| عنوان: | تقدیم و تعارف ترجمہ: ”روض الریاحین“ موسوم بہ ”بزمِ اولیا“ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | صاحبِ مقالاتِ مصباحی (علامہ محمد احمد مصباحی) |
| پیش کش: | محمد شمشاد رضوی |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
”المجمع الاسلامی“ کے لیے یہ امر باعثِ فخر و سعادت ہے کہ مولانا بدرالقادری (رکن المجمع الاسلامی) کے قلم سے علامہ جلیل عفیف الدین عبداللہ بن اسعد یافعی (۶۷۸ھ - ۷۶۸ھ) کی معتبر و مستند اور مشہورِ آفاق کتاب ”روض الریاحین فی حکایات الصالحین“ کا دلکش ترجمہ اشاعت پذیر ہو رہا ہے۔
یقیناً صالحین کے واقعات و حالات میں اہلِ نظر کے لیے بڑی ہی عبرت و بصیرت کا سامان ہوتا ہے، ان سے دلوں کو روشنی، روحوں کو تازگی اور فکر و نظر کو بالیدگی ملتی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے جہاں اور اسرار و حِکم اور شرائع و قوانین کی عقدہ کشائی کی ہے، وہیں انبیائے سابقین اور اقوامِ ماضیہ کے حالات و واقعات بھی بڑی اثر انگیزی اور فیاضی سے بیان کیے ہیں اور ہمارے لیے انہیں سامانِ عبرت و بصیرت قرار دیا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
(۱) لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ۔ (سورة يوسف: 111)
”بے شک ان کے واقعات میں عقل مندوں کے لیے عبرت ہے۔“
آیاتِ ربانیہ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے:
(۲) ذَٰلِكَ مَتَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ۔ (سورہ اعراف: 176)
”یہ ان لوگوں کا حال ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، تو آپ یہ واقعات سنا دیں تاکہ وہ غور کریں۔“
فرعون کی سرکشی اور دعوائے الوہیت بتانے کے بعد فرمان ہے:
(۳) فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ ۔ (النازعات: 25-26)
”تو اللہ نے اسے دنیا و آخرت کی عبرت ناک سزا میں گرفتار کیا، یقیناً اس میں خوف رکھنے والوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔“
(۴) انبیائے کرام کے واقعات کو ثباتِ قلب کا ذریعہ بتایا گیا اور ان کی خبروں پر مشتمل آیاتِ قرآنیہ کو نصیحت اور موعظت بتایا گیا:
وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ ۚ وَجَاءَكَ فِي هَٰذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ ۔ (ہود: 120)
”اور سب کچھ ہم رسولوں کی خبریں آپ کو سناتے ہیں جس سے ہم آپ کے دل کو ثبات بخشیں، اور اس میں آپ کے پاس حق آیا اور ایمان والوں کے لیے نصیحت اور یاد دہانی۔“
(۵) ربِ کریم نے اپنے خاص بندوں پر انعامات فرمائے ہیں، انہیں ابتلا اور آزمائش سے بھی گزارا ہے اور پھر اس کے ثمرات و فوائد بھی دنیا و آخرت میں رکھے ہیں؛ اسی طرح سرکش اور نافرمان قوموں کو تباہی و بربادی سے بھی دوچار کیا ہے اور ان کی حالتِ زار کو بھی سامانِ عبرت و نصیحت قرار دیا ہے۔ ایسی قوموں کی ہلاکت کے تذکرے کے بعد فرمان ہے:
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ ۔ (ق: 37)
”یقیناً اس میں اس کے لیے نصیحت ہے جو دل رکھتا ہو یا متوجہ ہو کر کان لگائے اور وہ حاضر ہو۔“
(۶) درج ذیل آیاتِ کریمہ ملاحظہ ہوں، جن میں دعوتِ عبرت کے ساتھ اس مسلکِ اولیاء کی پوری ہدایت بھی موجود ہے، جس کے دلکش مناظر اس کتاب کے ورق ورق پر جلوہ گر نظر آئیں گے:
قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ ۚ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَاءُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۗ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ قُلْ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيْرٍ مِّن ذَٰلِكُمْ ۚ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِندَ رَبِّهِم| جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ الصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالْقَانِتِينَ وَالْمُنفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ ۔ (آل عمران: 13-17)
”ان دو گروہوں میں جو برسرِ پیکار ہوئے تمہارے لیے نشانی تھی؛ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑنے والا تھا اور دوسرا کافر، کہ انہیں بچشمِ سر اپنے سے دونا دیکھ رہا تھا، اور اللہ اپنی مدد سے جسے چاہتا ہے قوت دیتا ہے، یقیناً اس میں اہلِ بصیرت کے لیے بڑی عبرت ہے۔ لوگوں کے لیے خواہشات کی محبت آراستہ کی گئی؛ عورتیں اور بیٹے اور نیچے اوپر لگے ہوئے سونے چاندی کے ڈھیر، اور نشان زدہ گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی، یہ دنیاوی زندگی کا سرمایہ ہے اور اللہ ہے جس کے پاس عمدہ ٹھکانا ہے۔ آپ فرما دیں: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز بتا دوں؟ پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہیں، ہمیشہ ان میں رہیں گے اور پاک بیویاں اور اللہ کی خوشنودی؛ اور اللہ بندوں کو دیکھتا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے تو ہمارے گناہ معاف کر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے؛ صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچ کرنے والے اور پچھلے پہر میں معافی مانگنے والے۔“
آیاتِ بالا سے معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم میں ذکر شدہ گزشتہ امتوں کے واقعات ہمارے لیے درسِ عبرت اور باعثِ نصیحت ہیں، اور یہ قرآن کا عظیم مقصد ہے ان واقعات کو ذکر فرمانے کا۔ بلا شبہ امتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا افضل الصلاۃ والتحیۃ) وہ بہترین امت ہے جو لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ظاہر ہوئی؛ ممکن نہیں کہ اس کا دامن عبرت و موعظت کے ان آبدار موتیوں سے خالی ہو، اس میں جہاں ظاہری علوم و فنون کے تاجدار، صنعت و حرفت کے ماہرین اور سیاست و جہاں بانی کے شناور پیدا ہوئے، وہیں علمِ باطن کے رمز شناس، قلب و روح کے معالج، حکمت و معرفت کے امامِ ربانی، اسرار و حقائق کے امین اور خلق کا رشتہ خالق سے مربوط و مضبوط کرنے والے عارفین و واصلین بھی پیدا ہوئے۔
ان کی حیات کا لمحہ لمحہ اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتا ہے، ان کی حکمرانی بحر و بر پر نظر آتی ہے، وہ بے سرو سامانی کی حالت میں بھی منٹوں میں کسی کو تاجِ شاہی سے سرفراز کرتے ہیں اور کسی کو تختۂ دار پر پہنچاتے ہیں؛ اقلیمِ دل کی فرمانروائی ان کے ہاتھوں میں ہوتی ہے، بڑے بڑے جبار و مغرور بھی ان کے آستانے پر لرزتے کانپتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں اور ناچار یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ اصل حکومت آپ کی ہے۔
ان کی زندگی کا عجیب پہلو یہ ہے کہ آخرت کی رعنائیاں، جنت کی بہاریں، عقبیٰ کی مسرتیں اور حسنِ حقیقی کے دیدار کی لذتیں ان کے قلب و نگاہ میں نہ صرف تصور و تخیل بلکہ مشاہدہ اور چشم دید مناظر و واقعات کے ناقابلِ شکست یقینِ محکم کی حد تک بسی ہوئی ہیں۔ ظاہری نگاہوں کو ظلمتِ شب کا پردہ چاک ہونے کے بعد خورشیدِ عالم تاب کے ضیا بار ہونے کا جو یقین ہو سکتا ہے، اسی قدر یا اس سے زیادہ ان محرمانِ راز اور عارفانِ ذات کو اس دلفریب دنیا کے زوال اور اس عالمِ جاوداں کے قرار و ثبات کا یقین ہوتا ہے؛ اور اس جہانِ باقی کی آباد کاری کے لیے وہ اسی طرح منہمک نظر آتے ہیں، جیسے ظاہر شناس انسان اس دنیائے فانی کی آباد کاری کے لیے ہر لمحہ بے قرار نظر آتا ہے اور اس یقین سے ہر آن بے تاب نظر آتا ہے کہ اگر میں نے ذرا بھی غفلت کی تو اپنے ہمسروں سے بہت پیچھے ہو جاؤں گا، تھوڑی سی چوک ہوئی تو میرا متوقع نفع خسارے میں تبدیل ہو جائے گا، ذرا لاپروائی ہوئی تو آسائشِ حیات مکدر ہو جائے گی، فکر و نظر نے خطا کی تو حکومت و قیادت کی باگ ڈور ہاتھ سے چھن جائے گی، سعیِ پیہم اور جہدِ شب و روز میں معمولی کوتاہی نے راہ پائی تو ہمیشہ کی پستی اور اپنے ہم چشموں کے سامنے ذلت و خواری کا مزہ چکھنا پڑے گا، علم و فن کے اشہبِ برق رفتار کی لگام ذرا ڈھیلی ہوئی تو برقی توانائیوں کی چکا چوند مدہم پڑ جائے گی اور بزمِ زمین کی آرائشوں میں بڑا فتور آ جائے گا۔ یہ دنیائے ظاہر کے وہ یقینیات ہیں جن کے بل پر اس کی ساری چہل پہل کا وجود ہے اور ان ہی سے اس کی ساری بہاریں قائم ہیں۔ ان یقینیات سے سارے عقلائے روزگار کا وجود سرشار ہے اور وہ ان سے انحراف کو جنون، بے عقلی اور کوتاہ بینی و ناعاقبت اندیشی کے سوا دوسرا کوئی نام دینے کو تیار ہی نہ ہوں گے۔
یہ وہ طرزِ فکر ہے جس سے آخرت کو ماننے والے اکثر افرادِ عالم بھی بچ نہیں سکتے؛ فرق یہ ہے کہ ان میں جن کو نورِ آخرت اور دانشِ یزدانی کا حصہ حاصل ہے، وہ اپنی دنیاوی تگ و دو میں فکرِ آخرت کو بھی ساتھ رکھتے ہیں اور ان میں جنہیں کچھ اور زیادہ حصہ ملا ہے وہ ان ساری کوششوں کو اس دین کی سربلندی کے ارادے سے وقف کرتے ہیں جسے پوری زمین میں عام کرنے اور اس کا کلمہ بلند رکھنے کی ذمہ داری ان کے کاندھوں پر ڈالی گئی ہے۔ مسبب الاسباب کو کارساز جانتے اور اس کی رضا کو اصل مقصود بناتے ہوئے اسباب کا سہارا لینا اور وسائل و ذرائع کو عمل میں لانا ہی وہ درمیانی راہ ہے جس پر اکثر اہلِ دین کاربند ہوئے۔ اور عام حالات میں اکثر انبیائے کرام نے بھی محض عامۂ امت کی آسانی اور اس کے لیے اتباع و اقتدا کی سہولت کی خاطر اسی راہ کو اپنایا، اگرچہ وہ حضرات کلیۃً ترکِ دنیا اور تجرد کی راہ اپنانے پر بلا شبہ قادر تھے اور سیدنا عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام نے اسے عملاً اپنا کر بھی دکھایا۔
مگر انبیائے کرام اور سید الانبیاء علیہ وعلیہم السلام سے ہر لمحہ اکتسابِ قوت و فیض کرنے والے متبعین میں ہی ایسے بلند حوصلہ اور عالی نظر افراد بھی پیدا ہوئے جنہوں نے صرف مسبب الاسباب سے کام رکھا اور صرف اس کی ذات کو اپنا مقصود بنایا؛ ان کے سامنے صرف آخرت ہی آخرت ہے، انہیں یقین ہے کہ دنیاوی علائق و روابط اور لذت و آسائش میں منہمک ہوئے تو ہماری ابدی زندگی ویران ہو جائے گی—وہ زندگی جس کا ایک دن یہاں کے پچاس ہزار سال کے برابر ہو گا۔ سو سالہ زندگی کی رعنائیوں، لذتوں اور آسائشوں میں پھنس کر اس حیاتِ دائمی کو بے رونق و بے کیف بنانا یقیناً بے عقلی اور جنون ہے۔ فکرِ آخرت نے انہیں ایسا بے تاب و سیماب صفت بنا رکھا ہے کہ انہیں نہ یہاں کے فانی ایوان و قصور بھاتے ہیں، نہ سیم و زر کی کھنک انہیں فریفتہ کرتی ہے اور نہ عیش و تنعم کے یہ ہزار ہا ہزار میل میں پھیلے ہوئے مظاہر انہیں اپنی جانب مائل کرتے ہیں۔
دراصل وہ ان ایوانوں سے زیادہ پرشکوہ اور پرکیف ایوان و قصور دیکھ چکے ہیں، جن پر کبھی گردشِ ایام اثر انداز نہیں ہو سکتی، جن کے مکینوں میں کسی سرائے کے مکینوں کی طرح آئے دن تبدیلی نہیں ہوتی، جن کی آسائشوں میں کسی رنج و غم اور خوف و خطر کی آمیزش نہیں ہوتی؛ بلکہ ان میں عارفانِ حق اور عاشقانِ ذات کی ہمتیں تو شوقِ بہشت اور خوفِ نار سے بھی بالاتر ہیں، ان کے لیے جمالِ حقیقی اور حسنِ ازلی کے دیدار کے سوا کوئی لامحدود اور لافانی کیف و سرور بھی سکون بخش نہیں، وہ اسے چھوڑ کر جنت لینے کو بھی تیار نہیں، اس فانی دنیائے دوں میں الجھنا کیا جانیں۔
بلا شبہ ان کے واقعات و حالات میں ہمارے لیے درسِ عبرت ہے، ان کے اسرار و افکار میں ہمارے لیے سامانِ بصیرت ہے، ان کے حقائق و معارف میں ہمارے لیے گنجینۂ حکمت ہے۔ اگر ہم ان کے قدم بہ قدم نہیں چل سکتے تو اپنی نیتوں اور اپنے معاملات کی دنیا تو سنوار سکتے ہیں؛ مولائے حقیقی کی ناراضی مول لے کر اپنے نفس کی خوشنودی کے سودوں سے تو باز رہ سکتے ہیں، آخرت کا خسارہ سہ کر دنیا کا نفع کمانا تو چھوڑ سکتے ہیں؛ حلال و حرام کی تمیز، آخرت کے سودوں کے زیاں اور ربِ قدیر کے غضب و رضا سے بے نیاز ہو کر محض دنیائے دنی کی خوش نما لذت و آسائش، سرمایۂ فانی کے نفع و ضرر اور خواہشِ نفس کی رضامندی و ناراضی میں سرگردانی کا وطیرہ تو ترک کر سکتے ہیں اور کم از کم اس درمیانی راہ پر تو چل سکتے ہیں جس میں فکرِ دنیا کے ساتھ آخرت سے بے فکری نہ ہو، آبادیِ دنیا کی دھن میں عقبیٰ کی ویرانی نہ ہو، لذتِ نفس کی فراہمی میں احکامِ مولا سے روگردانی نہ ہو۔ مومن اگر صرف آخرت کا نہیں بنتا تو صرف دنیا کا بھی بن کر نہیں رہ سکتا۔ ہاں! کافر کے لیے یہ راہ بہت کشادہ ہے، اس کی جنت یہی ہے، اس کا سب کچھ یہیں ہے؛ مومن اگر ان عرفاء کے قدم بہ قدم نہیں چل سکتا تو ان سفہاء کے قدم بہ قدم چلنے کی بھی فکر نہ کرے اور کم از کم وہ راہ اپنائے جو دونوں کے درمیان ہو۔ یہ راہ اگرچہ ان خاصانِ خدا کے جادۂ بلند سے کمتر ہو مگر ان نادانوں کی ڈگر سے برتر و بہتر ضرور ہو گی۔
کتاب کا تعارف:
کتاب ”روض الریاحین فی حکایات الصالحین“ (واقعاتِ صالحین میں گلوں کے چمنستان) کا لقب ”نزہۃ العیون النواظر وتحفۃ القلوب الحواضر فی حکایات الصالحین والاولیاء والاکابر“ ہے؛ یعنی صالحین، اولیاء اور اکابر کے واقعات میں بینا آنکھوں کا سامانِ فرحت، اور حضوری والے دلوں کا تحفہ۔
اس کتاب کے شروع میں قرآن و حدیث اور آثارِ سلف سے فقر و فقراء اور اولیاء کے فضائل اور کراماتِ اولیاء کا ثبوت فراہم کیا گیا ہے جس سے مصنف کے رسوخِ علم کا اندازہ ہوتا ہے، پھر اصل کتاب شروع ہوتی ہے جو عام صالحین، درمیانی درجے کے اولیاء اور بلند مرتبہ اکابرِ عرفاء سبھی کے منتخب واقعات پر مشتمل ہے۔ مصنف نے اس میدان کی معتبر کتابوں اور مستند رجال کو اپنا ماخذ بنایا ہے؛ تعبیرات اور بیانِ حالات میں ان کے قلم پر شروع سے آخر تک علم و عرفان کی گرفت مضبوط نظر آتی ہے۔ ان کا شعری ذوق بھی بڑا بلند ہے، کثرت سے اشعار بھی درجِ کتاب فرمائے ہیں اور خود ان کے اشعار کی بھی وافر مقدار شاملِ کتاب ہے۔
ان واقعات میں جو کیف و لذت مستور ہے، ان کا لطف اس وقت حاصل ہو سکتا ہے جب حضورِ قلب اور اکتسابِ فیض کے ارادے سے ان کا مطالعہ کیا جائے؛ یقیناً ان میں روح کی بالیدگی، یقین کی پختگی اور ایمان کی ترقی و مضبوطی کا کافی سامان موجود ہے۔ مصنف نے نمبر وار پانچ سو حکایات تحریر فرمائی ہیں اور بعض نمبروں کے تحت کسی خاص مناسبت کی وجہ سے ضمناً متعدد واقعات ثبت فرمائے ہیں۔
آخر میں حضرتِ مصنف نے بعض واقعات پر بعض علمائے ظاہر کے اعتراضات کا شافی جواب رقم فرمایا ہے، پھر ذات و صفات سے متعلق عقائدِ اولیاء، امام ابو القاسم قشیری کے رسالے سے مختصراً نقل کیے ہیں اور یہ دکھایا ہے کہ اولیائے کرام اس باب میں بھی جادۂ تحقیق پر گامزن ہیں، اور ہر بدعت و ضلالت سے دور و نفور ہیں۔
[مقالاتِ مصباحی، صفحہ: 566]
