Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

بحر العرفان مفتی آفاق احمد مجددی|محمد احمد مصباحی

بحر العرفان مفتی آفاق احمد مجددی
عنوان: بحر العرفان مفتی آفاق احمد مجددی
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: ناظمین فاطمہ ردولی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

بحر العرفان اس دور قحط الرجال میں ایک نادر روزگار ہستی تھے۔ بڑے محاسن و کمالات کے حامل اور عوام و خواص کے لیے قابل تقلید نمونہ تھے۔ ان کی متعدد خصوصیات اور خوبیوں سے میں بہت زیادہ متاثر ہوں:

  1. دین کا درد اور عوام کی فلاح و بہبود کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔

  2. اخلاق حسنہ کے پیکر، متواضع، منکسر المزاج اور بہت ملنسار تھے۔

  3. لوگوں کے دکھ درد اور خوشی غمی میں شرکت ان کی فطرت تھی۔

  4. قنوج میں انھوں نے قدم رکھا تو دینی تعلیمی چہل پہل سے وہ بڑی حد تک خالی تھا، انھوں نے اپنی ثابت قدمی اور جہد مسلسل سے اسے علم و عمل کا گہوارہ بنا دیا۔

  5. شہر میں الجامعہ الاحمدیہ قائم کیا جس میں ابتدا سے فضیلت تک تعلیم ہونے لگی اور وہ دور و نزدیک کے کثیر طلبہ کا مرجع و ماویٰ بن گیا۔

  6. بنات کے لیے بھی ادارہ بنایا جہاں وہ زیور علم سے آراستہ ہونے لگیں۔

  7. کئی اسکول قائم کیے جن میں دینی ماحول میں عصری تعلیم کے شائقین کی تعلیم و تربیت جاری ہوئی۔ وہ دینی و عصری دونوں طرح کی تعلیم کے لیے ہمیشہ فکر مند رہتے اور مسلم نسل کی ہر میدان میں ترقی کے لیے کوشاں رہتے۔

  8. عوام و خواص عموماً علم تو حاصل کر لیتے ہیں مگر باطنی تربیت، ذکر و فکر اور مراقبہ وغیرہ سے غافل رہتے ہیں۔ مفتی صاحب نے خانقاہ مجددیہ قائم کر کے تزکیہ قلب اور معمولات صوفیہ کی عملی تربیت کے لیے اپنی مساعی جمیلہ صرف کیں۔

  9. قرب و جوار کے علما اور عوام سے رابطہ رکھتے ہوئے مشکلات میں ان کی رہنمائی و دست گیری کے لیے سرگرم رہے۔

  10. حکام اور سماج کے سر بر آوردہ افراد سے بھی کسی قدر رابطہ رکھ کر لوگوں کے مسائل اور پیچیدہ معاملات میں مناسب امداد بہم پہنچانے کی سعی جمیل فرمائی۔

  11. اتنے سارے مشاغل کے ساتھ تعلیم و تدریس سے بھی رابطہ استوار رکھا اور طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے توجہ صرف کرتے رہے۔ صحیح بخاری شریف کا درس پابندی سے دیتے اور اس شان سے کہ دونوں جلدیں مکمل ختم کراتے۔ اسفار اور تبلیغی دوروں کے باعث تکمیل بخاری کے لیے اوقات نکالنے میں بڑی مشقت بھی پیش آئی مگر کتاب کا درس ناتمام نہ چھوڑتے۔ ان کی یہ خصوصیت انھیں اس زمانے کے شیوخ حدیث سے ممتاز کرتی ہے۔ استاذ گرامی حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز مرادآبادی علیہ الرحمہ جب تک دار العلوم اشرفیہ مبارک پور میں شیخ الحدیث و صدر المدرسین رہے، ہر سال حرفاً حرفاً تکمیل بخاری کا اہتمام کیا۔ اب تو مدارس میں اس اہم کتاب کی تدریس بھی دوسری بہت سی کتابوں کی طرح صرف بطور تبرک یا بطور نمونہ رہ گئی ہے۔

  12. حیرت یہ ہے کہ مذکورہ جملہ مصروفیات کے باوجود مفتی صاحب نے قرطاس و قلم سے بھی رشتہ مضبوط رکھا۔ تقریباً پچاس کتابیں لکھیں، جو تصوف و طریقت سے تعلق رکھتی ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ دیگر موضوعات و علوم پر تو بہت سے لوگ لکھ رہے ہیں لیکن آداب ذکر و مراقبہ اور اسرار تصوف کی طرف توجہ کم ہے، اس لیے اپنے قلم کا محور اس کو بنایا۔

  13. ہر سال شہر قنوج میں ایک عظیم الشان کانفرنس بھی منعقد کرتے جس میں علما کے خطبات کے ذریعہ عوام کے لیے ہدایت و موعظت کا سامان فراہم کیا جاتا۔ آخری دو برس میں بیرونی ممالک کے بھی متعدد مندوبین کی شرکت رہی۔

  14. چند سالوں سے انھوں نے دن میں سیمینار منعقد کرنے کا بھی سلسلہ جاری کیا جس میں منتخب اہل قلم اور دانشوروں کے ذریعہ مسلمانوں کے دینی، قومی، تعلیمی، سماجی مسائل و مشکلات پر تبادلۂ خیالات ہوتا، قیمتی مقالات پیش ہوتے اور ان کی فلاح و ترقی کے لیے مناسب رائیں سامنے آتیں تاکہ لوگوں کی زندگی صحیح سمت میں سرگرم سفر ہو۔

  15. وہ مسلمانوں کے معاملات و مسائل کے لیے ہمیشہ فکر مند رہتے اور بغیر کانفرنس اور سیمینار کے بھی ارباب علم و دانش سے تبادلۂ خیالات اور مناسب تجاویز جاننے اور عمل میں لانے کی کوشش کرتے۔

میری نظر میں ایسا دردمند، ایسا مخلص، ایسا منکسر، بے تصنع اور اتنی خوبیوں کا جامع انسان ملنا بہت مشکل ہے۔ خدا کا فضل شامل حال ہو تو کچھ افراد مل کر ان کے کاموں کا تسلسل باقی رکھ سکتے ہیں۔ رب کریم توفیق خیر سے نوازے۔

مولیٰ تعالیٰ موصوف کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، پسماندگان کو صبر جمیل و اجر جزیل سے نوازے، ان کے نقوش قدم پر گامزن رکھے اور ان کے قائم کردہ تمام اداروں بلکہ ان کے سارے مشن کو قوت و توانائی کے ساتھ جاری رکھنے کی توفیق جمیل مرحمت فرمائے۔

وَهُوَ الْمُسْتَعَانُ، وَعَلَيْهِ التُّكْلَانُ.

شریک غم

از قلم: محمد احمد مصباحی

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!