Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

یہود کے بارے میں ایک آیت کی تشریح|علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی

یہود کے بارے میں ایک آیت کی تشریح
عنوان: یہود کے بارے میں ایک آیت کی تشریح
تحریر: علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی
پیش کش: اقصیٰ عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

یہودیوں کے بارے میں قرآن کریم میں فرمایا گیا:

وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ [سورۃ البقرۃ: 61]

ترجمہ: اور ان پر ذلت اور گداگری چھاپ دی گئی ہے، اور وہ من جانب اللہ نشانۂ غضب ہیں۔

جو لوگ یہودیوں کی سن 1949 عیسوی سے قبل کی تاریخ پر نظر ڈالیں گے ان پر فرمانِ خداوندی کی صداقت مہرِ نیم روز کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ خدا کی خدائی میں یہودیوں سے بدتر ذلیل و کمینہ و رسوائے زمانہ کوئی قوم نہ ہوئی ہے نہ ہو سکتی ہے۔ فرعون نے صدیوں تک ان کو غلام بنائے رکھا۔ طالوت نے ان کا بھرکس نکالا۔ بخت نصر نے انہیں خاک میں ملایا۔ بازرین نے ان کی عزت و ناموس کی دھجیاں بکھیر دیں اور عیسائیوں کے اقتدار نے ان کو ایسا ملیامیٹ کیا کہ ڈیڑھ ہزار سال سے در بدر کی ٹھوکروں کے سوا کہیں اطمینان سے سر چھپانے کی جگہ نہ مل سکی۔ ملک بملک مارے مارے پھرتے۔ یہاں جاتے، دھتکارے جاتے، نہ کہیں سکون نہ چین، عزت و ناموس و وقار و عظمت کا کوئی سوال ہی نہیں۔ صورت ایسی نکبت آگیں کہ لکھ پتی بھی صورتاً بھیک منگا معلوم ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کے شودروں کی ایسی صورتیں بھی یہودیوں کے مقابلے میں کچھ آب رکھتی ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرمانِ خداوندی کسی معینہ مدت تک کے لیے نہیں۔ خدا کی مسلط کی ہوئی ذلت و مسکنت ایسی نہیں کہ اسے کوئی دور کر سکے۔ پھر جب کہ بعض آیات میں “إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ” کی حد ہے تو قیامت سے پہلے یہ رسوائی و ذلت ختم ہونا فرمانِ خداوندی کی تکذیب ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سن 1949 عیسوی میں ساری دنیائے اسلام کے علی الرغم یہودی مملکت کا قیام ہو گیا۔ کیا یہ مملکت ذلت و مسکنت کا اختتام نہیں؟ اچھا! اگر یہ مملکت رسوائی و نکبت کا اختتام نہیں تو اپنے حریف عربوں کی متحدہ طاقت کو ہر تصادم میں شکست دینا ان کے علاقہ پر قبضہ کر لینا، مفتوح عربوں کو ان کے گھروں سے نکال کر بھیڑ بکری کے گلے کی طرح ہانک کر ملک سے باہر کر دینا تو ضرور ذلت و مسکنت کا اختتام ہے۔ ایسی صورت میں مذکورہ بالا ارشادِ قرآن کی توجیہ کیا ہوگی؟ خصوصاً اس صورت میں کہ کثیر علماء نے اس آیت کے تحت یہ لکھا ہے کہ یہود کی ذلت و مسکنت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج روئے زمین پر یہود کی کوئی سلطنت نہیں۔ ان علماء کے پیرو اب کیا کہیں گے؟

یہ سوال سن 1949 عیسوی کے بعد بار بار اٹھا ہے۔ علماء نے اس کے مختلف جوابات دیے ہیں۔ عرصہ ہوا میں نے اس کا ایک جواب لکھا تھا جو رسالہ پاسبان میں چھپ بھی چکا ہے۔ اسی جواب کو آج ضروری تشریح کے ساتھ ہدیۂ ناظرین کر رہا ہوں۔

اگرچہ آیت مذکورہ میں ذلت و مسکنت کی ضرب یہود پر مطلق بیان کی گئی ہے۔ لیکن دوسری آیت میں یہ مقید ہے۔

ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ [سورۃ آل عمران: 112]

ترجمہ: ان یہودیوں پر ذلت چھاپ دی گئی ہے جہاں بھی رہیں۔ مگر یہ کہ اللہ کی رسی پکڑ لیں یا اور لوگوں کی رسی پکڑ لیں۔

چونکہ قرآن کریم کا اصول ہے:

الْقُرْآنُ يُفَسِّرُ بَعْضُهُ بَعْضًا

قرآن مجید کی بعض آیتیں بعض کی تفسیر ہیں۔

لہذا جو آیتیں اس مضمون کی عام ہیں وہ اسی آیت سے خاص ہوں گی۔ اب صاف مطلب یہ ہوا کہ یہود لاکھ سر پٹکیں، لاکھ کوشش کریں، ہاتھ پیر ماریں، از خود اپنے بل بوتے قہر خداوندی کی چھاپ ہرگز نہیں مٹا سکتے۔ ہاں! اگر توفیق ایزدی دستگیری فرمائے، اور مومن بن کر اللہ کی رسی پکڑ لیں تو یہ ذلت و رسوائی کا داغ مٹ سکتا ہے۔ اگر شقاوتِ ازلی انہیں یہ سعادت حاصل نہ کرنے دے تو دوسری صورت یہ ہے کہ دنیا میں کسی کے دست نگر ہو کر ان کی غلامی کا طوق گلے میں ڈال لیں تو یہ داغ دور ہو سکتا ہے۔

یہودیوں کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ اس فرمانِ ایزدی کے حرف حرف، نقطہ نقطہ کی صداقت پر برہانِ قاطع ہے۔

عیسائیوں نے قوت حاصل کرتے ہی اس منحوس قوم کا اس طرح قلع قمع کیا کہ انہوں نے اپنی دانست میں اس کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا تھا۔ ارضِ مقدس ان کے ناپاک وجود سے یکسر خالی ہو گئی۔ یہ اپنی جان لے کر ادھر ادھر بھاگے۔

اسلام آیا، تو اس نے ابتدائً اپنی امن پسندی کی بنا پر ان کے ساتھ شریفانہ معاہدہ کر کے ان کو تمام شہری حقوق دیے۔ لیکن یہ اپنی فطری شر پسندی، احسان فراموشی، غداری، منافقانہ رویے کی بنا پر اسلام کو پنپنے سے پہلے ہی ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔ کون سی دسیسہ کاری تھی جو انہوں نے نہیں کی! کون سی سازش تھی جسے انہوں نے نہ کیا ہو! مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنا، حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرنا، آپ کے خلاف پروپیگنڈا کرنا، منافقین کی پشت پناہی کرنا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کی جدوجہد، معاندینِ اسلام کی مالی امداد، ان کے لیے سراغ رسانی، معاہدہ کی خلاف ورزی، سخت ترین نازک موقع پر محاربین سے مل کر مسلمانوں کا قلع قمع، مدینے پر حملے کی تیاریاں، لیکن خدائی حفاظت و صیانت اور امداد و اعانت کے آگے ان کی ایک نہ چلی۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غداری، احسان فراموشی، نمک حرامی کے نتیجے میں یہ پہلے مدینہ طیبہ سے پھر پورے جزیرۂ عرب سے نکالے گئے۔ دوسری طرف اسلام کی حقانیت و صداقت نے ان کی باطل مذہبی بنیادیں متزلزل کر دیں۔ جن کو توفیق ملی وہ اللہ کی رسی پکڑ کر ذلت و نکبت سے نجات پا گئے۔

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور کعب احبار کے نام سے کون واقف نہیں۔ دامنِ اسلام میں آ کر یہ حضرات عزت و عظمت کی کس بلندی پر پہنچے، وہ ہزاروں کے لیے باعث رشک ہے۔

یہ جلوہ “إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللَّهِ” کا ہے۔ اگر یہ اللہ کی رسی پکڑ لیں تو قہر خداوندی کی زد سے نکل سکتے ہیں۔ لیکن جو بد نصیب یہ سعادت نہ حاصل کر سکے وہ سارے تیرہ سو سال در بدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے۔ اسلام میں سینکڑوں انقلاب آئے، خلافتِ اسلامیہ ختم ہوئی۔ مملکتیں قائم ہوئیں، بنی امیہ فنا ہوئے، ان کی جگہ بنی عباس آئے، بنی عباس کا کوکبِ اقبال غروب نما ہوا، بنی فاطمہ بساطِ سیاست پر چمکے، مرکزی قوتیں ختم ہوئیں۔ طوائف الملوکی پھیلی۔ حتیٰ کہ یورپ کے صلیبی ڈاکوؤں نے ارضِ مقدس پر قبضہ کر لیا۔ مگر اس غضب کی ماری قوم کو کبھی حوصلہ نہ ہوا کہ ارضِ مقدس تو کیا کسی دور دراز ویرانے میں ہی ایوانِ سلطنت کے نام سے ایک بھٹ ہی بنا لیتی۔ غضبِ خداوندی کی بجلیوں نے ان کا نشیمن ایسا پھونکا کہ کہیں ایک تنکے کا بھی پتا نہیں تھا۔

پھر اس کے بعد صلیبی دیوانوں اور مجاہدینِ اسلام میں آٹھ سو سال تک رزم آزمائی ہوتی رہی۔ ایک تیسرے حریف کو اس سے بہتر اور کوئی موقع نہیں مل سکتا کہ اس کے دو دشمنوں میں جنگ و جدال برپا ہو۔ ایک چالاک حریف دشمنوں کی چند روزہ لڑائی سے بہت بڑا فائدہ حاصل کر لیتا ہے۔ مگر وہی جو حساس ہو، غیرت مند ہو، باحمیت ہو، لیکن جس کا خمیر ہی خلاقِ دو عالم نے ذلت و نکبت سے بنایا ہو، اسے کیا احساس! اور بالفرض احساس بھی ہو تو دنیا کے گوشے گوشے میں پراگندہ قوم کر ہی کیا سکتی ہے۔

بالآخر عربوں کی قومی انفرادیت پسندی اور اس کے تحت ابھرنے والے نعرۂ آزادی نے وہ روزِ بد دکھایا کہ برطانیہ ارضِ مقدس پر قابض ہو گیا۔ اس وقت دنیا کی ہر قوم استعماری قوتوں سے متنفر ہو چکی تھی۔ اور بڑی سے بڑی طاقت سے لڑ کر آزاد ہونا جان چکی تھی۔ برطانیہ خوب جانتا تھا کہ ارضِ فلسطین پر ہم بہت دنوں تک اپنے اقتدار کو قائم نہیں رکھ سکتے۔ اور جلد ہی وہ دن آنے والا ہے کہ یہ ارضِ مقدس چھوڑ کر جانا ہے۔ کینہ پرور، مسلم دشمن، انگریز نے یہ گوارا نہیں کیا کہ ارضِ مقدس کے جن وارثین نے عیسائیوں سے چھین کر ساڑھے تیرہ سو سال تک اس پر انہیں قابض نہیں ہونے دیا، جن مردانِ خدا نے ان کے آباؤ اجداد کو وہ شرمناک شکستیں دی ہیں، جن کو سن کر وہ آج بھی عرق عرق ہیں۔ انہیں یہ امانت سپرد کی جائے۔ لہذا اس نے دنیا کے گوشے گوشے سے یہودیوں کو بلا کر فلسطین میں آباد کرنا شروع کر دیا۔ انہیں سکھایا پڑھایا، ان کے سینوں میں مسلم دشمنی کا دبا ہوا جذبہ ابھارا، اور اقوام متحدہ کی وساطت سے امریکہ، فرانس، روس تینوں کی ہم نوائی سے دنیا کی رائے عامہ کے بر خلاف آئین و انصاف کو ذبح کر کے یہودی ریاست کو جنم دیا۔ یہودیوں میں اب بھی یہ قوت نہ تھی کہ وہ اس کی ہمت کر سکتے کہ اپنی مملکت قائم کریں، یا دنیا کی کوئی انصاف پسند کچہری انہیں دنیا کے کسی خطے میں ایک انچ زمین پر حکومت قائم کرنے کی اجازت دیتی۔ لیکن امریکہ اور برطانیہ نے اسلام و عرب دشمنی میں انہیں اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے سہارے جنم دیا۔

یہ جلوہ ہے “وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ” کا کہ کہیں ذلت سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے مگر یہ کہ کسی کی گود میں جا بیٹھیں۔ یہودی مملکت کا نظم و نسق اگرچہ ان کے ہاتھ میں ہے، مگر اس کے قیام و بقا و حفاظت کی ذمہ داری امریکہ و برطانیہ کے سر ہے۔

اور سن 1956 عیسوی میں جو ہوا یا ابھی جون کے پہلے ہفتہ میں جو کچھ ہوا یہ یہودیوں کا کیا نہیں بلکہ در پردہ امریکہ کی کارستانی ہے۔ اخبارات پڑھنے والے جانتے ہیں کہ امریکہ کا چھٹا بیڑا بحرِ روم میں موجود تھا، جس نے مصر کے راڈار سسٹم کو جام کر لیا۔ امریکن جاسوسی طیاروں نے مصری فضائیہ کے خفیہ پیغامات یہودیوں تک پہنچائے، بمباری کرنے والے طیاروں کے پائلٹ بجائے عبرانی کے انگریزی میں بات کرتے سنے گئے۔ یہ یہودیوں اور مصر و عرب کا مقابلہ نہ تھا، یہ عرب اور امریکن تصادم تھا۔

اسے بھی جانے دیجیے۔ یہودیوں کو اتنے کثیر اسلحے، طیارے، ناپام بم کہاں سے ملے اس کا ایک ہی جواب ہے، امریکہ، پھر عربوں پر یہ عبوری فتح یہودیوں کی نہیں، امریکہ کی ہے۔ آج بھی ان تمام سامانِ جنگ سے آراستہ ہونے کے باوجود اگر امریکہ وغیرہ یہودیوں کی پیٹھ سے ہٹ جائیں اور عرب کے مقابلہ پر صرف یہود رہ جائیں تو دنیا دیکھے گی کہ چند روز میں یہودی مملکت کا وجود باقی نہ رہے گا۔

ایسی صورت میں جب کہ قرآنِ کریم نے “إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ” کا استثنا فرمایا ہے، اور واقعات نے بتا دیا کہ یہودی مملکت کا قیام و بقا، ترقی و فتوحات امریکہ کی رہینِ منت ہیں، تو یہود کی یہ مملکت اور اس کی فتوحات ارشادِ قرآنی کے ہرگز منافی نہیں۔

بلکہ اگر بہ نظرِ دقیق دیکھا جائے تو ارشادِ قرآنی میں “حبل من الناس” کا استثنا بتا رہا ہے کہ آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کی خبر قرآنِ کریم نے چودہ سو سال پہلے ہی دے دی تھی۔ قرآنِ کریم کا استثنا محض اتفاق نہیں یا محض اظہارِ اندیشہ کے طور پر نہیں، بلکہ آئندہ جو کچھ ہونے والا تھا اس کی آگاہی ہے کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ دنیا کی یہ ذلیل ترین قوم کسی کی گود میں بیٹھ کر اپنی خواری و ذلت مٹانے کی کوشش کرے گی۔ اور اس میں ایک گونہ کامیاب ہوگی، اور آج یہی ہوا۔

یہ تو اس تقدیر پر کلام تھا کہ یہودیوں کی اس مملکت اور تغلب کو عزت مان لیا جائے اور اگر حقیقتِ امر پر نظر کی جائے تو آج بھی ذلت و مسکنت کی خدائی چھاپ ان کی پیشانیوں سے دور نہیں ہوئی۔ صاحبِ تخت و تاج ہونے ہی سے عزت نہیں ملتی۔ عزت یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں وقار ہو، لوگ ذکرِ خیر کریں، مدح و ثنا کریں، ان کا کوئی وزن دنیا کی نظروں میں ہو، وہ کسی کے دستِ نگر و دریوزہ گر نہ رہیں۔ اس معنی میں یہودی جتنے ذلیل آج ہیں، شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھے۔ دنیا کی اکثریت انہیں چور، غاصب، جارح، ظالم، شقی، بے رحم، دغا باز، کمینہ کہہ رہی ہے، جس طرح نہتے شہریوں کی دولت لوٹنے والا، انہیں قتل کرنے والا، ان کے گھروں کو پھونکنے والا ڈاکو کسی کی نظر میں عزیز نہیں ہوتا، اسی طرح آج کے یہودی بھی کسی اعتبار سے ذی عزت نہیں کہے جا سکتے۔ محتاجی و مسکنت کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر ہر شعبہ میں امریکی بھیک کے محتاج ہیں۔ آج اگر امریکہ اپنی بھیک روک لے تو ان یہودی گدا گروں کو دنیا میں کوئی بھیک دینے والا نہ ملے گا۔

خلاصہ کلام یہ کہ قرآنِ کریم میں اس کی تصریح ہے کہ یہود کی یہ ذلت و مسکنت خود ان کی اپنی قوتوں سے ختم نہ ہوگی۔ ہاں! اگر یہ اللہ کی رسی پکڑیں، تو دور ہو سکتی ہے، اور اگر یہ سعادت ان کی قسمت میں نہیں تو اگر کسی غیر کی پناہ میں آ جائیں تو ان کے حصار میں در بدر کی ٹھوکروں سے بچ سکتے ہیں۔ یہی حال یہود کا ہے کہ ڈیڑھ ہزار سال کے بعد امریکہ کی پشت پناہی میں ان کو یہ قوت حاصل ہوئی ہے کہ عرب پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں، لیکن رسوائی، محتاجی، دریوزہ گری، بھیک منگی، گداگری، اب بھی چمٹی ہوئی ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!