| عنوان: | شارح بخاری ایک ممتاز محقق |
|---|---|
| پیش کش: | ارشد رضا مدنی |
مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ اور ان کے تلامذہ و خلفا کے بعد مصنفین، محققین، جماعت اہل سنت پر اگر نظر دوڑائیں تو آپ کو شارح بخاری علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی قدس سرہ العزیز ایک ممتاز محقق کے طور پر نظر آئیں گے۔ انہوں نے ان ادق اور پیچیدہ مسائل پر قلم اٹھایا جو تشنہ تحقیق تھے۔ اپنے دور میں شارح بخاری، فقیہ اعظم ہند، فائق الاقران تھے۔ وہ صرف گفتار کے غازی نہ تھے بلکہ جو مسئلہ سچ سمجھا، حق جانا، اسے تقریر و تحریر کے ذریعہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش فرمائی۔ سیاسی تدبیر میں پختگی، تدریس میں ملکہ، تقریر و مناظرہ میں پر اعتماد فاتحانہ کردار، تصنیف و تالیف کا ایسا ذوق و شوق کہ تن تنہا بریلی شریف میں “دار التصنیف والتألیف” کی بنیاد ڈالی۔ مگر افسوس کہ عوام و خواص کی سرد مہری سے وہ قابل ذکر ادارہ نہ بن سکا۔ خود ہی لکھتے رہے چھاپتے رہے یہاں تک کہ شاندار اشاعتی ادارہ “دائرة البرکات” قائم فرمایا۔ خود بھی ہمیشہ لکھتے رہے، علما و طلبہ کو بھی راغب کرتے رہے۔ فقہ و افتا میں ایسا علمی استحضار کہ ان کا کوئی ثانی نہیں۔ دور طالب علمی سے لے کر تاحیات روزانہ ۱۶ تا ۱۸ گھنٹے آپ کی علمی مشغولیات کا تخمینہ ہے۔
تصنیفی اور اسلامی تدبر و تفحص کا اندازہ ان کی پہلی تصنیف “اشک رواں” کے مطالعہ سے اہل فکر و دانش لگا سکتے ہیں۔ جب ۱۹۴۶ء میں آزادی ہند کے وقت مسلمانوں میں انتشار تھا کہ وہ کانگریس کا ساتھ دیں، یا مسلم لیگ کا، یا اسلامی مملکت کا مطالبہ کریں۔ شارح بخاری نے اسلامی مملکت کا تصور اس وقت پیش کیا، جب وہ نہ تو شارح بخاری تھے، نہ فقیہ اعظم، نہ علامہ، نہ محقق و مفکر، بلکہ ۲۵ سال کے مولوی صوفی محمد شریف الحق تھے۔ یہ کتاب آزادی کے بعد ضبط ہو گئی، ورنہ اہل فکر و دانش ان کی مذہبی تدبر و تفحص کو ملاحظہ فرماتے۔
اس زمانے میں جب کہ مسلمان مختلف علما اور لیڈروں کی تحریکوں کے نتیجے میں مسلم لیگ اور کانگریس کے خانوں میں بٹے ہوئے تھے اور انہیں صحیح سمت نظر نہ آتی تھی۔ شارح بخاری نے اپنی نوعمری میں “اشک رواں” لکھ کر اسلامیان ہند کو صحیح راہ دکھائی۔
اسی طرح “اشرف السیر” کو ملاحظہ فرمائیں۔ شبلی نعمانی نے “سیرت النبی” میں ثقہ اصحاب سیر کی علمی حقیقت کم کرنے، ماضی کی معتبر کتب سیر کی اہمیت گھٹانے اور بے اثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ “اشرف السیر” میں شارح بخاری نے اس غبار کو دور کرنے کی کوشش فرمائی، ہجوم کار اور پیچ، نت نئے مسائل نے موقع نہ دیا ورنہ چار جلدوں میں یہ کتاب شاہکار تصنیف ہوتی۔
اسی طرح “اسلام اور چاند کا سفر” جب انسان چاند پر پہنچا اس وقت اختلافات کا ایک طوفان اٹھ گیا کہ ایسا ممکن ہے یا ناممکن۔ اس وقت ایسا لگا جیسے اسلام ہی پر حملہ ہو گیا، اس وقت “اسلام اور چاند کا سفر” لکھ کر یہ ثابت کیا کہ انسان چاند پر جا سکتا ہے، اس سے اسلامی فکر و اعتقاد میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ عجب اتفاق تھا اس مسئلہ پر ان کے ایک جلیل القدر استاذ صدر العلماء حضرت علامہ غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمہ سے اختلاف ہوا۔ اس کتاب کے جواب میں حضرت نے صحیح النظر کتاب لکھی۔ جس کا جواب اسلام اور چاند کے سفر کے اخیر حصہ میں موجود ہے۔ اس میں جو علمی مباحثہ استاذ و شاگرد کے درمیان ہوا وہ ایک علمی شاہکار اور حسن ادب کا نمونہ ہے۔
اسی طرح دیگر تصنیفات، مثلاً تحقیقات، فتنوں کی سرزمین کون، “نزهة القاري” کے مطالعہ کے بعد قارئین، محققین، مفکرین نے اندازہ کیا ہوگا۔
اب “مقالات شارح بخاری” میں ان کی تحقیقات اور مختلف فیہ مسائل پر واضح نقطہ نظر ملاحظہ فرمائیں گے۔ اکابر، علماء، مشائخ پر قلبی جذبات و احساسات بھی ملاحظہ فرمائیں گے۔ طلبہ و علماء کے لیے یہ مقالات مہمیز کا کام کریں گے۔ ذہن کو فکر نو، جن کی موجوں میں تلاطم نہیں، ان شاء اللہ تلاطم ضرور پیدا ہوگا۔ یہ تین جلدوں میں تقریباً ۱۵ سو صفحات پر مشتمل ہے۔
جلد اول: چار ابواب ہیں۔ پہلا باب تفسیرات، تشریحات۔ باب دوم: تواریخ و سیر۔ باب سوم: تحقیقات و فقہیات۔ باب چہارم: اسفار و مشاہدات۔
جلد دوم: دو ابواب پر مشتمل ہے۔ باب اول رضویات۔ باب دوم تنقیدات، تحقیقات۔
جلد سوم: تین ابواب پر مشتمل ہے۔ باب اول شخصیات۔ باب دوم خطبات۔ باب سوم تقریظات، تصدیقات۔
انتہائی معذرت کے ساتھ اعتراف ندامت
مقالات شارح بخاری کی تدوین و ترتیب، ابا حضور نے اپنی حیات ہی میں، ذاتی صرفہ سے اپنی ہدایات و نگرانی میں، مولانا ارشاد احمد برکاتی، سابق استاذ جامعہ اشرفیہ، مبارکپور سے کروا دی تھی جس کی تفصیل موصوف نے “افکار رضا” ممبئی، و “ماہنامہ ماہ نور” دلی میں شائع کروا دی۔ قارئین ملاحظہ فرما چکے ہوں گے۔ مولانا نے بہت عجلت سے کام لیا، ورنہ وہ تفصیل اس میں شامل ہوتی۔ اس کے کچھ ضروری اقتباسات اس میں شامل کر لیے گئے ہیں۔ ان کا شکریہ کہ انہوں نے ابا حضور کی تعمیل حکم فرمائی اور محنت و شوق سے اس کی ترتیب فرمائی۔
ابا حضور کی دلی خواہش تھی کہ “جشن شارح بخاری” ممبئی سے قبل وہ بھی منظر عام پر آ جائے مگر افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا جس کا بہت قلق تھا۔ ابا حضور کی وفات کے بعد، مولانا عبد الحق رضوی وغیرہ نے محسوس کیا کہ عجلت میں اس کی ترتیب ہوئی ہے اور بہت سے مضامین چھوٹ گئے ہیں، اس لیے ترتیب کچھ ڈھنگ سے ہو جائے، اور بقیہ مضامین بھی شامل ہو جائیں، جس کو جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ کے موقر اساتذہ مولانا عبد الحق رضوی، مولانا نفیس احمد مصباحی، مولانا مبارک حسین مصباحی، مفتی نسیم احمد صاحبان نے دوبارہ ترتیب دیا، اس کی بھی دوبارہ کمپوزنگ ہوئی، مذکورہ بالا علمائے کرام نے بڑی عرق ریزی اور جاں سوزی سے پروف ریڈنگ کی۔ مگر نا گفتہ بہ حالات کی وجہ سے اشاعت میں تاخیر در تاخیر ہوتی گئی۔ نتیجتاً وہ بھی کمپیوٹر سے محو ہو گئی جب صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، تو احقر نے محسوس کیا کہ ان لوگوں کی مصروفیات بہت بڑھ گئی ہیں اب اس کام کو اپنے ناتواں ہاتھوں میں لینا چاہیے، مقالات کی جیسی ترتیب ان حضرات نے دی ویسی ہی ناچیز نے سہ بارہ کمپوزنگ شروع کرا دی۔
اب اس سلسلے میں اہم کام پروف ریڈنگ کا تھا کہتے ہیں “دودھ کی جلی بلی چھاچھ کو پھونک کر پیتی ہے”۔ اب میں کسی کے ہاتھ مسودہ پروف ریڈنگ کے لیے نہیں دے سکتا تھا۔ اشرف السیر، تحقیقات، اسلام اور چاند کا سفر کی پروف ریڈنگ کا کچھ سابقہ تجربہ تھا، ہمت کر کے پروف ریڈنگ خود شروع کر دی۔ ابا حضور کی چہیتی پوتی، عزیزہ حمیرا خاتون برکاتی نے کافی تعاون کیا۔ اس کی تعلیمی و گھریلو مصروفیات اور احقر طبیب وہ بھی پرائیویٹ پریکٹس، اس میں مریضوں کے آنے کا کوئی وقت نہیں ہوتا۔ جب ان کو وقت ملا، ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے اور دروازہ پیٹنے لگے اور اگر لمحہ بھر حاضری میں ڈاکٹر نے دیر کر دی تو دروازہ بھی توڑنے لگیں گے جیسے ڈاکٹر کو گھر میں کوئی کام ہی نہیں۔ مریض کے دستک دیتے ہی قرض خوروں کی طرح جی حضور حاضر ہوں۔ ایسی حالت میں پڑھنے لکھنے والے کام درہم برہم۔ جس کی وجہ سے اس ناچیز سے بھی تاخیر ہوئی۔
مزید اس سلسلے میں دوسرے مخلصین و معاونین سے کام لینا پڑا۔ جس میں مولوی معراج احمد گھوسی، مولوی وصال احمد، مفتی محبوب احمد، مولوی شہاب الدین، مولانا شمشاد احمد، مولانا امتیاز احمد صاحبان کا ممنون و مشکور ہوں۔ خاص طور پر مولانا عبد الحق، مولانا نفیس احمد مصباحی، مفتی نسیم احمد صاحب کا کہ یہ متاع گراں مایہ محفوظ رکھا اور عنایت فرما دیا اللہ تعالیٰ سب کو اجر عظیم عطا فرمائے اور ترقی درجات سے نوازے۔ احقر کو سخت ندامت ہے کہ ایسے گنجہائے گراں مایہ کو منظر عام پر لانے میں غیر معمولی تاخیر ہوئی کہ لوگوں کا اشتیاق کم ہو گیا۔ خیر “دیر آید درست آید” کے مصداق ہوگا اب اہل علم و فن پر منحصر ہے کہ وہ اسے کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ جو کمی ہو اس سے ضرور مطلع فرمائیں۔ اس تعاون کے لیے ممنون و مشکور ہوں گا۔
“فتاویٰ شارح بخاری” جو شارح بخاری کی زندگی کا اہم فقہی سرمایہ ہے ان شاء اللہ جلد ہی منظر عام پر آ جائے گا۔ غیر معمولی تاخیر میں ہمیں اپنی کم مائیگی، نااہلی کا پورا احساس ہے کوشش کر رہے ہیں تائید ایزدی، فضل صاحب لولاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے امید ہے کہ عنقریب کامیاب ہوں گے۔
وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ [سورۃ ھود: 88]
میری توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف لوٹتا ہوں۔
