Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تقدیم:انوارِ مفتیِ اعظم (قسط: اول)|صاحبِ مقالاتِ مصباحی

تقدیم: انوارِ مفتیِ اعظم (قسط: اول)
عنوان: تقدیم: انوارِ مفتیِ اعظم (قسط: اول)
تحریر: صاحبِ مقالاتِ مصباحی
پیش کش: محمد شمشاد رضوی
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارکپور کے طلبہ ۲۵ صفر کو تقریباً پندرہ سال سے ”یومِ رضا“ کا اہتمام کرتے ہیں۔ مگر اس کا طریقہ وہ نہیں جو ہمارے ملک میں عام طور سے رائج ہے کہ خرچ اور نمائش زیادہ سے زیادہ ہو اور افادیت کم سے کم۔ سنا ہے کہ دسویں محرم کو بمبئی کے صرف ایک ایک محلے بلکہ ایک ایک گلی میں کئی کئی لاکھ روپے محض سبیل اور شربت پر صرف ہو جاتے ہیں، گیارہویں شریف کا موقع آیا تو لاکھوں روپے زردے پر خرچ ہو رہے ہیں۔ کسی بزرگ کی فاتحہ یا عرس کا اہتمام ہوا تو معمولی تقریبات میں کھانے پینے پر دس بیس ہزار یا لاکھ دو لاکھ خرچ کر دینا کوئی بڑی بات نہیں۔ خیال یہ ہے کہ اس طرح جو ایصالِ ثواب ہوتا ہے وہ بزرگ کی روح کو ڈائریکٹ پہنچ جاتا ہے، ان کی خاص عنایت و توجہ ہوتی ہے اور اس سے مسلک کا بھی چرچا ہوتا ہے۔ مذکورہ طریقۂ ایصالِ ثواب کے جواز و استحباب میں کلام نہیں لیکن:

اگر ان حضرات سے کہا جائے یہی رقم ایصالِ ثواب کی نیت سے کسی ادارے کی تعمیر میں دے دیں، یا کسی ایسے ادارے کو دے دیں جو اسے نادار طلبہ کی تعلیم پر صرف کرے، یا تبلیغِ دین کے لیے کتابوں کی تصنیف و اشاعت میں لگائے، یا اس سے کوئی ایسا ادارہ قائم ہو جو باطل کی ریشہ دوانیوں کا تحریری و تقریری طور پر ہمیشہ مقابلہ کرتا رہے، یا اس سے دوسرے دینی و ملی امور انجام پذیر ہوں، تو یہ بات جلدی کسی کے حلق سے نیچے نہیں اترتی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کے کاموں سے رقم والوں کی کوئی زیادہ شہرت و نمائش نہیں ہوتی اور تحسین و ستائش کی مقدار بھی بہت کم ہاتھ آتی ہے، جبکہ اول الذکر کاموں سے خاصی شہرت اور واہ واہی ملتی ہے، ایک دھوم دھام اور چہل پہل مچ جاتی ہے جس سے تفریحی شوق و ذوق کو بھی تسکین ملتی ہے۔

تو حاصل یہ ہوا کہ کوئی جائز اور نفل کام نام و نمود کے جذبات سے ہم آہنگ ہے تو اس کے لیے سرمائے پر سرمایہ بے دریغ لٹانا ایک معمولی بات ہے۔ اور دین و ملت اور جماعت و قوم کا کوئی اہم سے اہم اور فرض سے بڑا فرض ہے، مگر اس میں اخلاص و بے نفسی، ریا و نمود سے دوری، اور ایک عظیم مقصد کے لیے پامردی و ثابت قدمی کی ضرورت ہے تو ستائش و نمائش پسند طبیعتیں اس کے لیے آمادہ نہیں ہوتیں؛ جبکہ حسنِ نیت اور اخلاص و استقامت کے بغیر نفل ہو یا فرض، خدا کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتا، بلکہ وہاں تو ریا کو شرکِ خفی قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے ایسا عمل ربِ قدوس کے غضب و عتاب کا سبب بھی ہو سکتا ہے، صاحبِ ایمان کو ثوابِ آخرت اور رضائے مولیٰ کی طلب ہونی چاہیے۔

اور سطحی جذبات و خواہشات سے بالاتر ہو کر حکمتِ ایمانی کی روشنی میں غور کرنا چاہیے کہ اس وقت دین و ملت کے تقاضے کیا ہیں؟ ہمارے سرمائے کا عمدہ سے عمدہ اور افضل سے افضل مصرف کیا ہے؟ ربِ قدیر اور اس کے رسولِ کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی خوشنودی کس عمل سے وابستہ ہے؟ دنیا کی پذیرائی اور قدر افزائی نہیں بلکہ آخرت کی سرخروئی اور سرفرازی کس طرح حاصل ہوتی ہے؟ ایمان کی روشنی اور روحانی ترقی و بلندی کیسے مل سکتی ہے؟ مومن کی نظر بھی اگر دنیا ہی تک محدود رہ گئی تو اس کی نظر اور غیر مومن کی نظر میں فرق کیا رہ جائے گا؟ یہ تمام ایام جو ہمارے معاشرے میں منائے جاتے ہیں اور ان پر جو سرمایہ صرف کیا جاتا ہے، تھوڑی تبدیلی کے ساتھ ان کو بہت مفید اور کارآمد بنایا جا سکتا ہے اگر ایصالِ ثواب کو کھانے پینے تک محدود رکھنے کی بجائے دینی و علمی مصارف کی طرف پھیر دیا جائے تو ایصالِ ثواب بھی ہو جائے اور دین و ملت کے بڑے بڑے کام جو سرمائے کے بغیر ناتمام پڑے ہیں، آسانی کے ساتھ ہوتے جائیں اور ملت کے مقدر کا ستارہ بلند اور روشن سے روشن تر نظر آئے۔

دارالعلوم اشرفیہ کے طلبہ نے یومِ رضا کی تقریب کو زیادہ کارآمد اور مفید بنانے کے لیے یہ طریقہ اپنایا کہ اس موقع پر تقریری و تحریری مقابلے بھی رکھ دیے جس کے لیے امام احمد رضا قدس سرہٗ کی شخصیت سے متعلق مختلف عنوانات کا اعلان ہو جاتا ہے اور ہر عنوان پر طلبہ کو کافی مطالعہ کرنا پڑتا ہے جس سے ان کے علم میں اضافہ بھی ہوتا ہے اور اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے فضل و کمال سے آشنائی بھی، محنت و مطالعہ کے بعد مقالے تیار کرتے ہیں۔ ان مقالوں پر نمبر دیے جاتے ہیں، اور انعامات بھی تقسیم ہوتے ہیں، جس سے دوسرے تمام طلبہ میں بھی علمی و تحریری شوق بیدار ہوتا ہے اور وہ بھی کچھ کرنے کے لیے سوچتے ہیں۔ یہی حال تقریروں کا بھی ہے۔

پانچ سال سے ان طلبہ نے ۱۴ محرم کی شب میں ”یومِ مفتیِ اعظم“ کا اہتمام بھی شروع کیا اور مفتیِ اعظم کی شخصیت کے مطالعے، اور ان کی حیات و خدمات پر مقالہ و تقریر کی تیاری کا سلسلہ بھی چل پڑا۔

ان مقالات سے طلبہ کی مشق اور ان کی استعداد میں اضافہ مقصود ہوتا ہے مگر ان میں بہت سے مضامین ایسے بھی ہوتے ہیں جو متوسط قسم کے اہلِ قلم کے عمدہ مضامین کی صف میں رکھنے کے قابل ہوتے ہیں، اور ان سے دوسرے طلبہ اور عوام کو فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔ مگر ان مضامین کی اشاعت طلبہ کے بس کی بات نہیں، اس لیے قیمتی ہونے کے باوجود وہ فائلوں کی زینت بن کر رہ جاتے ہیں، اور منتظم طلبہ کی بے توجہی سے ضائع بھی ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہوا کہ اچھے مضامین کو کسی طرح منظرِ عام پر لایا جائے۔ اس کے لیے میں نے برادرِ گرامی مولانا یٰسین اختر مصباحی سے کہا کہ اب تک جو حجاز کے نمبر شائع کیے گئے ان میں زیادہ تر مطبوعہ مضامین تھے۔ ان طلبہ کے مضامین پر مشتمل ایک امام احمد رضا نمبر آپ نکالیں تو سبھی مضامین غیر مطبوعہ ہوں گے، ان طلبہ کی حوصلہ افزائی بھی ہو گی، اور قارئین کے لیے نئی افادیت بھی۔ انہوں نے بخوشی اسے منظور کر لیا۔ اس سلسلے میں انہیں جامعہ نظامیہ لاہور سے بھی ایسے ہی بہت سے مضامین مولانا عبدالحکیم شرف قادری مدظلہ کے ذریعہ دستیاب ہو گئے اور انہوں نے نمبر کا اعلان بھی کر دیا۔ مگر حجاز کے معمول کے شمارے بھی پابندی سے نکل نہیں پاتے۔ ایسے حالات میں ضخیم نمبر کی اشاعت کی توقع بہت کم نظر آتی ہے۔

یومِ مفتیِ اعظم میں پیش آمدہ اچھے مضامین پر مشتمل ایک مجموعے کی اشاعت کے لیے میں نے ”رضا اکیڈمی بمبئی“ کے متحرک و فعال سکریٹری جناب محمد سعید نوری سے مراسلت کی، انہوں نے یہ تجویز فوراً منظور کر لی۔ مگر ان دنوں وہ جشنِ صد سالہ یومِ ولادتِ مفتیِ اعظم کی تیاریوں میں کافی مصروف تھے۔ اس لیے عملی پیش قدمی میں دیر ہوئی، مگر جشنِ صد سالہ سے پندرہ دن پہلے انہوں نے مدیر ”ماہنامہ اشرفیہ“ مولانا مبارک حسین مصباحی کے ذریعہ چار ہزار روپے بھیج دیے کہ مضامین کی کتابت شروع کرا دی جائے۔

اس کے بعد جشنِ صد سالہ کے موقع پر بمبئی میں خود حاضر ہوا، اس جشن کا ایک جز مفتیِ اعظم کی شخصیت پر سیمینار بھی تھا جو ۱۲ رجب ۱۴۱۲ھ مطابق ۱۸ جنوری ۱۹۹۲ء کو ظہر سے عصر تک منعقد ہوا۔ اس کے لیے مولانا قمر الحسن مصباحی استاذ دارالعلوم محبوبِ سبحانی کرلا بمبئی نے اہلِ قلم سے مراسلت بہت پہلے شروع کر رکھی تھی، اور تجویز یہ تھی کہ مضامین دو ماہ پہلے دفتر رضا اکیڈمی پہنچ جائیں تاکہ جشن سے پہلے ان کی کتابت و طباعت کا کام مکمل ہو جائے۔ اس کے مطابق زیادہ تر مضامین پہلے پہنچ گئے اور کتابت کے بعد وہ طباعت کے لیے پریس کے حوالے بھی ہو گئے۔ چند مضامین ٹھیک سیمینار کے وقت موصول ہوئے اس لیے وہ تشنۂ اشاعت رہ گئے مگر مولانا یٰسین اختر مصباحی نے وہ سب حجاز میں اشاعت کے لیے سیمینار ہال ہی سے اپنے قبضے میں کر لیے اور دفتر تک ان کے پہنچنے کی نوبت بھی نہ آئی۔ بعض مضامین حجاز میں شائع بھی ہو چکے ہیں۔

حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی دام ظلہ، مولانا عبدالحق رضوی استاذ جامعہ اشرفیہ، اور راقم الحروف کے مضامین بھی تھے۔ ان کے لیے جناب محمد سعید نوری کی خواہش ہوئی کہ طلبۂ اشرفیہ کے مضامین پر مشتمل جو مجموعہ شائع کرنا ہے اس میں یہ بھی شامل ہو جائیں تو اچھا ہو گا۔

بمبئی سے واپسی کے بعد میں دارالعلوم اشرفیہ کے امتحانِ سالانہ کی تیاریوں میں منہمک ہو گیا اور کوئی مضمون دیکھنے کی نوبت نہ آئی۔ امتحان سے فارغ ہونے کے بعد میں نے مقالاتِ یومِ مفتیِ اعظم کی فائل دیکھی اور جو مضامین زیادہ مفید اور اچھے نظر آئے انہیں منتخب کر لیا pattern۔ پھر تعطیل میں اپنے گھر بھیرہ، ولید پور پہنچ کر سب پر نظرِ ثانی کی، اس کے بعد جد الممتار جلدِ ثانی کے کاموں میں مصروف ہو گیا۔ اس دوران کسی کااتب سے رابطہ نہ ہو سکا۔ ۹ شوال ۱۴۱۲ھ کو مولانا ظفر الاسلام ادروی سے ملاقات ہو گئی۔ فوراً میں نے کتابت کے لیے سارے مضامین ان کے حوالے کر دیے۔ کچھ دنوں بعد انہوں نے کتابت شروع کر دی اور مکمل کر کے پروف ریڈنگ کے لیے میرے پاس بھیج دیا۔

جشنِ صد سالہ میں ڈاکٹر شیخ جمال منّاع کی ایک مختصر، پرمغز اور جامع تقریر عربی میں ہوئی تھی۔ میرا ارادہ تھا کہ اسے ترجمے کے ساتھ الگ کتابی شکل میں شائع کیا جائے۔ اس کے لیے رضا اکیڈمی سے حاصل کردہ کیسٹ میں نے مولانا عارف اللہ مصباحی استاذ فیض العلوم محمد آباد گوہنہ کے حوالے کیا کہ آپ اس تقریر کو قلم بند کر کے اس کا اردو ترجمہ کر دیں تو اسے شائع کر دیا جائے، انہوں نے بہت جلد یہ کام کر دیا۔ مگر میں اپنی مصروفیات کی وجہ سے نہ نظرِ ثانی کر سکا نہ الگ اشاعت عمل میں آئی۔ یہ مجموعہ کتابت کے آخری مرحلے میں تھا تو خیال ہوا کہ فی الحال وہ تقریر و ترجمہ بھی شریکِ اشاعت کر دیا جائے، الگ اشاعت آئندہ کبھی ہو جائے گی۔

اس طرح اس مجموعے میں آٹھ مضامین طلبۂ اشرفیہ کے ہیں جو ۱۴۱۲ھ کے یومِ مفتیِ اعظم کے موقع پر لکھے گئے، ایک بہت ہی اہم، وقیع اور قدرے مبسوط مضمون مخدومِ گرامی حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی مدظلہ کا ہے۔ دو مضمون راقم الحروف کے ہیں۔ ایک مضمون مولانا عبدالحق رضوی استاذ جامعہ اشرفیہ کا ہے۔ یہ چاروں مضامین جشنِ صد سالہ کے موقع پر ہونے والے سیمینار میں پیش ہوئے۔ آخر میں شیخ جمال مناع کی عربی تقریر اور پھر مولانا عارف اللہ کے قلم سے اس کا ترجمہ ہے جس کا ابھی ذکر ہوا۔

مفتیِ اعظم قدس سرہ کا جامعہ اشرفیہ اور حافظِ ملت شاہ عبدالعزیز مراد آبادی قدس سرہ سابق شیخ الحدیث و سربراہِ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ سے کیا تعلق تھا؟ اور اشرفیہ پر حضرت مفتیِ اعظم قدس سرہ کی نگاہِ کرم کس طرح متوجہ تھی؟ اسے بتانے کے لیے جشن سے ایک سال قبل عزیزِ گرامی مولانا مبارک حسین رام پوری نے ایک مضمون لکھا تھا جو اشرفیہ کے ایک شمارے میں اداریے کی جگہ شائع ہوا۔ اس مضمون کو اس مجموعے کے شروع میں خاص مناسبت کی وجہ سے شامل کر دیا ہے۔

اب یہ تین سو صفحات پر پھیلا ہوا تیرہ چودہ مضامین پر مشتمل ایک دلکش، وقیع، نظر افروز، اور دل نواز گلدستہ ہے، جو ہمارے نوجوان بھائی جناب محمد سعید نوری کی سعیِ مشکور سے منظرِ عام پر آ رہا ہے۔ میں مضامین کی تعریف کروں یا ان کا تعارف کراؤں اس سے بہتر یہ ہو گا کہ قارئین پڑھ کر خود ہی فیصلہ کریں کہ یہ کیسی قدر و قیمت کے حامل ہیں۔ تاہم اتنا اشارہ کر دیا جائے کہ مضامینِ طلبہ میں ”مفتیِ اعظم اور ردِ بدعات و منکرات“ اپنے طرز کا پہلا مضمون ہے جس کے اقتباس و شواہد خود تصانیفِ مفتیِ اعظم سے لیے گئے ہیں اور عنوان کا حق ادا کرنے کی جاندار کوشش کی گئی ہے۔ اس عنوان کے تحت مفتیِ اعظم کی شخصیت پر اب تک میرے علم میں کوئی بھی مضمون منظرِ عام پر نہ آیا۔ اسی طرح ”کلامِ نوری میں کلامِ رضا کا انعکاس“، اس عنوان پر دو مضمون ہیں، دونوں ہی میں آپ ملاحظہ کریں گے کہ لکھنے والوں نے براہِ راست حدائقِ بخشش اور سامانِ بخشش کا بغور مطالعہ کیا ہے اور اپنے عنوان کو مختلف جہتوں سے ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے، خاص اس عنوان پر بھی کوئی مضمون اب تک شائع نہیں ہوا اور شاید کسی نے لکھا بھی نہ ہو۔ اسی طرح دیگر مضامین بھی وقیع اور مفید ہیں۔

جشنِ صد سالہ کے مضامین میں حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی دام ظلہٗ کا مضمون ایک دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرتِ ممدوح کو حضرت مفتیِ اعظم قدس سرہ کی صحبت میں ایک طویل عرصہ گزارنے کا شرف حاصل ہے اور خود ان کی جو علمی جلالت ہے وہ ان کی تصانیف اور فتاویٰ سے عیاں ہے۔ نزہۃ القاری شرح بخاری، اشرف السیر، سنی دیوبندی اختلافات کا منصفانہ جائزہ، اسلام اور چاند کا سفر، مقالاتِ امجدی، اثباتِ ایصالِ ثواب، تحقیقات، اشکِ رواں، وغیرہ تصانیف کا مطالعہ کرنے والا شاید ہی کوئی ایسا حق پوش اور حاسد و متعصب شخص ہو جو حضرتِ ممدوح کی علمی عظمت اور تحقیقی کمال کے اعتراف میں بخل و عناد سے کام لے، ایسی قدآور، بلند و بالا ہستی کے رشحاتِ قلم کو اگر میں نے دستاویز کہا تو اس میں کوئی مبالغہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ ہاں اسے اس کی واقعی حیثیت کے اظہار میں کچھ کوتاہی کہنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں۔ اس دستاویز کو آپ خود پڑھیں، اس کے ایک ایک لفظ پر غور کریں اور مفتیِ اعظم کی جلالت و عظمت کا اندازہ کریں، بغور پڑھنے کی بات اس لیے ہے کہ یہ کسی لفاظ مقرر کی رنگین داستان نہیں بلکہ ایک عظیم فقیہ اور صاحبِ افتا کے ارشادات ہیں جن کے الفاظ معانی سے لبریز ہیں۔ ان پر غور کرنے ہی سے ان کی صحیح چاشنی اور پوری حلاوت حاصل ہو سکتی ہے۔

مولانا عبدالحق صاحب نے بھی ایک اہم موضوع لیا یعنی ”رسالہ الموت الاحمر“ کا جائزہ۔ جب تحذیر الناس، براہینِ قاطعہ اور حفظ الایمان کی عبارتوں پر گرفت کی گئی اور علمائے دیوبند کی باتوں سے بھی ان عبارتوں کا اور قائلین کا کفر واضح و متعین ہو گیا تو ان کی تکفیر کی گئی۔ اس کے بعد حلقۂ دیوبند کی سرجوڑ کوشش یہ ہوئی کہ ان عبارتوں کی کوئی تاویل تو نہیں ہو سکتی، مگر عوام کی تلبیس ضرور ہو سکتی ہے، اور اس راہ سے ہمارے کفر پر پردہ پڑ سکتا ہے۔ دراصل انہیں نجاتِ آخرت کی نہ کوئی امید تھی نہ کوئی فکر، ورنہ آسان کام یہ تھا کہ ان عبارتوں سے توبہ کر کے ایمان لاتے اور دارین کی سرخروئی حاصل کر لیتے۔ انہیں فکر تھی تو صرف یہ کہ دنیا کے اندر نگاہِ عوام میں جیسے بھی ہو اپنا بھرم باقی رکھا جائے اور اپنی شہرتِ علمی برقرار رکھی جائے، اس کے لیے انہوں نے تاویل کے روپ میں تلبیس کا سہارا لیا۔ ان تلبیسات کی پردہ دری کے لیے ”الموت الاحمر“ لکھی گئی، جس کا کوئی جواب آج تک حلقۂ دیوبند سے نہ ہو سکا، البتہ نئے نئے مغالطوں اور عوام کو نئے نئے ہتھکنڈوں کے ذریعہ شکار کرنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ وَالْعِيَاذُ بِاللہِ۔

[مقالاتِ مصباحی، صفحہ: 557]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!