| عنوان: | امام اہل سنت کا دس نکاتی پروگرام (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | قطب الدین رضا مصباحی دربھنگہ |
| پیش کش: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ نیپال گنج |
(۶) حمایتِ مذہب و ردِ بد مذہب میں مفید کتب و رسائل مصنفوں کو نذرانے دے کر تصنیف کرائے جائیں
اعلیٰ حضرت نے اس ارشاد سے لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے کہ اصحابِ تصنیف و تالیف کو نذرانے پیش کر کے مذہب و مسلک کی حمایت اور بدمذہبوں کی تردید پر مفید کتب و رسائل تصنیف کرائے جائیں، کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم اپنی تقریر ہر ایک تک نہیں پہنچا سکتے۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں جنہیں ہماری محفل و مجلس میں شرکت کا موقع ہی نہیں ملتا۔ ایسے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے ہمیں تحریر ہی کا سہارا لینا پڑے گا۔ مگر ہماری جماعت کی یہ بھی ایک کڑوی حقیقت ہے کہ جو حضرات تحریر و تصنیف سے مربوط ہیں اور ہزاروں صفحات کی عرق ریزی کے بعد کتابوں کی تصنیف و تالیف کرتے ہیں، ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا اور اخراجات کی تکمیل کے لیے انہیں بالآخر اس سے منہ موڑنا پڑتا ہے۔ سیدنا اعلیٰ حضرت نے بہت پہلے ہمیں اس طرف متوجہ فرمایا تھا اور اربابِ قلم کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی کے لیے اربابِ حل و عقد کو وظائف و نذرانے کی ترغیب دلائی تھی۔
(۷) تصنیف شدہ اور نو تصنیف رسائل عمدہ اور خوش خط چھاپ کر ملک میں مفت تقسیم کیے جائیں
رسائل و کتب کی تصنیف کے بعد ان کے عام کرنے اور لوگوں تک پہنچانے کا بھی ایک اہم مسئلہ ہوتا ہے۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی باریک بین نگاہ نے اس کو بھی نہیں چھوڑا ہے۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے اپنے اس ارشاد میں زمانے کے تقاضوں کو کس قدر ملحوظ رکھا ہے، وہ نہایت واضح ہے۔ رسائل کو عمدہ اور خوش خط چھاپنے کی بات زمانے ہی کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر کہی گئی ہے۔ آج لوگوں کا مزاج بن چکا ہے کہ وہ کتاب میں خوبصورت تحریر اور صاف ستھری طباعت طلب کرتے ہیں۔ اگر واضح اور عمدہ خوش خط ہو تو دلچسپی سے اسے پڑھتے ہیں ورنہ گنجلک تحریر پر وہ توجہ نہیں دیتے۔ کتاب کی طرف لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اسے عمدہ اور خوش خط چھاپنا بھی ضروری ہے۔
ہماری جماعت کا یہ بھی ایک دل خراش مسئلہ ہے کہ شادی، بیاہ، جلسے جلوس اور دوسری مختلف تقریبات میں ہزاروں روپے صرف کر دیے جاتے ہیں اور کسی دیرپا کام کی طرف ان کی عنانِ توجہ موڑی جائے تو اس سے وہ اعراض کرتے ہیں۔ ان مواقع پر اگر چند سو کی کتابیں اور مختصر مفید رسائل خرید کر تقریب میں شرکت کرنے والوں کے مابین تقسیم کر دیے جائیں تو تحفظِ عقائد و درستیِ اعمال میں اس کا بھی ایک اہم رول ہوگا۔
(۸) شہروں شہروں آپ کے سفیر نگراں رہیں، جہاں جس قسم کے واعظ، مناظر یا تصنیف کی حاجت ہو آپ کو اطلاع دیں، آپ سرکوبیِ اعداء کے لیے اپنی فوجیں، میگزین اور رسالے بھیجتے رہیں
اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی اس تحریر سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ پورے ملک میں کس طرح کا انقلاب لانا چاہتے تھے۔ ہر شہر اور علاقے میں جب ہمارے نگراں موجود رہیں گے تو ہمیں ہر جگہ کی ضرورتوں کی خبر رہے گی اور اس کے مطابق ہم تبلیغ اور اشاعت کے لیے اپنا قدم اٹھا سکیں گے۔ ورنہ جب حالات کی خبر ہی نہ ہو تو مخالفین اپنی چابک دستیوں کی بنیاد پر علاقے کے علاقے برباد کر ڈالیں گے اور پھر وہاں کے لوگوں کے ایمان و عقائد کا تحفظ نہایت مشکل امر ہوگا۔
(۹) جو ہم میں قابلِ کار موجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں، وظائف مقرر کر کے فارغ البال بنائے جائیں اور جس کام میں انہیں مہارت ہو لگائے جائیں
اعلیٰ حضرت کو اس بات کا خوب احساس تھا کہ ہم میں بہت سے لوگ معاش سے پریشان ہو کر اس رخ سے منہ موڑ لیتے ہیں اور کسی ذریعۂ معاش سے منسلک ہو جاتے ہیں۔ اس لیے آپ نے اس طرف توجہ دلائی کہ ایسے افراد کو ان کی دلچسپی کے مطابق کسی شعبے سے مربوط کر دیا جائے اور وظائف مقرر کر کے انہیں فارغ البال بنایا جائے تاکہ وہ پوری دلجمعی کے ساتھ اپنے فن میں مشغول رہیں۔
امامِ اہلِ سنت سیدنا اعلیٰ حضرت قدس سرہ اپنے دس نکاتی پروگرام کا اختتام اس ارشاد پر کرتے ہیں:
(۱۰) آپ کے مذہبی اخبار شائع ہوں اور وقتاً فوقتاً ہر قسم کے حمایتِ مذہب میں مضامین تمام ملک میں بقیمت روزانہ یا کم سے کم ہفتہ وار پہنچاتے رہیں
امام احمد رضا قدس سرہ نے ایک صدی قبل اس ضرورت کو محسوس کیا کہ جماعتِ اہلِ سنت کے ترجمان کی حیثیت سے کوئی مذہبی اخبار شائع ہونا چاہیے مگر آج تک ایسا نہ ہو سکا۔ آج جبکہ میڈیا ہر شعبۂ زندگی میں اپنا ایک اثر قائم کر چکی ہے، ہمارے علماء کا اس سے مربوط ہونا ایک ناگزیر امر ہے۔
امام احمد رضا قدس سرہ کا تحریر کردہ یہ دس نکاتی پروگرام اپنی جگہ بڑا اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ خاکہ آپ نے جماعتِ اہلِ سنت کے پیش آمدہ مسائل کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کے بعد رقم فرمایا ہے جو فروغ و استحکام کے اہم گوشوں کو شامل ہے۔ سیدنا اعلیٰ حضرت کا پیش کیا ہوا یہ پروگرام کئی دہائیوں سے مسلسل شائع ہوتا آ رہا ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک لمبا عرصہ گزر جانے کے باوجود ان دسوں نکات پر عمل نہ ہو سکا۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بعض تنظیموں اور تحریکوں نے اس پروگرام کو سامنے رکھ کر چند نکات پر بڑی اہم اور قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں اور دوسرے نکات کو بھی عملی جامہ پہنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ مگر حالات کا جبری تقاضہ یہ ہے کہ مختلف تنظیمیں الگ الگ نکات کو سامنے رکھ کر عمل کی راہوں کا انتخاب کریں اور جتنی جلدی ہو سکے ان تمام نکات پر منصوبہ بند طریقے سے کام کا آغاز کیا جائے۔
