Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

کفر و ارتداد کے چنگل میں پھنستی بچیاں: اسباب و علاج | مولانا محمد صالح حسن منظری

کفر و ارتداد کے چنگل میں پھنستی بچیاں: اسباب و علاج
عنوان: کفر و ارتداد کے چنگل میں پھنستی بچیاں: اسباب و علاج
تحریر: مولانا محمد صالح حسن منظری، متعلم درجہ تخصص جامعہ رضویہ منظر اسلام
پیش کش: آفرین فاطمہ رضویہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی مرادآباد

یہ دور فتنوں کا دور ہے، اس دور میں طرح طرح کے فتنے وجود میں آ رہے ہیں، ان فتنوں میں ارتداد کا فتنہ ہے جو دورِ حاضر میں سب سے زیادہ سر اٹھا رہا ہے، اس فتنے کے زہریلے اثرات مسلم معاشرے میں تیزی کے ساتھ پھیل رہے ہیں۔ رات و دن پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی شہزادیوں کو مرتد بنانے کی سازشیں رچی جا رہی ہیں اور ان سازشوں کو بروئے کار لایا جا رہا ہے، ارتداد ایک بدترین فتنہ ہے جو قومِ مسلم کے لیے زبردست چیلنج ہے، اس سے مقابلہ کرنا قومِ مسلم کی اہم ذمہ داری ہے، اس لیے کہ اگر اس وقت اس فتنۂ ارتداد سے مقابلہ نہیں کیا گیا تو اس کے زہریلے اثرات آئیں گے، وہ بھی اس طور پر کہ کوئی بستی، کوئی خاندان اس فتنے کے زہریلے اثر سے محفوظ نہ رہ سکے گا۔

ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے یہ خبریں سننے میں آ رہی ہیں کہ اسلام کے دامن سے وابستہ بچیاں کفر کی دلدل میں گرتی جا رہی ہیں، جب جب یہ خبریں نظروں کے سامنے سے گزرتی ہیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے، آنکھیں لہو بہاتی ہیں اور فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ کس طرح امتِ مسلمہ کی بچیوں کو کفر کی وادی سے بچایا جائے اور ان کے ایمان و عقیدہ کو مزید پختہ کیا جائے، پچھلے کچھ عرصے میں کئی ایسے واقعات پڑھنے اور سننے میں آئے کہ جن مسلم بچیوں نے ایمان کے لٹیروں سے ان کے عشق و محبت اور دولت و ثروت کے جھانسے میں آکر شادیاں رچائیں، ان مسلم بچیوں کے ساتھ انتہائی برے سلوک کیے گئے یہاں تک کہ ان کا جنسی استحصال کر کے کہیں ان کے جسم پر تیزاب ڈال کر جلا دیا گیا تو کہیں ان مسلم بچیوں کو چند گھنٹے کے سکون کے بدلے طوائفوں اور جسم فروشی کے کوٹھوں کی زینت بنا دیا گیا، کہیں ان کو موت کے گھاٹ اتار کر ان کے جسم کے قیمتی اعضاء کو فروخت کر کے لاکھوں روپے حاصل کر لیے گئے تو کہیں انہیں گھر سے نکال کر بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، اگر اتفاق سے جو بچیاں بچ گئیں تو ان کو ذہنی طور پر اتنا ستایا گیا کہ وہ خودکشی کرنے اور دنیا کو الوداع کہنے پر مجبور ہو گئیں۔

ملک ہندوستان میں بہت ساری ایسی شرپسند تنظیمیں ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کو مٹانا چاہتی ہیں اور طرح طرح کے حربے وقتاً فوقتاً اپنے استعمال میں لاتی ہیں، انہی میں ایک بدترین حربہ غیر مسلم نوجوانوں کے ذریعہ مسلم بچیوں کو مرتد بنا دینا ہے اور اس پر مخالف تنظیمیں بڑی تیزی کے ساتھ کام کر رہی ہیں، یہاں تک کہ جو نوجوان مسلم بچیوں کو اسلام سے دور کرتے ہیں ان نوجوانوں کو وہ شرپسند تنظیمیں لاکھوں روپے، رہنے کے لیے مکان، طرح طرح کی آسائش کا انتظام کر کے دیتی ہیں کہ جس طرح بھی ہو سکے مسلم بچیوں کو اپنا شکار بنائیں اور کفر کی وادی میں شامل کریں اور وہ تنظیمیں اس میں کامیاب نظر آ رہی ہیں، ہماری بچیاں دن بدن غیر مسلم نوجوانوں سے عشق و محبت اور دوستی کے نام پر تعلق بنا کر پیغمبرِ اسلام کے لہلہاتے چمن کو چھوڑ کر کفرستان کی وادی میں چلی جا رہی ہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر بچیاں ارتداد کا شکار کیوں ہو رہی ہیں، اور اس کے کیا وجوہات و اسباب ہیں کہ جن کی بنا پر مسلم بچیاں اپنے سرسبز و شاداب گلستانِ اسلام کو چھوڑ کر کفر کی پتھریلی زمین میں جا کر گر رہی ہیں، غور و فکر کرنے پر یہ بات ظاہر سی ہے کہ جب کوئی بچی بے دینی کے ماحول میں پرورش پا کر بڑی ہوگی تو وہ قرآنِ عظیم اور احادیثِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی اسلامی تعلیمات سے آشنا نہیں ہوگی، وہ پہلے ہی سے اس راستے کے قریب چل رہی ہے کہ جہاں سے ارتداد کا بدنما قلعہ بآسانی نظر آتا ہے، لہٰذا مسلم والدین سے گزارش ہے کہ خود بھی دیندار بنیں اور گھر میں دینداری کا ماحول بنائیں، گھر میں اپنے اہلِ و عیال کے ساتھ بیٹھ کر اپنے وقت کو ٹی وی اور موبائل چلانے میں برباد نہ کریں بلکہ قرآنِ مجید اور اسلام کی تعلیمات پر باتیں کریں اور ایمان و عقیدہ سے متعلق مسائل کی جانکاری دیں۔

ارتداد کی دوسری وجہ: مخلوط تعلیم

ہمارے ملک میں زیادہ تر مخلوط تعلیم کا رواج ہے، جہاں لڑکے اور لڑکیاں ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں، بہت ہی کم علاقے ایسے ہیں جہاں پر لڑکے اور لڑکیوں کی تعلیم کا نظام جداگانہ ہو، جن علاقوں میں مخلوط تعلیم کا چلن ہے تو ان میں سب سے زیادہ ایسے اسکول اور تعلیم گاہیں ہیں جہاں پر غیر مسلم لڑکے اور مسلم لڑکیاں ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں، ایسے ادارے اور اسکول بھی ارتداد کی طرف لے جانے کا عظیم راستہ ہیں، کیوں کہ مسلم والدین اپنی بچیوں کو ڈاکٹر، ٹیچرس، وکیل وغیرہ بنانے کے لیے انہیں کالج اور یونیورسٹی میں بھیجتے ہیں اور وہ بچیاں عمر کے اس دور میں ہوتی ہیں جہاں وہ اپنی زندگی کے سہانے خواب دیکھتی ہیں اور انہیں ہر چمکتی چیز پائیدار نظر آتی ہے اور وہ بچیاں ہر سراب کو حقیقت سمجھتی ہیں، غیر مسلم لڑکے ایسے اداروں اور کالجوں میں مسلم بچیوں کو ٹارگیٹ بناتے ہیں، پیسے اور عشق و محبت کے جھانسے میں ان کے قریب آتے ہیں، دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں، دھیرے دھیرے ارتداد کا زہر ان مسلم بچیوں کے دل و دماغ میں داخل کر دیتے ہیں، جس کا اثر بعد میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ لہٰذا اپنی بچیوں کو تعلیم حاصل کرانے کے لیے ان اسکولوں اور تعلیم گاہوں کا انتخاب کیا جائے جہاں پر ان کی عزت و آبرو محفوظ رہے اور ارتداد کا ناسور ان میں نہ پھیلنے پائے۔

ارتداد کی تیسری وجہ: ٹی وی اور موبائل

ٹی وی پر آنے والی گھریلو کہانیاں اور موبائل پر پڑا ہوا فحاشی بھرا مواد بھی ارتداد کی راہ میں آسانیاں پیدا کر رہا ہے، ہمارے ملک کے اندر جو سیریل وغیرہ آتے ہیں، ان میں عشق و محبت کی ایسی کہانیاں پیش کی جاتی ہیں کہ جن کا اثر انسان کی حقیقی زندگی پر پڑتا ہوا نظر آتا ہے، بہت سے ایسے ڈرامے ہیں جن میں غیر مسلم لڑکے اور لڑکی کے عشق کی داستان دکھائی جاتی ہے، جب کمسن مسلمان بچیاں ایسے سیریل کو دیکھتی ہیں تو شیطان ان کو بہکاتا ہے اور طرح طرح کے باطل خیالات ان کے دلوں میں ڈالتا ہے کہ تم بھی کسی سے تعلق بناؤ، تم بھی موبائل کے ذریعے چیٹنگ کرو، تم بھی ہوٹلوں میں طرح طرح کی آسائش لینے کے لیے جاؤ اور دوستی کے نام پر اس دنیاوی زندگی کے مزے لو، شیطان کے یہ باطل خیالات مسلم بچیوں کے دلوں میں اس قدر گھر کر جاتے ہیں کہ گھر کی چار دیواری میں رہنے کے باوجود بھی اپنے موبائل وغیرہ کے ذریعہ باہری لڑکوں سے بات چیت شروع کر دیتی ہیں اور دھیرے دھیرے اپنی عزت کو نیلام کرنے کی جانب قدم بڑھاتی ہیں، نیز وہ ایسی مشکلات میں پھنس جاتی ہیں کہ جہاں سے ان کا نکلنا انہیں ناممکن سا لگتا ہے، اسی وجہ سے یا تو وہ اپنے گھر بار کو چھوڑ بیٹھتی ہیں یا پھر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔

لہٰذا ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنی بچیوں پر نظر رکھیں تاکہ ان کے قدم نہ ڈگمگائیں، ان کے ہاتھ میں انڈرائیڈ موبائل دینے سے پرہیز کریں اور اگر بطورِ مجبوری (جیسے آن لائن پڑھائی) دے دیا جائے تو اس کو پڑھائی کے وقت تک ہی ان کے پاس رہنے دیں، باقی اوقات میں ان سے انڈرائیڈ موبائل جیسے خطرناک آلات کو دور رکھیں، اس لیے کہ موبائل سے فائدہ دس فیصد ہے تو اس سے بگڑنے کے امکانات نوے فیصد ہیں۔

ارتداد کی چوتھی وجہ: غیر مذہبی سہیلیاں

غیر مذہبی سہیلیاں بھی اس وقت ارتداد کی زمین ان مسلم بچیوں کے لیے ہموار کر رہی ہیں، اس لیے کہ یہ غیر مذہبی سہیلیاں بھی زہرِ قاتل کی طرح ثابت ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں، کئی سارے واقعات یہ سننے میں آئے کہ فلاں مسلمان بچی اپنی غیر مذہبی سہیلی کے بھائی کے ساتھ عشق و محبت کے جھانسے میں آکر ترکِ اسلام کر بیٹھی، لہٰذا اپنی بچیوں کو غیر مذہبی سہیلیوں سے محفوظ رہنے کی تلقین کریں اور ان غیر مذہبی سہیلیوں کے گھروں پر اپنی مسلم بچیوں کی آمد و رفت پر پابندی لگائیں تاکہ ارتداد کا دروازہ مکمل طور پر بند ہو سکے۔

ارتداد کی پانچویں وجہ: نکاح میں تاخیر

نکاح میں تاخیر کرنا بھی ارتداد کی اہم وجہ اس وقت بنتا جا رہا ہے، ہمارے معاشرے کے اندر دیکھا جاتا ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کی عمریں اتنی زائد ہو جاتی ہیں کہ ان کا رشتہ ملنا دشوار ہو جاتا ہے، آخر کار نکاح میں تاخیر کیوں ہوتی ہے؟ اس تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ نوجوان لڑکے اپنے کاروبار کو بڑھانے، عالیشان مکان بنانے، اور بینک بیلنس جمع کرنے کی تاک میں لگے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی چیز نکاح سے پہلے پوری نہیں ہوئی تو شادی میں مزہ نہیں آئے گا، یہی سوچ نوجوانوں کو بوڑھا کر دیتی ہے اور لڑکیاں یہ سوچتی ہیں کہ وہ پڑھ لکھ کر اچھی نوکری حاصل کریں تاکہ شادی کے بعد بھی آزادی کے ساتھ جہاں چاہیں وہاں جا سکیں اور جو چاہیں وہ پہن سکیں، اسی وجہ سے جب لڑکیوں کے وقت پر رشتے نہیں آتے تو جس جگہ وہ پڑھاتی ہیں یا کام کرتی ہیں وہاں بسا اوقات غیر مسلم لڑکوں سے دوستی ہو جاتی ہے اور وہ دوستی دھیرے دھیرے ارتداد کی طرف لے جاتی ہے، لہٰذا ماں باپ کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی شادیاں وقت پر کریں تاکہ ہمارا ہنستا اور مسکراتا ہوا معاشرہ برباد نہ ہو سکے۔

ارتداد کی چھٹی وجہ: جہیز

ہمارے معاشرے میں جہیز جیسی خطرناک بیماری پیر پسار چکی ہے، غریب ہو یا امیر ہر انسان جہیز جیسی غیر شرعی رسم میں گرفتار ہے، کیا آپ کو معلوم ہے اس جہیز نے کتنے گھروں اور خاندانوں کو بربادی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے، کہیں جہیز نہ ملنے کی بنیاد پر بچی کو پھانسی کے پھندے پر جھلا دیا جاتا ہے تو کہیں مٹی کا تیل ڈال کر آگ لگا دی جاتی ہے، کہیں ان کے ساتھ اتنا برا سلوک کیا جاتا ہے کہ جب آنکھیں انہیں دیکھتی ہیں تو اشکبار ہو جاتی ہیں، آخر مجھے یہ تو بتاؤ جس بچی کا نکاح کر کے اپنے گھر میں لے کر آئے تھے اس لڑکی کے باپ نے کس چیز میں کمی کی تھی، لڑکی کے گھر والوں نے اپنی اوقات سے بڑھ کر لڑکے والوں کا انتظام کیا تھا، چاہے وہ کھانے کی شکل میں ہو یا جہیز کی شکل میں، بہر صورت اپنی قوت و طاقت سے زیادہ اہتمام کیا تھا، آخر ان بچیوں پر کیوں ستم کیا جاتا ہے؟ آپ کو معلوم ہے جن بچیوں کو جہیز کی بنا پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور ان کو بے عزت کر دیا جاتا ہے یا طلاق کے ذریعہ جدائی ڈال دی جاتی ہے تو بہت سی بچیاں تنگ آکر غیر مسلم نوجوانوں کے جھانسے میں آ جاتی ہیں اور ان کے دکھائے ہوئے سہانے خوابوں کو حقیقت سمجھ بیٹھتی ہیں اور پیغمبرِ اسلام کے لہلہاتے چمن “دینِ اسلام” سے منحرف ہو جاتی ہیں، لہٰذا اللہ کے واسطے جہیز کی بنا پر بچیوں کو نہ ستایا جائے اور نہ ان کے ساتھ برا سلوک کیا جائے تاکہ وہ بچیاں ارتداد سے محفوظ رہ سکیں۔

ہمارے معاشرے کی جو بچیاں اسکول، کالج، یونیورسٹی وغیرہ میں زیرِ تعلیم ہیں ان کے ذمہ داران کو یہ بات لازم کر لینی چاہیے کہ جب وہ اپنی تعلیم گاہ کی جانب جائیں تو ان کے لباس پر اہم نظر ہونی چاہیے کہ کہیں آپ کی بچی ایسا لباس پہن کر تو نہیں جا رہی کہ جس کی بنا پر غیر محرموں کی نظر کا مرکز بنے، اور عریانیت کے ماحول میں اپنے آپ کو ڈھالنے لگے، لہٰذا مسلم بچیوں کے ذمہ داران خود ان کو تعلیم گاہوں تک پہنچائیں اور وقت پر ان کو واپس لائیں، یہ سمجھ کر ان کو آنے جانے کی آزادی نہ دیں کہ وہ عقلمند اور بڑی ہو گئی ہیں، مذکورہ تمام وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے مذکورہ اسباب کو عمل میں لائیں تاکہ ہماری بچیاں غیر مسلم شرپسند تنظیموں کے تیار کردہ خونخوار بھیڑیوں کی خوراک بننے سے بچ سکیں اور مسلم معاشرے، علاقے، محلے اور خاندانوں کی عزت و آبرو محفوظ رہے۔

لہٰذا ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی بچیوں کی صحیح رہنمائی فرمائیں اور والدین اپنی نوخیز بچیوں پر نظر رکھیں کیونکہ کل قیامت کے دن ان کے والدین کی بھی پکڑ ہوگی، پیغمبرِ اسلام کی حدیثِ پاک ہے:

كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ

یعنی تم میں سے ہر آدمی ذمہ دار ہے اور ہر آدمی اپنی رعیت اور اپنے ماتحتوں، زیرِ کفالت نیز زیرِ تربیت لوگوں کے بارے میں جواب دہ ہے، چنانچہ امیر اپنی رعایا کا ذمہ دار ہے، مرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی ذمہ دار ہے، اس طرح تم میں سے ہر شخص نگراں ہے اور اس سے اس کے ماتحت سے متعلق سوال کیا جائے گا، لہٰذا ذمہ داران کو کماحقہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا چاہیے اور میری بہنوں کو یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ آپ کی عزت کی نیلامی صرف آپ ہی کی نہیں بلکہ آپ کے بھائی، بہن، ماں، باپ، خاندان، رشتہ دار بلکہ پورے معاشرے کی نیلامی ہے۔

اللہ پاک تمام خواتینِ اسلام کو اس مہلک مرض “ارتداد” سے محفوظ فرمائے۔ [ماہنامہ اعلیٰ حضرت، مارچ، ص: 31 تا 34]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!