| عنوان: | امام اہل سنت کا دس نکاتی پروگرام (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | قطب الدین رضا مصباحی دربھنگہ |
| پیش کش: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ نیپال گنج |
(عصرِ حاضر کے تناظر میں ایک تجزیاتی تحریر)
مجددِ اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری قدس سرہ (1272ھ - 1340ھ) ماضیِ قریب کی ایک عبقری شخصیت کا نام ہے۔ آپ کی پوری زندگی مسلکِ اہلِ سنت و جماعت کی خدمت اور فروغ و استحکام میں گزری۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسا دل عطا فرمایا تھا جو ہر لمحہ ملتِ اسلامیہ کی فکر میں تڑپتا رہتا تھا۔ آپ نے جماعتِ اہلِ سنت کے ہر پہلو کو غور سے ملاحظہ کیا، حالات کا بڑی گہری نظر سے جائزہ لیا اور پھر مسلکِ اہلِ سنت کے فروغ و استحکام کے لیے ایک جامع دستور مرتب فرمایا۔ آپ نے اپنے ایک فتوے میں دس ایسے امور کی طرف رہنمائی فرمائی جن کو بروئے کار لا کر حالات کو یکسر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ آپ اپنے ایک فتوے میں رقم طراز ہیں:
-
عظیم الشان مدارس کھولے جائیں۔ باقاعدہ تعلیمیں ہوں۔
-
طلبہ کو وظائف ملیں کہ خواہی نخواہی گرویدہ ہوں۔
-
مدرسین کی بیش قرار تنخواہیں ان کی کارروائی پر دی جائیں۔
-
طبائعِ طلبہ کی جانچ ہو جو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھا جائے معقول وظیفہ دے کر اس میں لگایا جائے۔
-
ان میں جو تیار ہوتے جائیں تنخواہیں دے کر ملک میں پھیلائے جائیں کہ تحریراً و تقريراً و وعظاً و مناظرۃً اشاعتِ دینِ متین کریں۔
-
حمایتِ مذہب و ردِ بد مذہب میں مفید کتب و رسائل مصنفوں کو نذرانے دے کر تصنیف کرائے جائیں۔
-
تصنیف شدہ اور نو تصنیف رسائل عمدہ اور خوش خط چھاپ کر ملک میں مفت تقسیم کیے جائیں۔
-
شہروں شہروں آپ کے سفیر نگراں رہیں، جہاں جس قسم کے واعظ یا مناظر یا تصنیف کی حاجت ہو آپ کو اطلاع دیں، آپ سرکوبیِ اعداء کے لیے فوجیں، میگزین اور رسائل بھیجتے رہیں۔
-
جو ہم میں قابلِ کار موجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں، وظائف مقرر کر کے فارغ البال بنائے جائیں اور جس کام میں انہیں مہارت ہو لگائے جائیں۔
-
آپ کے مذہبی اخبارات ہوں اور وقتاً فوقتاً ہر قسم کے حمایتِ مذہب میں مضامین ملک میں بقیمت و بلا قیمت روزانہ یا کم سے کم ہفتہ وار پہنچاتے رہیں۔
حدیث کا ارشاد ہے کہ آخر زمانہ میں دین کا کام بھی درہم و دینار سے چلے گا اور کیوں نہ صادق ہو کہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 12، ص: 133]
ذیل کی سطور میں حالاتِ حاضرہ کا تجزیہ کرتے ہوئے انہیں دس امور کی اہمیت و افادیت پر گفتگو کی جائے گی۔
(۱) عظیم الشان مدارس کھولے جائیں۔ باقاعدہ تعلیمیں ہوں
مختلف جہتوں میں دین و مذہب کی خدمات انجام دینے کے لیے سب بهلی ضرورت افراد کی ہوتی ہے۔ اس کے بغیر اسلامی احکام و نظریات کی اشاعت و تبلیغ اور اہلِ سنت و جماعت کا فروغ و استحکام ممکن نہیں۔ کسی بھی جہت میں ٹھوس اور مضبوط کام انجام دینے کے لیے اچھے اور قابل افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور افراد کے تیار کرنے کا واحد ذریعہ مدرسہ ہے۔ یہیں طالبانِ علومِ نبوت کو دین کے اسرار و احکام سکھائے جاتے ہیں، جو تحصیلِ علم کے بعد مختلف سطح پر دینی خدمات انجام دیتے ہیں۔ اسی لیے تو سیدنا امامِ اہلِ سنت نے لوگوں کو یہ نظریہ دیا کہ عظیم الشان مدارس کھولے جائیں، باقاعدہ تعلیمیں ہوں تاکہ ٹھوس تعلیم و تربیت کی بنیاد پر اچھے اور باصلاحیت افراد پیدا کیے جائیں جو حالات کے مطابق مختلف سمتوں میں لوگوں کی رہنمائی کریں۔ آج ہماری جماعت کے اندر اکثر علاقوں میں کثرت سے مدارس و مکاتب موجود ہیں مگر سیدنا اعلیٰ حضرت نے جو ارشاد فرمایا تھا کہ “باقاعدہ تعلیمیں ہوں” اس کا فقدان نظر آتا ہے۔ مدرسوں کے قیام کے بعد بڑے پیمانے پر ان کا چندہ بھی ہوتا ہے، عمارتیں بھی خوب تیار ہوتی ہیں مگر تعلیم کا حال انتہائی خراب ہوتا ہے۔ آج اکثر مدرسے تعلیمی نظم و نسق کی بدحالی کا شکار ہیں۔ سیدنا اعلیٰ حضرت کے اس ارشاد کی طرف مدارس کے اربابِ حل و عقد کو توجہ مبذول کرنی چاہیے اور سب سے خصوصی توجہ نظامِ تعلیم و تربیت پر مرکوز ہونی چاہیے۔
(۲) علم دین کی خوب سے خوب اشاعت اور اسے زیادہ سے زیادہ عام کرنا
علمِ دین کی خوب سے خوب اشاعت اور اسے زیادہ سے زیادہ عام کرنے کے لیے سیدنا اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے لوگوں کو یہ ذہن دیا کہ “طلبہ کو وظائف ملیں کہ خواہی نخواہی گرویدہ ہوں”۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ زمانے کے صنعتی انقلاب نے ہر ایک کو مادیت کا شکار بنا دیا ہے۔ ہر شخص آج اعلیٰ سرمایہ داری کا خواب دیکھ رہا ہے۔ ان حالات میں مدرسے کی طرف نئی نسل کی توجہ حاصل کرنے کے لیے وظیفے کا انتظام کیا جانا چاہیے۔ نیز یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طلبۂ مدارس میں اکثریت ان کی ہوتی ہے جو غربت و افلاس کے شکار ہوتے ہیں۔ معاشی پریشانیوں میں مبتلا ہونے کی بنیاد پر ان کی پوری توجہ اپنی تعلیم پر نہیں رہ پاتی۔ اگر ان کے لیے وظیفے کا انتظام کر دیا جائے تو یکسو ہو کر وہ اپنی تعلیم کی طرف متوجہ رہیں گے اور حالاتِ زمانہ کے اثر انداز ہونے سے وہ کسی قدر محفوظ رہ سکیں گے۔ غربت و افلاس سے متاثر ہو کر بہت سے طلبہ اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پاتے اور درمیان ہی میں انہیں سلسلۂ تعلیم کو ترک کرنا پڑتا ہے جب کہ کچھ طلبہ انتہائی ذہین، باذوق اور ابتدائی جماعتوں کے نہایت پختہ ہوتے ہیں جو سلسلۂ تعلیم جاری رکھنے کی صورت میں ایک اچھے عالم کی شکل میں قوم کے سامنے آتے، مگر معاشی دشواریوں کی بنیاد پر وہ ایک عام انسان کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اے کاش! ہمارے مدارس میں یہ سلسلہ شروع ہوتا تو یہ وسیع پیمانے پر خدمتِ علم کا ذریعہ ہوتا.
(۳) مدرسین کی بیش قرار تنخواہیں ان کی کارروائیوں پر دی جائیں
امامِ اہلِ سنت سیدنا اعلیٰ حضرت قدس سرہ مدرسے کے ایک اہم پہلو کی طرف توجہ دلاتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ “مدرسین کی بیش قرار تنخواہیں ان کی کارروائیوں پر دی جائیں”۔ مدارس سے لوگوں کی بے رغبتی کا بنیادی سبب خوشحال زندگی کا فقدان ہے۔ ایک معتدبہ زمانہ تک محنت و جفاکشی کے بعد جب ہمارے علماء بحیثیت مدرس، مدارس میں پہنچتے ہیں تو بھی ان کے خورد و نوش اور رہائشی انتظامات انتہائی دل شکن ہوتے ہیں۔ مہینے بھر کا حقِ محنت بہت معمولی ہوتا ہے جس سے ان کا اپنی ضروریات کی تکمیل کرنا نہایت دشوار ہوتا ہے۔ یہ ہمارے مدارس کا ایسا دل خراش پہلو ہے جس نے ہمارے علماء کو معاشرے میں بے وقعت بنا دیا ہے۔ عام طور پر اساتذہ کا ذہن معاشی پریشانیوں میں الجھا ہوتا ہے، جس کی بنیاد پر وہ طلبہ کی تعلیم و تربیت پر اپنی پوری توجہ نہیں دے پاتے۔ محض اسباق کی تدریس سے وہ سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ اگر ان کی خاطر خواہ تنخواہ ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ دوسرے اسباب و وسائل کی تلاش میں وہ سرگرداں رہیں۔ نیز یہی سارے حالات مشاہدہ کر کے بہت سارے طلبہ عہدِ طالب علمی میں محنت چھوڑ دیتے ہیں یا سرے سے سلسلۂ تعلیم ہی ترک کر دیتے ہیں۔
یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ مدارس کے اربابِ حل و عقد ایک کثیر رقم مدارس کی عمارت کی تزئین کاری، سالانہ جلسے اور دوسرے امور میں صرف کر دیتے ہیں مگر مدرسین کی تنخواہ میں اضافہ کرنے پر ان کے جسم سے روح نکلتی ہے۔ جن اساتذہ کی شب و روز کی محنتوں کی بنیاد پر کسی ادارے کی شناخت بنتی ہے، انہیں کے ساتھ یہ تنگ نظری وقت کا کتنا بڑا المیہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اچھے اور باصلاحیت اساتذہ اب ہمیں میسر نہیں ہوتے۔ کسی ادارے میں وسعت نہ ہونا ایک قابلِ عذر بات ہے مگر وسعت کے باوجود بیش قرار تنخواہوں سے اعراض کرنا سطحی فکر و نظر کی غماز ہے۔
(۴) طبائعِ طلبہ کی جانچ ہو جو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھا جائے معقول وظیفہ دے کر اس میں لگا دیا جائے
ہمارے مدارس میں بالعموم بعدِ فراغت طلبہ کی بہتر رہنمائی نہیں ہوتی۔ مدرسے کی چہار دیواری میں ایک طویل عرصہ گزارنے کے بعد میدانِ عمل کے انتخاب کے وقت کسی ایک پہلو پر ان کا دل نہیں جمتا، اور وہ اپنے مطابق کسی ایک پہلو کا انتخاب کر کے اس میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اس طرح بہتیرے طلبہ کی صلاحیتیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔ عہدِ طالب علمی ہی سے اگر طلبہ کی خصوصیات پر نظر رہے اور تکمیلِ تعلیم کے بعد ان کی دلچسپی کے مطابق شعبوں سے انہیں وابستہ کر دیا جائے تو ان کی صلاحیت و استعداد میں بڑا اچھا نکھار پیدا ہو گا اور علم و ادب میں پختگی بھی۔ نیز آئندہ وہ ان شعبوں کی بہتر خدمات بھی انجام دے سکیں گے۔
ہم ماضیِ قریب میں جماعتِ اہلِ سنت کی جلیل القدر شخصیت حضور حافظِ ملت قدس سرہ کی زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ کی ذات اس مخصوص وصف سے بھی متصف نظر آتی ہے۔ بہتیرے ایسے افراد ہیں جنہیں حضور حافظِ ملت نے درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد اپنے فیضِ صحبت میں جگہ دی اور ان کے علم و ادب کے اندر گہرائی و گیرائی کا سامان فراہم کیا، جوہر پیدا کرنے کی تدبیریں اپنائیں اور انہیں آگے بڑھانے کی ہر ممکن کوششیں کیں۔
(۵) ان میں جو تیار ہوتے جائیں تنخواہیں دے کر ملک میں پھیلائے جائیں
سیدنا اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے آگے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ “ان میں جو تیار ہوتے جائیں تنخواہیں دے کر ملک میں پھیلائے جائیں کہ تحریراً و تقريراً و وعظاً و مناظرةً اشاعتِ دین و مذہب کریں”۔ اس عبارت سے سیدنا اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے ہمیں یہ ذہن دیا ہے کہ مختلف شعبوں میں طلبہ تیار ہونے کے بعد ملک بھر میں انہیں پھیلایا جائے جو حسبِ ضرورت تحریر و تقریر اور وعظ و مناظرہ کے ذریعہ دین و مذہب کی تبلیغ و اشاعت کریں۔ یہاں بھی اعلیٰ حضرت نے تنخواہ کا ذکر فرمایا تاکہ وہ فکرِ معاش سے بے پرواہ ہو کر خدماتِ دینیہ کی انجام دہی میں مصروف رہیں۔
