| عنوان: | ریڈیو وغیرہ کی خبر پر عید منانے کے نقصانات |
|---|---|
| تحریر: | علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی |
| پیش کش: | اختری |
ہر سال عید کے موقعے پر ریڈیو کے ذریعہ چاند کے اعلان پر پورے ملک میں ہنگامے کھڑے ہوجاتے ہیں اور امسال خصوصیت سے بہت زیادہ شورش مچی، جس کے نتیجے میں دار الافتاء میں اس سلسلے میں سوالات کی بھرمار ہوگئی۔ اس لیے میں نے ضروری جانا کہ اس موضوع پر ایک مفصل مدلل مضمون شائع کر دیا جائے۔ اسی جذبے کے تحت مندرجہ ذیل سطور سپرد قلم کر رہا ہوں۔ امید ہے کہ جو دین دار انصاف پسند ان سطور کو پڑھے گا وہ پورے طور سے مطمئن ہو جائے گا۔
-
روزہ، نماز، عید، تراویح خالص عبادات ہیں۔ شریعت نے ان کے لیے اوقات مقرر فرمائے ہیں۔ نہ وقت سے پہلے ادا ہوں گے، نہ وقت کے بعد۔ روزے اور تراویح کے لیے رمضان کا مہینہ مقرر فرمایا، اور صدقہ فطر و نماز عید کے وجوب کے لیے پہلی شوال۔
-
اوقات مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ اوقات جاننے کا طریقہ بھی مقرر فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے:
صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا [بخاری و مسلم]
ترجمہ: چاند دیکھ کر روزہ رکھو، چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو۔ اگر انتیس کو چاند نظر نہ آئے تو تیس دن پورے کرو۔
دوسری حدیث میں فرمایا:
إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا هَكَذَا يَعْنِي مَرَّةً تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَمَرَّةً ثَلَاثِينَ [بخاری وغیرہ]
ترجمہ: ہم حساب و کتاب نہیں کرتے، مہینہ ایسے ایسے ہے، اپنے دست مبارک کی دسوں انگلیوں کو کھول کر دست مبارک اوپر اٹھائے اور نیچے کیا تیسری بار ایک انگوٹھا دبا لیا، یعنی کبھی انتیس کبھی تیس کا۔
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ اسلامی مہینوں کی ابتدا و انتہا چاند دیکھنے سے ہوتی ہے یا تیس دن پورے ہونے پر۔ یہی شارع علیہ السلام نے متعین فرمایا ہے۔ اہل ہیئت و توقیت و نجوم و جیوتش کے حساب و کتاب کا قطعا اعتبار نہیں۔
-
یہ بھی ظاہر ہے کہ ان احادیث کا مطلب یہ نہیں کہ جب تک ہر شخص چاند دیکھ نہ لے نہ روزہ رکھے، نہ چھوڑے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب چاند کا دیکھنا بطریق شرعی ثابت ہو جائے تو جن لوگوں نے نہیں دیکھا ہے وہ بھی اس کے مطابق عمل کریں۔
-
چاند کے ثبوت کے آٹھ طریقے ہیں، جن سب کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے رسالہ مبارکہ “طرق اثبات ہلال” میں جمع فرمادیا ہے۔ اس وقت ان سب طریقوں کو بیان کرنا ہمارا مقصود نہیں۔ ہمیں صرف یہ بتانا ہے کہ دوسرے شہر کی رویت کی خبر بذریعہ ریڈیو یا ٹیلیفون آئے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ دوسری جگہ کی خبر کیسے معتبر ہوگی۔ اس سلسلے میں ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، طحاوی میں ایک حدیث ہے، پہلے اسے ذہن نشیں کرلیں:
غُمَّ عَلَيْنَا هِلَالُ شَوَّالٍ فَأَصْبَحْنَا صِيَامًا فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ فَشَهِدُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرُوا وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى عِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ
ترجمہ: ایک دفعہ شوال کا چاند 29 کو دکھائی نہیں دیا۔ تو ہم نے دوسرے دن روزہ رکھا۔ دن کے آخر حصے میں کچھ سوار آئے، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور گواہی دی کہ ہم لوگوں نے چاند کل دیکھا ہے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ لوگ روزہ توڑ دیں اور کل عید کے لیے نکلیں گے۔
اب یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ آنے والے صحابہ کرام تھے۔ جن کا جھوٹ بولنا وہ بھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور شرعاً ممکن نہیں، وہ بھی صرف ایک صاحب نہیں تھے، پوری جماعت تھی۔ اس لیے کہ رکب دس سے زائد سوار کو کہا جاتا ہے تو اتنا متعین ہو گیا کہ کم از کم دس صحابہ کرام حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے رہے ہیں کہ ہم نے کل چاند دیکھا ہے۔ مگر ان کی یہ خبر شہادت کے بعد ہی شوال کے چاند کے بارے میں قبول ہوئی۔ تو پھر آج کل کے ما و شما کی خبر بغیر شہادت عید کے چاند کے سلسلے میں کب قابل اعتبار ہوگی۔ ریڈیو، ٹیلیفون، ٹی وی کی خبر کا کیا ٹھکانہ۔
-
جب دوسری جگہ کی رویت کے معتبر ہونے کے لیے شہادت بحکم حدیث شرط ہوئی تو شہادت اور گواہی کے تمام لوازم ضروری ہوگئے مثلاً عینی شاہد ہونا، یعنی گواہ نے اپنی آنکھ سے دیکھا ہو، اب اگر گواہ نے خود چاند نہیں دیکھا ہے۔ یہ گواہی دیتا ہے کہ فلاں جگہ کے فلاں فلاں یا سب لوگوں نے چاند دیکھا ہے تو معتبر نہیں اس لیے کہ یہ شہادت نہ ہوئی، حکایت اور واقعہ بیان کرنا ہوا۔
درمختار میں فرمایا:
لَا لَوْ شَهِدُوا بِرُؤْيَةِ غَيْرِهِمْ لِأَنَّهُ حِكَايَةٌ
اگر دوسرے لوگوں کے چاند دیکھنے کی گواہی دیں تو معتبر نہیں اس لیے کہ یہ حکایت ہے۔
اور یہی عالمگیری وغیرہ میں بھی ہے، اور یہ بات خود دنیوی کچہریوں میں بھی ہے۔ کسی معاملے میں گواہ اگر یہ گواہی دے کہ جو لوگ واقعے کے چشم دید گواہ ہیں انہوں نے مجھے بتایا تو یہ گواہی رد کر دی جائے گی۔ پھر عبادات وہ بھی فرائض و واجبات میں اتنی ڈھیل کیسے ہو سکتی ہے کہ محض حکایت کافی ہو۔ خصوصاً جب کہ حدیث سے ثابت ہے کہ اس میں شہادت شرط ہے۔ یوں ہی گواہوں کا عادل ہونا اور بقدر نصاب ہونا لازم ہے۔ ارشاد ہے:
وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ [سورۃ الطلاق: 2]
تم میں کے دو عادل گواہی دیں۔
اور فرمایا:
وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ [سورۃ البقرۃ: 282]
اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بناؤ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بناؤ، اپنے گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو۔
ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوا کہ کسی بھی معاملے میں گواہی اس وقت معتبر ہوگی جب گواہ کم از کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں، جو سب کے سب مسلمان عادل ثقہ متدین ہوں نیز یہ بھی شرط ہے کہ عینی شاہد خود قاضی، مفتی کے پاس حاضر ہو کر گواہی دے۔ دور دراز شہروں سے اپنے گھر بیٹھے گواہی کیا معتبر ہوگی۔ مجلس قضا میں پردے کی اوٹ سے گواہی معتبر نہیں۔
-
ان تفصیلات سے ظاہر ہو گیا کہ ریڈیو، ٹی وی کی خبر رویت ہلال کے سلسلے میں بالکلیہ ساقط الاعتبار ہے۔ اولاً: یہ صرف ایک خبر ہے شہادت نہیں۔ ثانیاً: صرف ایک شخص کی خبر ہے۔ ثالثاً: ریڈیو پر اعلان کرنے والے عموماً غیر مسلم ورنہ فاسق ضرور ہوتے ہیں۔ رابعاً: یہ خود چاند نہیں دیکھتا۔ یہ اعلان کرتا ہے کہ فلاں جگہ چاند دیکھا گیا، فلاں امام یا مولوی نے یہ اعلان کرایا۔ خامساً: قاضی یا مفتی کے پاس موجود نہیں، میلوں کی دوری سے بول رہا ہے۔
-
ٹیلیفون کا بھی یہی حال ہے کہ وہ صرف ایک خبر ہوتی ہے اور اگر کوئی عادل ثقہ ٹیلیفون پر گواہی بھی دے تو بھی غیر معتبر کہ اولاً: یہ صرف ایک شخص ہے۔ ثانیاً: روبرو حاضر نہیں، پس پردہ دوری سے بول رہا ہے۔
-
اب بات بالکل واضح ہوگئی کہ اگر 29 رمضان کو ریڈیو سے یہ خبر نشر ہو یا ٹیلیفون سے کوئی یہ کہے کہ فلاں جگہ چاند ہو گیا۔ فلاں امام یا مولانا نے تسلیم کر لیا، اور انہوں نے اعلان کر دیا ہے کہ کل یکم شوال ہے، تو یہ خبر شرعی اعتبار سے قطعا ساقط و ناقابل اعتبار ہے۔ اس پر اعتماد کر کے دوسرے دن روزہ نہ رکھنا اور نماز عید پڑھنی ناجائز و گناہ، نہ صرف ایک گناہ بلکہ اکٹھے چار گناہوں کا ارتکاب ہے۔
اول: یہ کہ غیر شرعی طریقے کو شرعی طریقہ جان کر اس پر اعتماد کیا۔ دوم: دوسرے دن تیس رمضان تھی۔ اس لیے اس دن روزہ رکھنا فرض تھا۔ روزہ نہ رکھا یا رکھ کر توڑ دیا تو فرض کو چھوڑ دیا۔ سوم: نماز عید کے نام سے جو نماز پڑھی وہ وقت نہ ہونے کی وجہ سے نماز عید نہ ہوئی، نفل ہوئی۔ نماز عید جس خاص ہیئت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے، یعنی زائد تکبیروں کے ساتھ ویسی کوئی نفل نماز مشروع نہیں تو یہ بنام نماز ایک لایعنی فعل میں مشغولیت ہوئی۔ درمختار میں ہے:
لِأَنَّهُ اشْتِغَالٌ بِمَا لَا يَصِحُّ
چہارم: اس گمان پر کہ نماز عید پڑھ چکے ہیں۔ یکم شوال کو نہیں پڑھی اور نماز عید واجب ہے جسے چھوڑ دیا۔ پھر تیس رمضان کی تراویح سے محرومی اور تداعی کے ساتھ نفل کی ادائیگی مزید برآں۔
-
ریڈیو اور ٹیلیفون کی خبر پر روزہ سے روکنے والے، روزہ توڑنے والے بڑے زور وشور سے یہ اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ عید کے دن روزہ رکھنا حرام ہے۔ اس پر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب کہ بہ طریق شرعی یہ ثابت ہو جائے کہ یہ عید کا دن ہے تو اس دن روزہ رکھنا ضرور مکروہ تحریمی ہے، حرام قطعی نہیں۔ اگرچہ کبھی فقہاء مکروہ تحریمی پر بھی حرام کا اطلاق کر دیتے ہیں:
درمختار میں ہے:
وَالْمَكْرُوهُ تَحْرِيمًا كَالْعِيدَيْنِ
لیکن جب 29 رمضان کے چاند کا ثبوت بہ طریق شرعی نہ ہو تو دوسرے دن بلاشبہ تیس رمضان ہے۔ حدیث گزر چکی:
فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ
جب نظر نہ آئے یا اس کا شرعی ثبوت نہ ملے، تو تیس کی گنتی پوری کرو۔
اور آپ نے دیکھا کہ اس دن روزہ چھوڑنے یا توڑنے اور نماز عید پڑھنے میں اکٹھے چار گناہوں کا ارتکاب لازم آتا ہے۔ تو یہ کون سی عقل مندی اور دین داری ہے کہ اس توہم پر کہ یہ عید کا دن ہے۔ کراہت سے بچنے کے لیے چار چار گناہوں کا ارتکاب کیا جائے۔
-
کچھ لوگ یہ دھوکا دیتے ہیں کہ نجی معاملات میں ریڈیو، ٹیلیفون کی خبر پر سب اعتماد کرتے ہیں۔ پھر چاند کے معاملے میں کیوں معتبر نہیں۔ اس کے جواب کی طرف ہم نے ابتدا ہی میں اشارہ کر دیا ہے۔ روزہ اور نماز عید خالص عبادات ہیں۔ اور ان کے اوقات کی تعیین اور شناخت کا طریقہ خود شارع علیہ السلام نے مقرر فرما دیا ہے۔ اس میں ترمیم اور تبدیل کا ہمیں یا کسی کو کوئی حق نہیں۔ شارع علیہ السلام نے جیسے بتایا ہے اس کے مطابق عمل واجب ہے۔ حدیث گزر چکی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری جگہ سے آئی ہوئی خبر پر شہادت کے بعد اعتماد فرمایا۔ حالانکہ دوسرے نجی معاملات میں ایک شخص کی خبر پر اعتماد فرما لیتے تھے۔ مثلاً کسی کی بیماری، موت وغیرہ میں۔ پھر کیا وجہ تھی کہ رویت ہلال کی خبر پر بغیر شہادت کے اعتماد نہیں فرمایا۔ ہم اس کے مکلف ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کریں گے۔ کیوں ایسا حکم ہے اس کے جاننے کے ہم مکلف نہیں۔
علماء نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اگر کسی نے چاند دیکھا مگر کسی وجہ سے اس کی گواہی قاضی نے رد کر دی تو اسے جائز نہیں کہ دوسرے دن روزہ چھوڑے اور نماز عید پڑھے، واجب ہے کہ روزہ رکھے۔
عالمگیری میں ہے:
رَجُلٌ رَأَى هِلَالَ الْفِطْرَةِ وَلَمْ تُقْبَلْ شَهَادَتُهُ كَانَ عَلَيْهِ أَنْ يَصُومَ فَإِنْ أَفْطَرَ كَانَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ دُونَ الْكَفَّارَةِ، كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانَ
ایک شخص نے عید الفطر کا چاند دیکھا اور گواہی دی اور اس کی گواہی قبول نہ ہوئی تو اس پر واجب ہے کہ روزہ رکھے۔ اگر روزہ نہیں رکھا، تو اس پر قضا واجب ہے، البتہ کفارہ نہیں۔
بلکہ اگر گواہی نہ دی تو بھی اس پر دوسرے دن روزہ رکھنا واجب ہے۔ اسی میں اس کے پہلے ہے:
فَمَنْ رَآهُ وَحْدَهُ لَا يُفْطِرُ أَخْذًا بِالِاحْتِيَاطِ فِي الْعِبَادَةِ، فَإِنْ أَفْطَرَ قَضَاهُ وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ
ترجمہ: جس نے عید الفطر کا چاند تنہا دیکھا تو دوسرے دن روزہ نہ چھوڑے عبادت میں احتیاط کرتے ہوئے۔ اگر روزہ نہیں رکھا تو اس کی قضا کرے۔ البتہ اس پر کفارہ نہیں۔
لِلّٰهِ انصاف: اس نے خود چاند دیکھا۔ اسے یقین ہے کہ کل یکم شوال ہے، روزِ عید ہے۔ مگر علماء فرماتے ہیں عبادت کے معاملے میں احتیاط لازم ہے۔ اس لیے وہ روزہ رکھے۔ یہ نہیں فرماتے کہ عید کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ اس لیے روزہ نہ رکھے بلکہ روزہ رکھنے کو واجب فرماتے ہیں۔ حتیٰ کہ نہ رکھنے پر قضا کا حکم دیتے ہیں۔ اپنی آنکھ سے چاند دیکھنے میں جو قوت ہے، وہ ریڈیو ٹیلیفون کی خبر میں کبھی نہیں۔ شنیدہ کے بود مانند دیدہ۔ تو یہاں بدرجہ اولیٰ روزہ رکھنا واجب ہوگا۔
پھر اپنی آنکھ سے دیکھی ہوئی بات پر ہر شخص عمل کرتا ہے۔ مگر روزے اور عید کے معاملے میں قاضی کا قبول کرنا، اور اس کا حکم دینا ضروری قرار دیا گیا۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ یہ خالص عبادت کا معاملہ ہے۔ اس میں شارع علیہ السلام کی اتباع ضروری ہے۔ صحابہ کرام نے ان سواروں سے سن کر روزہ نہیں توڑا جب تک گواہی لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم نہیں فرمایا۔
اس طرح مسلمانوں پر لازم ہے کہ کوئی خبر سن کر خود روزہ نہ توڑیں، عید نہ کریں۔ جب تک کہ شہر کا قاضی یا مفتی اعلان نہ کرے۔ اور قاضی مفتی اس کا پابند ہے کہ دوسری جگہ کی آئی ہوئی خبر بغیر شہادت شرعیہ کے نہ قبول کرے۔ جیسا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابہ کرام کی خبر شہادت کے بعد قبول فرمائی۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ [سورۃ النساء: 59]
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول کی، اور اپنے میں سے امر والے کی۔
بہ مصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر با و نہ رسیدی تمام بولہبی ست
ہمیں کرنی ہے شہنشاہ بطحا کی رضا جوئی
وہ اپنے ہوگئے تو رحمت پروردگار اپنی
