| عنوان: | کلامِ رضا میں مناقب صحابۂ کرام اور امہات المؤمنین (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر عزیز احسن |
| پیش کش: | سلطانی رضویہ |
کلامِ رضا میں مناقب صحابۂ کرام اور امہات المؤمنین
سید المرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلانا شروع کیا تو مشرک معاشرے میں مخالفتوں کا ایک طوفان اٹھ گیا۔ لیکن ایسے کڑے وقت میں بھی اللہ کے نیک بندوں نے نہ صرف اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو قبول کیا بلکہ ہر قسم کی قربانی دے کر دین اسلام کی تبلیغ کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے یہاں تک کہ پورے حجاز میں دین اسلام غالب آگیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ تمام ساتھی صحابۂ کرام کے لقب سے ملقب ہوئے۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہ مقدس جماعت ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کی تحفیظ، تدوین اور تبلیغ کی ذمہ دار ٹھہری اور اللہ کی اس منتخب جماعت نے اسلام کی اس نہج پر تبلیغ و اشاعت کا کام شروع کر دیا جس نہج پر اللہ رب العزت اور اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا تھا۔ آج دنیا میں تقریباً ڈیڑھ ارب مسلمان آباد ہیں اور سب کے سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محنت سے مسلمان ہوئے ہیں اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرنے والے تمام مسلمان صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا احترام کرتے ہیں اور اسی لیے شعرائے کرام بھی اپنی شاعری کو اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر سے وقیع بناتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے مدحِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے اپنی شعری کائنات میں روشنی پیدا کی۔ اس لیے انہوں نے اللہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے ساتھ ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جان نثاروں کا ذکر بھی اپنے شعری عمل میں شامل کیا۔ سنتِ اللہ کا ذکر میں نے سورۂ فتح کی آیت کی روشنی میں کیا ہے جس میں اللہ رب العزت نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے ساتھیوں کا ذکر بھی فرمایا ہے:
مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا. [سورۃ الفتح: 29]
ترجمہ: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے سجدے میں گرتے اللہ کا فضل و رضا چاہتے ان کی علامت ان کے چہروں میں ہے سجدوں کے نشان سے، یہ ان کی صفت توریت میں ہے اور ان کی صفت انجیل میں، جیسے ایک کھیتی اس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اسے طاقت دی پھر دبیز ہوئی پھر اپنی ساق پر سیدھی کھڑی ہوئی کسانوں کو بھلی لگتی ہے تاکہ ان سے کافروں کے دل جلیں، اللہ نے وعدہ کیا ان سے جو ان میں ایمان اور اچھے کاموں والے ہیں بخشش اور بڑے ثواب کا۔
اعلیٰ حضرت کی نعتیہ شاعری میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذکر پر براہِ راست گفتگو کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم مختصراً صحابۂ کرام کی اہمیت، ان کی عظمت اور ان کی فضیلتوں کے چند حوالے قرآن کریم سے نقل کر دیں تاکہ امام اہل سنت کے اشعار میں آنے والے تلمیحاتی اشاروں کی تفہیم میں کوئی دشواری نہ رہے۔
سورۂ یوسف کی آیت: 108 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
قُلْ هٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللّٰهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ۖ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ. [سورۃ یوسف: 108]
ترجمہ: (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کہہ دیجیے کہ یہ (توحید اور آخرت کی تیاری کی دعوت) میرا راستہ ہے میں (لوگوں کو) اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ میں بھی دلیل پر قائم ہوں اور وہ لوگ بھی جو میرے پیرو ہیں۔
اس آیتِ مقدسہ میں “وَمَنِ اتَّبَعَنِي” سے مراد صحابۂ کرام کی مقدس جماعت ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: “صحابہ راہِ ہدایت پر تھے، معدنِ علم تھے، کنزِ ایمان تھے اور اللہ کا لشکر تھے۔” حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا، “جو سنت پر چلنا چاہے وہ مردوں کے طریقے پر چلے۔ صحابہ کا گروہ اس امت میں سب سے زیادہ پاک باطن گروہ تھا، جن کا علم گہرا تھا اور بناوٹ بالکل نہ تھی۔ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور اپنے دین کی اشاعت کے لیے ان کا انتخاب کیا تھا۔ وہ راہِ مستقیم پر گامزن تھے۔ تم لوگ انہیں کے اخلاق اور زندگی کے طریقوں کو اختیار کرو اور انہیں سے مشابہت پیدا کرو۔”
سورۂ توبہ کی آیت: 100 میں اللہ رب العزت نے فرمایا:
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ. [سورۃ التوبہ: 100]
ترجمہ: اور مہاجرین و انصار (ایمان لانے میں) سب سے آگے اور مقدم ہیں (بقیہ امت میں) جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں۔ اللہ ان سے راضی ہوا یعنی ان کی اطاعت کو اللہ نے قبول کر لیا اور ان کے اعمال کو پسند فرما لیا۔ اور وہ سب اس سے راضی ہوئے یعنی اللہ کا رب اور مالک ہونا اور اسلام کا ان کے لیے دین ہونا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رسول و نبی ہونا انہوں نے اپنے دلوں سے پسند کر لیا۔ اللہ نے ان کے دلوں میں اپنی اور اسلام کی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ڈال دی اور جو دنیوی اور اخروی نعمتیں اللہ نے ان کو عطا فرمائیں ان پر وہ راضی ہو گئے۔ اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بڑی کامیابی ہے۔
درج بالا آیت میں اللہ ربّ العزت نے اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے میں سبقت لے جانے والے لوگوں سے اپنی خوشنودی کا اظہار فرماتے ہوئے قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے ان نفوسِ قدسیہ کی پر خلوص اتباع کو اپنی رضا مندی کی سند عطا فرما دی۔ تفسیر مظہری میں حضرتِ علامہ قاضی ثناء اللہ عثمانی مجددی پانی پتی نے اسی آیت کی تفسیر میں وہ مشہور حدیث بھی نقل کی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ»
کہ میرے صحابہ (رضی اللہ عنہم) ستاروں کی طرح ہیں جس کی پیروی کرو گے، ہدایت یاب ہو گے۔ مصنف علام نے آل عمران کی آیت نمبر 107 کا ترجمہ کرتے ہوئے روشن چہرے والے لوگوں کو اہلِ سنت فرمایا ہے۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ روئے زمین پر یہی طبقہ ایسا ہے جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے میں عملِ صحابہ کرام، تابعین کرام، اتباع تابعین کرام رحمہم اللہ کا عملی نمونہ پیشِ نظر رکھتا ہے۔ اور بعد کی کسی بھی تحریک کے زیرِ اثر ان نفوسِ قدسیہ پر زبانِ طعن دراز کرنے کی جسارت نہیں کرتا۔ کیونکہ اس طبقے کے سامنے قرآن و سنت کا مکمل معیار ہے۔
سورۂ بقرہ کی آیت:
اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ. [سورۃ البقرة: 285]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومن ان آیات پر ایمان رکھتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی طرف سے ان پر اتاری گئی ہیں۔ اس میں “الْمُؤْمِنُوْنَ” سے مراد وہی مومن ہیں جو اس زمانے میں موجود تھے یعنی صحابۂ کرام (رضی اللہ عنہم)۔ باقی وہ اہل سنت و الجماعت جن کا ایمان صحابہ کے ایمان کی طرح ہو ان کا شمول صحابہ کے ساتھ (ذیلی طور پر) ہو جائے گا۔ صاحب تفسیر مظہری حضرت علامہ قاضی محمد ثناء اللہ عثمانی مجددی پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مقام پر ترمذی کی وہ معروف حدیث نقل فرمائی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کے 73 فرقوں میں تقسیم ہو جانے کی پیش گوئی فرمائی تھی اور ایک فرقے کے سوا سب کو ناری فرمایا تھا۔ پھر صحابۂ کرام کے استفسار پر ناجی (نجات پانے والا) فرقے کی نشاندہی اس طرح فرمائی تھی، “جو اس طریقے پر ہوگا جس پر میں اور میرے صحابہ (رضی اللہ عنہم) ہیں۔”
علامہ کوکب نورانی نے اپنی تصنیف ‘نعت اور آداب نعت’ میں لکھا ہے، مسلک حق صرف اہل سنت و جماعت ہی ہے اور ‘اہل سنت و جماعت’ اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لقب تھا۔ سیدنا علی اوسط امام زین العابدین کا قول بھی علامہ کوکب نورانی نے امام سخاوی اور جناب زکریا کاندھلوی کی کتب کے حوالے سے نقل فرمایا ہے جس کی رو سے اہل سنت کی نشانی ہے ‘بہت درود پڑھنے والے’۔
مدحِ رسول بھی چونکہ درود شریف ہی کی ایک صورت ہے اس لیے شاعری میں اس متبرک صنف کو اپنانے والے شعراء کی اکثریت اہل سنت والجماعت کے مسلک ہی سے تعلق رکھتی ہے۔ امام اہل سنت حضرت احمد رضا خان صاحب بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے تو اپنی شعری کائنات میں صرف اور صرف مدحتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی گونج پیدا کی ہے، اس لیے ہر صحیح العقیدہ مسلمان کی طرح سنتِ اللہ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا ذکر بھی جا بجا کیا ہے تاکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ اطہر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ مبارک اور تعلیمات پر اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پسندیدگی کے لیے جو عملی نمونہ درکار ہے، وہ بھی صحابہ کرام کی جماعت کے ذکر سے اجاگر کیا جا سکے اور اسلام پر عمل کرنے والوں کی جلائی ہوئی مشعل دست بدست قیامت تک روشن ہوتی چلی جائے۔
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ اپنے مسلک کی وضاحت اس طرح فرماتے ہیں:
اہلِ سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
ایک موقع پر سنی مسلمان کے وصال کے حوالے سے ایک نیک تمنا دعا بن کر زبانِ قلم پر آئی:
واسطہ پیارے کا ایسا ہو کہ جو سنی مرے
یوں نہ فرمائیں تیرے شاہد کہ وہ فاجر گیا
عرش پر دھومیں مچیں وہ مومنِ صالح ملا
فرش سے ماتم اٹھے وہ طیب و طاہر گیا
ایک جگہ فرماتے ہیں:
بے عذاب و عتاب و حساب و کتاب
تا ابد اہلِ سنت پہ لاکھوں سلام
چونکہ اہلِ تسنن ائمۂ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید کرتے ہیں اس لیے حضرات ائمہ کو بھی خراج عقیدت پیش کیا ہے:
شافعی مالک احمد امامِ حنیف
چار باغِ امامت پہ لاکھوں سلام
اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم رضوان اللہ علیہم اجمعین کو امام اہل سنت نے چشمِ تصور سے دیکھا اور حدیث انجم (أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ) یاد کر کے آقائے نامدار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس محفل کا جو نقشہ کھینچا تو انہیں ہر طرف نور ہی نور نظر آیا، فرماتے ہیں:
انجمن والے ہیں انجم، بزم حلقہ نور کا
چاند پر تاروں کے جھرمٹ سے ہے ہالہ نور کا
نعت نگاری میں اسوۂ صحابہ کا دھیان آئے تو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ذکر لازمی ہو جاتا ہے کہ انہیں ہی یہ فضیلت حاصل رہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شاعری سننے کے لیے ان کو منبر پر بیٹھنے کی ہدایت فرمائی اور ان کے لیے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا بھی فرمائی۔ اس لیے تمام نعت گو شعراء بالعموم اور امام اہل سنت بالخصوص حضرت حسان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں:
کرم نعت کے نزدیک تو کچھ دور نہیں
کہ رضائے عجمی ہو سگِ حسانِ عرب
اسی زمین میں خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عجیب شعر کہا ہے۔ اس شعر میں عجمی مسلمانوں اور عہدِ صحابۂ کرام (رضی اللہ عنہم) سے اب تک کے عرب مسلمانوں کا جذبۂ اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی منعکس ہوتا ہے اور علم بدیع کی کچھ صنعتیں بھی آ گئی ہیں:
تیرے بے دام کے بندے ہیں رئیسانِ عجم
تیرے بے دام کے بندی ہیں ہزارانِ عرب
اس شعر کی خوبی یہ ہے کہ اس میں علم بدیع کی صنعتیں مثلاً تجنیس تام، صنعت شبہ اشتقاق اور صنعت تضاد بھی یکجا ہیں اور شعر میں روانی اور فصاحتِ بیان بھی قائم ہے۔ صنعتِ تجنیس تام دونوں جگہ ‘بے دام’ کے الفاظ کی وجہ سے پیدا ہوئی کہ ‘بے دام’ ایک جگہ ‘بن مول’ کے معنی دے رہا ہے اور دوسری جگہ ‘بغیر جال’ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح ‘بندے’ اور ‘بندی’ میں شبہ اشتقاق ہے کیونکہ یہ دونوں الفاظ بظاہر ایک ہی مادے سے مشتق معلوم ہوتے ہیں لیکن اصلاً ایسا ہے نہیں۔ (بندے بندہ عبد) ‘غلام’ اور بندی (قید و بند) ‘قیدی’۔ عجم اور عرب میں صنعت تضاد کا ظہور ہوا ہے۔ اس شعر کی معنوی خوبی یہ ہے کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے جذبے کو زمان و مکان کی قید سے آزاد، ہر عہد کا جذبۂ محرکہ بتایا گیا ہے اور اب یہ سچائی ابد الآباد تک اپنی قوت آپ منواتی رہے گی۔
اہل سنت و جماعت صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمتوں کے قائل ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولادِ امجاد سے بھی تولائی تعلقِ خاطر رکھتے ہیں اس لیے ان کے اشعار میں برجستہ ان مقدس ہستیوں کا ذکر بھی آ جاتا ہے۔ اعلیٰ حضرت کے اشعار ملاحظہ فرمائیے:
مولیٰ گلبنِ رحمت زہرا، سبطین اس کی کلیاں پھول
صدیق و فاروق و عثماں، حیدر ہر اک اس کی شاخ
تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا
نور کی سرکار سے پایا دوشالہ نور کا
ہو مبارک! تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا
ان اشعار میں اعلیٰ حضرت نے ریاضِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کھلنے والے غنچوں اور پھولوں کے ساتھ ساتھ پودوں اور شاخوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو نور فرما کر قرآن کریم کی آیت کی طرف تلمیحاتی اشارہ بھی کر دیا ہے:
قَدْ جَآءَكُمْ مِنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ. [سورۃ المائدة: 15]
بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور (ذاتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم) اور روشن اور واضح کتاب (قرآن کریم) آ چکی ہے۔ پھر نورِ ہدایت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسلِ پاک میں بھی منعکس دکھایا ہے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ‘ذوالنورین’ ہونے کا شرف بھی واضح طور پر مذکور فرمایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حبالۂ عقد میں یکے بعد دیگرے سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ صاحبزادیاں آئی تھیں۔ حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی علالت کی وجہ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ غزوۂ بدر میں شرکت نہیں فرما سکتے تھے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لخت جگر سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمارداری کے لیے انہیں مدینے میں رہنے کی تاکید فرماتے ہوئے یہ بھی فرما دیا تھا کہ “تمہارے لیے اس آدمی کا اجر و ثواب اور مال غنیمت میں حصہ ہے جس نے اس غزوہ میں شرکت کی”۔ حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی رحلت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کر دیا اور فرمایا، “اگر میری سو (100) بیٹیاں ہوتیں تو میں یکے بعد دیگرے ان کو عثمان (رضی اللہ عنہ) کے حبالۂ عقد میں دے دیتا۔”
فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردارِ دو جہاں
اے مرتضیٰ! عتیق و عمر کو خبر نہ ہو
اس شعر کی تفہیم میں مجھے دقت کا سامنا تھا کہ میری رہنمائی کے لیے حضرت علامہ کوکب نورانی نے کراچی سے مجھے ‘جامع الاحادیث’ کے متعلقہ صفحے کی فوٹو نقل ارسال فرما دی۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے۔ (آمین) حدیث شریف: “امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، ابوبکر اور عمر سب اگلوں پچھلوں سے افضل ہیں، تمام آسمان والوں اور زمین والوں سے بہتر ہیں، سوا انبیاء و مرسلین کے۔ اے علی! تم ان دونوں کو اس کی خبر نہ دینا۔”
امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں: علامہ مناوی نے “تیسیر” میں فرمایا، “اس کے معنی یہ ہیں کہ اے علی (رضی اللہ عنہ)! تم ان سے نہ کہنا بلکہ ہم خود فرمائیں گے تاکہ ان کی مسرت زیادہ ہو۔” حضرت رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی شاعری میں مسلک اہل سنت کی اس طرح کی وضاحت فرمائی کہ ان کی شاعری کا مطالعہ کرنے والا ہر قاری باآسانی اعدائے اسلام کی پھیلائی ہوئی غلط باتوں سے آگاہ ہوتا جاتا ہے۔ اس طرح اس کی آگہی اس کو صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بدگمان نہیں ہونے دیتی اور اس کے ایمان کی حفاظت کا سامان ہو جاتا ہے:
تیرے چاروں ہمدم ہیں یک جان و یک دل
ابوبکر، فاروق، عثماں، علی ہے
اس شعر میں تلمیحی اشارہ قرآن کریم کی آیت کی طرف ہے جس میں اللہ رب العزت نے اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا ہے:
رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ. [سورۃ الفتح: 29]
آپس میں مہربان ہیں۔ اس آیت کے ہوتے کسی مزید دلیل کی ضرورت تو رہتی نہیں ہے۔ لیکن اعلیٰ حضرت کے شعر کی صداقت کی گواہی ہمیں تاریخ کی معروضی ورق گردانی سے بھی مل جاتی ہے، ان گروہوں سے متعلق اعلیٰ حضرت کے اشعار درج کرتا ہوں جن کی حضرت علی کی کاذب محبت یا صریحاً بغض کی وجہ سے خود حضرت علی نے انہیں رد فرما دیا تھا۔ پہلے یہ دیکھتے چلیے کہ حضرت رضا بریلوی کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے الفت کس درجے کی ہے۔
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
درِ نجف ہوں گوہرِ پاکِ خوشاب ہوں
یعنی ترابِ رہگزرِ بو تراب ہوں
درِ درجِ نجف، مہرِ برجِ شرف
رنگِ رومی شہادت پہ لاکھوں سلام
مرتضیٰ شیرِ حق اشجع الاشجعیں
ساقیِ شیر و شربت پہ لاکھوں سلام
اصلِ نسلِ صفا، وجہِ وصلِ خدا
بابِ فصلِ ولایت پہ لاکھوں سلام
ان اشعار سے رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے حبِ علی کا بھرپور اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ امام اہل سنت کی حبِ علی میں نہ تو روافض کی سی افراط ہے، نہ ناصبیوں اور خارجیوں والی تفریط یعنی اعلیٰ حضرت کی محبتِ علی عین اس مسلک کے مطابق ہے جو مسلکِ حق اہل سنت والجماعت ہے۔
اب وہ اشعار ملاحظہ فرمائیے جن میں ان فرقوں کا ذکر ہے جو غیر معتدل یا خلافِ حقیقت علی کی مخالفت کا شکار ہوئے:
اولیں دافعِ اہلِ رفض و خروج
چارمی رکنِ ملت پہ لاکھوں سلام
شیرِ شمشیر زن، شاہِ خیبر شکن
پرتوِ دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام
ماحیِ رفض و تفضیل و نصب و خروج
حامیِ دین و سنت پہ لاکھوں سلام
ناصبی را بغضِ تو سوئے جہنم رہ نمود
رافضی از حبِّ کاذب در سقر در آمدہ
اے عدوئے کفر و نصب و رفض و تفضیل و خروج
اے علویِ سنت و دینِ ہدیٰ امداد کن
ان اشعار سے صاف ظاہر ہے کہ امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نصب (عداوتِ علی)، رفض (کاذب حبِ علی اور بغض صحابۂ کرام)، تفضیل (حضرت علی کو تین خلفائے راشدین پر فضیلت دینا)، خروج (حضرت علی سے واقعۂ تحکیم میں مخالفت کرنے والے) سب کے سب حدِ اعتدال سے ہٹے ہوئے ہونے کے باعث ناقابل قبول ہیں، کیونکہ ان تمام رویوں کو خود حضرت علی نے رد فرما دیا تھا۔ حضرت علی نے خوارج سے جنگ کی اور ان کا صفایا کر دیا اور روافض کے لیے فرمایا: “میری محبت میں حد سے گزرنے والا، زیادتی کرنے والا ہلاک ہو جائے گا”۔ آقائے نامدار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے “علی کی محبت اور ابوبکر و عمر کا بغض کسی مومن کے دل میں جمع نہیں ہو سکتا۔”
تفسیر مظہری میں سورۂ حشر کی آیت نمبر 10:
وَالَّذِيْنَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِيْنَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ. [سورۃ الحشر: 10]
(بعد کو آنے والے ان اگلوں کے لیے (دعا کرتے ہیں اور) کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں اور ہمارے دلوں میں ان ایمان والوں کے لیے کینہ نہ پیدا کر دینا۔ اے ہمارے رب! تو بڑا شفیق و رحیم ہے)۔
کی تفسیر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مہاجرین و انصار کے بعد والوں سے مراد فتح مکہ کے بعد مسلمان ہونے والے اور قیامت تک آنے والے مؤمن مراد ہیں پھر ابن ابی لیلیٰ کا قول لکھا ہے کہ اگر کسی کے دل میں کسی صحابی کی طرف سے کسی طرح کا بغض ہو تو وہ ان لوگوں میں شمار نہیں ہوگا جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ پھر ایک واقعہ فصول (اثنا عشری فرقے کی کتاب) سے نقل کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ خلفائے ثلاثہ پر نکتہ چینی کر رہے تھے تو حضرت جعفر محمد بن علی باقر نے فرمایا: “میں شہادت دیتا ہوں کہ تم ان لوگوں میں شامل نہیں ہو جن کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے: وَالَّذِيْنَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ (الآیۃ)۔” اس کے بعد صحیفۂ کاملہ سے حضرت امام زین العابدین کی ایک طویل دعا درج کی ہے جس کے آخری الفاظ یہ ہیں، “اے اللہ! اور رحمت نازل فرما ان لوگوں پر جو بخوبی صحابہ کی پیروی کرنے والے ہوں اور کہتے ہوں، رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا (الآیۃ) (اے ہمارے رب! ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے)”۔
اسی تناظر میں حضرت علی کو ان تمام مسالک کا دشمن بتایا ہے، چراغ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم سے شرارِ بولہبی کی ستیزہ کاری ازل سے جاری ہے۔ اس لیے اعدائے اسلام اپنی سازشوں میں کسی حد تک ان مقدس ہستیوں کے درمیان اختلاف کی داستانیں گڑھنے اور ان کو ہوا دینے میں کامیاب ہو گئے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے گواہی دی ہے کہ وہ آپس میں مہربان ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا:
“جو شخص میرے بعد زندہ رہا، وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا سو تم پر لازم ہے کہ تم میری اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کو جو ہدایت یافتہ ہیں، مضبوطی سے پکڑے رکھو اور اپنی داڑھیوں اور کچلیوں سے محکم طور پر اس کو قابو میں رکھو اور تم نئی نئی چیزوں سے بچو، کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔” [سنن الترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن ابی داؤد، مستدرک حاکم، مسند دارمی اور مسند احمد]
یہی وجہ ہے کہ اہل سنت کے علماء اور مفکرین و دانشور، نیز شعرا جہاں اصحابِ کرام کا ذکرِ جمیل کرتے ہیں انہیں آئینۂ تاریخ پر دشمنانِ اسلام کی ڈالی ہوئی گرد صاف کرنے کے لیے بھی بتانا پڑتا ہے کہ صحابۂ کرام آپس میں شیر و شکر تھے۔ رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی پس منظر میں یہ کہا تھا:
تیرے چاروں ہمدم ہیں یک جان یک دل
اس ضمن میں خلفائے ثلاثہ کے بارے میں صرف حضرت علی کی رائے ملاحظہ فرما لیجیے، مؤلفِ کتاب، امیر المؤمنین سیدنا علی نے شرح نہج البلاغہ لابن میثم جلد چہارم، مطبوعہ تہران کے حوالے سے سیدنا علی کے مکتوب کے چند جملے نقل کیے ہیں جو شیخین کی عظمت کی گواہی کے لیے کافی ہیں۔ سیدنا علی سیدنا امیر معاویہ کو لکھتے ہیں: “اور اسلام میں سب لوگوں سے افضل جیسا کہ تو نے کہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ اخلاص رکھنے والے خلیفہ ابوبکر صدیق تھے اور پھر اس خلیفہ کے بعد عمر فاروق تھے۔ مجھے اپنی عمر کی قسم! ان دونوں کا اسلام میں بہت بڑا مقام ہے اور ان کی موت اسلام کے لیے ایک بہت بڑا زخم تھا۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں پر اپنی رحمتیں فرمائے اور ان کے اعمال کی ان کو بہترین جزا عطا فرمائے۔” (آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم)
ماہنامہ سنی دنیا [ص: 243 تا 249، نومبر 2018]
