Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تقدیم: انوارِ مفتیِ اعظم (قسط: دوم)|علامہ محمد احمد مصباحی

تقدیم: انوارِ مفتیِ اعظم (قسط: دوم)
عنوان: تقدیم: انوارِ مفتیِ اعظم (قسط: دوم)
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی
پیش کش: محمد شمشاد رضوی
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ ہندوستان کی مسلم آبادی میں شیعہ اور سنی دو ہی فرقے تھے، اور ہر سنی انبیاء و اولیاء کا معتقد، ان کے لیے خدا کی عطا سے علمِ غیب اور تصرفات و اختیارات کا قائل تھا، ان سے استعانت و توسل عہدِ رسالت ہی سے تمام مسلمانوں کا معمول تھا۔ بارگاہِ رسالت اور انبیاء و اولیاء کی شان میں ناروا جسارت کا کوئی تصور نہ تھا، ان کی اہانت و گستاخی سے ہر مسلمان دور و نفور تھا؛ مگر جب سے ”تقویۃ الایمان“ نامی کتاب وجود میں آئی، اس نے اس ناروا جسارت کا دروازہ کھول دیا۔ اور توحید کے نام پر توہین کا سلسلہ چل پڑا، جب یہ مہم دہلی سے دیوبند پہنچی تو اس میں مزید ترقی ہوئی اور ایسی گستاخیاں کی گئیں جن کو کوئی مسلمان برداشت نہ کر سکتا تھا؛ مگر آج وہی تقویۃ الایمان ہندوستان کے غیر مقلد اور دیوبندی حلقوں کا عین دین و ایمان ہے۔ اور اسے نت نئے حربوں سے نئی نسل میں منتقل کرنے کی تیز مہم جاری ہے اور عام مسلمانوں کی سادہ لوحی یہ ہے کہ اس نئے فرقے کو پہچاننے میں دیر سے کام لیتے ہیں۔ نتیجتاً ان کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کا سب کچھ لٹ جاتا ہے، مگر بزعمِ خویش مست رہتے ہیں کہ اب ہمیں راہ مل گئی ہے۔

یہ محاذ آج بھی اہلِ سنت کے لیے اسی طرح محنت و توجہ کا محتاج ہے جس طرح مفتیِ اعظم اور امام احمد رضا قدست اسرارہما کے زمانے میں تھا، بلکہ آج صورتِ حال زیادہ سنگین ہو چکی ہے۔ ان ہی حالات کے پیشِ نظر حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی نے پندرہ سال پہلے ”تحقیقات“ لکھی تھی اور اب تین سال پہلے ”سنی دیوبندی اختلافات کا منصفانہ جائزہ“ تحریر کیا ہے۔ ان کتابوں کی زیادہ سے زیادہ اشاعت اور وسیع پیمانے پر مفت تقسیم کو عمل میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کی غلط فہمیاں دور ہوں اور بدمذہبوں کے دامِ تزویر میں پھنسنے والے سادہ لوح افراد راہِ راست پر آ سکیں اور جو لوگ محفوظ ہیں آئندہ بھی محفوظ رہ سکیں۔ افسوس کہ ایصالِ ثواب کے لیے کھانے پینے پر لاکھوں لاکھ سرمایہ صرف کرنا تو ہم نے سیکھا، مگر دس بیس ہزار کتابوں کی تقسیم کے ذریعہ ایصالِ ثواب پر کبھی غور نہ کیا؛ جبکہ اس کی افادیت اور ضرورت اس سے زیادہ اور بہت زیادہ ہے۔ ربِ کریم توفیقِ عمل سے نوازے۔

شیخ جمال منّاع نے اپنی تقریر میں متعدد اہم نکات بیان کیے ہیں اور حیرت انگیز انکشاف یہ کیا ہے کہ: ”میں تقریباً پانچ سال ہندوستان میں رہا لیکن امام احمد رضا سے مجھے کوئی واقفیت بہم نہ ہو سکی۔“ انہوں نے فرمایا ہے کہ غلط فہمیاں دور کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ امام احمد رضا کے رشحاتِ قلم کو عام کیا جائے اور عالمی زبانوں خصوصاً عربی زبان میں انہیں پیش کیا جائے۔ اس طرح سے وہ دبیز پردہ جو ان کی قدآور علمی شخصیت اور ان کی عظیم خدمات پر ڈال دیا گیا ہے، دور ہو سکتا ہے اور عالمِ عرب ان سے آشنا ہو کر آج بھی ان کی وہی پذیرائی کر سکتا ہے جو کل ان کے دورِ حیات میں حجازِ مقدس کے اکابر علماء و مشائخ کے ذریعہ عمل میں آئی۔

ظاہر ہے کہ اس طرح کا کام چلتے پھرتے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ایک ایسا ادارہ چاہیے جو لائق علماء اور باصلاحیت دانشوروں کی ایک ٹیم جمع کرے اور انہیں ہر طرح کی سہولتیں فراہم کر کے منظم اور باضابطہ طور پر ان سے مسلسل کام کرائے۔

”المجمع الاسلامی“ کا قیام سولہ سال پہلے اسی مقصد کے تحت عمل میں آیا۔ مگر جو وسائل درکار ہیں وہ آج تک میسر نہیں، سرمایہ دار طبقہ ان ضروریات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں، اور ذی علم طبقہ جو ان حالات و ضروریات سے آشنا ہے، اس کے پاس سرمایہ نہیں؛ دونوں میں اگر ربط و ہم آہنگی اور احساسِ ضرورت پر اتفاق ہو جائے اور باہم مل کر کام کریں تو یقیناً یہ خلا بہت جلد پُر ہو سکتا ہے۔ ربِ کریم ہم سب کو دینِ متین کی راہ میں حرکت و عمل سے نوازے۔

المجمع الاسلامی نے تصنیفی و اشاعتی میدان میں اب تک جو کام کیا ہے وہ اگرچہ اس کے منصوبوں کے دیباچے کی حیثیت رکھتا ہے مگر اس سے ادارے کی سلامت روی اور قوت و صلاحیت کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔ امام احمد رضا قدس سرہ کے تعارف سے متعلق اس نے اب تک درج ذیل کتابیں شائع کی ہیں:

(۱) امام احمد رضا اربابِ علم و دانش کی نظر میں (از: مولانا یٰسین اختر مصباحی) - صفحات: 176
(۲) امام احمد رضا اور ردِ بدعات و منکرات (از: مولانا یٰسین اختر مصباحی) - صفحات: 584
(۳) فاضلِ بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں (از: پروفیسر محمد مسعود احمد) - صفحات: 224
(۴) امامِ اہلِ سنت (از: پروفیسر محمد مسعود احمد) - صفحات: 68
(۵) گناہِ بے گناہی (از: پروفیسر محمد مسعود احمد) - صفحات: 84
(۶) کلامِ رضا (از: اصغر حسین خان نظیر لدھیانوی) - صفحات: 96
(۷) عرفانِ رضا (از: ڈاکٹر الٰہی بخش اعوان) - صفحات: 76
(۸) اجالا (از: پروفیسر محمد مسعود احمد) - صفحات: 48
(۹) تعارفِ امام احمد رضا (از: صوفی محمد اکرم) - صفحات: 32
(۱۰) امام احمد رضا اور تصوف (از: محمد احمد مصباحی) - صفحات: 128
(۱۱) فیصلۂ مقدسہ بابت حدائقِ بخشش سوم (از: مولانا عبدالحکیم شرف قادری) - صفحات: 16

امام احمد رضا قدس سرہ کے رسائل بھی توضیح و تسہیل کے ساتھ نئے انداز میں شائع کیے۔ چند یہ ہیں: (۱) حقوقِ اولاد، (۲) حقوقِ والدین، (۳) دعوتِ میت، (۴) مزارات پر عورتوں کی حاضری، (۵) احادیثِ شفاعت، (۶) براءتِ علی از شرکِ جاہلی، (۷) فلسفہ اور اسلام، (۸) تقدیر و تدبیر، (۹) رسومِ شادی، (۱۰) اہمیتِ زکوٰۃ، (۱۱) فوائدِ صدقات، (۱۲) اذانِ قبر، (۱۳) وصایا شریف، (۱۴) ندائے یا رسول اللہ، (۱۵) ارشاداتِ اعلیٰ حضرت۔

عربی زبان میں بھی کچھ کام کیا مثلاً:

(۱) ”الفضل الموہبی فی معنیٰ إذا صح الحدیث فہو مذهبی“ کا مولانا افتخار احمد قادری نے عربی ترجمہ کیا اور اس کے ساتھ ایک مختصر تعارف بھی رقم کیا۔ یہ رسالہ مرکزی مجلسِ رضا لاہور سے متعدد بار شائع ہوا اور ترکی کے مکتبہ ایشیق سے بھی اس کی اشاعت عمل میں آئی۔
(۲) قصیدتان رائعتان: اس کے ساتھ ایک مختصر تعارف شامل کر کے اسے شائع کیا گیا۔
(۳) جد الممتار (جلدِ اول): یہ علامہ شامی کی مشہور کتاب ”رد المحتار“ کا عظیم حاشیہ ہے جس کے ساتھ امام احمد رضا قدس سرہ کی شخصیت اور حاشیے کی اہمیت پر مشتمل دو مقدمے بھی شامل ہیں۔ پہلی بار ۱۹۸۲ء میں یہ المجمع الاسلامی سے شائع ہوا، پھر ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا کراچی نے اس کا عکس شائع کر کے اسے مفت تقسیم کیا۔ یہ تقریباً پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے۔
(۴) حال ہی میں ہمارے رفیق مولانا عارف اللہ مصباحی نے پروفیسر مسعود احمد صاحب کے لکھے ہوئے ایک نئے تعارفِ امام احمد رضا کا عربی ترجمہ کیا، جو کراچی سے شائع ہو کر مفت تقسیم ہوا۔
(۵) اس وقت جد الممتار (جلدِ ثانی) کا کام جاری ہے۔ اس کا اردو تعارف بھی لکھا جا چکا ہے، جن میں ان مساعی کی کچھ تفصیل بھی ہے جو اس کتاب کے سلسلے میں زیرِ عمل آئیں، 160 صفحات پر کتابت ہو چکی ہے۔

دوسری اہم علمی و دعوتی کتابیں حسبِ ذیل ہیں:

(۱) تدوینِ قرآن، ص: 204 | (۲) فضائلِ قرآن، ص: 276 | (۳) اسلام اور امنِ عالم، ص: 304 | (۴) اسلام اور تربیتِ اولاد، ص: 48 | (۵) المبین (عربی زبان کے محاسن و کمالات)، ص: 324 | (۶) نویں صدی ہجری کے مصری مؤرخین | (۷) مستشرقین کا انصاف و تعصب | (۸) امتیازِ حق (علامہ فضلِ حق خیر آبادی اور اسماعیل دہلوی کے سیاسی کردار کا تقابلی جائزہ)، ص: 208 | (۹) نور و نار (تقویۃ الایمان کا جائزہ) | (۱۰) تحقیق الفتویٰ (ردِ تقویۃ الایمان) | (۱۱) حقائقِ تحریکِ بالاکوٹ | (۱۲) نور الایمان بزیارۃ آثار حبیب الرحمن، ص: 176 | (۱۳) صحابہ کا عشقِ رسول، ص: 176 | (۱۴) جشنِ میلاد النبی | (۱۵) تذکرِ میلادِ رسول | (۱۶) باغی ہندوستان (علامہ فضلِ حق خیر آبادی کی کتاب الثورۃ الہندیہ، اور سوانحِ علامہ)، ص: 448 | (۱۷) اسلامی اخلاق و آداب، ص: 353 | (۱۸) فیض الحکمت ترجمۂ ہدایۃ الحکمت (مع مقدمہ فلسفے کی تاریخ اور اس کی شرعی حیثیت)، ص: 60۔

اس طرح کی اور بھی کتابیں ہیں، تفصیل المجمع الاسلامی کی نشریات اور فہرستِ کتب سے معلوم ہو سکتی ہے۔ یہاں کافی اختصار سے کام لینا پڑا ہے جس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ ”رضا اکیڈمی“ بمبئی کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے زیادہ تر کتابیں مفت شائع کی ہیں۔ ان کتابوں کی فہرست بھی طویل ہے۔ چند یہ ہیں:

(۱) الامن والعلیٰ، (۲) تمہیدِ ایمان، (۳) سرور القلوب بذکر المحبوب، (۴) کنز الایمان، (۵) نزولِ آیاتِ فرقان بسکونِ زمین و آسمان، (۶) شریعت و طریقت، (۷) اسلامی پردہ، (۸) حقوق العباد، (۹) گداگری، (۱۰) احادیثِ شفاعت، (۱۱) حال ہی میں ”تجلیاتِ مفتیِ اعظم“ شائع کی ہے جو جشنِ صد سالہ کے نصف یا زائد مقالات کا مجموعہ ہے، (۱۲) اس سے قبل بخاری شریف کی دو جلدیں مکمل شائع کر کے تقسیم کی ہیں، (۱۳) اور اب مسلم شریف کی دو جلدیں طبع ہو کر تقسیم ہو رہی ہیں۔

اس طرح کے دوسرے کام بھی اکیڈمی سے ہو رہے ہیں۔ سب کی تفصیل ایک رسالے کی طالب ہے اور سب مجھے مستحضر بھی نہیں، اس لیے فی الحال معاف رکھیں۔

ان تذکروں کا مقصد دوسرے حضرات کی رہنمائی و آگاہی کے ساتھ اس بات کی دعوت و تحریک ہے کہ ان اداروں کو فروغ دے کر ان کی خدمات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر کیا جائے اور عصرِ حاضر کے دینی و ملی تقاضوں کی تکمیل کی جائے۔ اہلِ سنت کے تمام اداروں، تنظیموں، انجمنوں، دانشوروں، سرمایہ داروں اور سبھی افراد کو آج کے مذہبی، قومی، سیاسی تمام حالات و مطالبات پر بڑی سنجیدگی و ہمدردی سے غور کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ عمل کا درجہ احساسِ عمل اور آگاہیِ حالات کے بعد ہی آتا ہے۔ ربِ جلیل ذہنوں کے دروازے کھول دے، قلوب میں دردمندی اور شعور و احساس پیدا کرے، اور افراد کو جادۂ عمل پر گامزن فرمائے۔ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ۔

محمد احمد مصباحی
فیض العلوم محمد آباد، رکن المجمع الاسلامی، استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور
۲۱ ربیع النور ۱۴۱۳ھ، ۲۰ ستمبر ۱۹۹۲ء بروز یکشنبہ

[مقالاتِ مصباحی، صفحہ: 557]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!