Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مہر اور جہیز کے سلسلے میں ایک گزارش|علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی

مہر اور جہیز کے سلسلے میں ایک گزارش
عنوان: مہر اور جہیز کے سلسلے میں ایک گزارش
تحریر: علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی
پیش کش: محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال)

آج سے چالیس پچاس سال پہلے اعظم گڑھ کے مشرقی حصہ میں انصاری برادری میں مہر 25 روپے سکہ رائج الوقت متعین تھا۔ پھر کچھ دنوں کے بعد 51 روپے ہوا، اور اب 251 روپے ہے۔

جب مہر پچیس روپے تھا تو چاندی کے روپے کا چلن تھا، اس لیے رائج الوقت سے وہی چاندی کے روپے مراد ہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ تنازع کے بعد مہر میں چاندی کے پچیس روپے دیے جاتے تھے۔

اور آج کل چاندی کے روپیوں کا چلن بند ہو گیا ہے، نوٹ یا نکل کے روپے چلتے ہیں۔ آج جب سکہ رائج الوقت کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مہر 251 روپے نوٹ ہیں۔

اب ہر شخص کے لیے لمحہ فکر یہ ہے کہ جب غربت و افلاس تھا تو مہر چاندی کے پچیس روپے تھے، جس کی قیمت نوٹوں سے اس وقت لگ بھگ پونے دو ہزار روپے ہوتی ہے، اور آج جبکہ فراخی اور وسعتِ زر ہے مہر صرف 251 روپے، یہ انتہائی نامناسب بات ہے۔ ہمارے سماج میں لڑکیاں ماں، باپ کے بس میں ہوتی ہیں، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ مردہ بدستِ زندہ ہوتی ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ وہ اپنے شادی کے معاملہ میں اف نہیں کر سکتی ہیں؟ ہمارا ماحول ایسا ہے کہ اگر بے زبان مجبور لڑکیاں اپنی شادی کے معاملہ میں زبان کھول دیں تو گستاخ، زبان دراز وغیرہ خطابات سے نوازی جائیں گی۔ مہر ان کا حق ہے، اگر وہ ماحول کے دباؤ کی وجہ سے یا اپنی فطری حیا کی وجہ سے کچھ نہ بولیں یہ ان کی سعادت ہے، مگر باپ پر فرض ہے کہ وہ اپنی لڑکی کے حق کو سمجھے اور اسے پورا پورا دے۔ ہندوؤں سے سیکھ کر اب مسلمانوں میں ضرورت سے زیادہ جہیز دینے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے لڑکیوں کی شادی کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہو چکا ہے۔ لیکن مہر جو خاص اسلامی چیز ہے، اور لڑکی کا حق ہے اس پر کوئی بھی غور نہیں کر رہا ہے۔ ہم عوام کی آگاہی کے لیے ازواجِ مطہرات اور سیدہ فاطمہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہن اجمعین کے مہر اور جہیز کی تفصیل درج کر دیتے ہیں۔ مسلمان اسے دیکھیں اور اللہ توفیق دے تو اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں۔

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات اور بناتِ مکرمات کا مہر پانچ سو درہم سے زائد نہ تھا۔ سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم نَكَحَ شَيْئًا مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أَنْكَحَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِهِ عَلَى أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً۔

میں نہیں جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ اوقیہ سے زیادہ پر اپنا یا اپنی صاحبزادیوں کا نکاح کیا ہو۔

اس میں حضرت ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا مہر ایک روایت میں چار ہزار درہم تھا جیسا کہ ابو داؤد میں ہے، اور دوسری روایت کی بنا پر چار ہزار دینار تھا جیسا مستدرک میں ہے، مگر ان کا مہر شاہِ حبشہ نجاشی رضی اللہ عنہ نے اپنی طرف سے ادا کیا تھا۔ اور حضرت بتولِ زہرا رضی اللہ عنہا کا مہرِ اقدس چار سو مثقال چاندی تھا۔ چاندی کا وزن انگریزی چاندی والے چہرہ دار روپے سے ایک سو ساٹھ روپے ہے، جس کی قیمت آج کے سکے سے دس ہزار کے لگ بھگ ہوگی، اور پانچ سو درہم کے چاندی والے چہرہ دار روپے سے ایک سو چالیس روپے بھر ہوا، جس کی قیمت موجودہ سکوں سے تقریباً نو ہزار ہوگی۔ اس کا حاصل یہ نکلا کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے سوا اور ازواجِ مطہرات کا مہر آج کے سکے سے لگ بھگ نو ہزار تھا اور حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کا مہرِ مبارک لگ بھگ دس ہزار روپے تھا۔ ازواجِ مطہرات کو ان کے میکے سے جہیز کیا ملا؟ اس سلسلے میں مجھے اب تک کوئی تفصیل نہیں مل سکی، البتہ حضرت بتولِ زہرا رضی اللہ عنہا کو حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جہیز دیا تھا، وہ یہ ہے: ایک بان کی چارپائی، چمڑے کا گدا جس کے اندر روئی کے بجائے کھجور کی شاخوں کے ریشے تھے، ایک چھاگل (پیالہ)، ایک مشک، دو چکیاں اور مٹی کے دو گھڑے ڈلے۔

اب ہر مسلمان کے لیے لمحہ فکر یہ ہے کہ وہ مہر اور جہیز دونوں کے سلسلے میں اسلامی نظریے کو سمجھیں کہ اسلام میں مہر کی کیا حیثیت ہے، اور جہیز کی کیا حیثیت ہے۔ پھر اس روایت کو بھی سن لیں کہ اس وقت حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ بہت ہی تنگ دست تھے، ان کے پاس کچھ نہ تھا، صرف ایک زرہ تھی جو بدر کے موقع پر خود حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمائی تھی۔ مگر پھر بھی وہ مہر مقرر ہوا، اور آج لڑکی کسی حیثیت کی ہو، لڑکا کسی بھی حیثیت کا ہو، مہر وہی 251 روپے ہے۔ یہ اپنی بچیوں پر ظلم ہے۔ تمام ذمہ دار، ذی اثر مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ لڑکیوں کے مہر کے معاملے میں غور و خوض اور باہمی رائے مشورہ کے بعد ایسی مقدار مقرر کریں جو مناسب ہو، جس میں لڑکیوں کی حق تلفی نہ ہو۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اب پنچایتی طور پر مہر کی مقدار کم از کم دو ہزار کر دی جائے، اور یہ ہرگز زیادہ نہیں۔ گزر چکا کہ چالیس پچاس سال پہلے پنچایتی طور پر مہر پچیس روپے چاندی تھا، جس کی قیمت لگ بھگ پونے دو ہزار ہوتی ہے، وہ عسرت اور تنگ دستی کا زمانہ تھا، اس لحاظ سے دو ہزار مہر زائد نہیں ہے۔

دوسری نہایت اہم گزارش یہ ہے کہ جہیز کے سلسلے میں جہاں تک ہو کمی کی جائے، اللہ توفیق دے تو بقدرِ ضرورت لڑکیوں کو جہیز دیا جائے مگر اتنا نہیں کہ خود بار ہو اور لڑکی والوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ رواج کے مطابق جہیز کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے رشتے لگنے کے باوجود لڑکیوں کی شادی نہیں ہو پاتی ہے، بسا اوقات رشتہ ختم کرنا پڑتا ہے۔ اگر مشترکہ طور پر جہیز کے لیے کچھ پابندی لگا دی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔[مقالات شارح بخاری، ص: 384-386]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!