| عنوان: | امام احمد رضا اور تاریخ اسلامی (قسط: پنجم) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر محمد سجاد عالم رضوی مصباحی |
| پیش کش: | زہرہ یاسمین |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مندرجہ ذیل عبارت میں ابن خلدون نے دل کی صاف کھول دی:
إِذَا بَحَثْنَا عَنْ حِكْمَةِ اشْتِرَاطِ الْقُرَشِيِّ وَمَقْصِدِ الشَّارِعِ مِنْهُ لَمْ يَقْتَصِرْ عَلَى التَّبَرُّكِ بِوُصْلَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا هُوَ مَشْهُورٌ. وَالْمَصْلَحَةُ لَمْ نَجِدْهَا إِلَّا اعْتِبَارَ الْعَصَبِيَّةِ. وَذَلِكَ أَنَّ قُرَيْشًا كَانَ لَهُمُ الْعِزَّةُ بِالْكَثْرَةِ وَالْعُصْبَةِ وَالشَّرَفِ فَاشْتُرِطَ نَسَبُهُمْ لِيَكُونَ أَبْلَغَ فِي انْتِظَامِ الْمِلَّةِ كَمَا وَقَعَ فِي أَيَّامِ الْفُتُوحَاتِ وَاسْتَمَرَّ بَعْدَهَا فِي الدَّوْلَتَيْنِ إِلَى أَنْ تَلاشَتْ عَصَبِيَّةُ الْعَرَبِ. فَإِذَا ثَبَتَ أَنَّ اشْتِرَاطَ الْقُرَشِيَّةِ إِنَّمَا هُوَ لِلْعُصْبَةِ وَالْغَلَبِ وَالشَّارِعُ لَا يَخُصُّ الْأَحْكَامَ بِجِيلٍ فَطَرَدْنَا الْعِلَّةَ وَهِيَ الْعَصَبِيَّةُ فَاشْتَرَطْنَا فِي الْقَائِمِ بِأُمُورِ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَكُونَ مِنْ قَوْمٍ أُولِي عَصَبِيَّةٍ قَوِيَّةٍ غَالِبَةٍ. ثُمَّ إِنَّ الْوُجُودَ شَاهِدٌ بِذَلِكَ فَإِنَّهُ لَا يَقُومُ بِأَمْرِ أُمَّةٍ وَجِيلٍ إِلَّا مَنْ غَلَبَ عَلَيْهِمْ. وَقَلَّ أَنْ يَكُونَ الْأَمْرُ الشَّرْعِيُّ مُخَالِفًا لِلْأَمْرِ الْوُجُودِيِّ.
یعنی ہم جو نظر کریں کہ شرطِ قریشیت کی حکمت اور اس سے شارع کا مقصود کیا ہے تو وہ علاقۂ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تبرک پر موقوف نہیں۔ جیسا کہ لوگوں میں مشہور ہو رہا ہے کہ قربِ نبوی کے سبب قریش کو یہ فضل ملا ہے۔ اس میں آن اور قومی حمیت کے اعتبار کے سوا کوئی مصلحت نہیں۔ یہ اس لیے کہ قریش اپنی کثرت اور آن اور شرافت کے سبب غالب تھے۔ لہٰذا ان کا نسب شرط کیا گیا کہ دین کا انتظام خوب ہو۔ جیسا کہ زمانۂ فتوحات میں ہوا۔ اور اس کے بعد بنی امیہ و بنی عباس کی دولتوں میں رہا۔ یہاں تک کہ عرب نرے بے حمیت ہو گئے۔ اور جب کہ ثابت ہو لیا کہ قریش کی شرط فقط ان کی حمیت و غلبہ کے سبب تھی اور شریعت احکام کو کسی قبیلہ کے ساتھ نہیں کرتی۔ تو ہم نے علتِ حمیت کو عام کر دیا کہ خلیفہ میں ضرور ہے کہ کسی قوی و غالب حمیت والی قوم میں کا ہو۔ پھر واقعات بھی اس پر گواہ ہیں کہ قبیلے یا گروہ کا سردار وہی ہوتا ہے جو ان پر غالب ہو اور کم ہوگا کہ شریعت نیچر کے خلاف حکم دے۔ (ملخصاً)
ظاہر کر دیا کہ قریشیت شرط نہیں۔ عصبیت شرط ہے۔ قریشیت اس لیے شرط تھی کہ ان میں قومی حمیتِ جاہلیت تھی۔ جب قریش بلکہ تمام اہلِ عرب بے حمیت ہوئے تو اب ان کی خلافت کیسی۔ بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ بالجملہ نہ فقط قریشیت کی نفی کی بلکہ نفیِ قریشیت بلکہ نفیِ عربیت شرط کر دی کہ اصل شرطِ خلافت قومی حمیت ٹھہرائی۔ اور صاف کہہ دیا کہ نہ صرف قریش بلکہ تمام عرب بے حمیت ہو گئے تو خلافت کے لیے شرط ہوا کہ خلیفہ نہ قریشی ہو نہ عربی۔ بلکہ یہ شرط ہے کہ کسی خونخوار قوم کا ہو۔ تو یہ ضرارِ معتزلی سے بھی بہت اونچا اڑا۔ اس نے تو یہی کہا تھا کہ غیر قریشی اولیٰ ہے۔ اس نے یہ جمائی کہ قریشی بلکہ کسی عربی کی خلافت جائز ہی نہیں، اور خود کہہ چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا کہ ہمیشہ خلافت قریش ہی کے لیے ہوگی۔ جب تک دنیا میں دو آدمی بھی رہیں۔ یہ ہے اس کا حدیث پر ایمان اور یہ ہے اس کا اجماعِ صحابہ پر ایقان۔ اور سرے سے یہ اشد ظلم قابلِ تماشا کہ وہ عصبیت جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشدت منع فرمایا۔ جسے نہ قریش بلکہ تمام عرب کے دل سے دھو دیا اسی کو اصل مقصودِ شارع اور خاص شرطِ خلافت ٹھہراتا ہے۔ [ص: 214-215]
اس کے بعد اعلیٰ حضرت نے امام ابوبکر باقلانی کے صحیح موقف جو اہلِ سنت و جماعت کے ہم خیال ہیں کی وضاحت کی ہے۔
اس طرح سے ہم دیکھتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے نہ صرف یہ کہ شرطِ قریشیت پر ابن خلدون کا تعاقب کیا ہے بلکہ ابن خلدون کے فلسفۂ تاریخ کے بنیادی تصورِ عصبیت کی بنیاد پر بھی کلام کیا ہے، اور کہا ہے کہ اسلام کے ظہور اور خلافتِ اسلامیہ کی توسیع کی وضاحت میں عصبیت کو سبب ماننا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مخالف ہے۔ اس کے بعد اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ابوالکلام آزاد کے اس قول ”اسلام تو قومی امتیاز کے اٹھانے کو آیا ہے پھر وہ خلافت کو قریش کے لیے کیسے خاص کر سکتا ہے۔“ کو خارجیوں کا موقف قرار دیا ہے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے مقاصد کے حوالے سے لکھا ہے کہ ”امام کا قریشی ہونا شرط ہے اور خارجیوں نے اس میں خلاف کیا ہے۔ اس دلیل سے کہ مصالحِ سلطنت و دین میں نسب کا کچھ اعتبار نہیں۔ اہلِ سنت نے اس کا رد کیا کہ ضرور شرفِ نسب کو اس میں اثر ہے کہ رعایا کی رائیں اس پر اتفاق کریں اور دل خوشی سے اس کے مطیع ہوں گے۔ اور قریش کے برابر کوئی شریف نہیں۔ خصوصاً اس حالت میں کہ افضل الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی میں سے ظہور فرمایا۔ کتاب مبارک “إِرَاءَةُ الْأَدَبِ لِفَاضِلِ النَّسَبِ” مطالعہ ہو۔ کس قدر احادیثِ کثیرہ نے کہاں کہاں فضیلتِ نسب کا اعتبار فرمایا ہے۔ اور نکاح میں شرعاً اعتبارِ کفاءت سے تو عالم بننے والے جاہل بھی ناواقف نہ ہوں گے۔ جس سے تمام کتبِ فقہ گونج رہی ہیں۔ اور اس میں خود احادیث وارد، آیات و احادیث اس سے منع فرماتی ہیں کہ کوئی علم و تقویٰ و فضائلِ دینیہ کو بھولے اور خالی نسب پر تفاخر و پھولے۔ [ص: 226-227]
آزاد نے احادیث:
الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ
اور
لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ
کو پیشین گوئی کہا تھا اس کا جواب بھی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ’مگر اس حدیثِ جلیل کا کیا علاج کریں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قَدِّمُوا قُرَيْشًا وَلَا تَقَدَّمُوهَا
قریش کو مقدم رکھو اور ان پر تقدم نہ کرو۔ یہ حدیث چھ صحابۂ کرام کی روایت سے ہے۔‘ یہ تو صریح امر و نہی ہے اس سے تو مسٹر مفر نہیں بنا سکتے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسا صریح حکم فرما رہے ہیں کہ قریش ہی کو مقدم کرنا، قریش سے آگے قدم نہ دھرنا۔ [ص: 227-228]
تاہم اسی کے ساتھ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اس غلط فہمی کو بھی دور کر دیا ہے کہ شرطِ قریشیت کی بنا پر نااہل کے خلیفہ بن جانے کا امکان ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ”نہ عمل، نہ اہلیت، صرف خاندان کا اتہام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ و اہلِ سنت پر افترا ہے۔ کس نے کہا ہے کہ خلافت کے لیے صرف قریشی ہونا درکار ہے۔ اگرچہ نااہلِ محض ہو۔ قریشیت کے ساتھ اہلیت کی شرط بھی بالاجماع ہے۔ یہ گمانِ بد کہ کسی وقت تمام جہاں میں سب ساداتِ عظام، سب قریشِ کرام نالائق نااہل ہو جائیں وسوسۂ ابلیس ہے۔ ایسا کبھی نہ ہوگا کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے جگر پارے ناقابل، نالائق رہ جائیں۔ صرف ایرا غیرا اہلِ بیت کا پھندنا لٹکائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو فرما چکے کہ دنیا میں جب تک دو آدمی رہیں گے خلافت کا استحقاق صرف قریشی کو ہوگا۔ تو قطعاً قیامت تک کوئی نہ کوئی قریشی اس کا اہل ضرور رہے گا۔ ولہٰذا بعض فقہائے شافعیہ و غیرہم نے جب یہ صورتِ باطلہ فرض کی محققین نے تصریح فرما دی کہ یہ صرف فرض ہے۔ واقع کبھی نہ ہوگی۔ شرح بخاری للحافظ میں ہے: ”یعنی علماء نے فرمایا۔ ان فقہا نے یہ صورت اپنی اس عادت پر فرض کی کہ ایسی بات بھی ذکر کرتے ہیں جو صرف امکانِ عقلی رکھتی۔ عادتاً یا شرعاً کبھی واقع نہ ہو۔“ خصوصاً حدیث کو پیشین گوئی مان کر اس کے خلاف کا ادعا جہلِ صریح بلکہ ضلالِ قبیح ہے۔ [ص: 228-229] کیونکہ سچے نبی کی خبر کبھی خلافِ واقع نہیں ہوتی۔ اس کے بعد اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اپنی تحقیق سے یہ دکھایا ہے کہ ابوالکلام نے خلافت کے لیے قریشیت کی شرط کا انکار کر کے کس طرح سے احادیثِ نبوی کا انکار بھی کیا۔
خلاصۂ کلام:
تاریخِ اسلامی کے دو اہم موضوعات (تاریخِ ولادتِ شریفہ کی تعیین اور تصورِ خلافت میں قریشیت کی شرط) پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے افکار و نظریات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فہمِ تاریخ، شعورِ تاریخ اور اسلامی تاریخ کے منہاجیاتی اسلوب میں بھی آپ کو فضل و کمال حاصل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان تاریخی موضوعات پر آپ ایک ماہرِ فن کی طرح کلام کرتے ہیں۔ آپ کی نظر ایک طرف تاریخ کے مصادر و مراجع پر ہے، تو دوسری طرف ان مصادر کی توضیح و تنقیح میں آپ اپنی خداداد ناقدانہ مہارت کے جلوے بکھیر رہے ہیں۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ان دو موضوعات پر قولِ جمہور کی تائید و حمایت میں قرآن، حدیث، سیرت و طبقات، عقائد و کلام، فقہ و اصولِ فقہ اور کتبِ تاریخ سے جو حوالہ جات ذکر کیے ہیں وہ اس بات کی دلیل ہیں۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی تحریر میں موقف کے اثبات میں تائیدی دلائل و شواہد کا جو تنوع پایا جاتا ہے وہ ان کے ہم عصروں میں بہت کم دکھتا ہے۔ اسی لیے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے طرزِ استدلال میں توازن کا وصف نمایاں ہے۔ اس مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تاریخ کے کسی مسئلے کے تاریخی پسِ منظر کو جاننے کے لیے صرف کتبِ تاریخ پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ کتبِ تاریخ میں مورخین اپنے مخصوص نظریات و مفادات کی خاطر حقائق کی تعبیر و ترجمانی میں غیر جانبدارانہ رویہ نہیں اپناتے۔ اس لیے کسی مورخ کی انفرادی رائے کی بجائے قولِ جمہور کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ تاریخی کتابوں میں مذکورہ بیانات کے پسِ منظر میں جو فکری و نظریاتی بنیادیں ہیں ان کو بھی جاننے کی کوشش کی جائے۔ اس لیے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے تاریخِ اسلامی کے موضوعات و مباحث پر تحقیق و تنقید کے لیے جو منہاجیاتی اسلوب اپنایا ہے وہ یہ ہے کہ کتاب و سنت، علمِ کلام، علمِ فقہ اور اجماعِ امت کو مرکزی حیثیت دی جائے۔
تاریخ نگاری میں عقل و نقل کے کردار کے سلسلے میں آپ نے نقل کی برتری اور بالادستی کو مانا ہے۔ جدیدیت کے نام پر جو افکار و نظریات اور اقدار پیش کیے جا رہے تھے ان سے وہ مرعوب نہیں تھے۔ اسی لیے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے تاریخ نگاری میں روایات اور اجماع کا انکار کرنے والوں کا علمی و فکری تعاقب کیا ہے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کسی ایسی توجیہ کو ناقابلِ قبول سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے کتاب و سنت یا پھر اجماعِ امت کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ ابن خلدون کی فکر و فلسفہ کا جو تنقیدی مطالعہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے پیش کیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابن خلدون نے تاریخ نگاری میں دینی و مذہبی عقائد و تعلیمات کو فطری اور وجودی (نیچریانہ) اصولوں کی بنیاد پر جانچنے اور پرکھنے کی وکالت کی ہے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ عقل کے مقابلے میں وحیِ الٰہی کو فوقیت دیتے ہیں اور اسی لیے تاریخِ اسلامی میں حقائق و واقعات کو قبول یا رد کرنے میں انفرادی رائے کی بالادستی کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس طرح اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ تاریخ نگاری میں روایت پسندی کے اصول کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔ اور ہم نے دیکھا کہ ان دونوں موضوعات پر آپ نے قولِ جمہور اور اجماعِ امت کو اہمیت دی ہے۔
