فرازاں تواضع نکوست
گدا گر تواضع کند خوی اوست

  1. ۱۴۲۳ھ میں حافظ بخاری مولانا سید عبد الصمد چشتی مودودی رضی اللہ عنہ کے صد سالہ عرس کے موقع پر پھپھوند شریف میں کثیر علمائے کرام کا اجتماع تھا، حضرت ممدوح (سید محمد اکبر میاں) نے اپنے مکان پر علمائے کرام کے عصرانہ کی دعوت رکھی، راقم بھی حاضر تھا، دیکھا کہ حضرت بنفس نفیس صحن مکان میں کھڑے، اشیائے خوردنی کے حمل و نقل میں لگے ہوئے ہیں، جب کہ فرزندان گرامی اور خدام ہی کا اہتمام و اشتغال کافی زیادہ تھا مگر طبعی خاکساری اور تکریم مہمانان کے جذبہ دلی نے انھیں ایک منٹ بھی بیٹھنے نہ دیا۔ آج دیکھتا ہوں تو ان کے ذی شان فرزندوں میں بھی اس کا عکس بڑی حد تک موجود ہے۔

    اَلْوَلَدُ سِرٌّ لِأَبِيهِ.

  2. اب تو ایسا دور آگیا ہے کہ باضابطہ کنبہ پروری کے ارادے سے مدارس کا قیام عمل میں آتا ہے مگر حضرت ممدوح نے جامعہ صمدیہ قائم کیا تو شرط کر دی کہ میرے گھر کا کوئی فرد اگر ادارے کی تدریس، یا انتظام، یا اور کسی خدمت میں شریک ہو گا تو اسے کوئی مالی عوض نہ دیا جائے گا۔ اگر خالصاً لوجہ اللہ خدمت کر سکتا ہے تو کرے، ورنہ الگ رہے۔ جامعہ صمدیہ میں ان کے اس ارشاد کی پابندی اب بھی جاری ہے۔

  3. ان کے زمانے میں یہ دستور تھا کہ جامعہ صمدیہ سے حفظ کی دستار پانے والے طلبہ سے جلسہ عام میں باضابطہ یہ عہد لیا جاتا کہ میں تراویح میں قرآن سنانے پر کوئی اجرت ہر گز نہ لوں گا۔ میرے سامنے حضرت کے پوتے کی دستار بندی ہوئی تو انھوں نے بھی یہی عہد کیا۔

  4. مزارات پر عورتوں کی حاضری اور اعراس میں ان کی شرکت ایسا طوفان بلا ہے جو تھمنے کی بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ بعض اعراس جو پہلے اس وبا سے خالی تھے، اب اس گرداب بلا کی زد میں نظر آتے ہیں۔ ناظمان عرس کو اس طوفان کو روکنے کی کوئی تدبیر سمجھ میں نہیں آتی۔ اور جن کی نظر میں عورتوں کی حاضری، مرد و زن کا اختلاط کوئی معیوب امر نہیں، انھیں تو اس بارے میں کچھ سوچنے سمجھنے کی ضرورت ہی نہیں۔

    سنا ہے کہ حافظ بخاری رضی اللہ عنہ کے عرس میں بھی تقریباً ۷۵ سال تک عورتوں کی آمد و شرکت ہوا کرتی تھی اور اسے یک لخت روک دینا کسی جہاد اکبر سے کم نہ تھا۔ مگر حضرت ممدوح کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ یہ رسم بد ختم ہونی چاہیے۔ اس لیے انہوں نے باضابطہ منصوبہ بنایا پہلے جمعہ میں اس کا اعلان کیا، پھر خصوصی خطوط لکھ کر احباب سلسلہ کو خبردار کیا، پوسٹر اور خطوط کے ذریعہ متنبہ کیا کہ اب عرس میں عورتوں کی شرکت پر پابندی عائد کی جاتی ہے اس لیے کوئی مرید سلسلہ عورتوں کو اس میں نہ لائے اور دوسروں کو بھی آگاہ و خبردار کر دے کہ اب کوئی شخص ایسی جرات یا ہمت نہ کرے ورنہ ناکام واپسی اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    پھر ایام عرس میں پھپھوند شریف میں داخلے کے سارے راستوں پر رضا کار جوان متعین کیے کہ عرس میں آنے والی عورتوں کو قصبے میں نہ آنے دیں۔ ان کے عزم محکم، ہمت مردانہ، تدبیر فرزانہ اور جہد مخلصانہ کا اثر یہ ہوا کہ پچھتر سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا اور عرس میں عورتوں کی آمد کا سلسلہ محض ایک سال یا چند ماہ کی کوشش سے بند ہو گیا۔ اس مہم میں ان کے فرزندان عالی وقار بھی پوری طرح ان کے دست و بازو بنے۔ یہ ایسا عزیز الوجود کارنامہ ہے جس کی مثال مجھے دور دور تک نظر نہیں آتی۔ رسم کہن سے جنگ اور اس پر فتح کسی مرد آہن کی تیغ عزم کے بغیر ممکن نہیں۔ مرید ایسا ہونا چاہیے جو اپنی بے جا خواہش کو پیر کی مرضی پر قربان کر دے اور پیر بھی ایسا ہونا چاہیے جسے حکم شریعت برپا کرنے کی راہ میں نہ مریدوں کی ناراضگی کی فکر ہو، نہ ہجوم عاشقاں کی قلت کا اندیشہ، نہ حطام دنیا سے تہی دستی کی پرواہ۔

  5. حضرت ممدوح میں دینی خدمات کی قدردانی اور حوصلہ افزائی کا جذبہ بھی موجزن تھا اسی لیے انہوں نے یہ پروگرام بنایا کہ ہر تین سال پر کسی علمی و دینی شخصیت کو اس کی خدمات کے اعتراف میں “حافظ بخاری ایوارڈ” پیش کیا جائے۔ مجھے یاد آتا ہے کہ اس منصوبے کی تعمیل میں غالباً ۱۴۱۷ھ میں فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ کو پہلا ایوارڈ اور استاذ گرامی بحر العلوم مفتی عبد المنان اعظمی کو ۱۴۲۰ھ میں دوسرا ایوارڈ دیا گیا اور صد سالہ عرس کے موقع پر ۱۴۲۳ھ میں تیسرا ایوارڈ راقم سطور کو عطا ہوا۔ میں نے اسی وقت جلسہ عام میں عرض کر دیا کہ احقر اس کا اہل نہ تھا مگر:

    شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را

    سراج الفقہا مفتی محمد نظام الدین رضوی صدر شعبۂ افتاء و تدریس جامعہ اشرفیہ مبارک پور کو بھی ماضی قریب میں یہ ایوارڈ موجودہ صاحب سجادہ حضرت شاہ محمد اختر میاں چشتی کے ہاتھوں تفویض ہو چکا ہے۔ یعنی موصوف اور ان کے برادران عزیز بھی والد ماجد کے نقش قدم پر گامزن ہیں۔

  6. حضرت ممدوح کی سادگی، خاکساری اور بے تکلفی دیکھ کر مجھے بارہا وہ واقعہ یاد آیا جو ملفوظ مصابیح القلوب میں ان کے جد امجد سید اخلاص حسین سہسوانی علیہ الرحمہ سے متعلق پڑھا تھا کہ حضرت محبوب الٰہی رضی اللہ عنہ کے ایام عرس میں دہلی پہنچ گئے۔ اُس وقت کے دہلی اسٹیشن پر آج کی طرح روشنی اور چہل پہل نہ تھی، نہ قلیوں، رکشوں و دیگر سواریوں کی بہتات تھی۔ موصوف کو خیال آیا کہ رات کی ٹرین سے کوئی زائر عرس آیا تو قلی نہ ملنے کی وجہ سے سامانوں کے ساتھ درگاہ تک پہنچنے میں اُسے سخت پریشانی کا سامنا ہو گا۔ اسٹیشن پہنچ گئے۔ کسی آنے والے زائر نے اندھیرے میں صدا لگائی کوئی قلی ہے؟ فوراً پہنچ گئے، سامان سر پر اٹھایا، درگاہ پہنچا دیا، اجرت لینے دینے کی باری آئی تو کچھ لینے کو تیار نہ ہوئے پھر کسی طرح عقدہ کھلا کہ زائر نے کیسے مخدوم کو خادم بنایا تو پیروں پر گرا، معافی تلافی کی نوبت آئی، مگر اس مرد قلندر کی شان یہ تھی کہ حضرت محبوب الٰہی کے مہمان کی خدمت یا اپنے نفس کی تذلیل سے لذت کی خاطر موقع کی تلاش میں رہتا۔

    عجب چیز ہے لذت آشنائی

    حضرت ممدوح کے بھی سادہ لباس اور بے تکلف وضع قطع کو دیکھ کر ناواقف کے لیے یہ اندازہ کرنا نہایت مشکل تھا کہ یہ کوئی شیخ اکبر ہے یا مرید اصغر؟

  7. اوائل محرم ۱۴۳۰ھ میں حضرت ممدوح علیہ الرحمہ کے عرس چہلم میں جب راقم سطور شریک ہوا تو اپنی تقریر میں تمام متوسلین سے، اور بعد میں حضرت کے فرزند گرامی مولانا سید محمد انوار میاں چشتی زید مجدہ سے عرض کیا تھا کہ بڑی بڑی مقتدر شخصیتوں کے ساتھ ہمارا سلوک یہ رہا ہے کہ زندگی میں تو ان سے خوب فائدہ حاصل کیا اور بڑی عقیدت و جاں نثاری کا اظہار کیا، مگر بعد وصال کوئی ضخیم سوانح حیات تو درکنار، چند صفحات بھی لکھنے اور شائع کرنے کی راہ نہ نکالی، جس کے باعث عوام تو عوام بہت سے خواص بھی ان کی خدمت اور حالات سے نابلد ہیں۔

    حضرت ممدوح علیہ الرحمہ کے ساتھ یہ سلوک نہ ہونا چاہیے۔ اپنی زندگی میں تو وہ اس کے روادار نہ ہوتے، نہ کسی کو ایسی کسی اشاعت کی اجازت دیتے۔ مگر بعد وصال ہمارا یہ فرض ہوتا ہے کہ انہیں مرنے نہ دیں اور ان کے حالات اور کارناموں سے آنے والی نسل کو سبق حاصل کرنے کا موقع فراہم کریں۔

    خدا کا شکر ہے کہ حضرت کے مرید باصفا، عالم معقول و منقول مفتی انفاس الحسن چشتی نے اس راہ میں کوشش کی اور ایک قابل قدر کتاب پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ اگر دیگر اہل علم و اہل عقیدت مزید حالات و واقعات کی فراہمی میں مخلصانہ تعاون کریں تو مجھے امید ہے کہ اس کتاب میں گراں بہا اضافہ ہو سکتا ہے۔

    وَاللَّهُ الْمُوَفِّقُ لِكُلِّ خَيْرٍ، وَهُوَ الْمُيَسِّرُ لِكُلِّ صَعْبٍ.

    محمد احمد مصباحی

    ناظم تعلیمات الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور

    ۲۶ جمادی الاولی ۱۴۳۷ھ / ۷ مارچ ۲۰۱۶ء، دوشنبہ۔ [مقالات مصباحی، ص: 429]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!