| عنوان: | جہیز کا شرعی حکم |
|---|---|
| تحریر: | خلیفہ تاج الشریعہ مفتی عبدالرحمن صاحب قبلہ بہرائچ شریف |
| پیش کش: | سلطانی رضویہ |
جہیز کا شرعی حکم
تحریر: خلیفہ تاج الشریعہ مفتی عبدالرحمن صاحب قبلہ بہرائچ شریف
پیشکش: سلطانی رضویہ
شادی بیاہ کے موقع پر بخوشی جہیز لینا اور دینا جائز و درست ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لخت جگر حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی شادی میں ان کو خود جہیز کے طور پر ایک بان کی چارپائی، چمڑے کا گدا جس کے اندر روئی کے بجائے کھجور کی شاخوں کے ریشے تھے، ایک چھاگل (پیالہ)، ایک مشک، دو چکیاں اور مٹی کے دو گھڑے عطا فرمائے۔ [مقالات شارح بخاری، ج: 1، ص: 385]
ایک روایت کے مطابق ایک یا تین لڑکی کے جہیز کا انتظام خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
«أَنَّ عَائِشَةَ زَوَّجَتْ يَتِيمَةً كَانَتْ عِنْدَهَا فَجَهَّزَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ»
ترجمہ: ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک یتیم لڑکی کا نکاح کروایا جسے آپ نے پالا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جہیز کا انتظام اپنے پاس سے فرمایا۔ [مسند امام اعظم، باب: 122، ص: 214]
ان دونوں روایتوں سے معلوم ہوا کہ بخوشی جہیز لینا اور دینا جائز و درست ہے، لیکن جہیز کا مطالبہ اور اس کی ڈیمانڈ کرنا رشوت ہے جو شریعت میں ناجائز و حرام ہے۔
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ ایک فارسی زبان میں سوال (کہ رواج اور عادت کے مطابق شادی بیاہ کے موقع پر جو کچھ لین دین ہوتا ہے اس کا حکم کیا ہے؟ کیا یہ رشوت ہے؟) اس کے جواب میں فرماتے ہیں: رشوت آنست کہ در بعض اقوام اراذل شائع ست کہ دختر و خواہر خود را بزنی نہ دہند تا چیزے بمعاوضہ از خاطب برائے خود نہ گیرند و نیز آنست کہ كسے مولیۂ خود را بزنی دادہ باشد و بشوئی نہ سپرد چیزے برائے خود نہ گیر۔
«وَفِي الْبَزَّازِيَّةِ: الْأَخُ أَبَى أَنْ يُزَوِّجَ الْأُخْتَ إِلَّا أَنْ يُدْفَعَ إِلَيْهِ كَذَا، فَدُفِعَ لَهُ، لَهُ أَنْ يَأْخُذَ قَائِمًا أَوْ هَالِكًا لِأَنَّهُ رِشْوَةٌ»
اما انچہ بر وجہ صلہ و ہدیہ و معونت متعارف شدہ است تا در ضیافت و امثالہا صرف کردہ شود زنہار نہ رشوت ست نہ حرام۔
«فِي الْخَيْرِيَّةِ: رَجُلٌ خَطَبَ مِنْ آخَرَ أُخْتَهُ وَدَفَعَ لَهَا شَيْئًا يُسَمَّى مِلَاكًا وَدَرَاهِمَ أَيْضًا مِنْ عَادَةِ أَهْلِ الزَّوْجَةِ اتِّخَاذُ الطَّعَامِ بِهَا، إِنْ أَذِنَ لَهُمْ بِاتِّخَاذِهِ وَطَعَامِهِ لِلنَّاسِ صَارَ كَأَنَّهُ أَطْعَمَ النَّاسَ بِنَفْسِهِ طَعَامًا لَهُ وَفِيهِ لَا يَرْجِعُ»
ترجمہ: رشوت وہ ہے جو بعض قوموں میں رائج ہے اپنی بیٹی یا بہن کا رشتہ کسی سے اس وقت تک نہیں کرتے جب تک خاطب (نکاح کا پیغام دینے والے) اپنے لیے کوئی چیز حاصل نہ کر لیں، نیز رشوت وہ ہے کہ کوئی شخص اپنے زیر ولایت لڑکی کا رشتہ تو کر دے مگر اپنے لیے کچھ لیے بغیر وہ لڑکی شوہر کے حوالے نہ کرے۔ بزازیہ میں ہے کہ بھائی نے اپنی بہن کی شادی کرنے سے اس وقت تک انکار کیا جب تک اس کو کچھ دیا نہ جائے چنانچہ اس کو کچھ دے دیا گیا تو دینے والے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس بھائی سے واپس لے، چاہے وہ دی گئی شئی اس کے پاس موجود ہو یا ہلاک ہو چکی ہو کیونکہ وہ رشوت ہے۔ تنویر الابصار، در مختار اور رد المحتار میں ہے کہ عورت والوں نے رخصتی کے وقت کوئی شئی وصول کی بایں طور کہ عورت کے بھائی وغیرہ نے کچھ لیے بغیر وہ عورت شوہر کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تو شوہر وہ شئی واپس لے سکتا ہے کیونکہ وہ رشوت ہے۔
مگر وہ جو تحفہ، ہدیہ اور امداد کے طور پر متعارف ہے کہ اس کو دعوت وغیرہ میں خرچ کریں وہ ہرگز رشوت اور حرام نہیں ہے۔ خیریت میں ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کو اس کی بہن سے نکاح کا پیغام دیا اور اس کو کوئی شئی دی جس کو ملاک کہا جاتا ہے اور کچھ درہم بھی دیے کہ عورت والوں کی عادت اس سے کھانا تیار کرنے کی ہے، اگر اس نے ان کو کھانا تیار کرنے اور لوگوں کو کھلانے کی اجازت دی ہے تو ایسا ہے جیسے اس نے بذات خود اپنی طرف سے لوگوں کو کھانا کھلایا، لہٰذا اس میں رجوع نہیں کر سکتا۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 12، ص: 257، پوربندر گجرات]
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
«وَأَخْذُ أَهْلِ الْمَرْأَةِ شَيْئًا عِنْدَ التَّسْلِيمِ فَلِلزَّوْجِ أَنْ يَسْتَرِدَّهُ لِأَنَّهُ رِشْوَةٌ، كَذَا فِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ»
ترجمہ: عورت کے گھر والوں نے رخصتی کے وقت کچھ لیا تھا تو شوہر کو واپس لینے کا حق ہے اس لیے کہ وہ رشوت ہے۔ اور رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز و حرام ہے۔ [ج: 1، ص: 327، فصل فی جَهاز البنت]
حدیث پاک میں ہے:
«لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ»
ترجمہ: رشوت دینے اور لینے والوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔
دورِ حاضر میں جہیز کی جو بری رسم نکل پڑی ہے اس کی قباحتوں اور لعنتوں کا تذکرہ حضور شارح بخاری حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ نے ایک سوال کے جواب میں بڑے مفصل طور پر فرمایا ہے، میں وہ سوال مع جواب قارئین کے نظر کرتا ہوں۔
مسئلہ: اب ادھر چند برسوں سے مسلمانوں میں یہ رواج ہوتا جا رہا ہے کہ لڑکوں کی شادی طے کرتے وقت جہیز کی متعین مقدار مانگتے ہیں۔ مثلاً یہ کہتے ہیں کہ دس ہزار نقد لیں گے اور موٹر سائیکل لیں گے اور گھڑی لیں گے، اگر لڑکی والے اس کو منظور کرتے ہیں تو شادی طے ہوتی ہے ورنہ کینسل کر دیتے ہیں۔ طے ہونے کے بعد اگر لڑکی والے ان مقررہ جہیز میں کچھ بھی کم دیتے ہیں تو اس کے لیے جھگڑا کھڑا کرتے ہیں بدنام کرتے ہیں بلکہ بعض دفعہ بارات تک واپس ہو جاتی ہے اور اگر لڑکی سسرال گئی تو اسے زندگی بھر طعنہ دیتے ہیں، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لڑکی بٹھا دیتے ہیں کہ جب تک فلاں فلاں چیز جو مقررہ جہیز میں سے اب تک نہیں ملی ہے، ملے گی نہیں ہم تم کو نہیں رکھیں گے، کیا شرعاً یہ جائز ہے؟
جواب: جہیز کی مقدار طے کرنا بلکہ مقدار نہ بھی معین ہو کہیں شادی طے کرتے وقت جہیز کا مطالبہ ہی کرنا یا شادی ہونے کے بعد جہیز کا مطالبہ کرنا یا شادی کے وقت مطالبہ کرنا یہ سب حرام ہے اور یہ رشوت مانگنا ہے، جو مال لیا، رشوت لیا فرض ہے کہ اسے واپس کرے اس کو استعمال میں لانا حرام ہے۔ شامی (کتاب الہبہ) میں ہے:
«جَعَلَتِ الْمَالَ عَلَى نَفْسِهَا عِوَضًا عَنِ النِّكَاحِ وَفِي النِّكَاحِ الْعِوَضُ لَا يَكُونُ عَلَى الْمَرْأَةِ»
ترجمہ: عورت جو مال اپنے نکاح کے عوض دے وہ باطل ہے، نکاح میں عوض عورت پر نہیں۔ عورت دے یا اس کے ماں باپ بھائی دیں سب ایک حکم میں ہیں۔
کتبِ فقہ کی یہ تصریح کہ نکاح میں عوض عورت کے ذمہ نہیں، سب کو شامل ہے ہماری شریعت میں نکاح میں عوض مرد کے ذمہ رکھا ہے کہ بغیر مہر کے نکاح درست نہیں، حتیٰ کہ اگر مرد و عورت نے بغیر مہر مقرر کیے نکاح کیا جب بھی مہر واجب ہے بلکہ اگر یہ شرط کر دی کہ کچھ مہر نہ ہوگا جب بھی مہرِ مثل واجب ہے اگر نکاح کے بعد وطی یا خلوتِ صحیحہ ہو گئی۔
در مختار میں ہے:
«وَكَذَا يَجِبُ مَهْرُ الْمِثْلِ فِيهَا إِذَا لَا يُسَمِّ مَهْرًا أَوْ نَفَى إِنْ وَطِئَ الزَّوْجُ أَوْ مَاتَ عَنْهَا أَوْ لَمْ يَتَرَاضَيَا عَلَى شَيْءٍ يَصْلُحُ مَهْرًا وَإِلَّا فَذٰلِكَ الشَّيْءُ هُوَ الْوَاجِبُ»
ترجمہ: اگر مہر مقرر نہیں کی یا مہر کا نام نہ لیا یا مہر کی نفی کر دی تو مہرِ مثل واجب ہے، اگر شوہر نے وطی کر لی یا مر گیا، ہاں اگر دونوں نے رضامندی سے کوئی مقدار کسی ایسی چیز کی مقرر کر لی جو مہر ہو سکے تو وہی واجب ہے۔
عورت یا عورت کے اولیاء سے مال مانگنا قلبِ موضوع اور الٹا ہے، اس کے علاوہ فقہ کی کتابوں میں اس کی صراحت ہے کہ اگر عورت کے بھائی نے نکاح کے عوض کچھ مال مانگا تو یہ رشوت ہے، اور شوہر اسے واپس لے سکتا ہے۔ نکاح کے عوض عورت کے اولیاء کا کچھ لینا رشوت اور حرام ہے جبکہ خود عورت کو شریعت نے نکاح کے عوض مہر لینے کا حق دیا ہے، تو مرد کو یا مرد کے متعلقین کو کچھ لینا بدرجۂ اولیٰ رشوت ہوگا۔
عالمگیری میں ہے:
«خَطَبَ امْرَأَةً فِي بَيْتِ أَخِيهَا فَأَبَى أَنْ يَدْفَعَهَا حَتَّى يَدْفَعَ إِلَيْهِ دَرَاهِمَ فَدَفَعَ وَتَزَوَّجَهَا يَرْجِعُ بِمَا دَفَعَ لِأَنَّهَا رِشْوَةٌ، كَذَا فِي الْقُنْيَةِ»
ترجمہ: کسی کی بہن کو نکاح کا پیغام دیا، بھائی نے انکار کیا کہ جب تک روپے نہیں دو گے، منظور نہیں، مرد نے دیا اور نکاح کر لیا تو جو دیا واپس لے سکتا ہے اس لیے کہ یہ رشوت ہے، ایسا قنیہ میں ہے۔
اور در مختار و رد المحتار میں ہے:
«أَخْذُ أَهْلِ الْمَرْأَةِ شَيْئًا عِنْدَ التَّسْلِيمِ فَلِلزَّوْجِ أَنْ يَسْتَرِدَّهُ رِشْوَةً أَيْ بِأَنْ أَبَى أَنْ يُسَلِّمَهَا أَخُوهَا أَوْ نَحْوُهُ حَتَّى يَأْخُذَ شَيْئًا وَكَذَا لَوْ أَبَى أَنْ يُزَوِّجَهَا فَلِلزَّجِ الِاسْتِرْدَادُ قَائِمًا أَوْ هَالِكًا لِأَنَّهُ رِشْوَةٌ»
ترجمہ: رخصتی کے وقت لڑکی والوں نے اگر کچھ لیا ہے تو شوہر کو اسے واپس لینے کا حق ہے کیونکہ وہ رشوت ہے یعنی اگر بھائی وغیرہ نے بغیر کچھ لیے رخصت کرنے سے انکار کر دیا یا شادی کرنے سے انکار کر دیا تو شوہر کو حق حاصل ہے کہ اسے واپس لے لے چاہے وہ مال موجود ہو، چاہے ختم ہو گیا ہو اس لیے کہ یہ رشوت ہے۔ یہاں تو ایک طرح کا جبر ہے، اسی میں یہاں تک کہ تصریح ہے کہ خسر اگر داماد سے کچھ لے وہ بخوشی دے تو بھی مالِ حرام ہے "وَمِنَ السُّحْتِ مَا يَأْخُذُهُ الصِّهْرُ مِنَ الْخَتْنِ بِطِيبِ نَفْسِهِ." خسر داماد سے جو کچھ (مانگ کر) لے اگرچہ داماد بخوشی دے مالِ حرام ہے۔ تو جبر کی صورت میں بدرجۂ اولیٰ حرام ہوگی۔ یہ لعنت مسلمانوں نے ہندوؤں سے سیکھی «النَّاسُ عَلَى دِينِ مُلُوكِهِمْ» لوگ اپنے بادشاہ کے طریقے پر ہوتے ہیں۔ ہندوؤں کی غلامی نے ذہنوں پر اثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کے مذہب میں تلک چڑھانے کی رسم ہے اس کی بنیاد اس پر ہے کہ چونکہ وہ لڑکی کو میراث نہیں دیتے تو لڑکی کو گھر سے نکالتے وقت اپنی حیثیت کے مطابق بھرپور جہیز و نقد تلک کے نام پر دے دیتے ہیں کہ آئندہ اب وہ باپ کے مال میں کسی طرح کی حقدار نہیں۔ اس طریقے نے اب اتنی بھیانک صورت اختیار کر لی ہے کہ موجودہ دور میں ہندوؤں کے دانشور اس کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں۔ ہندوؤں کی اس مردود رسم کو مسلمان اپنا رہے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ جن کی مذہبی رسم تھی انہوں نے تو اس کے برے انجام سے عاجز آ کر اسے چھوڑنا شروع کر دیا ہے اور ہم تباہ ہونے کے لیے اسے اپنا رہے ہیں حالانکہ ہمارے مذہب میں اس کی کسی طرح گنجائش ہی نہیں۔ ہمارے مذہب میں لڑکی کو باپ کے مال سے وراثت کا حق ہے وہ الگ لے گی اور شادی کے وقت جہیز کے نام سے بٹورے گی، باپ بھائی پر لڑکی کا یہ دوہرا بار عقل کے خلاف ہے اور اصولِ فطرت اور مرد کی شان کی بھی۔
فطری اصول سے مرد عورت پر بالادستی رکھتا ہے اس سے قوت میں زیادہ ہے، اس میں کمانے کی، بنسبت عورت کی صلاحیت زیادہ ہے، مجموعی طور پر عقل و تدبیر میں زیادہ ہے، عورت صنفِ نازک ہے، خلقی طور پر کمزور، اس میں کمانے کی وہ قوت نہیں جو مرد میں ہے، اس کی فطری عوارض اس میں مانع اور تخلیقی مقاصد حارج، ایّامِ حمل و رضاعت میں کمانا اس کے لیے دشوار بلکہ اس کو کمانے پر مجبور کرنا ظلم، اس لیے اسلام نے مرد کو عورت پر حاکم رکھا:
الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ [سورۃ النساء: 34]
اور مرد پر فرض کیا کہ نکاح کے معاوضہ میں مہر دے اور نکاح کے بعد پوری اس کی کفالت کرے اور جہیز کی لعنت بالکل اس کے برعکس ہے گویا عورت نکاح کا معاوضہ دے اور اتنا دے جو مدتِ دراز تک عیش کرنے کے لیے کافی ہو گویا جہیز مانگنے والے اتنے بے غیرت ہیں کہ عورت کا مال کھانے کی ہوس رکھتے ہیں۔ شریعت نے تو یہاں تک پابندی کی تھی کہ ماں باپ بخوشی حسبِ حیثیت جو کچھ لڑکی کو جہیز میں دیں وہ لڑکی کی ملک ہے در مختار میں ہے:
«كُلُّ أَحَدٍ يَعْلَمُ أَنَّ الْجِهَازَ مِلْكُ الْمَرْأَةِ»
ترجمہ: سب کو معلوم ہے کہ جہیز لڑکی کی ملکیت ہے، مگر مرد سب جہیز کو اپنی ملک سمجھتا ہے، نقد اڑاتا ہے اور سامان بیچ کر برباد کرتا ہے، یہ حرام اور بے غیرتی کی باتیں ہیں۔ مسلمانوں میں جو لوگ ذی اثر، دیندار اور قومی، ملی جذبہ رکھتے ہیں انہیں لازم ہے کہ وہ جہیز کی لعنت کے خلاف ابھی سے صف آرا ہو جائیں، مسلمانوں میں اسے پھیلنے سے روکیں اور اس کے لیے سمجھانے بجھانے سے کام نہ چلے تو ہر ممکن سختی کریں، ابھی ابتدا ہے، شروع ہی میں روک تھام ہو گئی تو رک سکتی ہے ورنہ بہت مشکل ہو جائے گا۔
حریص، لالچی، بے غیرت نہ مانیں تو ان کا سوشل بائیکاٹ کریں، نکاح خواں علماء، میاں جی لوگوں کو لازم کہ جہاں معلوم ہو کہ جہیز کے عوض لڑکا خریدا گیا ہے وہاں نکاح پڑھانے نہ جائیں، اپنے بیس آنے پیسے کی لالچ میں قوم کو تباہ نہ ہونے دیں۔
دس بیس ایسی پابندی ہو گئی تو امید ہے کہ ہندوؤں کی دھتکاری ہوئی یہ بلا مسلمانوں میں نہ پھیلے۔ واللہ اعلم۔ [مقالات شارح بخاری، ج: 1، ص: 387، برکات گھوسی مؤ]
اللہ تعالیٰ جبری جہیز جیسی لعنت سے ہمارے مسلم معاشرہ کو پاک فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔ [احکامِ نکاح، ص: 43 تا 50]
