| عنوان: | تقدیم و تعارف ترجمہ: ”روض الریاحین“ موسوم بہ ”بزمِ اولیا“ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | صاحبِ مقالاتِ مصباحی (علامہ محمد احمد مصباحی) |
| پیش کش: | محمد شمشاد رضوی |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
اس کے بعد چار قصیدے درج فرمائے ہیں:
* پہلا قصیدہ: مدحِ اولیاء میں۔
* دوسرا قصیدہ: باعمل اور متبعِ سنت علماء کی مدح میں۔
* تیسرا قصیدہ: اقسامِ اولیاء کے ذکر میں۔
* چوتھا قصیدہ: عام مومنین کے لحاظ سے جنت کی تشویق اور دوزخ سے تخویف میں؛ اس کی تذییل (تتمے) میں آیاتِ کریمہ اور احادیثِ مبارکہ بھی ذکر فرمائی ہیں، تاکہ مزید شوق و طلب اور کمالِ یقین کا ذریعہ ہو سکیں۔
آخر میں پانچواں قصیدہ: سید الابرار، رسولِ مختار، حبیبِ کردگار علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ الصلاۃ والتسلیم کی مدح میں ہے۔
کتاب میں جو واقعات تحریر کیے گئے ہیں، ان میں سوانح نگاری کا وہ طرز نہیں کہ کسی ایک بزرگ کا نام لکھ کر ان کے حالات و واقعات، پھر دوسرے کے حالات و واقعات یکجا کر دیے گئے ہوں؛ نہ ہی یہ طریقہ ہے کہ ایک دور کے اولیاء اور ہم عصر بزرگوں کے حالات الگ الگ بیان کرنے کا التزام ہو، اور نہ ہی یہ کہ ایک شہر یا ملک کے صالحین کے احوال جمع کیے گئے ہوں، بلکہ اندازِ نگارش میں عام موعظت اور عبرت انگیزی کا عنصر ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس لیے مختلف ادوار و بلاد کے اولیاء کے چیدہ چیدہ واقعات کچھ تسلسل کے ساتھ درج کیے گئے ہیں، تاہم ان میں کچھ ترتیب بھی کارفرما ہے، مثلاً یہ کہ:
(۱) بہت سی صالح خواتین اور مجاہدہ کیش عارفات کے احوال ایک جگہ زیادہ مقدار میں جمع ہیں۔
(۲) بہت سے غلام عرفاء کے واقعات ایک جگہ۔
(۳) باندیوں کے حالات ایک جگہ۔
(۴) ایسے ہی کمسن اور خرد سال عارفوں کی حکایات۔
(۵) مجاہدہ کیش اور شوق و عرفان سے لبریز جوانوں کے مناظر۔
(۶) مشتاقانِ حور و قصور اور طالبانِ جنت کی حکایات۔
(۷) عالمِ برزخ اور منزلِ قبر کی حکایات۔
(۸) بے ثباتیِ دنیا، عشرتِ ناپائیدار اور عیش کیش دولت مندوں، بادشاہوں کے لق و دق محلوں کی ویرانی کے مناظر۔
(۹) مجذوبوں کے حالات۔
(۱۰) طالبانِ ذات، عاشقانِ جمالِ لایزال اور اکابرِ اہلِ عرفان کے اخبار و افکار۔
مصنف کا مقصد یہ نہیں کہ کسی ایک دور یا چند ادوار، کسی شہر یا بلاد، کسی طبقہ یا طبقات کی زمانی تاریخ مرتب کی جائے اور فنِ تاریخ کا کوئی علمی شاہکار تصنیف کیا جائے؛ بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کو وہ خلوتیں اور جلوتیں دکھائی جائیں جو فکرِ آخرت اور ذکرِ حبیب کی لذتوں سے سرشار ہیں، ان فرزانوں کی داستان سنائی جائے جن کے سامنے دنیا ایک بے ثبات اور ناپائدار سائے سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔ جن کی نگاہوں میں منزلِ جاوداں کے پُرکیف مناظر اسی طرح بسے ہوئے ہیں جیسے اہلِ دنیا کی نگاہوں میں یہ فنا پذیر مناظر، بے ثبات رعنائیاں اور دلفریب عشرتیں چھائی ہوئی ہیں کہ نکالے نہیں نکلتیں۔
ساتھ ہی ان مغرور اور فریب خوردہ نادانوں اور مجنونوں کا انجام بھی دکھایا گیا ہے جنہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ دنیا ہی دار البقا ہے۔ اور چند روزہ زندگی کے لیے سج دھج ایسی اپنائی کہ گویا ہزار ہا ہزار سال رہنے کا سودا سر میں سمایا ہوا ہے؛ محلوں پر محل تیار ہو رہے ہیں، سیم و زر کا ڈھیر لگ رہا ہے، خدم و حشم کا جمِ غفیر ہے، عیش و تنعم کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے، سرور انگیز نغموں کی موجیں رواں ہیں، خم پر خم اور پیمانوں پر پیمانے چھلک رہے ہیں؛ مگر چند دنوں میں ایسا سناٹا کہ ”ہُو“ کا عالم ہے۔ ویرانی ہی ویرانی، تاریکی ہی تاریکی۔
حضرت مصنف قدس سرہ العزیز نے ان سچے واقعات سے غفلت شعار دلوں کی بیداری، مشتاق طبیعتوں کی شوق افزائی اور عاقبت اندیش قلوب کے حوصلے بلند سے بلند تر کرنے کو اپنا مطمحِ نظر بنایا ہے، جس میں ان کا جذبِ دروں، اخلاصِ فزوں، اور جوہرِ علم و قلم بھی پوری طرح کارفرما ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ دل اس کتاب کو صدیوں سے چراغِ راہ اور حرزِ جاں بنائے ہوئے ہیں۔ ہم بھی اس کتاب کے ذریعے اولیاء کی صحبت میں کچھ دیر بیٹھ سکتے ہیں، اور ان مجلسوں اور ان خلوتوں کا کچھ نظارہ کر سکتے ہیں جن کو دیکھنے کو اب نگاہیں ترستی ہیں، روحیں تڑپتی ہیں اور دل بے قرار ہیں۔
ترجمۂ کتاب:
ایسی عبرت انگیز کتاب کے ترجمے کے لیے ایک ایسے صاحبِ قلم کی ضرورت تھی جو خود دلِ دردمند رکھتا ہو، زبان و بیان کی باریکیوں اور پیچیدگیوں سے آشنا ہو، اور قرطاس و قلم کا طویل تجربہ بھی رکھتا ہو۔ اس لحاظ سے برادرِ گرامی مولانا بدرالقادری کی ذات اس کام کے لیے بہت موزوں ثابت ہوئی۔ میں نے ان کا ترجمہ اصل کتاب کے ساتھ مکمل پڑھا؛ میں نے دیکھا کہ مترجم پر بھی وہی کیفیت طاری ہے جو ان واقعات کی روح میں جاری و ساری نظر آتی ہے۔ طرزِ ادا کی شگفتگی بھی ہے، زبان کی سلاست و روانی بھی اور بیان کی دلکشی و اثر انگیزی بھی۔ ان سب پر مستزاد یہ کہ شاعرانہ طبیعت بھی پائی ہے، اور جابجا اپنے اشعار سے بھی اس کیف کو تقسیم کیا ہے جو واقعات کی زمین میں کارفرما ہے۔
کتاب میں حضرت مصنف قدس سرہ کا بھی یہ طرز ہے کہ بہت سے واقعات یا ان میں ذکر شدہ اشعار کی مناسبت سے اپنے اشعار بھی درج فرمائے ہیں، جس سے نثر و نظم دونوں میں مصنف کا کمال عیاں ہے۔ اردو زبان کے تعلق سے برادرِ مترجم زید فضلہ کے بارے میں قارئین کو علم ہو گا کہ نثر و نظم دونوں پر یکساں قدرت رکھتے ہیں، اور غالباً نظم میں پہلے اور نثر میں اس کے بعد؛ کیونکہ اوائلِ عمر ہی سے ان کے اشعار مشاعروں اور محفلوں کی زینت بننا شروع ہو گئے، جبکہ نثر کو یہ مقام بہت بعد میں ملا۔ اس خصوصیت پر نظر کی جائے تو ہمیں ترجمہ ”روض الریاحین“ کے لیے مولانا موصوف سے موزوں شخصیت ملنا بہت دشوار تھا۔
ترجمہ کا انداز کیا ہے، اس سلسلے میں قدرے تفصیلی تعارف کرا دینا چاہتا ہوں تاکہ قارئین پر حقیقت واضح رہے اور وقتِ ضرورت طالبانِ تحقیق اصل کتاب کی طرف رجوع کر سکیں۔
ترجمہ کا مقصد یہ رکھا گیا ہے کہ قارئین تک وہ کیفیت منتقل کی جائے جو ان واقعات میں جلوہ فگن ہے؛ اس لیے بعض واقعات میں چند تمہیدی جملے بھی لکھ دیے گئے ہیں، کہیں کہیں ترتیب بھی بدل دی گئی ہے، اور بعض واقعات حذف بھی کر دیے گئے ہیں۔ حذف ہونے والے واقعات ایسے ہیں جن میں نتائج بہت مبہم نظر آتے ہیں، یا اس موضوع کے سابقہ شاندار واقعات جو گزر چکے ہیں ان کے مقابلے میں یہ زیادہ عبرت آموز نہیں رہ جاتے، یا شعری مکالموں کی ایسی کثرت ہے جس کے لیے ان اشعار کو ہی سننا اور سمجھنا وہ کیفیت پیدا کر سکتا ہے جو ان واقعات سے مصنف کو مقصود ہے، اور اردو داں قارئین کو ان سے کماحقہ لطف اندوز ہونا بہت مشکل ہے۔ ان سب کے باوجود ایسی ترجمانی نہیں کی گئی ہے جس سے واقعات کی صورت مسخ ہو جائے، اور مصنف یا عبارت کا مقصود و مفہوم ہی بدل جائے۔ مزید توضیح کے لیے چند مختصر واقعات کی اصل عبارتیں، پھر ان کے لفظی ترجمے، پھر شاملِ کتاب ترجمے پیشِ خدمت ہیں۔
(۱) عبارتِ کتاب
الحِكَايَةُ التَّاسِعَةَ عَشْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِهْرَانَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَىٰ — قَالَ: حَجَّ هَارُونُ الرَّشِيدُ فَوَافَى الْكُوفَةَ، فَأَقَامَ بِهَا أَيَّامًا، ثُمَّ ضَرَبَ بِالرَّحِيلِ، فَخَرَجَ النَّاسُ، وَخَرَجَ بُهْلُولٌ الْمَجْنُونُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَىٰ عَنْهُ فِيمَنْ خَرَجَ، فَجَلَسَ بِالْكُنَاسَةِ، وَالصِّبْيَانُ يُؤْذُونَهُ، وَيُولَعُونَ بِهِ، إِذْ أَقْبَلَتْ هَوَادِجُ هَارُونَ، فَكَفَّ الصِّبْيَانُ عَنِ الْوُلُوعِ بِهِ، فَلَمَّا جَاءَ هَارُونُ نَادَى الْبُهْلُولُ بِأَعْلَىٰ صَوْتِهِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! فَكَشَفَ هَارُونُ السِّجَافَ بِيَدِهِ وَقَالَ: لَبَّيْكَ يَا بُهْلُولُ! لَبَّيْكَ يَا بُهْلُولُ! فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَائِلٍ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَىٰ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى عَلَىٰ جَمَلٍ وَتَحْتَهُ رَحْلٌ رَثٌّ، فَلَمْ يَكُنْ ضَرْبٌ وَلَا طَرْدٌ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ؛ وَتَوَاضُعُكَ فِي سَفَرِكَ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ تَكَبُّرِكَ وَتَجَبُّرِكَ۔ فَبَكَىٰ هَارُونُ حَتَّىٰ سَقَطَتِ الدُّمُوعُ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ قَالَ: يَا بُهْلُولُ! زِدْنَا يَرْحَمُكَ اللَّهُ تَعَالَىٰ۔ فَقَالَ:
هَبْ أَنَّكَ قَدْ مَلَكْتَ الْأَرْضَ طُرًّا
وَدَانَ لَكَ الْعِبَادُ فَكَانَ مَاذَا؟
أَلَيْسَ غَدًا مَصِيرُكَ جَوْفَ قَبْرٍ
وَيَحْثُو التُّرَابَ هَذَا ثُمَّ هَذَا؟
فَبَكَىٰ هَارُونُ، ثُمَّ قَالَ: أَحْسَنْتَ يَا بُهْلُولُ، هَلْ غَيْرُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَجَمَالًا، فَأَنْفَقَ مِنْ مَالِهِ وَعَفَّ فِي جَمَالِهِ، كُتِبَ فِي خَالِصِ دِيوَانِ اللَّهِ تَعَالَىٰ مِنَ الْأَبْرَارِ۔ فَقَالَ: أَحْسَنْتَ يَا بُهْلُولُ، مَعَ الْجَائِزَةِ۔ فَقَالَ: اُرْدُدِ الْجَائِزَةَ عَلَىٰ مَنْ أَخَذْتَهَا مِنْهُ، فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهَا۔ قَالَ: يَا بُهْلُولُ! إِنْ يَكُنْ عَلَيْكَ دَيْنٌ قَضَيْنَاهُ۔ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! لَا يُقْضَىٰ دَيْنٌ بِدَيْنٍ، اُرْدُدِ الْحَقَّ إِلَىٰ أَهْلِهِ، وَاقْضِ دَيْنَ نَفْسِكَ مِنْ نَفْسِكَ۔ فَقَالَ: يَا بُهْلُولُ! فَنُجْرِي عَلَيْكَ مَا يَكْفِيكَ۔ فَرَفَعَ بُهْلُولٌ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! أَنَا وَأَنْتَ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ، فَمُحَالٌ أَنْ يَذْكُرَكَ وَيَنْسَانِي! فَأَسْبَلَ هَارُونُ السِّجَافَ وَمَضَىٰ۔
لفظی ترجمہ
انیسویں حکایت، حضرت عبداللہ بن مہران رحمہ اللہ تعالیٰ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: ہارون رشید حج کو نکلے تو کوفہ پہنچ کر وہاں چند دن قیام کیا، پھر کوسِ رحلت بجا تو (جلوسِ شاہی کے نظارے کے لیے) لوگ باہر نکل پڑے، نکلنے والوں میں بہلول مجنون رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے، یہ کوڑا کرکٹ کی جگہ (کناسی) آ بیٹھے، بچے ان کو ستاتے اور ان سے دل لگی کرتے، اتنے میں ہارون رشید کے محمل اور اس کی سواریاں آپہنچیں تو بچوں نے بہلول کو ستانا چھوڑ دیا۔ جب ہارون رشید سامنے آ گئے تو بہلول نے زور سے چلا کر پکارا: امیر المؤمنین! امیر المؤمنین! ہارون نے محمل کا پردہ (سجاف) ہٹایا اور کہا: لبیک یا بہلول، لبیک یا بہلول۔ بہلول نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہم سے ایمن بن نائل نے قدامہ بن عبداللہ عامری سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو منیٰ میں ایک اونٹ پر اس حالت میں دیکھا کہ ان کے نیچے ایک بوسیدہ سا کجاوہ تھا، تو نہ مار پیٹ تھی نہ ہٹو بچو (کا غوغا)۔ امیر المؤمنین! اس سفر میں آپ کی خاکساری، کبر و نخوت اور شان و شکوہ سے بہتر ہے۔ یہ سن کر ہارون رشید ایسا روئے کہ ان کے آنسو زمین پر گرنے لگے، پھر کہا: بہلول! مزید فرمائیے، خدا آپ پر رحمت فرمائے۔ بہلول نے کہا:
فرض کر لیجیے کہ آپ ساری روئے زمین کے مالک ہو گئے
اور تمام بندے آپ کے تابعِ فرمان ہو گئے، تو پھر کیا ہوا؟
کیا کل آپ کا ٹھکانا قبر کا شکم نہ ہو گا؟
جبکہ آپ کے اوپر یہ، پھر یہ (ہر شخص) مٹی ڈالتا ہو گا!
اس پر ہارون رشید روئے، پھر کہا: بہت خوب کہا بہلول! کچھ اور بھی ہے؟ فرمایا: ہاں اے امیر المؤمنین! ایک شخص کو اللہ نے دولت اور حسن سے نوازا، تو اس نے دولت راہِ مولیٰ میں خرچ کی اور حسن کے معاملے میں پارسائی اختیار کی، تو اللہ تعالیٰ کے خاص دفتر میں ایسا شخص ابرار کی فہرست میں درج کر لیا جاتا ہے۔ ہارون نے کہا: بہت خوب، اس کے ساتھ انعام (جائزہ) بھی لو۔ بہلول نے کہا: انعام تو اسی کو واپس کر دیجیے جس سے لیا ہے، مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ کہا: بہلول! اگر آپ پر قرض ہو تو ہم ادا کر دیں۔ جواب دیا: امیر المؤمنین! دین (قرض) سے دین ادا نہیں کیا جاتا، حق حقدار کو واپس کیجیے، اور خود اپنی ذات کا دین اپنے سے ادا کرائیے۔ کہا: اے بہلول! آپ کے لیے ہم اتنا وظیفہ جاری کر دیتے ہیں جو آپ کے لیے کافی ہو۔ اس پر بہلول نے آسمان کی طرف سر اٹھایا، پھر یوں کہا: امیر المؤمنین! میں اور آپ دونوں ہی خدا کے بندے ہیں، اور یہ محال ہے کہ آپ کو وہ یاد رکھے اور مجھے بھول جائے! اس پر ہارون نے محمل کا پردہ گرایا اور آگے بڑھ گئے۔
[مقالاتِ مصباحی، صفحہ: 566-568]
