Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

رمی جمرات کے اوقات میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں|علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی

رمی جمرات کے اوقات میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں
عنوان: رمی جمرات کے اوقات میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں
تحریر: علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی
پیش کش: محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال)

روزنامہ ”انقلاب“ بمبئی کی 14 یا 15 اپریل کی اشاعت میں ایک مضمون نظر سے گزرا جس کا عنوان ہے ”رمی جمرات کے اوقات میں تبدیلی لانے پر غور“ جس کے اندر مکتوب تھا کہ جمرات پر کنکری مارنے پر جو حوادثات ہر سال ہوتے رہتے ہیں، اس لیے سعودی مفتی صاحبان اس پر غور کر رہے ہیں کہ اس کے اوقات میں تبدیلی کر لی جائے۔ 12/11 ذی الحجہ کو کنکری مارنے کا وقت بعدِ ظہر شروع ہوتا ہے، اس کو بدل کر نمازِ فجر کے بعد سے شروع کر دیا جائے۔ نیز سعودی مفتی صاحبان کا خیال ہے کہ شیطان کو کنکری مارنے کے رکن پر ظہر سے پہلے عمل شروع کرنا اسلامی روایات کے خلاف نہیں ہوگا۔ توقع ہے کہ آئندہ سال حج سے قبل اس سلسلے میں فتویٰ جاری کر دیا جائے گا۔

نیز اس میں لندن کے اخبار ”الحیات“ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اس قسم کے فتویٰ کی راہ ہموار کرنے کے لیے سعودی علماء جو وہابی مکتبِ فکر کے سخت پابند ہیں، وہ تیرھویں صدی کے ابو حنیفہ النعمان کی لچک دار تعلیمات سے استفادہ کرتے ہوئے غیر معمولی اقدام کریں گے۔ یہ پورا مضمون کئی وجہ سے قابلِ تنقید ہے۔ ہم اس وقت سرِدست اس بات پر روشنی ڈال رہے ہیں کہ کیا شرعاً اس کی گنجائش ہے کہ 12/11 ذی الحجہ کو کنکری مارنے کا وقت نمازِ فجر کے بعد مقرر کرنا درست ہے؟ اور کیا حنفی مذہب کے مطابق ایسا کرنا صحیح ہے؟

اول: 12/11 ذی الحجہ کو کنکری مارنے کے وقت کی ابتدا دوپہر ڈھلنے سے ہوتی ہے۔ اس کے پہلے کنکری مارنا کالعدم ہے؛ اس لیے کہ حج کے ارکان قیاسی نہیں کہ ہم اپنی عقل و منشا کے مطابق اس میں جو چاہیں رد و بدل کریں، حج کے سارے ارکان اور ان کے اوقات من جانب الشرع متعین اور مقرر ہیں۔ حجۃ الوداع کے موقع پر حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح، جس ترتیب اور اوقات کی تعین کے ساتھ حج فرمایا، اسی طرح ہم پر حج کے افعال ادا کرنا لازم ہے۔ اس کے خلاف کرنے سے حج میں نقص لازم آئے گا۔ اس سلسلے میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

بخاری جلد اول صفحہ 235، مسلم جلد اول صفحہ 420، اور ابو داؤد جلد اول صفحہ 271 میں ہے:

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى، وَأَمَّا بَعْدُ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ۔

{ترجمہ} حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یومِ نحر (دسویں ذی الحجہ) کو چاشت کے وقت کنکری ماری اور اس کے بعد جب سورج ڈھل گیا تب ماری۔

نیز ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:

فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ۔

{ترجمہ} حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایامِ تشریق میں منیٰ میں قیام فرمایا اور جمرہ پر کنکری مارتے جب سورج ڈھل جاتا۔[ابو داؤد، ج: 1، ص: 271]

اس کے مطابق صحابہ کرام کا عمل یہ تھا کہ 12/11 ذی الحجہ کو زوال کے بعد کنکری مارا کرتے تھے۔ ابو داؤد میں اسی صفحہ پر نیز بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول مذکور ہے:

كُنَّا نَتَحَيَّنُ زَوَالَ الشَّمْسِ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ رَمَيْنَا۔

ہم سورج ڈھلنے کا انتظار کرتے رہتے، جب سورج ڈھل جاتا تو ہم کنکری مارتے۔

ان احادیث کی روشنی میں چاروں ائمہ مذاہب حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ، حضرت امامِ مالک، حضرت امامِ شافعی، حضرت امامِ احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم اجمعین کا متفقہ مذہب یہ ہے کہ 12/11 ذی الحجہ کو کنکری مارنے کا وقت دوپہر بعد سے شروع ہوتا ہے، اس کے قبل وقت نہیں ہوتا۔ کچھ اسلاف کا یہ مذہب ضرور ہے کہ ان دنوں میں قبلِ زوال بھی رمی صحیح ہے، مگر ان حضرات کا قول مرجوح ہونے کی وجہ سے بالکلیہ متروک ہے۔

عہدِ رسالت سے آج تک پوری امت کا یہی مذہب ہے اور اسی پر عمل ہے، ان دنوں میں رمیِ جمار کا وقت زوال سے پہلے نہیں ہوتا، زوال کے بعد شروع ہوتا ہے۔ کسی نے ان تاریخوں میں زوال سے پہلے رمی نہیں کی۔

حضرت امام نووی شافعی شرح مسلم میں لکھتے ہیں:

وَأَمَّا أَيَّامُ التَّشْرِيقِ، فَفِي مَذْهَبِنَا وَمَذْهَبِ مَالِكٍ وَأَحْمَدَ وَجَمَاهِيرِ الْعُلَمَاءِ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ الرَّمْيُ فِي الْأَيَّامِ الثَّلَاثَةِ إِلَّا بَعْدَ الزَّوَالِ؛ لِهَذَا الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ۔ دَلِيلُنَا أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى كَمَا ذَكَرْنَا، وَقَالَ: «لِتَأْخُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ»۔[شرح مسلم، ج: 1، ص: 42]

ہمارا اور امام مالک اور امام احمد اور جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ ایامِ تشریق (13/12/11 ذی الحجہ) میں زوال سے پہلے رمی جائز نہیں، اس حدیثِ صحیح کی وجہ سے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ویسے ہی رمی فرمائی جیسے ہم نے ذکر کیا، اور ارشاد فرمایا کہ ”تم لوگ مجھ سے حج کے ارکان سیکھ لو“۔

حتیٰ کہ علامہ ماوردی نے اس پر اجماع کا دعویٰ فرمایا جیسا کہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ جلد ثالث صفحہ 229 پر ہے، اور یہی دیوبندی جماعت کے ممتاز اور معتمد عالم خلیل احمد انبیٹھوی نے بذل المجہود میں لکھا:

فَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ النَّفْرِ، فَبَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ، أَيْ فَيَرْمِي الْجِمَارَ الثَّلَاثَ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ، وَهَذِهِ الْمَسْأَلَةُ مُجْمَعٌ عَلَيْهَا۔

{ترجمہ} یومِ نحر (دسویں تاریخ) کے بعد تینوں جمرات کی رمی سورج ڈھلنے کے بعد ہے، اور اس پر اجماع ہے۔[بذل المجہود، ج: 3، ص: 179]

قرنِ ثانی میں اس مسئلے میں کچھ اختلاف تھا مگر اس کے بعد احادیثِ صحیحہ کی بنا پر پوری امت کا اس پر اتفاق ہو گیا کہ 12/11 ذی الحجہ کو قبلِ زوال رمی جائز نہیں، اور حضرت علامہ ماوردی کے دعویِٰ اجماع کا حاصل یہی ہے۔

رہ گیا احناف کا مذہب، وہ بھی صحیح ہوتا، مختار و مفتیٰ بہ یہی ہے کہ گیارہویں بارہویں کو قبلِ زوال رمی جائز نہیں۔ ان دنوں میں رمی کا وقت بعدِ زوال ہے، سارے متون میں یہی مذکور ہے۔ قدوری میں ہے:

فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْيَوْمِ الثَّانِي مِنْ أَيَّامِ النَّحْرِ رَمَى الْجِمَارَ الثَّلَاثَ، إِلَى أَنْ قَالَ: فَإِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ رَمَى الْجِمَارَ الثَّلَاثَ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسُ۔

یومِ نحر کے دوسرے دن جب سورج ڈھل جائے تو تینوں جمار پر کنکری مارے، ایسے ہی اس کے دوسرے دن زوالِ شمس کے بعد کنکری مارے۔[قدوری، ص: 99]

اور یہی فتاویٰ خانیہ، ہدایہ، کنز، تنویر الابصار، نور الایضاح وغیرہ سارے متون میں ہے۔ ہمارا اصل مذہب وہی ہے جو متون میں مذکور ہے، اور یہی ہمارے علمائے احناف کا مختار و مفتیٰ بہ ہے، جیسا کہ کتبِ فقہ سے ظاہر ہے۔ ہاں! ایک روایتِ ضعیف حضرت امام حسن سے تو یہی ہے کہ 12 تاریخ کو بعدِ زوال رمی کی جائے لیکن اگر کسی نے قبلِ زوال کر لیا تو کافی ہے۔

ہدایہ میں ہے:

فِي الْمَشْهُورِ مِنَ الرِّوَايَةِ۔

اس کے تحت عنایہ میں ہے:

احْتِرَازًا عَمَّا رَوَى الْحَسَنُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ إِنْ كَانَ مِنْ قصدِهِ أَنْ يَتَعَجَّلَ فِي النَّفْرِ الْأَوَّلِ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَرْمِيَ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ قَبْلَ الزَّوَالِ، وَإِنْ رَمَى بَعْدَهُ فَهُوَ أَفْضَلُ۔

(ترجمہ) (مشہور کی قید) اس سے احتراز ہے، جو امام حسن نے امام ابو حنیفہ سے روایت کی کہ اگر اس کا قصد یہ ہے کہ نفرِ اول میں جلدی کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ تیسرے دن زوال سے قبل رمی کرے، اور اگر زوال کے بعد رمی کر لے تو افضل ہے۔[عنایہ، ج: 2، ص: 393]

مگر اس روایت کو ہمارے علماء نے دو طرح مرجوح قرار دیا؛ اول: جو متون میں ہے وہ ظاہرِ مذہب ہے، اور یہ روایت نوادر میں سے ہے۔ روایتِ نوادر کے مقابل ظاہرِ مذہب کو ترجیح ہوگی۔ ثانی: دلیل کے اعتبار سے بھی یہ مرجوح ہے۔ امام ابنِ ہمام نے اور صاحبِ عنایہ وغیرہ نے فرمایا کہ حج کے ارکان کی ادائیگی کے وقت اور جگہ کے سلسلے میں حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی لازم ہے۔ جس طرح یہ جائز نہیں کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جو رکن جہاں ادا کیا اس جگہ کو تبدیل کیا جائے، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ وقت میں تبدیلی کی جائے۔

اور جب قبلِ زوال رمی کی اجازت مرجوح اور ضعیف ہے تو نہ اس پر فتویٰ دینا درست اور نہ اس پر عمل جائز۔ درمختار میں ہے:

فَعَلَيْنَا اتِّبَاعُ مَا رَجَّحُوهُ وَصَحَّحُوهُ، وَالْفُتْيَا بِالْقَوْلِ الْمَرْجُوحِ جَهْلٌ وَخَرْقٌ لِلْإِجْمَاعِ۔

ہم پر اس کا اتباع واجب ہے، جس کی علماء نے تصحیح کی، جس کو ترجیح دی؛ قولِ مرجوح پر فتویٰ دینا جہالت اور خرقِ اجماع ہے۔

اس کو آپ یوں سمجھئے جیسے کسی بارے میں حدیثِ صحیح اور ضعیف متعارض ہوں تو اس پر سب کا اتفاق ہے کہ حدیثِ صحیح کو ترجیح ہوگی، اس طرح اگر کسی امام سے دو روایتیں متعارض ہوں، ایک صحیح دوسری ضعیف، تو صحیح کو ترجیح دینا لازم ہے۔ تعجب ہے علمائے سعودیہ پر کہ وہ ادنیٰ سی جرح پر احادیثِ حسنہ کو بھی ناقابلِ عمل قرار دیتے ہیں، اور یہاں صحیح حدیث کے خلاف اور سارے مذہب کے صحیح قول کے خلاف ایک ضعیف مرجوح روایت پر عمل کرنے کے لیے آمادہ نظر آتے ہیں۔ نیز یہ لوگ اپنے آپ کو حنبلی کہتے ہیں، حنبلی مذہب بھی یہی ہے کہ 12/11 ذی الحجہ کو بعدِ زوال رمی کی جائے، قبلِ زوال رمی جائز نہیں۔

مذہبِ حنبلی کی معتبر کتاب ”المغنی لابن قدامہ“ جلد ثالث صفحہ 452 پر ہے:

وَلَا يُرْمَى فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ إِلَّا بَعْدَ الزَّوَالِ، فَإِنْ رَمَى قَبْلَ الزَّوَالِ أَعَادَ۔

{ترجمہ} ایامِ تشریق میں رمی نہ کرے مگر بعدِ زوال، اگر قبلِ زوال رمی کرے تو لوٹائے۔[المغنی لابن قدامہ، ج: 3، ص: 452]

جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے، حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے ایسی کوئی روایت نہیں کہ 12 کو قبلِ زوال رمی جائز ہے۔ اس سے ثابت کہ حنابلہ کا اس پر اتفاق ہے کہ 12 اور 13 کو قبلِ زوال رمی درست نہیں، بعدِ زوال ہی رمی ضروری ہے۔

رہ گئے حوادثات، تو حوادثات کی وجہ سے ارکانِ حج کے اوقات میں تبدیلی کسی طرح مسلمان برداشت نہیں کر سکیں گے۔ یہ حوادث برسہا برس سے ہو رہے ہیں، مگر سعودی حکومت نے اس کے سدِ باب کے لیے نہ کچھ سوچا نہ انتظام کیا، مجھے حیرت ہے کہ سعودی حکومت ساڑھے چار سو ریال فی حاجی کس لیے وصول کرتی ہے؟

حوادث کے اسباب میں سب سے بڑا سبب حجاج کی عجلت ہے، نیز حکومت کی لاپرواہی۔ یہ حوادث زیادہ تر 10 کو ہوتے ہیں یا 12 کو۔ 10 کو حجاج کو یہ جلدی رہتی ہے کہ جلد از جلد احرام کھول دیں حالانکہ وہ اگر صبر کریں اور احرام کھولنے کے لیے بے چین نہ ہوں تو کوئی حادثہ نہ ہو۔ یہ ضرور ہے کہ 10 کو زوال سے پہلے پہلے کنکری مار لینا سنت ہے، لیکن اس کا وقت غروبِ آفتاب تک بلا کراہت ہے، بلکہ رات میں بھی اگر عذر کی بنا پر کنکری ماریں تو کراہت نہیں ہے۔

اسی طرح 12 کو اگر وہ مکہ واپس ہوں تو جلدی نہ مچائیں تو کوئی حادثہ نہ ہو۔ اس میں حکومت پر لازم ہے کہ وہ جمرہ پر بہت مستعد اور چاق چوبند فوجیوں یا شرطیوں کو متعین کریں اور ان کی مقدار بھی معتد بہ ہو اور اندازہ لگائیں بیک وقت ایک جمرے پر کتنے آدمی کنکری مار سکتے ہیں، اتنے ہی آدمیوں کو وقفے وقفے پر جمرہ پر جانے دیں تو کوئی حادثہ نہ ہوگا۔ اس طریقے پر مزید غور کر کے مناسب اقدام کیا جائے۔ پھر جب علماء نے تصریح فرما دی کہ اگر دن میں کسی عذر کی وجہ سے 12 کو کنکری نہیں مار سکا تو رات میں بلا کراہت جائز ہے، زیادہ سے زیادہ یہی نہ ہوگا کہ 13 کو منیٰ میں پھر رہنا پڑے گا، تو اس میں کیا حرج ہے۔ ایک دن مزید رک جائیں، 13 کو بعدِ زوال کنکری مار کر مکہ واپس آئیں۔ یہ عمل بلاشبہ سنت و شریعت کے مطابق ہو گا۔ لیکن اگر بالفرض سعودی مفتیوں نے رمی کے وقت میں تبدیلی کی تو یہ دین میں ان کی بے جا مداخلت ہو گی، جسے مسلمان کبھی نہیں برداشت کر سکیں گے۔

دسویں کو تو صبح ہی سے کنکری ماری جاتی ہے، اس کے باوجود اس دن بھی حادثے ہوتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ خلافِ شرع وقت کی تبدیلی مسئلے کا حل نہیں بلکہ انتظام کی درستی یا شریعت کی رخصت کے مطابق تاخیر مسئلے کا حل ہو سکتی ہے۔

مضمونِ مذکور میں ہے کہ رمی کا وقت بعدِ ظہر ہے، یہ غلط ہے۔ رمی کا وقت دوپہر کے بعد فوراً ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اگر کسی نے نماز نہیں پڑھی، دوپہر ڈھلتے ہی فوراً ہی رمی کر لی تو صحیح ہے؛ اسی طرح اس میں یہ ہے کہ امامِ اعظم ابو حنیفہ آٹھویں صدی کے امام ہیں، یہ بھی غلط ہے۔ حضرت امامِ اعظم دوسری صدی کے امام اور تابعی ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!