Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حرفے چند|ارشد رضا مدنی

حرفے چند
عنوان: حرفے چند
پیش کش: ارشد رضا مدنی

حضرت شارح بخاری، فقیہ العصر علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی دام ظلہ کی ذات گرامی کا علمی دبدبہ عالمگیر شہرت رکھتا ہے۔ علمی مصروفیات اور دینی خدمات آپ کی پوری زندگی کی شناخت ہیں۔ علمی تنوع، فکری بصیرت، اخذ و استنباط کا ملکہ، استحضار اور جودت بیان، تحقیقی رنگ، تردید کے باب میں تیکھی، دلچسپ اور مضبوط گرفت، دقیقہ رس، نکتہ آفریں فکر، اسلامی غیرت، دینی حمیت، علماء و مشائخ کا اکرام، ہم عصروں کا اعزاز، اصاغر کی رہنمائی اور ہمدردی، یہ سب آپ کی زندگی کے روشن بنیادی عناصر ہیں جن کی جھلک آپ کو ان تحریروں میں جا بجا بکھری نظر آئے گی۔

راقم نے دستیاب شدہ تحریروں کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد درج ذیل ابواب میں منضبط کیا ہے۔

۱۔ تفسیرات۔ ۲۔ فقہیات۔ ۳۔ تحقیقات۔ ۴۔ تنقیدات و تعاقبات۔ ۵۔ شخصیات۔ ۶۔ صدارتی خطبات۔ ۷۔ سفرنامے۔ ۸۔ تقریظات و پیغامات۔ ۹۔ متفرقات۔

باب اول سے متعلق الحمد سے سورہ بقرہ کے پہلے رکوع تک کی تفسیر ہے اور دیگر ابواب سے متعلق کل مضامین کی تعداد ۸۸ ہے جن میں بعض بہت مبسوط ہیں اور مستقل رسالہ کی حیثیت رکھتے ہیں جیسے فقہیات میں مسائل حج و زیارت، تنقیدات میں انکشاف حق پر ناقدانہ نظر، شخصیات میں مفتی اعظم اپنے فضل و کمال کے آئینے میں اور صدر الشریعہ ایک ہمہ گیر شخصیت وغیرہ۔

ان ابواب میں ہر ایک اپنی جگہ اہم ہے اور ع ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است کی شان رکھتا ہے مگر تحقیقات و تنقیدات بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

حضرت کی فقہی بصیرت کی تو دنیا قائل ہے اور اس پر آپ کے ہزاروں فتاویٰ شاہد ہیں جو ترتیب کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ خدا کرے وہ جلد ہی باحوصلہ افراد کے ہاتھوں سے مرتب ہو کر منصہ شہود پر جلوہ گر ہوں کہ “نزہۃ القاری” کے بعد یہ آپ کی عبقریت کی شاندار دستاویز ہوگی۔ لیکن اس مجموعہ میں فقہیات کے باب میں “انجکشن سے روزہ نہ ٹوٹنے” سے متعلق مضمون حضرت کی فقہی بصیرت کا لافانی شاہکار ہے۔ حضرت کے سفرنامے، صدارتی خطبات اور سوانحی مقالوں سے حضرت کی نثر نگاری کا جوہر خوب نمایاں ہے ان کے مطالعہ کے بعد حضرت کی انشا پردازانہ مہارت کا بھی ہر مصنف اعتراف کرے گا۔ “تقریظات و پیغامات” ذیلی چیزیں شمار ہوتی ہیں لیکن حضرت نے اس باب میں بھی بڑے قیمتی افادات رقم فرمائے ہیں جو اس کتاب کے موضوع کی روح کہے جا سکتے ہیں، حضرت بحر العلوم علامہ عبد الحلیم فرنگی محلی قدس سرہ کی کتاب “نور الایمان بزیارۃ آثار حبیب الرحمٰن” کے ترجمہ پر حضرت کا مقدمہ اس کا بہترین ثبوت ہے۔ متفرقات کے باب میں “مہر اور جہیز کے سلسلہ میں ایک گزارش” اور “اشرفیہ کا وفد بمبئی میں” حضرت کی دینی ہمدردی کے قیمتی جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں، الغرض پورا مجموعہ گراں قدر افادات سے لبریز ہے کہاں تک تعارف کرایا جائے صرف دو مضمون پر تبصرہ سپرد قلم ہے۔

ارض مقدس اور یہودی تغلب: دشمنان اسلام امریکہ، فرانس، برطانیہ، روس نے در بدر کی ٹھوکریں کھانے والے یہودیوں کو فلسطین کا ایک حصہ دے دیا۔ پوری دنیا کے مسلمان احتجاج کرتے رہے مگر اس کا ان پر کوئی اثر مرتب نہ ہوا، اللہ عزوجل کی شان بے نیازی کہ مصر، اردن وغیرہ نے ارض مقدس کو یہودیوں سے خالی کرانے کی جو بھی کوشش کیں وہ سب کی سب ناکام ہوئیں، یہودیوں سے جنگیں کیں سب میں شکستیں کھائیں حالانکہ قرآن مجید میں یہودیوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے:

ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ [سورۃ البقرة: 61]

اور ان پر مسلط کر دی گئی خواری اور ناداری اور وہ اللہ کے غضب میں لوٹے۔

مسلمانوں کے مقابلے میں یہودیوں کی ہر محاذ پر فتح اور ان کی روز افزوں ترقی نے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا کہ اللہ عزوجل کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے؟ یہ سوال بہت اہم اور غیر معمولی تھا۔ ملت کے سارے مفکرین اس کے جواب میں الجھے ہوئے تھے اور طرح طرح کے جوابات دیے جا رہے تھے۔ بہت سے جوابات اپنی جگہ درست بھی تھے لیکن بہتیرے لوگوں کو ان سے تشفی نہیں ہوتی تھی۔ بالآخر حضرت شارح بخاری نے قرآن مجید ہی سے ایک ایسا جواب ڈھونڈ نکالا جس پر علمی دنیا حیرت زدہ رہ گئی۔ آپ نے فرمایا کہ سورۂ بقرہ شریف میں جو آیت ہے اس کی تفصیل سورۂ آل عمران رکوع ۸ میں موجود ہے۔ ارشاد ہے:

ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ

ان پر خواری جما دی گئی جہاں بھی رہیں مگر جب کہ اللہ کی رسی یا آدمیوں کی رسی پکڑ لیں۔

اس آیت مبارکہ کا صریح مفہوم یہ ہے کہ یہودی جہاں بھی رہیں گے ذلیل و خوار رہیں گے مگر جب کہ اللہ کی رسی پکڑ لیں یا دوسرے لوگوں کی رسی پکڑ لیں۔ یہ ذلت و خواری سے چھوٹنے کی استثنائی حالت کا بیان ہے۔ اللہ کی رسی پکڑنے سے مراد یہ ہے کہ مسلمان ہو جائیں اور لوگوں کی رسی پکڑنے سے مراد یہ ہے کہ اپنے علاوہ کسی اور طاقت اور قوم کی پناہ میں آ جائیں یعنی اگر وہ تنہا اپنی قوت سے چاہیں تو ذلت سے چھٹکارا نصیب نہیں ہو سکتا اس پر یہودیوں کی ہزار ہا سالہ تاریخ شاہد ہے۔ ہاں اگر مسلمان ہو جائیں تو جو عزت مسلمانوں کو حاصل ہے انہیں بھی حاصل ہو جائے گی۔ یا یہ کہ وہ دنیا کی کسی طاقتور قوم کی پناہ حاصل کر لیں تو دنیا میں عزت پا سکتے ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ اسرائیلی حکومت امریکہ نے قائم کی ہے اور یہودیوں کی موجودہ بقا و ترقی سب امریکہ کی دین ہے۔ شارح بخاری فرمایا کرتے تھے اسرائیلی حکومت امریکہ کی ناجائز اولاد ہے، آج اگر امریکہ یہودیوں کی پشت پناہی چھوڑ دے تو پھر دنیا دیکھے گی کہ ان کا کہیں ٹھکانہ نہیں۔ اسی مضمون کو حضرت شارح بخاری نے اپنے اس عنوان میں انتہائی دلچسپ اور تحقیقی پیرائے میں سپرد قلم فرمایا ہے۔

یزید کا مسئلہ: دیوبندی برادری کے ایک مایہ ناز فرزند محمود احمد عباسی امروہوی نے یہ شگوفہ چھوڑا کہ یزید خلیفہ برحق تھا۔ امام عالی مقام سید الشہداء امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاطی و باغی تھے، یزید کے بارے میں حدیث میں بشارت آئی ہے کہ وہ بخشا جائے گا۔ اس کے ثبوت میں اس نے بخاری شریف کی یہ حدیث پیش کی:

أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ

میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر حملہ کرے اسے بخش دیا جائے گا۔

اپنی دیوبندی سرشت کے مطابق امروہوی نے مدینہ قیصر سے قسطنطنیہ مراد لیا اور دھاندلی سے اس لشکر کو جس میں یزید ایک معمولی سپاہی کی طرح شریک تھا اس لشکر کا سپہ سالار بنا کر قسطنطنیہ پر پہلا حملہ آور قرار دیا۔

اس کی اس گمراہ کن بات کا جواب ہمارے اجلہ علمائے اہل سنت نے مختلف پیرائے میں دیا جو ماہنامہ پاسبان کے “حسین نمبر” “کربلا کا مسافر” میں موجود ہے۔ حضرت شارح بخاری نے بھی خطیب مشرق علامہ مشتاق احمد نظامی علیہ الرحمہ کی فرمائش پر قلم اٹھایا اور عنوان کا حق ادا کر دیا جس کا جی چاہے کربلا کا مسافر نمبر پڑھ لے وہ خود سمجھ لے گا کہ شارح بخاری کا مضمون اس نمبر کی جان ہے۔

پاسبان کے لیے جو مضمون حضرت نے تحریر فرمایا تھا وہ شارحین حدیث کی ترجمانی تھی مگر اس کے بعد حضرت مولانا حافظ مبین الدین امروہوی علیہ الرحمہ کی رہنمائی میں حضرت شارح بخاری نے اس حدیث پر تحقیق شروع فرمائی تو بڑے بڑے محققین انگشت بدنداں رہ گئے۔ اس حدیث پر تین طریقے سے کلام فرمایا۔

اول: حدیث میں قسطنطنیہ کا لفظ نہیں “مدینہ قیصر” ہے جس کا ترجمہ ہوگا “قیصر کے شہر پر” یعنی میری امت کا وہ پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر حملہ کرے گا بخشا جائے گا اس سے خاص قسطنطنیہ ہی مراد ہے یہ کہاں ہے؟ قیصر کی حدود سلطنت کا کوئی بھی شہر مراد ہو سکتا ہے۔ اس کے پیش نظر قیصر کے شہر پر پہلا حملہ عہد رسالت میں “موتہ” پر ۸ھ میں ہوا تھا۔ اب اس حدیث کے مصداق غزوۂ موتہ کے مجاہدین ہوں گے۔ یہ نکتہ حضرت نے ازخود استخراج فرمایا بعد میں تیسیر شرح جامع صغیر کے حاشیہ میں بھی یہی نکتہ تحریر ملا جسے مجدد اعظم اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے تحریر فرمایا تھا، یہ تطابق دیکھ کر حضرت شارح بخاری کو جس قدر خوشی ہوئی اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

دوم: اگر مدینہ قیصر سے اس کا دار السلطنت مراد ہو تو عہد رسالت میں اس کا دار السلطنت حمص تھا جو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد مبارک میں فتح ہوا اس تقدیر پر اس حدیث کے مصداق حمص فتح کرنے والے مجاہدین ہوں گے۔

سوئم: اور اگر کسی کو یہی ضد ہو کہ مدینہ قیصر سے خاص قسطنطنیہ ہی مراد ہے تو بھی اس حدیث کا مصداق یزید نہیں ہو سکتا اس لیے کہ قسطنطنیہ پر پہلا حملہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۳۲ھ میں کیا تھا۔ اس تقدیر پر اس کے مصداق اس لشکر کے مجاہدین ہوں گے نہ کہ یزید۔ اس کے بعد ۴۳ھ میں بسر بن ارطاۃ نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا ۴۹ھ میں حضرت عبد الرحمن بن خالد سیف اللہ نے کیا تھا اور جس لشکر میں یزید شریک تھا وہ قسطنطنیہ پر چوتھا یا پانچواں حملہ تھا اس لیے یزید اس حدیث کا مصداق ہرگز ہرگز نہیں ہو سکتا۔

چہارم: حضرت شارح بخاری نے انتہائی محققانہ طریقے سے ثابت فرمایا ہے کہ اس تقدیر پر بحری راستے سے جو پہلا لشکر مدینہ قیصر (قسطنطنیہ) پر حملہ آور ہوگا وہی لشکر الفاظ حدیث سے مراد ہے۔ یزید بری راستہ سے گیا تھا۔ بحری راستہ سے نہیں اس لیے اس حدیث کا مصداق اس کا لشکر ہو ہی نہیں سکتا۔

امروہوی صاحب نے یزید کے خلیفہ برحق ہونے پر بڑے شد و مد کے ساتھ بحث کا دوسرا رخ یہ پیش کیا ہے کہ اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ برحق تھے اور یہ بھی اہل سنت کا اجماعی فیصلہ ہے کہ خلیفہ برحق اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین نامزد کر دے تو وہ بھی خلیفہ برحق ہوگا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی حیات مبارکہ ہی میں یزید کو اپنا ولی عہد و جانشین مقرر فرما کر اجلہ صحابہ کرام اور عام مسلمانوں سے اس کی بیعت بھی لے لی تھی اس لیے یزید کے خلیفہ برحق ہونے میں کسی کو کیا کلام ہو سکتا ہے اگر کوئی انکار کرتا ہے تو اہل سنت کے اجماع کے خلاف کرتا ہے۔ اور جب یزید برحق خلیفہ ہے تو سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اس کے خلاف خروج خطا اور بغاوت تھی۔

امروہوی کی اس خرافاتی بحث کا جواب ہمارے علمائے اہل سنت نے متعدد طریقوں سے دیا ہے حضرت شارح بخاری کی محاسباتی گفتگو نے تو اس استدلال کی جڑ کاٹ کے رکھ دی ہے۔ فرماتے ہیں:

حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا جانشین منتخب کرنے کے مجاز ہی نہ تھے کیوں کہ اس پر اہل سنت کا اجماع ہے کہ مولائے کائنات امیر المومنین سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد خلیفہ برحق سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے اختلاف کیا نوبت جنگ تک پہنچی، نزاع ختم کرنے اور مسلمانوں کو ہلاکت و تباہی سے بچانے کی خاطر مصالحت ہوئی۔ سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رفع نزاع اور اصلاح کی خاطر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صرف ان کی حیات مبارکہ تک کے لیے خلافت سپرد فرمائی اور خود دست کش ہو گئے۔ صلح نامہ کی اہم ترین دفعہ یہ تھی:

“حضرت معاویہ تاحیات خلیفہ رہیں گے اور ان کے بعد خلافت کا حق سیدنا امام حسن مجتبیٰ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو رہے گا”۔ اس معاہدہ کی روشنی میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جانشین نامزد کرنے کے مجاز نہ تھے اس لیے آپ کا انتخاب ساقط اور شرعاً غیر معتبر تھا۔ آپ کے وصال کے بعد یہ حق امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تھا لیکن حضرت بھی واصل بحق ہو چکے تھے اس لیے اس کی ذمہ داری ملت کے ارباب حل و عقد کے سر جاتی ہے۔ اور اس کے بارے میں مورخین کا اتفاق ہے کہ یزید کا انتخاب شورائی انداز میں نہیں ہوا تھا بلکہ وہ از خود غرہ کر کے تخت خلافت پر براجمان ہو گیا تھا اس لیے سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اس کی خلافت کو تسلیم نہ کرنا بالکل حق بجانب تھا اسے نہ خطا کہہ سکتے ہیں نہ بغاوت۔

اس طرح کی فیصلہ کن بحثیں آپ کو ان مقالات میں جگہ جگہ ملیں گی جن سے قارئین ازخود حضرت کی ہمہ جہتی، فنی جامعیت، محققانہ بصیرت اور وسعت مطالعہ و استحضار کے اعتراف پر مجبور ہوں گے۔

مولائے کریم سلف کے اس علمی جانشین کا سایہ فکر و فن ہمیشہ سلامت رکھے اور ان کے فیوضات علمیہ سے عالم اسلام کو استفادہ کا موقع عطا فرمائے۔ آمین!

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!