| عنوان: | ارض مقدس اور یہودی تغلب |
|---|---|
| تحریر: | علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی |
| پیش کش: | اقصیٰ عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
فلسطین کی عظمت و برتری کے لیے یہی کافی ہے کہ اسے قرآن کریم نے ارضِ مقدس کہا اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ جیسے اولو العزم رسول کی امت کو حکم دیا گیا:
يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ [سورۃ المائدۃ: 21]
اور جب اس بزدل قوم نے وہاں کے متغلبین، جبارین کی ظاہری قوت کی داستان سن کر وہاں جانے سے انکار کر دیا اور یوں کہا:
إِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا أَبَدًا مَا دَامُوا فِيهَا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ [سورۃ المائدۃ: 24]
ترجمہ: جب تک یہ اس میں ہیں ہم کبھی نہیں جائیں گے۔ آپ اور آپ کے پروردگار جائیں، لڑیں اور ہم یہاں بیٹھے ہیں۔
تو 40 سال تک صحرا نوردی کے عذاب میں مبتلا رہی۔
ارضِ مقدس کے بارے میں فرمایا گیا:
بَارَكْنَا حَوْلَهُ [سورۃ بنی اسرائیل: 1]
ترجمہ: اور دروازے میں داخل ہوتے وقت سر جھکائے رکھنا اور کہو ہمیں معاف کر دیا جائے۔ لیکن جب اس متمرد قوم نے اس ادب کو ملحوظ نہ رکھا تو طاعون جیسی موذی وبا میں گرفتار ہوئی۔
ہمارا قبلۂ اول اور اممِ ماضیہ کا قبلۂ مستقل بیت المقدس ہے۔ جہاں ہمارے نبی نہ بلکہ نبیوں کے نبی، نبی الانبیاء سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء کرام کی امامت فرمائی۔ وہ بیت المقدس متبرک معبد جس کی بنیاد حضرت داؤد خلیفۃ اللہ علیہ الصلاۃ والسلام نے رکھی اور جسے حضرت سلیمان علیہ الصلاۃ والسلام نے مکمل فرمایا۔ اگر صفا و مروہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے قدموں سے مس ہو جانے کی وجہ سے شعائر اللہ میں داخل ہو گئے، تو وہ بابرکت سرزمین جسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلاۃ والسلام سے لے کر نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم تک ہر نبی نے شرف بخشا ہو، جو سب کا معبد ہو، قبلہ ہو، اکثر کا مسکن ہو، عظمت و تقدس کی کس منزل پر ہوگی، اس کا اندازہ آسان نہیں۔
لیکن یہ ارضِ مقدس اپنی عظمت اپنے تقدس میں جتنی رفیع الشان ہے، دین داروں کے لیے امتحان و ابتلا کی اتنی ہی بڑی کسوٹی بھی ہے۔ اب یہ سن چکے! قوم موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نے جب بامرِ الٰہی اس سرزمین کا رخ کیا تو جبارین کا سامنا ہوا۔
اسی ارضِ مقدس کو طالوت اور بخت نصر نے اپنے مظالم کا نشانہ بنایا۔ باشندگانِ ارضِ پاک کے قتل کے ساتھ ساتھ معبدِ مقدس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ پھر صلیبی لٹیروں نے ارضِ مقدس میں وہ ظلم ڈھائے کہ طالوت اور بخت نصر کے مظالم بے حقیقت ہو کر رہ گئے۔
اللہ اللہ! ایک وہ بھی وقت تھا، اسی ارضِ مقدس پر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے قبضہ کیا تھا۔ لیکن ایک قطرہ خون زمین پر نہ بہا۔ لیکن انہی امن پسندوں کی اولاد کی لاشیں ان کے خون میں امن و سلامتی کے ٹھیکیداروں، صلیبی درندوں نے تیرائیں۔ بالآخر 90 سال بعد شیر دل غازی سلطان صلاح الدین ایوبی نے ان صلیبی سورماؤں کو سمندر پار دھکیل کر ارضِ مقدس کو پاک کر دیا۔
پھر ارضِ مقدس کی پاسبانی عثمانی ترکوں کو سونپی گئی، اور اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ان بہادروں نے صدیوں تک پورے یورپ کے مقابل سینہ سپر ہو کر پاسبانی کا حق ادا کر دیا۔ صلیبی معرکوں میں انجام کار ذلت و رسوائی اٹھانے والے یورپین نے اگرچہ ہر عہد میں ارضِ پاک پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھے ہوں گے۔ مگر عثمانی ترکوں سے ارضِ مقدس چھیننے کی جرات کبھی نہ کر سکے۔
خلافتِ اسلامیہ مٹ چکی تھی مگر عثمانی سلاطین نے کچھ نہ کچھ اس کی آن بان باقی رکھی۔ مصر، شام، عراق، حجاز، فلسطین، لبنان، سمرقند، بخارا، کاشغر، پورا چینی ترکستان عثمانیوں کے ہلالی پرچم کے نیچے جمع تھا۔ اسی اتحاد و وفاق کے نتیجے میں سلطنتِ ترک اتنی قوی تھی کہ صدیوں تک زارِ روس پوری قوت سے ٹکراتا رہا لیکن اسے ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
یورپ کے مکار، روباہ صفت سیاست دانوں نے ترکوں سے بار بار ٹکرانے کے بعد یہ اچھی طرح آزما لیا تھا کہ جب تک مسلمانوں کا شیرازہ منتشر نہ کیا جائے گا، عثمانی شیروں کو زیر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے ففتھ کالم کے ذریعہ ترکوں کے صوبوں میں قومی عصبیت کا شیطان پیدا کرنا شروع کیا۔ مصریوں کو پڑھایا کہ تم شاندار ماضی کے مالک ہو، تمہاری ایک آبرومندانہ تاریخ ہے، تم کیوں ترکوں کے غلام بنے ہوئے ہو؟ شامیوں کو بھڑکایا تم جغرافیائی حیثیت سے، نسلی حیثیت سے، لسانی حیثیت سے ترکوں سے الگ تھلک ہو، ان سے برتر ہو، پھر کیا وجہ ہے کہ ترک تم کو غلام بنائے ہوئے ہیں؟ عراقیوں کو ورغلایا تم دولتِ عباسیہ کے کروفر کے دور کو، تم تمام دنیائے اسلام کے مرکز رہ چکے ہو۔ آج کیوں اتنے نامرد بن گئے ہو کہ یہ ترک تم پر مسلط ہیں، حجازیوں کو اکسایا تم ان مجاہدین کی اولاد ہو جنہوں نے سب سے پہلے کلمۂ اسلام کو اپنایا اور سارے جہاں میں پھیلایا۔ تمہارا کوئی حریف نہیں۔ آخر اب اتنے کیوں گر گئے ہو کہ سمندر پار کے ترک تم پر حکومت کر رہے ہیں۔ پھر اب کیا تھا مصر، عراق، شام، حجاز سب نے بیک وقت انقلاب زندہ باد کے ساتھ ساتھ اعلانِ آزادی کر دیا۔ اس طرح آناً فاناً وہ قوتِ مجتمع جس نے پانچ سو سال تک یورپ کے ایوانوں میں زلزلہ ڈال رکھا تھا، پاش پاش ہو کے رہ گئی۔ ڈاکٹر اقبال نے سچ کہا ہے:
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
پھر کیا تھا، بڑی آسانی کے ساتھ برطانیہ نے ارضِ مقدس پر قبضہ کر کے یورپ کے کروڑوں صلیبی دیوانوں کا کلیجہ ٹھنڈا کر دیا۔ ساری دنیائے اسلام تڑپ کر رہ گئی۔ فلسطین کا غم مسلمانوں کے سینہ میں ناسور بن کے رہ گیا۔ روئے، گڑگڑائے، جلسے کیے، جلوس نکالے، بیانات دیے، فریادیں کیں مگر سب کچھ بے سود، اسی وقت کے لیے فرمایا گیا:
دُعَاؤُهُمْ لَا يُسْتَجَابُ
ایسے لوگوں کی دعائیں قبول نہیں کی جاتیں۔ اپنے گلے میں پھانسی کا پھندہ ڈال کر جاں بری کی دعا کرنا قدرت کے ساتھ ٹھٹھا ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ اپنی غلطیوں کا ازالہ کیا جاتا۔ لیکن وقت تو نیت کا بھوت اور سرکش ہوتا گیا۔ الگ ہو گئے تھے، لیکن مل کے رہتے اور کم از کم ارضِ مقدس کی بازیابی کے معاملے میں متحد رہتے تو شاید ساری دنیائے اسلام کو یہ ذلت آفریں دور نہ دیکھنا پڑتا۔ نجدیوں کی تلواریں بے نیام ہوئیں، تو ارضِ مقدس کی بازیابی کے لیے نہیں بلکہ حرمین طیبین کے بے گناہوں کے خون پینے کے لیے اور جنت المعلیٰ و جنت البقیع میں آرام فرمانے والے اسلاف کے مزارات کھودنے کے لیے۔ بجو صفت گورکنوں سے اور توقع ہی کیا ہو سکتی ہے۔
عربوں کے آپس میں اختلافات و انتشار و تفرق نے دنیائے اسلام کو وہ روزِ بد دکھایا کہ سن 1949 عیسوی میں امریکہ و برطانیہ نے اپنی اسلام و مسلمان دشمنی کا ناقابلِ تردید ثبوت پیش کرتے ہوئے بین الاقوامی آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے، ارضِ مقدس کی تقسیم کر کے اپنی کوکھ سے اپنی سیاسی ناجائز اولاد یہودی مملکت “اسرائیل” کو جنم دیا۔ یہودی مملکت کا وجود ساری دنیا کے مسلمانوں کی حمیتِ ملی، غیرتِ دینی کو کھلا ہوا چیلنج تھا، لیکن سوائے کچھ شور و شغب اور دو ایک بار ہاتھا پائی کے اور کچھ نہ ہو سکا۔
اگرچہ برطانیہ نے اپنے قبضہ کے روزِ فردا ہی سے ساری دنیا میں بکھرے ہوئے یہودیوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر فلسطین میں آباد کرنا شروع کر دیا تھا، اور حکومت کے تمام اعلیٰ عہدے اور تجارتی و زراعتی بالادستیاں یہودیوں کو دیں مگر برطانیہ کی انتھک کوششوں کے باوجود فلسطین میں یہودی آبادی 33 فیصدی سے زائد نہ ہو سکی۔
آئین اور انصاف کا تقاضہ تو یہ تھا کہ پورا ملک 66 فیصد سے زائد آبادی اور وہاں کے ہزار سالہ سکانِ عرب کے حوالے کرتے لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی کے زخموں سے نسلاً بعد نسلٍ تڑپتا ہوا یورپ اپنے آباؤ اجداد کی ذلت و رسوائیوں کا انتقام لینے کا اس سے بہتر اور کوئی موقع شاید نہ پاتا۔ جوشِ انتقام میں اندھے ہونے والے یورپ نے اپنے خود ساختہ آئین کی دھجیاں بکھیر دیں اور ارضِ فلسطین کی تقسیم کر کے ارضِ مقدس کے صحیح مالکوں سے چھین کر 66 فیصد کو 33 فیصد کمینے درندوں کا غلام بنا دیا۔
عربوں کی بے کسی اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ گئی، جب انہوں نے یہ دیکھا کہ ہمارا حق ہمیں نہیں مل سکے گا تو یہ اسکیم پیش کی کہ سیکولر مخلوط حکومت قائم کر دی جائے اور دونوں فرقوں کو اپنی اپنی آبادی کے تناسب سے نمائندگی دی جائے۔ لیکن کینہ پرور برطانیہ نے یہ بھی نہیں سنا اور اپنی ضد اور ہٹ پوری کر کے رہا۔ ہزاروں سال کے باشندوں پر نو آباد یہودی کتوں کو حاکم بنا کے چھوڑا۔ دنیائے اسلام خصوصاً عرب کے لیے یہ معمولی حادثہ نہیں تھا۔ کون اسلامی دل ہے جو نہ تڑپا ہو۔ کون اسلامی روح ہے جو بے چین نہ ہوئی ہو؟ کون زبان ہے جو چیخی نہ ہو؟ لیکن قصرِ بکنگھم کے ارکان بے حیائی اور درندگی کی اس منزل پہ تھے جہاں “ہر چہ خواہی کن” فطرتِ ثانیہ بن جاتی ہے۔
روس سے متاثر طبقہ نے یہودی ریاست کو امریکہ کی مغربی ایشیا میں اجارہ داری کا اڈہ کہا اور آج بھی کہتے ہیں لیکن میں اسے یورپ کے صلیبی درندوں کی ذلت آمیز شکست کے انتقام کے سوا اور کچھ نہیں جانتا۔ امریکہ و برطانیہ کو اجارہ دارانہ غلامی کے لیے مغربی ایشیا میں کمی نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے۔ بہت سے جاہ پرست اقتدار کے بھوکے اپنی قومی غیرت و حمیت امریکہ و برطانیہ کو رہن دے سکتے تھے۔ اور اب بھی دے رہے ہیں۔ تو اس کے لیے دنیا کے انصاف پسند حلقہ میں بدنام ہونے، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لعنت کا تمغہ حاصل کرنے کے لیے یہودی مملکت جن کر اپنی سیاسی بدکرداری کا اعلان کرنے کی کوئی حاجت نہیں تھی۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ اگر اردن یا نجدی مملکت کو اجارہ داری کا اڈہ بناتے تو شاہ رچرڈ کی فرار کی کالک برطانیہ کی پیشانی سے مٹ تو جاتی، مگر اس کے قلب و جگر کے اس ناسور کا علاج کیا ہوتا جو فلسطین پر صلیبی پرچم نہ لہرانے پر پیدا ہو گیا تھا۔ اس کا مداوا تو ان کینہ پرور انتقام جو سفاکوں کے نزدیک یہی تھا کہ ارضِ مقدس ان فاتحین کے قبضہ میں نہ رہے جنہوں نے ان کے ہم مذہبوں سے چھینا تھا۔
عرب کے لیے اب بھی وقت تھا کہ ملت کی آبرو بچانے کے لیے اپنی اقتدار کی ہوس سے دست کش ہو کر پوری ملت کی پیشانی پر لگے ہوئے کلنک کے ٹیکہ کو دور کرنے کی کوشش کرتے لیکن افسوس صد افسوس! ایسا نہ ہو سکا۔
نہ اردن و عراق کی کشمکش ختم ہو سکی، اور نہ مصر میں اتفاق ہو سکا۔ نہ امام نواز اور حریت پسند یمنیوں میں صلح ہو سکی۔ ایک دوسرے کے خلاف اعصابی بلکہ مسلح جنگ تک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ خود اندرونی طور پر افتراق و شقاق کہ الامان و الحفیظ!
یہی کرنل ناصر جو آج رو رہے ہیں۔ کل اخوان المسلمین کے خلاف کیا کیا نہیں کر چکے ہیں۔ شاہ فاروق کے حامیوں پر وہ کون سے ظلم نہیں کیے، جو فراعنہ پہلے نہیں کر چکے ہیں۔ عراق میں اندرونی خون خرابہ نہیں ہوا کہ شام میں نہیں ہوا۔ ذرا ذرا سی مملکتیں اور نہ پڑوسیوں سے صلح اور نہ آپس میں اتحاد، اپنی صلاحیتیں، قوتیں اپنے بھائیوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں۔ ان سب پر طرہ یہ ہے کہ عیاشی، تن آسانی میں وہ انہماک کہ پیرس لندن کو پیچھے چھوڑنے کی جدوجہد، ہر سال عروسِ نو سے ہمکناری، ہر سال نیو ماڈل کار، چاہے رہنے کو گھر نہ ہو، دنیا کے بیش قیمت سے بیش قیمت کپڑے بدل کر، یورپ کے اسپیشل کوالٹی کے صوفے عربوں کے خیموں میں، جب شاہ سعود کے حرم میں اکٹھی سو کنیزیں، محل سرا کے در و دیوار کو چھوڑیے، فرش اور زین غلافوں سے آراستہ اور قیصر و کسریٰ کے تخت و تاج کے وارثین عیش و عشرت کی رنگینیوں میں:
تُفُو بَر تُو اے چَرْخِ گَرْدُوں تُفُو
دوسری طرف یہودی شب و روز محنت و جاں بازی اور اسلحہ کی فراہمی و مشقِ جنگ میں مصروف ہیں۔ کسی یہودی سربراہ مملکت کے محل میں ایک سے زائد بیویاں نہ ہوں گی۔ کوئی خیمہ میں شب و روز گزرنے والے یہودی کے گھر کار نہ ہوگی۔ عرب سامانِ عیش و عشرت، لہو و لعب جمع کرتے رہے اور یہودی اسلحے، عرب موسم بہار میں عروسِ نو کے ساتھ پیرس و نیو یارک میں ہنی مون مناتے رہے، اور یہودی تیر و تفنگ کی مشق کرتے رہے۔ عرب اپنے بھائیوں کو زیر کرنے، شکست دینے کے جوڑ توڑ میں، اور یہودی عرب کو صفحۂ دنیا سے مٹانے کی تیاری میں۔ اس کا نتیجہ جو نکلنا چاہیے تھا وہ نکلا۔ اب رونے سے کیا! مسبب الاسباب جل مجدہٗ نے ہمیں پہلے بتا دیا تھا:
وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ [سورۃ الانفال: 46]
ترجمہ: آپس میں اختلاف نہ کرو، ورنہ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔
اس کریم مولا نے ہمیں واضح طور پر بتا دیا تھا:
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ [سورۃ المائدۃ: 82]
ترجمہ: تم مومنوں کا سب سے بدتر دشمن یہود کو پاؤ گے۔
کاش کہ ماضی قریب کی ذلت و رسوائی ہی عربوں کے لیے تازیانۂ عبرت ہوتی۔ دنیا کی ذلیل ترین مٹھی بھر قوم سے اتنی سنگین شکست کھانے کے بعد بھی آنکھیں کھل جاتیں تو افسوس کم ہوتا مگر اب بھی نہ تو قومیت کا بھوت اترا، اور نہ آپس کی کینہ پروری و حصولِ جاہ و مال کی لڑائی ختم ہوئی۔ اب بھی وہی پھوٹ اپنے بھائی کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے مشورے۔
نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ کاشغر
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
