Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

کلامِ رضا میں مناقب صحابۂ کرام اور امہات المؤمنین (قسط: دوم)|ڈاکٹر عزیز احسن

کلامِ رضا میں مناقب صحابۂ کرام اور امہات المؤمنین (قسط: دوم)
عنوان: کلامِ رضا میں مناقب صحابۂ کرام اور امہات المؤمنین (قسط: دوم)
تحریر: ڈاکٹر عزیز احسن
پیش کش: سلطانی رضویہ

کلامِ رضا میں مناقب صحابۂ کرام اور امہات المؤمنین

اسی مصنف نے اپنی دوسری تصنیف سیرت عثمان فیض بن عباد کی روایت نقل کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں، میں نے جنگ جمل کے روز سیدنا علی کو یہ فرماتے سنا کہ “لوگ میرے پاس میری بیعت کرنے کے لیے آئے لیکن میرا نفس ابا کرتا تھا، بخدا مجھے اللہ تعالیٰ سے حیا آتی ہے کہ میں اس قوم سے بیعت لوں جو ایک ایسے شخص کے قتل کی مرتکب ہوئی ہے جس کے بارے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ‘میں اس سے حیا کرتا ہوں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں’ اور مجھے اللہ سے حیا آتی ہے کہ میں اس حالت میں بیعت لوں جبکہ عثمان زمین میں دفن ہوئے بغیر شہید ہوئے پڑے ہوں۔”

سب سے زیادہ جس مسئلے کو ہوا دی گئی ہے، وہ خلافت علی بلا فصل والا مسئلہ ہے جس کے جمہور علماء، صلحاء اور صحابہ کرام بشمول حضرت علی کبھی قائل نہیں رہے۔ کیونکہ خلافت کا مسئلہ تو آں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدود یثرب (جسے ہجرت نبوی کے طفیل مدینۃ النبی کہلانے کا شرف ملا) میں پہلی مسجد کی بنیاد رکھتے ہوئے ہی اپنی طرف سے عمل سے طے فرما دیا تھا۔ طبرانی نے مسجد قبا کی تعمیر کے حوالے سے جو روایت کی ہے الحمدللہ اس پر کسی نے کوئی اختلاف نہیں کیا ہے۔ مسجد قبا کی تعمیر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قبا سے فرمایا:

«يَا أَهْلَ قُبَاءٍ! ائْتُونِي بِأَحْجَارٍ مِنْ هٰذِهِ الْحَرَّةِ»

اے قبا کے لوگوں! پتھروں کے اس ڈھیر سے پتھر اٹھا کر لاؤ۔

«فَجُمِعَتْ عِنْدَهُ أَحْجَارٌ كَثِيرَةٌ»

سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سے پتھر جمع کر دیے۔

«وَمَعَهُ عَنَزَةٌ لَهُ»

اس وقت آپ کے پاس (نیزہ نما) لکڑی تھی۔

«فَخَطَّ قِبْلَتَهُمْ»

آپ نے سمت قبلہ کی نشاندہی فرمائی۔

«فَأَخَذَ حَجَرًا فَوَضَعَهُ»

پھر سب سے پہلے خود ایک پتھر اٹھایا اور اسے تعمیر کے لیے رکھا۔

«ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ! خُذْ حَجَرًا فَضَعْهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِي»

پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ایک پتھر اٹھا کر میرے پتھر کے برابر رکھو!

«ثُمَّ قَالَ: يَا عُمَرُ! خُذْ حَجَرًا فَضَعْهُ إِلَى جَانِبِ حَجَرِ أَبِي بَكْرٍ»

پھر عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ایک پتھر اٹھاؤ اور اسے ابو بکر کے پتھر کے ساتھ رکھ دو۔

«ثُمَّ قَالَ: يَا عُثْمَانُ! خُذْ حَجَرًا فَضَعْهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ عُمَرَ»

پھر عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عثمان! تم پتھر اٹھاؤ اور عمر کے پہلو میں رکھ دو۔

«ثُمَّ قَالَ: يَا عَلِيُّ! خُذْ حَجَرًا فَضَعْهُ إِلَى جَنْبِ عُمَرَ»

پھر فرمایا علی! تم بھی پتھر اٹھاؤ اور اسے عمر کے پتھر کے برابر رکھ دو۔

«ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ فَقَالَ: لِيَضَعْ كُلُّ رَجُلٍ حَجَرًا حَيْثُ أَحَبَّ عَلَى ذٰلِكَ الْخَطِّ»

پھر تمام لوگوں سے متوجہ ہو کر فرمایا تم سب ان خطوط پر جہاں چاہے پتھر رکھ دو۔

یہ واقعہ ہے اسلام میں سب سے پہلے تعمیر ہونے والی مسجد، مسجد قبا کا، جس کی تعمیر پہلے ہی دن سے مقبول بارگاہ رب العزت ہو چکی تھی اور جس کے بارے میں اللہ کریم نے ارشاد فرمایا تھا:

لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ. [سورۃ التوبہ: 108]

بیشک وہ مسجد کہ پہلے ہی دن سے جس کی بنیاد پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے، وہ اس قابل ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو۔

دراصل، مسجد کی تعمیر کے ضمن میں امت مسلمہ کی تعلیم کے لیے حضرات صحابۂ کرام کی فضیلتوں کا ادراک کروانا بھی مقصود تھا۔ اسی لیے حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات دنیاوی میں وصال سے صرف چار روز قبل عشاء کی نماز پڑھانے کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتخاب فرمایا جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرمانے تک سترہ نمازیں پڑھائیں۔ ان نمازوں میں حضرت علی بھی مقتدی تھے۔ اس سے ایک سال قبل 9 ہجری میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کی فرضیت کے پہلے سال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر الحج بنا کر روانہ فرمایا تھا اور سورۂ برأت کی ابتدائی آیات کے ابلاغ کے لیے حضرت علی کو مکہ مکرمہ کی طرف بھجوایا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت علی سے دریافت فرمایا: امیر ہو یا مأمور؟ اس پر حضرت علی نے جواب دیا تھا، “مامور ہوں”۔ حضرت علی نے ایک لمحے کو بھی خود کو خلافت کا حقدار نہیں سمجھا تھا ورنہ وہ حضرت عباس عم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر یہ نہ فرماتے، “بخدا اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بابت (خلافت کے) دریافت کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہمیں لوگ خلیفہ نہ بنائیں گے۔ بخدا میں تو یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں پوچھتا۔” پیر طریقت حضرت مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تصنیف میں ‘نہج البلاغہ’ کا ایک طویل اقتباس نقل فرمایا ہے جو حضرت عمر کے جنگ عراق میں بنفس نفیس شرکت کرنے والے کے سوال پر حضرت علی کے خطبے پر مبنی ہے۔ اس موقع پر حضرت علی نے امیر المؤمنین حضرت عمر کو چکی کے قطب کی طرح مرکز پر رہنے کا مشورہ دیا اور فرمایا “ہم (مہاجرین اولین) من جانب اللہ وعدۂ نصرت دیے گئے ہیں۔” سید پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ارشاد کی روشنی میں سورۂ نور کی آیت کا حوالہ دیا ہے:

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الْاَرْضِ. [سورۃ النور: 55]

اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا ہے تم میں سے ان لوگوں کو جو با ایمان ہیں اور اعمال صالح کرتے ہیں کہ البتہ وہ ان کو زمین پر خلیفہ کرے گا۔

مہر علی شاہ صاحب لکھتے ہیں، “استخلاف، یعنی خلیفہ بنانے کو حق سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ یستخلفن کی نسبت ضمیر ھم کی جانب یعنی جملہ مہاجرین اولین کی طرف۔

پیر صاحب آگے فرماتے ہیں، “تو آیۂ استخلاف کا مطلب یہ ہوا کہ میں حاضرین سورۂ نور میں سے بعض کو زمین میں دین مرتضیٰ عند اللہ کے قائم کرنے کی قدرت عطا کروں گا کہ وہ لوگ خدا داد تصرف و سلطنت، عدالت و تہذیب کی رو سے ادیان باطلہ اور شرک مطلق کو جس کے من جملہ اقسام ہوا پرستی بھی ہے، بیخ و بن سے اکھاڑ دیں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ جن کو میں خلافت اور تمکین دین اسلام اور بے غمی اور توحید عطا کروں گا، یہ لوگ ہوا پرست نہ ہوں گے اور کسی شے کو میرا شریک نہ بنائیں گے۔ حق سبحانہ و تعالیٰ احکم الحاکمین و اصدق الصادقین، خلفائے اربعہ کو ہوا پرستی کے دھبے سے پاک اور بری فرماتا ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ ایسے لوگ جن کا مزکی اور بری کنندہ خود علام الغیوب ہو، کیا وہ اس درجے کے متعصب، ظالم اور ہوا پرست ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔

یہ ہیں چند تاریخی حقائق جن کی روشنی میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے نعتیہ کلام میں تلمیحاتی اشاروں اور احوال اصحاب النبی المحترم صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اب درج ذیل اشعار ملاحظہ فرمائیے:

اولیں دافعِ اہل رفض و خروج
چارمی رکنِ ملت پہ لاکھوں سلام

یہاں اعلیٰ حضرت نے دوسرے خلفائے راشدین کے ذکر کے علی الرغم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے بالخصوص “چارمی رکن ملت” (خلافت کے چوتھے ستون) محض فاسد عقائد کے ابطال کی غرض سے ہی کہا ہے۔ ابوبکر و عمر، عثمان و حیدر جس کے بلبل ہیں، تیرا سرو سہی اس گلبن خوبی کی ڈالی ہے:

کلیم و نجی، مسیح و صفی، خلیل و رضی، رسول و نبی
عتیق و وصی، غنی و علی، ثنا کی زباں تمہارے لیے

شیخین ادھر نثار غنی و علی ادھر
غنچہ ہے بلبلوں کا یمین و شمالِ گل

اعلیٰ حضرت کی شاعری میں جو مقام ان کے سلام کو حاصل ہے، وہ ان کے دوسرے کلام کو حاصل نہیں۔ ہر شاعر کے کلام میں شاہکار شعری مرقعے کم کم ہی ہوتے ہیں۔ نعت کی دنیا میں کسی کلام کی مقبولیت کا معیار عمومی شاعری کے معیارِ قبولِ عام سے مختلف ہوتا ہے۔ نعت کی قبولیت کی ہوائیں مدینے کی طرف سے چلتی ہیں۔ رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے سلام کی قبولیت محتاج تعارف نہیں۔ اس سلام میں بھی اعلیٰ حضرت نے اصحاب کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نذرانۂ عقیدت پیش کیا ہے۔ اس شعری شاہکار میں انہوں نے خروج، رفض، نصب اور تفضیلی رویوں سے برأت کا اعلان فرماتے ہوئے، اہل سنت و الجماعت کا یہ مسلک اجاگر کیا ہے، “اَلصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُولٌ” (صحابہ سب کے سب عادل ہیں)۔

ان کے آگے وہ حمزہ کی جاں بازیاں
شیرِ غراں سطوت پہ لاکھوں سلام

پارہ ہائے صحف غنچہ ہائے قدس
اہلِ بیتِ نبوت پہ لاکھوں سلام

وہ دسوں جن کو جنت کا مژدہ ملا
اس مبارک جماعت پہ لاکھوں سلام

ان کے مولیٰ کے ان پر کروڑوں درود
ان کے اصحاب و عترت پہ لاکھوں سلام

ان اشعار میں سید الشہداء امیر حمزہ رضی اللہ عنہ، تمام اصحاب کرام، اہل بیت نبوت، بدر کے 313 شریک اصحاب، احد میں شامل جاں نثارانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان تمام اصحاب پر بھی لاکھوں سلام بھیجے گئے ہیں جن کی بیعت کرنے کی ادا خود خالق کائنات کو پسند آئی، اسی لیے اس بیعت کو بیعت رضوان کا نام دیا گیا:

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ. [سورۃ الفتح: 18]

(بے شک اللہ خوش ہوا ان مسلمانوں سے جب کہ وہ آپ سے بیعت کر رہے تھے درخت کے نیچے)۔

آخری شعر میں ان خوش نصیب اصحاب کا ذکر ہے جن کو دنیا میں جنت کی بشارت ملی تھی۔ ان اصحاب میں چاروں خلفائے راشدین کے علاوہ حضرت زبیر، حضرت طلحہ، حضرت سعید، حضرت سعد، حضرت ابو عبیدہ اور حضرت عبدالرحمن ابن عوف کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔

حضرت رضا نے خلفائے راشدین کا تذکرہ بالخصوص ایک سے زیادہ اشعار میں کیا ہے:

خاص اس سابقِ سیرِ قربِ خدا
اوحدِ کاملیت پہ لاکھوں سلام

سایۂ مصطفیٰ مایۂ اصطفیٰ
عز و شانِ خلافت پہ لاکھوں سلام

یعنی اس افضل الخلق بعد الرسل
ثانی اثنین ہجرت پہ لاکھوں سلام

اصدق الصادقین سید المتقین
چشم و گوشِ وزارت پہ لاکھوں سلام

امام اہل سنت نے اہل اسلام کی ماؤں کو بھی بھرپور خراج عقیدت پیش کیا ہے، میں یہاں رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ایسے اشعار کا حوالہ دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں، اس لیے کہ امت کی تمام مائیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابیات کا درجہ بھی رکھتی ہیں۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

اہلِ اسلام کی مادرانِ شفیق
بانوانِ طہارت پہ لاکھوں سلام

اس شعر میں آیۂ قرآنی کی طرف اشارہ ہے جس میں اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ:

اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِرَکُمْ تَطْهِیْرًا. [سورۃ الاحزاب: 33]

“اے اہل بیتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ نے تم سے ناپاکی دور کرنے کا ارادہ کر لیا ہے اور تم کو پاک صاف ستھرا کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔”

یہ آیۂ کریمہ امہات المؤمنین کے حق میں وارد ہوئی ہے۔ اس لیے امام اہل سنت نے یہاں اس آیت کی طرف تلمیحی اشارہ کیا ہے۔ لیکن حدیث کی رو سے بھی کچھ لوگ اہل بیت میں شمار کیے گئے ہیں، مثلاً:

  1. جن پر زکوٰۃ لینا حرام ہے۔ بنی ہاشم، بنی عباس، اولادِ علی، جعفر، عقیل، حارث کی اولاد۔

  2. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پیدا ہونے والے۔

  3. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آنے جانے والے جیسے زید بن حارثہ، اسامہ بن زید وغیرہم۔

جلوہ گاہِ بیت الشرف پر درود
پردگیانِ عفت پہ لاکھوں سلام

اس شرف والے گھر میں جلوہ آرا پاک دامن، طاہر و مطہر پردہ دار خواتین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پردہ داری پر لاکھوں سلام ہوں۔ واضح رہے کہ امت کی عام مستورات حجاب اور چادر اوڑھ کر اجنبی مردوں کے سامنے آ سکتی ہیں لیکن امت کی مائیں اس حالت میں بھی مردوں کے سامنے نہیں آ سکتی تھیں۔

سیدہ پہلی ماں کہفِ امن و اماں
حق گزارِ رفاقت پہ لاکھوں سلام

عرش سے جس پہ تسلیم نازل ہوئی
اس سرائے سلامت پہ لاکھوں سلام

منزلٌ مِن قصب لا نَصَب لا صَخب
ایسے کوشک کی زینت پہ لاکھوں سلام

ان اشعار میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا ذکرِ جمیل ہے، جو پہلی ماں ہیں اور جن کے بطن سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولادیں ہوئیں۔ چار صاحبزادیاں حضرت زینب (زوجہ حضرت ابو العاص بن ربیع)، حضرت رقیہ و حضرت ام کلثوم (ازواج حضرت عثمان غنی) اور حضرت فاطمہ (زوجہ حضرت علی) اور صاحبزادے حضرت قاسم، عبداللہ، طاہر وغیرہ۔ ان پر اللہ کی طرف سے سلام آیا اور جن کے لیے جنت میں ایک موتی کا گھر ہے جس میں شور ہے نہ کوئی تکلیف ہے۔

بنتِ صدیق آرامِ جانِ نبی
اس حریمِ برأت پہ لاکھوں سلام

یعنی ہے سورۂ نور جن کی گواہ
ان کی پرنور صورت پہ لاکھوں سلام

جس میں روح القدس بے اجازت نہ جائیں
اس سرادق کی عصمت پہ لاکھوں سلام

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اوپر تہمت لگی اور اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں آپ کی برأت کا اعلان فرما دیا اور آپ کے دولت کدے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی بغیر اجازت داخل نہیں ہوتے تھے:

شمعِ تاباں کاشانۂ اجتہاد
مفتیِ چار ملت پہ لاکھوں سلام

اس شعر میں خلفائے راشدین رضی اللہ علیہم اجمعین کے اجتہادی نظائر کی طرف اشارہ ہے:

وہ عمر جس کے اعدا پہ شیدا سقر
اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام

فارقِ حق و باطل امام الہدیٰ
تیغِ مسلولِ شدت پہ لاکھوں سلام

ترجمانِ نبی ہم زبانِ نبی
جانِ شانِ عدالت پہ لاکھوں سلام

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “جس نے عمر سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا جس نے عمر کو دوست رکھا اس نے مجھے دوست رکھا۔” اس حدیث کی روشنی میں ہی اعلیٰ حضرت نے فرمایا ہے کہ عمر کے دشمن پر ‘سقر’ (جہنم) عاشق ہے۔

زاہدِ مسجدِ احمدی پر درود
دولتِ جیشِ عسرت پہ لاکھوں سلام

درِ منثورِ قرآں کی سلکِ بہی
زوجِ دو نورِ عفت پہ لاکھوں سلام

یعنی عثمانِ صاحب قمیصِ ہدیٰ
حلہ پوشِ شہادت پہ لاکھوں سلام

یہ تمام اشعار حضرت عثمان غنی ذو النورین کی منقبت میں ہیں۔ آپ کے مثل زہد و تقویٰ، فیاضی اور سخاوت و دریا دلی کا ذکر ہے کہ اسلام پر اپنی دولت نچھاور کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ حضرت عثمان غنی نے ہی قرآن کریم کی ایک قراءت اور ایک طرزِ کتابت پر امت کو جمع کیا اور جامع القرآن کہلائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو قمیصِ ہدایت اور خلافت کی پہنائی تھی، اس کو آپ نے مفسدین کے جبر کے باوجود نہیں اتارا اور شہادت قبول فرمائی، آپ نے جنت کا لباس زیبِ تن کیا اور اس طرح اپنے آقا و مولیٰ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“اے عثمان! ممکن ہے اللہ تعالیٰ تم کو ایک قمیص (قمیص، جبۂ خلافت) پہنائے تو اگر لوگ تم سے اس کے اتارنے کا مطالبہ کریں تو تم ان کی وجہ سے اس کو مت اتارنا۔” [سنن الترمذی و سنن ابن ماجہ]

سلام میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی منقبت کے اشعار اسی مضمون میں پہلے درج کیے جا چکے ہیں۔ اس سلام کے ذریعے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سراپا مبارک اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات مقدسہ کو شعری متن بنایا اور اہتماماً صحابۂ کرام، ازواج مطہرات، اولادِ امجاد و عترتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ اہل سنت و الجماعت کے ہر مکتبۂ فکر اور فقہی مذہب کے بانی حضرات اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ساتھ اولیائے امت کی خدمت میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے ہیں، نیز فرمایا:

ایک میرا ہی رحمت میں دعویٰ نہیں
شاہ کی ساری امت پہ لاکھوں سلام

اس طرح امام اہل سنت نے اپنی شاعری کا Canvas (کینوس) قرآنی تعلیمات اور سنت نبوی کی روشنی کے زمانی اور مکانی پھیلاؤ سے ہمکنار کر دیا ہے اور حبِّ رسالت کے دائرۂ نور کو عہدِ نبوی سے قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے قلوب تک وسعت دے دی ہے، یوں ماہِ اسوۂ رسولِ گرامی علیہ الصلوۃ والسلام سے براہِ راست روشنی حاصل کرنے والے ستاروں سے صراطِ ہدایت دیکھنے والی جماعت کی ہر عہد میں موجودگی کا احساس دلا کر دینِ متین کی ابدیت اور عشقِ سرکارِ ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم کا استمرار ادبی سطح پر روشن تر کر دیا ہے۔

کیوں جنابِ بو ہریرہ! تھا وہ کیسا جامِ شیر
جس سے ستر صاحبوں کا دودھ سے منہ پھر گیا

اسی شعر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے کی طرف اشارہ ہے کہ اصحابِ صفہ کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا ایک پیالہ دودھ ستر آدمیوں کے لیے نہ صرف کافی ہو گیا تھا بلکہ بھوک کی شدت کے باوجود وہ اتنے سیر ہو گئے تھے کہ ان میں سے کسی نے بھی مزید ایک گھونٹ کی گنجائش اپنے شکم میں نہیں پائی۔ اصحابِ صفہ کی ناز برداریوں کا بھی یہ عجیب پہلو ہے۔

طوالت سے بچنے کے لیے چند اشعار بلا تبصرہ نقل کرتا ہوں:

شیخین ادھر نثار غنی و علی ادھر
غنچہ ہے بلبلوں کا یمین و شمالِ گل

مولیٰ علی نے واری تیری نیند پر نماز
اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خطر کی ہے

صدیق بلکہ غار میں جاں اس پہ دے چکے
اور حفظِ جاں تو جان فروضِ غرر کی ہے

ہاں تو نے ان کو جان انہیں پھیر دی نماز
پر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے

سعدین کا قِراں ہے پہلوئے ماہ میں
جھرمٹ کیے ہیں تارے تجلی قمر کی ہے

میں نے اختصار کے خیال سے اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے کلام سے صرف چند الماس چن کے معنوی لمعات سے استفادہ کیا ہے۔

نعت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ والا صفات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے قلبی لگاؤ کا اشارہ یہ بھی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے مخلصینِ ملت سے عقیدت کا ملفوظی اظہار بھی (ہمارے عہد تک آتے آتے اظہارِ عقیدت بیشتر ملفوظی ہی رہ گیا ہے) شاعری کی دنیا میں لفظ کی حرمت اپنی جگہ لیکن نبی المحترم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اصحاب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور پکی پیروی کو ہی معیارِ مدحت بنایا تھا۔ امام اہل سنت اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے عہدِ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ملفوظی مدحِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونے بھی سامنے رکھے اور ان نفوسِ قدسیہ کی اتباعِ سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوش بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شعری عمل میں قلبِ مؤمن کی دھڑکن بھی سنائی دیتی ہے اور ایمانی حرارت بھی محسوس ہوتی ہے۔ جذبے کی صداقت بھی ضوریز ہے اور عقیدے اور عقیدت کے امتزاج کی جاوداں درخشندگی بھی۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی مدحِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو صراطِ عمل دکھانے کے لیے سلسبیلِ نور کا حکم رکھتا ہے۔ فیضی نے اس خوش بختی پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا ہے کہ وہ (فیضی) پیروِ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ میں اپنی بات فیضی کے اسی شعر پر ختم کرنا چاہتا ہوں:

صَدْ شُكْرْ كِه مَا پَيْرَوْ أَصْحَابِ رَسُولِيمْ
دَرْ شَرْعِ دِگَرْ رَاهْنُمَا رَا نَشِنَاسِيمْ

ماہنامہ سنی دنیا [ص: 492 تا 255]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!