| عنوان: | امام احمد رضا اور تاریخ اسلامی (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر محمد سجاد عالم رضوی مصباحی |
| پیش کش: | زہرہ یاسمین |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
خلیفہ اور سلطان میں فرق کے بیان میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی اس تشریح کو موجودہ دور میں تاریخِ اسلامی کے ایک موضوع ”تاریخِ افکار و نظریات“ (جسے علمی و فکری تاریخ کا بھی نام دیا جاتا ہے) میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس موضوع پر الماوردی کی الاحکام السلطانیۃ اور امام غزالی کی نصیحۃ الملوک مشہور و معروف کتابیں ہیں۔ ان شرعی اصطلاحات کی تشریح کے بعد اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے شرعی خلافت کے لیے شرطِ قریشیت کے ثبوت میں احادیثِ متواترہ، اور اجماعِ صحابہ و تابعین، اور مذہبِ اہلِ سنت کو پیش کیا ہے۔ اور کتبِ عقائد، کتبِ حدیث، کتبِ فقہ حنفی کے متعدد حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ ہر طبقہ اور قرن کے اجماعِ متضافر ہیں کہ خلیفہ قریش سے ہو۔ غیر قریش کا خلیفہ ہونا جائز نہیں۔ اور اس سلسلے میں شرح العقائد النسفیہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ قریشیت کی شرط میں خارجیوں اور بعض معتزلیوں نے خلاف کیا ہے۔
اس تمہیدی کلام کے بعد اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اس موضوع پر تفصیلی کلام کیا ہے۔ اور ”مولوی فرنگی محلی“ کے خطبۂ صدارت اور ”مسٹر ابوالکلام آزاد“ کے رسالۂ خلافت کا تنقیدی و تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے۔ اس میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے تحریکِ خلافت میں اس مسئلہ کو متنازع فیہ بنانے میں ابوالکلام آزاد اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے کردار اور فکری کاوش کے پسِ منظر کا جائزہ لیا ہے، اور یہ کہا ہے کہ ان کے موقف کی وجہ سے اس پر ائمۂ کرام نے اجماع کے حوالے سے جو نقول پیش کیے ہیں ان کا انکار لازم آتا ہے۔ جو دراصل غیر مقلدوں کی روش ہے۔ اور پھر اس انکارِ اجماع میں ابن خلدون کے جس قول کو سند کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اس کا تجزیاتی مطالعہ پیش فرمایا ہے اور ابن خلدون کے فکری پسِ منظر کا جائزہ پیش کیا ہے۔
اس تفصیلی جائزہ میں سب سے پہلے جن روایتوں کی وجہ سے اوہام و شکوک پیدا کیے جاتے ہیں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ان کو ذکر کیا ہے۔ ان روایات میں حدیثِ بخاری:
اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ
سنو اور مانو اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام عامل کیا جائے، کو پیش کیا جاتا ہے۔
اس کی تشریح میں اعلیٰ حضرت نے فرمایا ہے کہ ابن الجوزی، عینی، حافظ عسقلانی نے شرحِ بخاری کتاب الصلوٰۃ میں فرمایا ہے کہ ”یہ حدیث سرداروں اور عاملوں کے بارے میں ہے، نہ کہ خلفاء میں کہ خلافت تو قریش میں ہے۔ دوسروں کو اس میں دخل نہیں۔“ [ص: 198-199]
اس تشریح کی تائید و حمایت میں اعلیٰ حضرت نے متعدد حوالہ جات پیش فرمائے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک دوسرا اشکال یہ ہے کہ اگر خلافت حضورِ اقدس کے بعد تیس سال رہی تو خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے بعد زمانہ امام سے خالی رہا۔ اور معاذ اللہ تمام امت گنہگار ٹھہری۔ اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں کہ شرحِ عقائد میں اس کا ایک جواب یہ ہے کہ ”وہ جو تیس برس پر ختم ہو گئی خلافتِ راشدہ کا ملخص تھا نہ کہ مطلق خلافت۔ اور اگر تسلیم بھی کر لیں تو شاید خلافت ختم ہو گئی۔ امامت بعد کو رہی۔ اور واجب نصبِ امام ہی تھا۔ تو امت گنہگار نہ ہوئی۔ یہ اس پر مبنی ہو گا کہ امامت خلافت سے عام ہے، مگر ہم نے قوم سے یہ اصطلاح نہ پائی۔ بہرحال جب سے خلفائے عباسیہ نہ رہے امرِ مشکل ہے کہ اس وقت سے نہ کوئی امام ہے نہ کوئی خلیفہ۔“ اس پر اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ جوابِ اول صحیح ہے۔ اس کے علاوہ امامت عام ہے۔ پھر شرحِ مقاصد کے حوالے سے اس کا جواب دیا ہے کہ ”اگر کہا جائے کہ نصبِ امام واجب ہوتا تو اکثر زمانوں میں ترکِ واجب پر امت کا اتفاق لازم آتا ہے کہ امام کے لیے جو صفات لازم ہیں ایسا مدت سے نہیں، خصوصاً جب سے دولتِ عباسیہ نہ رہی۔ خلافت کا نام نشان تک نہ رہا۔ اور ایسا ترکِ واجب گمراہی اور گمراہی پر امت کا اتفاق محال۔ تو ہم جواب دیں گے کہ گمراہی تو جب ہوتی کہ ان کے بعد امت نصبِ امام پر قادر ہوتی اور قصداً ترک کرتی۔ عجز و مجبوری کی حالت میں کیا الزام ہو۔ [ص: 203-204]
اس کے بعد مولانا عبدالباری فرنگی محلی نے اپنے خطبۂ صدارت میں خلافت کے لیے قریشیت کی شرط پر اجماعِ قطعی یقینی ہونے کا انکار کیا تھا۔ اور اس اجماع کو صرف شافعیہ کی طرف منسوب کیا تھا اور کہا تھا کہ احناف کے بعض علماء کے کلام سے صرف مفہوم ہوتا ہے۔ مولانا فرنگی محلی نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس شرطِ قریشیت پر نقلِ اجماع قاضی عیاض سے معلوم ہوتی ہے۔ مگر ثبوتِ اجماع مشکل ہے۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت کا کہنا ہے کہ:
”یہ خلافِ دیانت اور اغوائے عوام ہے۔“ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اجماع کے ثبوت کے لیے نقولِ ائمہ کافی ہیں مگر تازہ لیڈروں کو مقبول نہیں۔
مولانا فرنگی محلی کے اس انکارِ اجماع کے تجزیہ میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا کہنا ہے کہ ”یہ وہابیہ و غیر مقلدین کی تعظیم و تکریم اور جلسوں میں ان کی صدارت و تقدیم کی شامت ہے کہ وہی غیر مقلد کا مسئلہ آ گیا۔“ [ص: 206] اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے مزید کہا ہے کہ ”امامِ اجل قاضی عیاض نے ابتداءً دعویٰ اجماع نہ کیا۔ بلکہ یہ فرمایا کہ علمائے کرام نے اسے مسائلِ اجماع میں گنا۔ تو ان سے ابتداء بتانا تکذیب و گستاخی کی انتہا دکھانا ہے۔ صدرِ اسلام میں ڈیڑھ سو برس تک تصانیف نہ ہوئیں۔ پھر اگلی صدیوں کی ہزاروں کتابیں مفقود ہو گئیں۔ اب صدہا مسائلِ اجماعیہ میں سب سے پہلے جس امام کے کلام میں اجماع نظر آئے اسی کے سر رکھ دیا جائے کہ ابتداء ان سے معلوم ہوتی ہے۔ کتنا آسان طریقہ ردِّ اجماع کا ہے۔ ائمۂ کرام اس پر صحابہ و تابعین و سلفِ صالحین رضی اللہ عنہم اجمعین سے اب تک تمام اہلِ سنت کا اجماع بتاتے، اور اسی بناء پر کتبِ عقائد میں اسے قطعیہ یقینیہ فرماتے ہیں۔ اس کے مقابل اگر کسی صحابی سے کوئی اثر ملے تو اگر وہ انعقادِ اجماع سے پہلے کی گفتگو ہے، اس سے نقضِ اجماع جنونِ خالص ہے۔ یوں ہی اگر تاریخ معلوم نہ ہو، اور اگر بعد کی ہے اور سند صحیح نہیں تو آپ ہی مردود اور صحیح و قابلِ تاویل ہے تو واجب التاویل۔ ورنہ شاذ روایت اجماع کے مقابل قطعاً مضمحل نہ کہ الٹا اس سے اجماع باطل۔“ [ص: 207]
ایک اور وہم یہ پھیلایا جا رہا تھا کہ محققینِ اہلِ سنت عموماً اور امام ابوبکر باقلانی خصوصاً قریشیت کی شرط سے بالکل عدول کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ ”اکابر ائمہ و اعاظم علماء اجماعِ صحابہ، اجماعِ تابعین، اجماعِ امت نقل فرما رہے ہیں اور ناقلانِ خلاف صرف خارجیوں اور معتزلیوں کا خلاف بتاتے ہیں۔ مگر ان میں سے کسی نے بھی امام باقلانی کا نام نہیں لیا۔ شرحِ عقائد نسفی کے الفاظ تو آبِ زر سے لکھنے کے ہیں کہ
لَمْ يُخَالِفْ إِلَّا الْخَوَارِجُ وَبَعْضُ الْمُعْتَزِلَةِ
اس میں کسی نے خلاف نہ کیا سوا خارجیوں اور بعض معتزلیوں کے۔ تمام نقولِ اجماع کا یہی مطلب ہے۔ مگر اس میں محققینِ اہلِ سنت و امام باقلانی کی طرف اس نسبتِ باطلہ کی روشن تفضیح ہے۔ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ۔ اجلۂ اکابر، ائمۂ اہلِ سنت، ائمۂ کلام، و اکابرِ حدیث، و اعاظمِ فقہ سب کے ارشادات پسِ پشت ڈالنا اور ایک متاخر مورخ ابن خلدون کے قولِ بے سند پر سر منڈوا بیٹھنا کیا شرطِ دین پرستی ہے۔ اجلۂ جہابذۂ ناقدین کو نہ معلوم ہوا کہ خود امامِ سنت باقلانی و محققینِ اہلِ سنت اس مسئلہ میں مخالف ہیں۔ برابر اجماع نقل فرماتے رہے۔ مسئلہ پر جزم و یقین فرمایا کیے۔ اہلِ خلاف کو خارجی معتزلی بدعتی کہتے رہے۔ مگر آٹھویں صدی کے اخیر میں اس مورخ کو حقیقتِ حال معلوم ہوئی کہ اس میں تو محققینِ اہلِ سنت و امامِ سنت مخالف ہیں۔ [ص: 208]
ابن خلدون کی تاریخ نگاری کا تنقیدی مطالعہ:
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ابن خلدون کی تاریخ نگاری کا تجزیہ کیا ہے۔ جس کے فلسفۂ تاریخ نے اہلِ مغرب کو بھی اپنا گرویدہ بنایا ہے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ابن خلدون کے فکری پسِ منظر، تاریخ نگاری میں عقلیت اور وجودیت (نیچریت) کے عناصر اور پھر تاریخِ اسلامی میں اس کے نظریۂ عصبیت کے انطباق کے اثرات کی نفیس تحقیق فرمائی ہے۔ آپ لکھتے ہیں: ”ابن خلدون کی حالت عجب ہے۔ اس کے کلام سے کہیں اعتزال کی بو آتی ہے۔ کہیں نیچریانہ اسباب پرستی کی جھلک پائی جاتی ہے۔ اولیائے کرام کا صاف دشمن ہے۔ ان کو رافضیوں کا مقلد بتاتا ہے۔ اقطاب و ابدال کا منکر ہے۔ فتوحاتِ اسلام کا راز عربی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا وحشی ہونا بتایا ہے۔ اور یہ کہ امیر المومنین فاروقِ اعظم نے جہاد پر بھیجتے وقت انہیں وحشیت پر ابھار دیا تھا۔ صحابہ وحشی ہونے کے سبب لکھنا ٹھیک نہ جانتے تھے۔ اس لیے قرآنِ عظیم جابجا غلط لکھا۔ اولیاء کو جادوگروں کے حکم میں رکھنے کو کہا۔ اجلۂ اکابر محبوبانِ خدا کو نام بنام حتیٰ کہ شیخ الاسلام ہروی کو لکھتا ہے کہ یہ حلولی تھے اور یہ کفر انہوں نے روافضِ اسماعیلیہ سے سیکھا۔
إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنْ هَفَوَاتِهِ الشَّنِيعَةِ
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ مزید فرماتے ہیں:
”اور پھر تستر کے لیے یا خود اپنے حال سے ناواقفی کے باعث جابجا سنیت و اعتقادِ اولیاء کا اظہار بھی کرتا ہے۔ جس نے محققین و شیخ الاسلام امام ہروی کی طرف کفر میں تقلیدِ روافض کی نسبت کر دی وہ اگر محققین و امام باقلانی کی طرف بدعت میں تقلیدِ خوارج نسبت کر دے، کیا بعید ہے۔ ہاں عجب ان مدعیانِ سنت سے کہ تمام اکابر ائمہ و علمائے اہلِ سنت کے ارشادتِ عالیہ پر پانی پھیرنے کے لیے ایک ایسے مورخ کا دامن تھامیں۔“
اس کے بعد اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ابن خلدون کا فکری رشتہ خوارج و معتزلہ سے جوڑا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ”نہیں نہیں۔ بلکہ اس کا راز اور ہے۔ خود اسی مبحث سے روشن کہ وہ آپ مبتدع اور خوارج کا تابع اور اجماعِ صحابۂ کرام کا خارق اور ضراریہ و معتزلہ کا موافق ہے۔ اس نے اولاً شرائطِ خلافت میں کہا کہ قریشیت کی شرط اس لیے ہے کہ صحابۂ کرام نے اس پر اجماع کیا۔ پھر اس اجماع کی منشا و مستند حدیثیں ذکر کیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ۔“ اور کہا کہ اس پر دلائل بکثرت ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ ردِّ احادیث و اجماع کی طرف سرکا کہ
لَمَّا ضَعُفَ أَمْرُ قُرَيْشٍ وَتَلَاشَتْ عَصَبِيَّتُهُمْ فَاشْتَبَهَ ذَلِكَ عَلَى كَثِيرٍ مِنَ الْمُحَقِّقِينَ حَتَّى ذَهَبُوا إِلَى نَفْيِ اشْتِرَاطِ الْقُرَشِيَّةِ
جب قریش میں ضعف آیا اور ان کی حمیت جاتی رہی تو بہت محققوں کو یہاں شبہ لگا یہاں تک کہ نفی شرطِ قریشیت کی طرف گئے۔ یہاں دونوں پہلو دیکھیے۔ اشتباہ کہا جس سے مفہوم ہو کہ ان کو غلطی پر جانتا ہے۔ اور انہیں محققین کہا جس سے مترشح ہو کہ ان کے زعم کو تحقیق مانتا ہے۔ پھر ان کے دو شبہے ذکر کیے، ایک اسی حدیث دربارۂ غلامِ حبشی سے جس کے جواب کلامِ ائمہ سے گزرے۔ دوسرا اشبہ اس روایت سے کہ امیر المومنین فاروق سے مروی ہوا:
لَوْ كَانَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ حَيًّا لَوَلَّيْتُهُ
اگر ابو حذیفہ کے غلام آزاد شدہ زندہ ہوتے تو میں ضرور ان کو والی بناتا۔ یا فرمایا:
لَمَا دَخَلَتْنِي فِيهِ الظِّنَّةُ
ان پر مجھے کوئی بدگمانی نہ ہوتی۔
اس کا کھلا ہوا روشن جواب یہ تھا کہ امیر المومنین نے فرمایا ہے لَوَلَّيْتُهُ (میں انہیں والی کرتا) نہ کہ اسْتَخْلَفْتُهُ (میں اسے خلیفہ کرتا)۔ والی ایک صوبہ کا بھی ہوتا ہے۔ ایک شہر کا بھی ہوتا ہے۔ جسے خلیفہ مقرر فرمائے۔ تو اسے یہاں سے کیا علاقہ، اس روشن جواب کو اول تو یہ جواب دیا کہ مَذْهَبُ الصَّحَابِيِّ لَيْسَ بِحُجَّةٍ۔ یعنی یہ اگر ہے تو عمر کا قول ہے۔ اور عمر کا قول کچھ حجت نہیں۔ شانِ فاروقی میں یہ کلمہ جیسا ہے اہلِ ادب پر ظاہر ہے۔ یہاں تک تو یہی تھا۔ آگے دوسرے جواب کے تیور دیکھیے، کہتا ہے:
وَأَيْضًا مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ وَعَصَبِيَّةُ الْوَلَاءِ حَاصِلَةٌ لِسَالِمٍ فِي قُرَيْشٍ. وَهِيَ الْفَائِدَةُ فِي اشْتِرَاطِ النَّسَبِ وَصَرَاحَةُ النَّسَبِ غَيْرُ مُحْتَاجٍ إِلَيْهِ إِذَا الْفَائِدَةُ فِي النَّسَبِ إِنَّمَا هِيَ الْعَصَبِيَّةُ وَهِيَ حَاصِلَةٌ مِنَ الْوَلَاءِ
یعنی دوسرا جواب یہ کہ کسی قوم کا آزاد شدہ غلام انہی میں سے ہے اور اس رشتۂ ولا کے باعث قریش سالم کی حمیت کرے۔ اور یہی قومی حمیت شرطِ نسب کا فائدہ ہے۔ صاف نسب کی حاجت نہیں کہ وہ تو اسی حمیت کی غرض سے ہے۔ اور حمیت اپنے آزاد کیے ہوئے غلام کی بھی کرتے ہیں۔ [ص: 211-212]
اس تجزیہ کے بعد اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”لِلّٰهِ الْإِنْصَافُ! دکھانا تو یہ ہے کہ جو شرطِ قریشیت نہیں مانتے ان کے شبہ کا جواب دے رہا ہے اور جواب وہ دیا جس نے شرطِ قریشیت کو اکھاڑ پھینکا کہ نسب کی کوئی حاجت نہیں۔ قومی حمیت سے کام ہے جس طرح بھی ہو، پھر بھی قریشیت کا کچھ ڈورا لگا رکھا کہ قریشی نہ ہو تو اس کا آزاد کردہ غلام تو ہو۔ اگرچہ یہاں اس میں بھی کلام ہے۔ سالم رضی اللہ عنہ کو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے آزاد نہ فرمایا۔ نہ وہ ان کے غلام تھے۔ بلکہ ان کی بی بی ثبیبہ رضی اللہ عنہا کے غلام تھے۔ انہوں نے آزاد کیا اور وہ انصاریہ ہیں نہ کہ قریشیہ۔ ہاں براہِ موالات و دوستی مولیٰ ابی حذیفہ کہلاتے ہیں۔ ابو حذیفہ نے ان کو متبنیٰ کیا تھا۔ اور اپنی بھتیجی فاطمہ سے ان کی شادی کر دی۔ رضی اللہ عنہم اجمعین۔“ [ص: 212]
پھر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ، ابن خلدون کا تعاقب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”غرض یہاں تک بھی دونوں پلے بجائے مگر نفی کا پلہ غالب کر دیا کہ یہ حقیقت ہے اور یہاں قریشیت کا لگاؤ رہنا مجاز۔ اب اندیشہ کیا کہ لوگ خارجی معتزلی سمجھیں گے کہ صحابہ کا اجماع چھوڑ کر ان گمراہوں کی تقلید کی۔ اس کے علاج کو یہ مخالفت امامِ اہلِ سنت کے سر رکھ دی اور کہا:
وَمِنَ الْقَائِلِينَ بِنَفْيِ اشْتِرَاطِ الْقُرَشِيَّةِ الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ الْبَاقِلَّانِيُّ. لَمَّا أَدْرَكَ عَصَبِيَّةَ قُرَيْشٍ مِنَ التَّلَاشِي فَأَسْقَطَ شَرْطَ الْقُرَشِيَّةِ وَإِنْ كَانَ مُوَافِقًا لِرَأْيِ الْخَوَارِجِ وَبَقِيَ الْجُمْهُورُ عَلَى الْقَوْلِ بِاشْتِرَاطِهَا. وَلَوْ كَانَ عَاجِزًا عَنِ الْقِيَامِ بِأُمُورِ الْمُسْلِمِينَ وَوَرَدَ عَلَيْهِمْ سُقُوطُ شُرُوطِ الْكِفَايَةِ لِأَنَّهُ إِذَا ذَهَبَتِ الشَّوْكَةُ بِذَهَابِ الْعَصَبِيَّةِ فَقَدْ ذَهَبَ الْكِفَايَةُ وَإِذَا وَقَعَ الْإِخْلَالُ بِشَرْطِ الْكِفَايَةِ تَطَرَّقَ ذَلِكَ أَيْضًا إِلَى الْعِلْمِ وَالدِّينِ وَسَقَطَ اعْتِبَارُ شُرُوطِ هَذَا الْمَنْصِبِ وَخِلَافُ الْإِجْمَاعِ
یعنی امام قاضی ابوبکر باقلانی نے قریشیت کی شرط نہ مانی کہ قریش کی حمیت فنا ہو گئی۔ ولہٰذا اس کی شرط انہوں نے ساقط کر دی۔ اگرچہ یہ خارجیوں کے مذہب کے موافق ہے اور جمہور اب بھی قریشیت مانتے رہے۔ اگرچہ خلیفہ مسلمانوں کا کام بنانے سے عاجز ہو۔ اور ان پر اعتراض ہے کہ لیاقت کار کی شرط جاتی رہی کہ جب حمیت جانے سے شوکت گئی، کام کیا بنا سکے گا۔ اور جب شرطِ کفایت چھوٹی۔ یہی راہ شرطِ علم و شرطِ دین کی طرف چلے گی اور خلافت کی شرطیں ساقط الاعتبار ہو جائیں گی۔ یہ خلافِ اجماع ہے۔ (ملخصاً) [ص: 212-213]
