Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حاضری مدینہ طیبہ|علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی

حاضری مدینہ طیبہ
عنوان: حاضری مدینہ طیبہ
تحریر: علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی
پیش کش: محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال)

فضائل

اللہ عزوجل فرماتا ہے:

وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا[پ: 5، سورۃ النساء]

اپنے اوپر ظلم کرنے والے اگر تمہارے پاس حاضر ہو کر اللہ سے مغفرت طلب کریں، اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کریں، تو وہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا پائیں گے۔

حدیث 1: حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہے۔[دار قطنی، بیہقی]

حدیث 2: فرمایا: جو میری زیارت کو آئے، سوائے میری زیارت کے اور کسی حاجت کے لیے نہ آئے، تو مجھ پر حق ہے کہ قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں۔[طبرانی کبیر]

حدیث 3: فرمایا: جس نے حج کیا اور میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی، تو ایسا ہے جیسے میری حیات میں میری زیارت سے مشرف ہوا۔[طبرانی، دار قطنی]

حدیث 4: فرمایا: جس نے حج کیا اور میری زیارت نہ کی اس نے مجھ پر جفا کیا۔[ابن عدی کامل]

زیارتِ اقدس قریب قریب واجب ہے۔ جو اس سے محروم رہا بہت بڑا محروم ہے۔ جب مدینہ طیبہ کا سفر شروع کرے تو اپنی خوش بختی پر ناز کرے اور اللہ عزوجل کا شکر کرے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اپنے حبیب کے در پر لے جا رہا ہے۔

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے تصور میں ڈوب جاؤ۔ سرکار کی اس عنایتِ بے غایت پر ناز کرو کہ اپنے دربار میں بلا رہے ہیں۔ راستے بھر جس قدر زیادہ ہو سکے درود شریف پڑھتے رہو۔ جب حرمِ مدینہ آئے تو بہتر یہ کہ پیدل ہو۔ روتے ہوئے، آنکھیں نیچی کیے ہوئے، سر جھکائے ہوئے جتنی ہو سکے درود شریف کی کثرت کرو۔ اگر ہو سکے تو ننگے پاؤں چلو۔ جب گنبدِ خضرا نظر آئے کھڑے ہو جاؤ۔ اس وقت خصوصیت سے جتنا زیادہ ہو سکے درود و سلام کی کثرت کرو۔ اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ۔ مسجدِ اقدس کی حاضری سے پہلے ایسی تمام ضروریات سے فارغ ہو لے جو دل بٹنے کا باعث ہوں۔ پھر ہو سکے تو غسل کر لے ورنہ وضو اور مسواک کرے۔ سفید، صاف ستھرے عمدہ سے عمدہ جو کپڑے نصیب ہوں وہ پہنے۔ خوشبو لگا لے مل سکے تو مشک افضل ہے۔

غرض کہ اچھی سے اچھی، عمدہ سے عمدہ ہیئت بطریقِ مسنون و مستحب بنا لو۔ اس کے بعد آستانۂ اقدس کی طرف تواضع و عاجزی کے ساتھ چلو۔ اگر اس وقت کچھ آنسو نکل آئیں تو قسمت بن گئی۔ بہتر یہ ہے کہ بابِ جبریل سے داخل ہو (یہ مشرق میں واقع ہے)۔

جب مسجدِ اقدس کے دروازے پر حاضر ہو، صلاۃ و سلام عرض کر کے تھوڑی دیر رکے رہو گویا سرکار سے حاضری کی اجازت مانگ رہے ہو، پھر بسم اللہ کہہ کر سیدھا پاؤں اندر رکھو اور یہ دعا پڑھو:

بِسْمِ اللَّهِ، مَا شَاءَ اللَّهُ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ، وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ۔

ہوش، گوش، قلب و دماغ، آنکھ اور زبان سب خیالِ غیر سے پاک کر کے محبوبِ رب العالمین کے تصور میں ڈوب جاؤ حتیٰ کہ مسجدِ اقدس کے نقش و نگار اور زیبائش کو بھی نہ دیکھو۔ قدم بہت آہستہ آہستہ رکھو کہ آواز نہ ہونے پائے۔ خبردار! خبردار! دھیان رکھو کہ کوئی آواز بلند نہ نکلے۔

یقین جانو کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سچی، حقیقی، دنیاوی، جسمانی حیات کے ساتھ زندہ ہیں، وہ تمہیں دیکھ رہے ہیں۔ نہ صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ تمہارے دل کے خطرات و خیالات پر بھی مطلع ہیں۔ اگر اس وقت جماعتِ صحیحہ قائم ہو تو جماعت میں شریک ہو جاؤ، ورنہ اگر غلبۂ شوق مہلت دے اور وقتِ مکروہ نہ ہو تو دو رکعت تحیۃ المسجد شکرانۂ حاضریِ دربارِ اقدس سورۂ فاتحہ اور قل یا اور قل ہو اللہ سے سنت کی رعایت کرتے ہوئے مختصر سے مختصر پڑھو۔ اگر محرابِ نبوی میں جگہ مل جائے تو کیا کہنا۔ ورنہ جہاں جگہ ملے وہاں پڑھو۔ پھر سجدۂ شکر ادا کرو۔ اللہ عزوجل سے اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب کا سوال کرو اور یہ کہ حاضری کو قبول فرما لے اور حضور بھی قبول فرما لیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!