| عنوان: | جہیز کی شرعی حیثیت |
|---|---|
| تحریر: | علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی |
| پیش کش: | محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال) |
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ اب ادھر چند برسوں سے مسلمانوں میں یہ رواج ہوتا جا رہا ہے کہ لڑکوں کی شادی طے کرتے وقت جہیز کی مقدار معین مانگتے ہیں۔ مثلاً یہ کہتے ہیں کہ دس ہزار نقد لیں گے اور موٹر سائیکل لیں گے اور گھڑی لیں گے۔ اگر لڑکی والے اس کو منظور کرتے ہیں تو شادی طے ہوتی ہے ورنہ کینسل کر دیتے ہیں۔ طے ہونے کے بعد اگر لڑکی والے ان مقررہ جہیز میں کچھ بھی کم دیتے ہیں تو اس کے لیے جھگڑا کھڑا کرتے ہیں۔ بدنام کرتے ہیں بلکہ بعض دفعہ برات تک واپس ہو جاتی ہے۔ اور اگر لڑکی سسرال گئی تو اسے زندگی بھر طعنہ دیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لڑکی بیٹھا دیتے ہیں کہ جب تک فلاں فلاں چیز جو مقرر جہیز میں سے اب تک نہیں ملی ہے، ملے گی نہیں، ہم تم کو نہیں رکھیں گے۔ کیا شرعاً یہ جائز ہے؟ بینوا توجروا۔[المستفتی: وکیل عبد الاول صاحب، اشرفیہ مبارک پور]
جواب: جہیز کی مقدار طے کرنا بلکہ مقدار نہ بھی معین ہو کہیں شادی طے کرتے وقت جہیز کا مطالبہ ہی کرنا یا شادی کے وقت مطالبہ کرنا یا شادی ہو جانے کے بعد جہیز کا مطالبہ کرنا یہ سب حرام ہے۔ اور یہ رشوت مانگنا ہے، جو مال لیا مال حرام لیا، رشوت لیا۔ فرض ہے کہ اسے واپس کرے۔ اس کو استعمال میں لانا حرام ہے۔
شامی کتاب الہبہ میں ہے:
جَعَلَتِ الْمَالَ عَلَى نَفْسِهَا عِوَضًا عَنِ النِّكَاحِ، وَفِي النِّكَاحِ الْعِوَضُ لَا يَكُونُ عَلَى الْمَرْأَةِ۔
عورت جو مال اپنے نکاح کے عوض دے وہ باطل ہے، نکاح میں عوض عورت پر نہیں۔[شامی، ج: 5، ص: 701]
عورت دے یا اس کے ماں باپ، بھائی دیں سب ایک حکم میں ہے۔ کتبِ فقہ کی یہ تصریح کہ نکاح میں عوض عورت کے ذمہ نہیں سب کو شامل ہے۔ ہماری شریعت نے نکاح میں عوض مرد کے ذمہ رکھا ہے حتیٰ کہ اگر مرد و عورت نے بغیر مہر مقرر کیے نکاح کیا جب بھی مہر مرد پر واجب ہے، بلکہ اگر یہ شرط کر دی کہ کچھ مہر نہ ہوگا جب بھی مہرِ مثل واجب ہے۔ یہ نہ ہوگا مہرِ مثل ہے اگر نکاح کے بعد وطی یا خلوتِ صحیحہ ہو گئی۔ درمختار میں ہے:
وَكَذَا يَجِبُ مَهْرُ الْمِثْلِ فِيمَا إِذَا لَمْ يُسَمَّ مَهْرًا، أَوْ نُفِيَ إِنْ وَطِئَ الزَّوْجُ، أَوْ مَاتَ عَنْهَا، أَوْ لَمْ يَتَرَاضَيَا عَلَى شَيْءٍ يَصْلُحُ مَهْرًا، وَإِلَّا فَذَلِكَ الشَّيْءُ هُوَ الْوَاجِبُ۔
اگر مہر مقرر نہیں کیا یا مہر کا نام نہ لیا، یا مہر کی نفی کر دی تو مہرِ مثل واجب ہے اگر شوہر نے وطی کر لی یا مر گیا۔ ہاں اگر دونوں نے رضامندی سے کوئی مقدار کسی ایسی چیز کی مقرر کر لی جو مہر ہو سکے تو وہی واجب ہے۔[درمختار، ج: 3، ص: 108]
عورت یا عورت کے اولیا سے مال مانگنا یہ قلبِ موضوع اور الٹا ہے، علاوہ ازیں کتبِ فقہ میں اس کی تصریح ہے کہ اگر عورت کے بھائی نے نکاح کے عوض کچھ مال مانگا تو یہ رشوت ہے۔ اور شوہر اسے واپس لے سکتا ہے، نکاح کے عوض عورت کے اولیا کا کچھ لینا رشوت اور حرام ہے۔ جب کہ خود عورت کو شریعت نے نکاح کے عوض مہر لینے کا حق دیا ہے تو مرد کو یا مرد کے متعلقین کو کچھ لینا بدرجۂ اولیٰ رشوت ہوگا۔ عالمگیری میں ہے:
خَطَبَ امْرَأَةً فِي بَيْتِ أَخِيهَا، فَأَبَى أَنْ يُزَوِّجَهَا حَتَّى يَدْفَعَ إِلَيْهِ دَرَاهِمَ، فَدَفَعَ وَتَزَوَّجَهَا، يَرْجِعُ بِمَا دَفَعَ؛ لِأَنَّهَا رِشْوَةٌ، كَذَا فِي الْقُنْيَةِ۔
کسی کی بہن کو نکاح کا پیغام دیا، بھائی نے انکار کیا کہ جب تک کچھ روپے نہیں دو گے منظور نہیں، مرد نے دیا اور نکاح کر لیا جو دیا ہے واپس لے سکتا ہے اس لیے کہ یہ رشوت ہے، ایسا ہی قنیہ میں ہے۔[عالمگیری، ج: 4، ص: 403]
اور درمختار و رد المحتار میں ہے:
أَخَذَ أَهْلُ الْمَرْأَةِ شَيْئًا عِنْدَ تَسْلِيمِهَا، فَلِلزَّوْجِ أَنْ يَسْتَرِدَّهُ؛ لِأَنَّهُ رِشْوَةٌ، أَيْ بِأَنْ أَبَى أَنْ يُسَلِّمَهَا أَخُوهَا أَوْ نَحْوُهُ حَتَّى يَأْخُذَ شَيْئًا، وَكَذَا لَوْ أَبَى أَنْ يُزَوِّجَهَا، فَلِلزَّوْجِ الِاسْتِرْدَادُ قَائِمًا أَوْ هَالِكًا؛ لِأَنَّهُ رِشْوَةٌ۔
رخصتی کے وقت لڑکی والوں نے اگر کچھ لیا ہے تو شوہر کو اسے واپس لینے کا حق ہے کیوں کہ وہ رشوت ہے، یعنی اگر بھائی وغیرہ نے بغیر کچھ لیے رخصت کرنے سے انکار کر دیا یا شادی سے انکار کر دیا تو شوہر کو حق حاصل ہے کہ اسے واپس لے لے چاہے وہ مال موجود ہو یا ختم ہو گیا ہو اس لیے کہ یہ رشوت ہے۔[درمختار و رد المحتار، ج: 3، ص: 156]
یہاں تو ایک طرح کا جبر ہے، اسی میں یہاں تک تصریح ہے کہ خسر اگر داماد سے کچھ لے وہ بخوشی دے تو بھی مال حرام ہے۔
وَمِنَ السُّحْتِ مَا يَأْخُذُهُ الصِّهْرُ مِنَ الْخَتَنِ بِطِيبِ نَفْسِهِ۔
خسر داماد سے جو کچھ (مانگ کر) لے اگرچہ داماد بخوشی دے مال حرام ہے، تو جبر کی صورت میں بدرجۂ اولیٰ حرام ہے۔
یہ لعنت مسلمانوں نے ہندوؤں سے سیکھی۔ النَّاسُ عَلَى دِينِ مُلُوكِهِمْ، لوگ اپنے بادشاہ کے طریقے پر ہوتے ہیں۔ ہندوؤں کی غلامی نے ذہنوں پر اثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کے مذہب میں تلک چڑھانے کی رسم، اس کی بنیاد اس پر ہے کہ چونکہ وہ لڑکی کو حصہ نہیں دیتے تو لڑکی کو گھر سے نکالتے وقت اپنی حیثیت کے مطابق بھرپور جہیز و نقد تلک کے نام پر دے دیتے ہیں کہ آئندہ اب وہ باپ کے مال میں کسی طرح کی حقدار نہیں۔ اس طریقے نے اب اتنی بھیانک صورت اختیار کر لی ہے کہ موجودہ دور میں ہندوؤں کے دانشور اس کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں۔ ہندوؤں کی اس مردود رسم کو مسلمان اپنا رہے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ جن کی مذہبی رسم تھی انہوں نے تو اس کے انجامِ بد سے عاجز آ کر اسے چھوڑنا شروع کر دیا اور ہم تباہ ہونے کے لیے اسے اپنا رہے ہیں۔ حالانکہ ہمارے مذہب میں اس کی کسی طرح گنجائش ہی نہیں۔
ہمارے مذہب میں لڑکی کو باپ کے مال میں سے وراثت کا حق ہے۔ وہ الگ لے گی اور شادی کے وقت جہیز کے نام سے الگ بٹورے گی، باپ بھائی پر لڑکی کا یہ دوہرا بار تقاضائے عقل کے خلاف ہے، اور اصولِ فطرت اور مرد کی شان کے بھی۔ فطری اصول سے مرد عورت پر بالادستی رکھتا ہے، اس سے قوت میں زیادہ ہے، اس میں کمانے کی بہ نسبت عورت کے صلاحیت زیادہ ہے، مجموعی طور پر عقل و تدبیر میں زیادہ ہے۔ عورت صنفِ نازک ہے، خلقی طور پر کمزور، اس میں کمانے کی وہ قوت نہیں جو مرد میں ہے۔ اس کے فطری عوارض اس میں مانع، اور تخلیقی مقاصد حارج، ایامِ حمل و رضاعت میں کمانا اس کے لیے دشوار بلکہ اس کو کمانے پر مجبور کرنا ظلم ہے۔ اس لیے اسلام نے مرد کو عورت پر حاکم رکھا۔ الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ، اور مرد پر فرض کیا کہ نکاح کے معاوضہ میں مہر دے۔ نکاح کے بعد اس کی پوری کفالت کرے، اور جہیز کی لعنت اس کے بالکل برعکس ہے۔ گویا عورت نکاح کا معاوضہ دے اور اتنا دے جو مدتِ دراز تک مرد کو عیش کرنے کے لیے کافی ہو۔ گویا جہیز مانگنے والے اتنے بے غیرت ہوتے ہیں کہ عورت کا مال کھانے کی ہوس رکھتے ہیں۔ شریعت نے تو یہاں تک پابندی کی تھی کہ ماں باپ بخوشی حسبِ حیثیت جو کچھ لڑکی کو جہیز میں دیں وہ لڑکی کی ملک ہے۔
رد المحتار میں ہے:
كُلُّ أَحَدٍ يَعْلَمُ أَنَّ الْجَهَازَ لِلْمَرْأَةِ۔
سب کو معلوم ہے کہ جہیز لڑکی کی ملکیت ہے۔
مگر مرد سب جہیز کو اپنی ملک سمجھتا ہے۔ نقد اڑاتا ہے اور سامان بیچ کر برباد کرتا ہے۔ یہ حرام اور بے غیرتی کی باتیں ہیں۔ مسلمانوں میں جو لوگ ذی اثر و دین دار اور قومی ملی جذبہ رکھتے ہیں انہیں لازم ہے کہ اس جہیز کی لعنت کے خلاف ابھی سے صف آرا ہو جائیں، مسلمانوں میں اسے پھیلنے سے روکیں اور اس کے لیے سمجھانے بجھانے سے کام نہ چلے تو ہر ممکن سختی کریں، ابھی ابتدا ہی میں روک تھام ہو گئی تو رک سکتی ہے، ورنہ بہت مشکل ہو جائے گا۔ حریص لالچی بے غیرت نہ مانیں تو ان کا سوشل بائیکاٹ کریں۔ نکاح خواں علماء اور میاں جی لوگوں کو لازم ہے کہ جہاں معلوم ہو کہ جہیز کے عوض لڑکا خریدا گیا ہے وہاں نکاح پڑھانے نہ جائیں، اپنے بیس آنے پیسے کے لالچ میں قوم کو تباہ نہ ہونے دیں۔ دس بیس ایسی پابندی ہو گئی تو امید ہے کہ ہندوؤں کی دھتکاری ہوئی یہ بلا مسلمانوں میں نہ پھیلے۔ واللہ اعلم۔
