| عنوان: | امام احمد رضا اور تاریخ اسلامی (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر محمد سجاد عالم رضوی مصباحی |
| پیش کش: | زہرہ یاسمین |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اس سلسلے میں اپنی تحقیق پیش کرتے ہیں: ”میں کہتا ہوں: اس کلام میں تاویل کرنے والے پر دونوں اماموں کے دو قولوں کی طرف میلان کے بارے میں نقطہ نظر کے اختلاف کا منشا ظاہر ہو جاتا ہے۔ سہیلی نے دیکھا کہ ابوحنیفہ کا قول تب ہی متفق ہو سکتا ہے جب تینوں مہینے یعنی ذوالحجہ، محرم اور صفر، پرپے ناقص ہوں۔ اور یہ انتہائی نادر ہے۔ بخلاف قولِ اول کے کہ اس پر ایک مہینہ کامل اور دو ناقص ہوتے ہیں۔ اور یہ کثیر الوقوع ہے۔ چنانچہ سہیلی کی نظر میں یہ راجح ہے باوجودیکہ یہ ثبوت میں اس کی نسبت اقویٰ ہے۔ جب کہ حافظ نے اس بات کو ملحوظ رکھا ہے چنانچہ اس قول کی طرف میلان کرنا جس میں ان کے لیے عذر کا اظہار ہو زیادہ بہتر اور زیادہ قوی ہے۔ جیسا کہ لفظِ شہر کے لفظِ عشر کے ساتھ تبدیل ہو جانے کا ذکر گزر چکا ہے۔ مگر امام بدر بن جماعہ نے قولِ جمہور کی یہ تاویل کی کہ اثنیٰ عشر خلت سے بارہ دن گزرنا مراد ہے نہ صرف بارہ راتیں۔ اور بظاہر کہ بارہ دن گزرنا تیرہویں ہی تاریخ پر صادق آئے گا۔ اور دوشنبہ کی تیرہویں بے تکلف صحیح ہے جب کہ پہلے تینوں مہینے کامل ہوں۔ کما علمت۔ اور امام بارزی اور امام ابنِ کثیر نے یوں توجیہ فرمائی کہ مکہ معظمہ میں ہلالِ ذوالحجہ کی رؤیت شام چار شنبہ کو ہوئی۔ پنج شنبہ کا غرہ اور جمعہ کا عرفہ۔ مگر مدینہ طیبہ میں رؤیت دوسرے دن ہوئی۔ تو ذی الحجہ کی پہلی جمعہ ٹھہری۔ اور تینوں مہینے ذی الحجہ، محرم، صفر تینوں کے ہوئے تو غرۂ ربیع الاول پنج شنبہ اور بارہویں دوشنبہ آئی۔ ذکرہا الحافظ فی الفتح۔“ [ص: 230-231]
اس مسئلہ کے حل میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے علمِ ہیئت اور کتبِ زیجات کی روشنی میں یہ تحقیق فرمائی ہے۔
نَعَمْ أَقُولُ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ
قولِ جمہور سے قولِ مہجور کی طرف عدول نامقبول ہونے کے لیے اسی قدر بس تھا کہ اس کے لیے توجیہِ وجیہ موجود ہے۔ نہ کہ جب وہ اقوالِ مہجور دلائلِ قاطعہ سے باطل ہوں کہ اب تو ان کی طرف کوئی راہ نہیں۔ اوپر واضح ہوا کہ ان دونوں حضرات کا منشائے عدول تمسک بالحساب ہے کہ پیر کا دن یقینی تھا اور بارہویں پر منطبق نہیں آتا۔ پہلی دوسری پر آ سکتا ہے مگر حساب ہی شاہدِ عدل ہے کہ اس سال ربیع الاول شریف کی پہلی یا دوسری پیر کو ہونا باطل و محال ہے۔ فقیر اس پر دو حجتِ قاطعہ رکھتا ہے۔
دلیلِ اول:
غرۂ وسطیہ کہ علمائے زیج بحسابِ اوسط لیتے ہیں نیرین کے اجتماعِ وسطی سے اخذ کرتے ہیں اور بداہت واضح ہے کہ رؤیتِ ہلال اجتماعِ قمرین سے ایک مدتِ معتدبہا کے بعد واقع ہوتی ہے۔ تو غرۂ ہلال کبھی غرۂ وسطیہ سے مقدم نہ آئے گا۔
وَإِنَّمَا غَايَتُهُ التَّسَاوِي
اور اجتماع و رؤیت میں کبھی اتنا فصل بھی نہیں ہوتا کہ قمر ڈیڑھ دو برج طے کر جائے۔ لہٰذا تقدمِ وسطیہ کی نہایت ایک دو دن ہے و بس۔
كُلُّ ذَلِكَ ظَاهِرٌ لِمَنْ لَهُ اشْتِغَالٌ بِالْفَنِّ
اور آشنائے فن جانتا ہے کہ ماہِ مبارک ربیع الاول شریف کا غرۂ وسطیہ روزِ سہ شنبہ تھا تو غرۂ ہلالیہ یک شنبہ یا دوشنبہ کیونکر متصور کہ اگر یہ سہ شنبہ متاخر ہے تو ہلالیہ کا وسطیہ پر تقدم لازم آتا ہے اور اگر مقدم ہے تو اجتماع سے چار پانچ روز تک رؤیت نہ ہونے کا لزوم ہوتا ہے۔ اور دونوں باطل ہیں۔
دلیلِ دوم:
فقیر نے شامِ دوشنبہ 29 صفر 11ھ وسطے کے لیے افقِ کریم مدینہ طیبہ میں نیرین کی تقویمات استخراج کیں۔ اور حسابِ صحیحِ معتمد نے شہادت دی کہ اس وقت تک فصلِ قمرین حدِ رؤیتِ معتاد پر نہ تھا۔ آفتاب جوزا کے سترہ دقیقے، باون ثانیے پر تھا۔ اور چاند کی تقویمِ مرئی جوزا کے پندرہ درجے، ستائیس دقیقے، اکتیس ثانیے، فاصلہ صرف 9 درجے 9 دقیقے 39 ثانیے تھا۔ اور حسبِ قولِ متعارف اہلِ عمل رؤیت کے لیے کم سے کم دس درجے سے زیادہ فاصلہ چاہیے۔ جب شبِ سہ شنبہ تک نیرین کا یہ حال تھا کہ وقوعِ رؤیتِ ہلال ایک مخفی غیر متوقع احتمال تھا۔ تو اس سے دو ایک رات پہلے کا وقوع بداہۃً محال تھا۔ جب اس رات قمر صرف نو درجے آفتاب سے شرقی ہوا تھا۔ تو شامِ یک شنبہ کو قطعاً کئی درجے اس سے غربی تھا۔ اور غروبِ شمس سے کوئی پاؤ گھنٹے پہلے ڈوبا۔ اور شامِ شنبہ کو تو عصر کا اعلیٰ مستحب وقت تھا۔ جب چاند حجلہ نشینِ مغرب ہو چکا۔ پھر رات کو رؤیتِ ہلال کیا زمین چیر کر ہوئی؟ غرض دلائلِ ساطعہ سے ثابت کہ اس ماہِ مبارک کی پہلی یا دوسری دوشنبہ کی ہرگز نہ تھی۔ اور روزِ وفاتِ اقدس یقیناً دوشنبہ ہے۔ تو وہ دونوں قول قطعاً باطل ہیں۔ اور حق و صواب وہی قولِ جمہور بمعنی مذکور ہے۔ یعنی واقع میں تیرہویں اور بوجہِ مسطور تعبیر میں بارہویں کہ بحسابِ شمسی نہم جزیرآں 933 رومی نو سو تینتیس رومی اسکندرانی، ہشتم جون 632 چھ سو بتیس عیسوی تھی۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ [ص: 423-427]
اس طرح سے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ولادتِ شریفہ اور وصالِ شریف کے دن، مہینے اور سال اور تاریخ کی تعیین کے سلسلے میں اپنی تحقیق کے ذریعے جمہور کے قول کو ترجیح دی ہے۔ اور پھر علمِ توقیت اور علمِ زیجات اور علمِ ہیئت کے اصول کے مطابق دلائل و شواہد کی بنیاد پر اس قول کی تصحیح و تصدیق کی ہے۔ اور ان اشکالات کا ازالہ کیا ہے جن کی بنیاد پر سیرتِ طیبہ اور اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کیے جا رہے تھے۔
تصورِ خلافت اور شرطِ قریشیت:
تحریکِ خلافت کے زمانے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے خلافت کے لیے قریشیت کی شرط اور سلطنتِ عثمانیہ کی اعانت کے مسئلے پر ایک رسالہ لکھا تھا۔ اس رسالہ کا نام “دَوَامُ الْعَيْشِ فِي الْأَئِمَّةِ مِنْ قُرَيْشٍ” ہے۔ یہ رسالہ فتاویٰ رضویہ مترجم، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن کی 14ویں جلد؛ (ص: 371 سے 472) میں شامل ہے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اس رسالہ میں تاریخِ اسلامی کے ایک اہم موضوع ”تصورِ خلافت“ پر اہلِ سنت و جماعت کے نقطہ نظر سے بھرپور بحث کی ہے اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی اور مولوی ابوالکلام آزاد کے افکار و نظریات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ اور اسی ضمن میں ابن خلدون کے فکر و فلسفہ کے بنیادی تصورات پر کلام کیا ہے۔ اور تاریخِ اسلامی کے ابتدائی دور کو سمجھنے کے لیے ان کو شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مقصود کے خلاف بتایا ہے۔
اس تحقیقی تجزیہ سے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے شعورِ تاریخ، مصادر و مراجع پر نظر اور اس مسئلے پر مورخین کے فکری و نظریاتی پس منظر سے آگہی کا ثبوت ملتا ہے۔ ساتھ ہی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اس مسئلے کو متنازع فیہ بنانے میں جن لوگوں کا رول تھا ان کے اہداف و مقاصد پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ اس سلسلے میں ابن خلدون کی تحریر کا جو تجزیاتی مطالعہ آپ نے پیش کیا ہے اس سے تاریخِ اسلامی میں آپ کے تنقیدی شعور کا بھی سراغ ملتا ہے۔ اس مسئلہ پر اہلِ سنت و جماعت کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”سلطنتِ عثمانیہ ایّدہا اللہ تعالیٰ، نہ صرف عثمانیہ، ہر سلطنتِ اسلام، نہ صرف ہر سلطنت، ہر جماعتِ اسلام، نہ صرف ہر جماعت، ہر فردِ اسلام کی خیر خواہی ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس میں قریشیت کی شرط ہونا کیا معنی۔ دل سے خیر خواہی مطلقاً فرضِ عین ہے۔ اور وقتِ حاجت دعا سے امداد و اعانت بھی ہر مسلمان کو چاہیے، کہ اس سے کوئی عاجز نہیں۔ اور مال یا اعمال سے اعانت فرضِ کفایہ ہے اور فرض بقدرِ قدرت، ہر حکم بشرطِ استطاعت۔
قَالَ اللهُ تَعَالَى: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔
وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو اللہ سے ڈرو جہاں تک ہو سکے۔ مفلس پر اعانتِ مال نہیں۔ بے دست و پا پر اعانتِ اعمال نہیں۔ و لہٰذا مسلمانانِ ہند پر حکمِ جہاد و قتال نہیں۔ بادشاہِ اسلام اگرچہ غیر قریشی ہو، اگرچہ کوئی غلام حبشی ہو، امورِ جائزہ میں اس کی اطاعت تمام رعیت اور وقتِ حاجت اس کی اعانت بقدرِ استطاعت سب اہلِ کفایت پر لازم ہے۔ البتہ اہلِ سنت کے مذہب میں خلافتِ شرعیہ کے لیے ضرور قریشیت شرط ہے۔ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر حدیثیں ہیں۔ اسی پر صحابہ کا اجماع، تابعین کا اجماع، اہلِ سنت کا اجماع ہے۔ اس میں مخالف نہیں مگر خارجی یا کچھ معتزلی۔ کتبِ عقائد و کتبِ حدیث و کتبِ فقہ اس سے مالامال ہیں۔ بادشاہِ غیر قریشی کو سلطان، امام، امیر، والی، ملک کہیں گے۔ مگر شرعاً خلیفہ یا امیر المومنین، کہ یہ بھی عرفاً اسی کا مترادف ہے، ہر بادشاہِ قریشی کو بھی نہیں کہہ سکتے۔ سوا اس کے جو ساتوں شروطِ خلافت: اسلام، عقل، بلوغ، حریت، ذکورت، قدرت، قریشیت کا جامع ہو کر تمام مسلمانوں کا فرمانروائے اعظم ہو۔“ [ص: 374-375]
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ مزید فرماتے ہیں کہ ”اسمِ خلافت میں یہ شرعی اصطلاح ہے۔ جملہ صدیوں میں اسی پر اتفاقِ مسلمین رہا۔ زمانۂ صحابہ سے برابر علمائے کرام خلفاء و ملوک کو علیحدہ کرتے آئے۔ حتیٰ کہ خود سلاطین اس کے پابند رہے اور آج تک ہیں۔ بڑے بڑے جبار بادشاہ گزرے کبھی غیر قریش نے ترک ہوں یا مغل یا پٹھان یا کوئی اور، اپنے آپ کو خلیفہ نہ کہلوایا، نہ خلافتِ مصطفویہ شرعیہ کا دعویٰ کیا۔ جب تک خلافتِ عباسیہ قائم رہی۔ خلیفہ ہی کی سرکار سے سلاطین کی تاجپوشی ہوئی۔ سلطان دستِ خلیفہ پر بیعت کرتا اور اس منصبِ شرعی کا مستحق اسی کو جانتا۔ اگرچہ زور و طاقت و سطوت میں اس سے کہیں زائد ہوتا۔“ [ص: 375]
خلافتِ بنی عباسیہ کے دورِ انتشار میں سلطنتوں کا ظہور ہوا۔ ان حکومتوں کی معتبریت اور جواز کے لیے سلطانوں نے خلیفۂ وقت سے پروانہ اور خلعت حاصل کیا۔ ان سلطانوں کے رویے کے بارے میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے جو عمومی تجزیہ پیش کیا ہے اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو اسلامی تاریخ کے مدوجزر کا مکمل علم تھا۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ہندوستان اور مصر میں سلطنت کے جواز اور اس کی معتبریت کے لیے سلطانوں کے رویے کو بیان کرنے کے بعد خلافت تحریک کے حامی ابوالکلام آزاد کے قول میں تضاد کی نشاندہی بھی کی ہے جو ایک طرف تو خلافت کی اسی نسبت کی اہمیت تسلیم کرتے تھے کہ ”فرمانروائے اقلیمِ مصر دربارِ خلافت سے اذن و اجازت پر فخر کرتے تھے“ اور دوسری طرف وہ یہ کہتے تھے کہ ”انتخابِ خلیفہ کا موقع نہ رہا ہو تو خلیفہ تسلیم کر لینے کے لیے بجز اسلام اور حکومت کے جماؤ اور جگہ پکڑ لینے کے اور کوئی شرط نہیں“۔
اس پر اسلامی تاریخ کے مصادر و مراجع کے حوالے سے آپ فرماتے ہیں کہ ”سبحان اللہ! یہ سلاطینِ ہند و سلاطینِ مصر اور خود سلطانِ بیبرس جس نے اس خلافت کی بنیاد رکھی مسلمان ہی تھے اور ان کی حکومتیں جمی ہوئی تھیں تو آپ (ابوالکلام آزاد) کی کافی ساختہ دونوں شرطِ خلافت موجود تھیں۔ پھر انہوں نے خود اپنے آپ کو خلیفہ کیوں نہ جانا۔ اور ان کی حکومت شرعی طور پر ماننے کے قابل کیوں نہ ہوئی۔ حالانکہ آپ کے نزدیک شریعت کا حکم ہے کہ ”اسی کو خلیفہ ماننا چاہیے خواہ تمام شرطیں اس میں پائی جائیں یا نہ پائی جائیں“ اور ”ہر مسلمان پر از روئے شرع واجب ہے کہ اسی کو خلیفۂ اسلام تسلیم کرے۔“ خیر آپ کا تناقض آپ کو مبارک۔ سلاطینِ اسلام نے کیوں اپنی خلافت نہ مانی اور وہ کیا بات ان میں کم تھی جس کے لیے انہیں دوسرے کی خلافت جمانے اور اس کی اجازت کے صدقے اپنی حکومت کو شرعی منوانے کی ضرورت پڑی۔ ظاہر ہے کہ وہ نہ تھی مگر شرطِ قریشیت۔ مسٹر کو چھوڑیے، جنہوں نے دو ہی شرطیں رکھیں، ائمۂ دین تو سات بتاتے ہیں۔ دیکھیے شاید ان میں کی کوئی اور شرط مفقود ہونے کے سبب سلاطین نے اپنے آپ کو خلیفہ نہ سمجھا۔ اوپر گزرا کہ وہ اسلام، حریت، ذکورت، عقل، و بلوغ، وقدرت و قریشیت ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں ان سلاطین میں چھ موجود تھیں۔ پہلی پانچ بداہۃً اور قدرت یوں کہ حکومت کا جماؤ بے اس کے نہیں۔ تو صرف ایک شرطِ قریشیت نہ تھی۔ لاجرم اسی کے نہ ہونے سے تمام سلاطین نے اپنے آپ کو خلیفہ نہ مانا اور قریشی خلافت کا محتاجِ دست نگر جانا۔“ [ص: 378]
تاہم خلفاء میں قدرت اور عدمِ قدرت کے مسئلے پر فرماتے ہیں: ”کیونکہ ان نام کے خلفاء میں اگر قریشیت موجود تھی۔ قدرت مفقود تھی کہ وہ سلاطین کے ہاتھوں میں شطرنج کے بادشاہ تھے۔ جبار خونخوار متکبر سلاطین کے سر میں یوں بھی سودائے مساوات و بے نیازی نہ سمایا۔ اور انہیں کو خلیفہ اور اپنے کو ان کا محتاج ٹھہرایا۔ روشن ہوا کہ وہ شرطِ قریشیت کس درجہ اہم و ضروری تر جانتے تھے۔ انہوں نے خیال کیا کہ قدرت مکتسبہ بھی ہوتی ہے۔ بلکہ اسے اکتساب سے مفر نہیں کہ ملکوں پر تنہا کا تسلط عادۃً نہیں ہوتا۔ مگر افواج و اطاعتِ جماعت سے۔ جب اقتدار والوں نے انہیں سر پر رکھ لیا تو مقصودِ اقتدار حاصل ہو گیا۔ جیسے خلیفہ میں خود عالمِ اصول و فروع ہونے کی شرط اتفاقی نہ رہی کہ دوسرے کے علم سے کام چل سکتا ہے۔ لیکن قریشیت ایسی چیز نہیں کہ دوسرے سے مکتسب ہو۔ لہٰذا اپنے اقتدار کا خیال نہ کیا۔ اور ان کی قریشیت کے آگے سر جھکا دیا۔ [ص: 378-379]
پھر خلاصۂ کلام میں اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ ترکوں کی سلطنت کو خلافتِ راشدہ نہ کہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان کی اعانت نہیں کی جائے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اعانت ضرور کی جائے مگر اس کے لیے ایک شرعی اصطلاح کا غلط استعمال کسی طرح ضروری نہیں۔
”الحمد للہ کیسے روشن بیانوں سے ثابت ہوا کہ یہ سارے جلوے شرطِ قریشیت کے تھے۔ تمام سلاطین کا خود یہی عقیدہ تھا کہ ہم بوجہِ عدمِ قریشیت لائقِ خلافت نہیں۔ قریشی کے سوا دوسرا شخص خلیفہ نہیں ہو سکتا کہ ہر وقت و قرن کے علماء انہیں یہی بتاتے رہے۔ اور قطعاً یہی مذہبِ اہلِ سنت ہے۔ اور اسی پر احادیثِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر شہادت ہے۔
فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ
رہا مسئلہ اعانت، کیا آپ لوگوں کی زعم میں سلطانِ اسلام کی اعانت کچھ ضرور نہیں۔ صرف خلیفہ ہی کی اعانت جائز ہے؟ کہ مسلمانوں کو اعانت پر ابھارنے کے لیے ادعائے خلافت ضرور ہو یا سلطانِ مسلمین کی اعانت صرف قادروں پر ہے اور خلیفہ کی اطاعت بلا قدرت بھی فرض ہے۔ یہ نصوصِ قطعیہ قرآن کے خلاف ہے۔ اور جب کوئی وجہ نہیں۔ پھر کیا ضرورت تھی کہ سیدھی بات میں جھگڑا ڈالنے کے لیے جملہ علمائے کرام کی واضح تصریحاتِ متضافرہ اور اجماعِ صحابہ و اجماعِ امت و احادیثِ متواترہ کے خلاف یہ تحریک لفظِ خلافت سے شروع کر کے عقیدۂ اجماعیہ اہلِ سنت کا خلاف کیا جائے۔ خارجیوں، معتزلیوں کا ساتھ دیا جائے۔ دور از کار تاویلوں، تبدیلیوں، تحریفوں، خیانتوں، عنادوں، مکابروں سے حق چھپانے اور باطل پھیلانے کا ٹھیکا لیا جائے۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ۔“ [ص: 183]
اس طرح سے تاریخِ اسلامی کی کتب کے حوالوں سے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے خلیفہ اور سلطان کے عمل سے ثبوت فراہم کیے ہیں کہ خلافت کے لیے قریشیت کی شرط ہے۔ اس تجزیہ سے اسلامی تاریخ پر آپ کی گہری نظر کا پتا چلتا ہے۔ کتبِ تاریخ کی روشنی میں اس مسئلہ میں اہلِ سنت و جماعت کے موقف کی وضاحت کے بعد اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اس موضوع پر تفصیلی کلام کیا ہے۔ اس ضمن میں آپ نے خلیفہ و سلطان کے فرق اور اس سلسلے میں شرعی اصطلاح اور عرفی اصطلاح کی نوعیت اور اثر کو بیان کیا ہے۔ اس ضمن میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے سیاسی فلسفہ اور سیاسی نظام پر بحث کی ہے جو اسلامی تاریخ کا ایک نمایاں باب ہے۔ آپ لکھتے ہیں:
”خلیفہ حکمرانی و جہانبانی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائبِ مطلق تمام امت پر ولایتِ عامہ والا ہے۔ خود سر کفار کا اسے نہ ماننا شرعاً اس کے استحقاقِ ولایتِ عامہ میں مخل نہیں۔ جس طرح ان کا خود نبی کو نہ ماننا۔ یونہی روئے زمین کے مسلمانوں میں جو اسے نہ مانے گا اس کی خلافت میں خلاف نہ آئے گا۔ یہ خود ہی باغی قرار پائے گا۔ اور اصطلاح میں سلطان وہ بادشاہ ہے جس کا تسلط قہری ملکوں پر ہو۔ چھوٹے چھوٹے والیانِ ملک اس کے زیرِ حکم ہوں۔ یہ دو قسم کے ہوتے ہیں:
-
مولیٰ جسے خلیفہ نے والی کیا ہو۔ اس کی ولایت حسبِ عطائے خلیفہ ہوگی جس قدر پر والی کرے۔
-
متغلب کہ بزورِ شمشیر ملک دبا بیٹھا۔ اس کی ولایت اپنی قلمرو پر ہوگی و بس۔
خلیفہ کی اطاعت غیر معصیتِ الٰہی میں تمام امت پر فرض ہے جس کا منشا خود اس کا منصب ہے کہ نائبِ رسولِ رب ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور سلطان کی اطاعت صرف اپنی قلمرو پر۔ پھر اگر مولیٰ ہے تو بواسطۂ عطائے خلیفہ اس منصب ہی کی وجہ سے کہ اس کا امر امرِ خلیفہ ہے، اور امرِ خلیفہ امرِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور اگر متغلب ہے تو نہ اس کے منصب سے کہ وہ شرعی نہیں بلکہ دفعِ فتنہ اور اپنے تحفظ کے لیے۔ خلیفہ نے جس مباح کا حکم دیا حقیقۃً فرض ہو گیا۔ جس مباح سے منع کیا حقیقۃً حرام ہو گیا۔ یہاں تک کہ تنہائی و خلوت میں بھی اس کا خلاف جائز نہیں۔ کہ خلیفہ نہ دیکھے، اللہ دیکھتا ہے۔ خلیفہ ایک وقت میں تمام جہاں میں ایک ہو سکتا ہے۔ اور سلاطین دس ملکوں کے دس۔ کوئی سلطان اپنے انعقاد و سلطنت میں دوسرے سلطان کے اذن کا محتاج نہیں مگر ہر سلطان اذنِ خلیفہ کا محتاج ہے کہ بے اس کے اس کی حکومت شرعی و مرضی نہیں ہو سکتی۔ خلیفہ بلا وجہِ شرعی کسی بڑے سے بڑے سلطان کے معزول کیے نہیں ہو سکتا۔ سلطنت کے لیے قریشیت درکنار، حریت بھی شرط نہیں۔ اور خلافت کے لیے حریت باجماعِ جملہ اہلِ قبلہ شرط ہے۔ یہی وہ خلافتِ مصطلحہ شرعیہ ہے جس کی بحث ہے۔ اسی کے لیے قریشیت و غیرہا سات شرطیں لازمی ہیں۔ عرفِ حادث میں اگر کسی سلطان کو بھی خلیفہ کہیں یا مدح میں ذکر کر جائیں وہ نہ حکمِ شرع کا نافی ہے، نہ اصطلاحِ شرع کا نافی۔“ [ص: 184-186 ملخصاً]
