Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تقدیم۔ مخالفین تقلید کا ایک جائزہ (مقالات مصباحی)|محمد احمد مصباحی

تقدیم۔ مخالفین تقلید کا ایک جائزہ (مقالات مصباحی)
عنوان: تقدیم۔ مخالفین تقلید کا ایک جائزہ (مقالات مصباحی)
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: ثمن فردوس امجدی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی مراد آباد

تقدیم: مخالفین تقلید کا ایک جائزہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، حَامِدًا وَمُصَلِّيًا وَمُسَلِّمًا

دینِ حق عقائد و اعمال کا مجموعہ ہے۔ عقائد کا ثبوت دلیل عقلی، قرآن و حدیث اور اجماع امت سے ہوتا ہے اور اعمال کا ثبوت قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس سے ہوتا ہے۔

جو شخص خدا اور رسول سے نا آشنا اور آسمانی کتاب کا منکر ہو اسے عقلی دلائل کے ذریعہ خدا کے وجود، توحید، علم، ارادہ، سمع و بصر اور کلام و حکمت کی معرفت کرائی جاتی ہے پھر اسے کتاب و رسول کی ضرورت اور حقانیت سے باخبر کرتے ہوئے دین حق کی دعوت دی جاتی ہے۔ اسی لیے رب جلیل نے قرآن حکیم میں بکثرت عقلی دلائل پیش کیے ہیں اور انسانوں کو بار بار عقل و نظر کو استعمال کرنے اور فکر و تدبیر کو کام میں لا کر حق کو پہچاننے اور ماننے کی دعوت دی ہے۔

دلیل عقلی سے یہ ثبوت فراہم ہوتا ہے کہ ایک ایسی ہستی ہے جو تمام مادوں کو وجود دینے والی اور جملہ ممکنات کی خالق ہے۔ سارا نظامِ عالم اس کے تصرف و تدبیر کے تحت چل رہا ہے، اس کا وجود خود سے ہے اور وہ واجب الوجود ہے۔ واجب الوجود ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ مخلوقات سے بالاتر ہے، مادہ و جسم سے پاک اور برتر ہے۔ اس کے مثل کوئی چیز نہیں۔ قرآن کریم بھی اس دلیل کی تائید کرتا ہے اور اسے بہت مضبوط و محکم انداز میں بیان فرماتا ہے۔

مگر غیر مقلدین عقل و نقل کے صریح دلائل سے منحرف ہو کر خدا کے بارے میں جسمانیت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور عرش پر اس کا استوا جسم کی طرح بتاتے ہیں، جیسا کہ ان کی کتابوں میں اس کی صراحت موجود ہے۔ صرف دلیل عقلی کو رہنما بنانے والے فلاسفہ بھی ہمیشہ واجب الوجود کو جسم اور مادہ سے پاک مانتے آرہے ہیں اور قرآن کریم بھی اسے جسم و جسمانیت سے پاک اور برتر بتاتا ہے۔ ارشاد ہے:

لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ [سورۃ الشورى: 11]

ترجمہ: “اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہ سننے دیکھنے والا ہے۔”

اس موضوع پر فتاویٰ رضویہ میں ایک مبسوط رسالہ ہے جس میں غیر مقلدین کے اس عقیدے پر کثیر رد کیا گیا ہے۔ رسالے کا نام ہے: قَوَارِعُ الْقَهَّارِ عَلَى الْمُجَسِّمَةِ الْفُجَّارِ، ہو سکتا ہے جلد ہی اس کی علیحدہ اشاعت ہو۔

قرآن کریم پر بھی غیر مقلدین کی نظر بڑی کوتاہ ہے۔ پورے قرآن پر غور کرنا اور جملہ آیات پر نظر کرتے ہوئے نتائج اخذ کرنا ان کے بس سے باہر ہے۔ بتوں کے بارے میں نازل ہونے والی آیات کا مطالعہ کیا، ان میں ان مشرکین کا رد فرمایا گیا ہے۔ الٰہ اور معبود تو وہی ہو سکتا ہے جو تمام ممکنات پر قادر ہو، یہ ان اصنام کو معبود مانتے ہیں جن میں کسی نفع و ضرر کی قوت نہیں۔ غیر مقلدین ان آیات کو انبیاء و اولیاء پر فٹ کرتے ہیں کہ ان میں کسی نفع و ضرر کی قوت نہیں۔

سورۂ فاتحہ میں پڑھ لیا:

إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ [سورۃ الفاتحة: 5]

ترجمہ: “ہم صرف تجھ سے مدد چاہتے ہیں”، اور حکم لگا دیا کہ خدا کے سوا کسی سے بھی مدد مانگنا شرک ہے۔ اور انبیاء و اولیاء سے مدد مانگنے والے مشرک ہیں۔

قرآن کی ان تمام آیات سے ان کی آنکھیں بند ہیں جن میں بندوں کے اندر نفع و ضرر کی قوت ہونے اور اسے استعمال کرنے کا ذکر ہے۔ مثلاً:

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ [سورۃ المائدة: 2]

ترجمہ: “نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔”

اگر بندوں میں یہاں تک کہ انبیاء و اولیاء میں بھی نفع و ضرر کی کوئی قوت نہیں تو تعاون اور عدم تعاون کے یہ دونوں حکم کیوں اور کیسے؟

قرآن میں ہے:

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ [سورۃ البقرة: 45]

ترجمہ: “صبر اور نماز سے مدد چاہو۔”

صبر اور نماز بھی خدا نہیں، جس طرح بندے مخلوق ہیں اسی طرح ان سے صادر ہونے والے افعال بھی مخلوق ہیں۔ بندوں کا صبر، نماز، روزہ، خورد و نوش، خرید و فروخت سبھی افعال مخلوق اور غیر خدا ہیں مگر اللہ نے غیر خدا سے استعانت کا حکم دیا ہے۔ اب اگر غیر اللہ سے استعانت شرک ہے تو کیا رب العالمین نے قرآن میں شرک کا حکم دیا ہے؟

شرک کے نشے میں یہ اپنے کو بھول جاتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ ان کا بیٹا باپ سے، باپ بیٹے سے مدد مانگتا ہے۔ آدمی اپنے اہل خاندان، دوستوں اور شناساؤں سے مدد مانگتا ہے۔ ہر طبقہ حکومت سے مدد مانگتا ہے۔ ریال اور ڈالر کے زور سے اپنی بدمذہبی کو پھیلاتا ہے، یہ بھی تو غیر اللہ سے استعانت ہے۔ یہ کیوں شرک نہیں؟ اگر فطری و مافوق الفطرۃ کا فرق کریں تو سوال یہ ہے کہ اس کی دلیل کیا ہے؟ علاوہ ازیں یہ انبیاء و اولیاء کے خلاف جن آیات سے استدلال کرتے ہیں ان میں ایسی کوئی تفریق نہیں، پھر یہ کیا انصاف ہے کہ خود جب شرک میں ماخوذ ہوں تو اپنے دل سے گڑھ کر راہِ فرار نکالیں، اور ساری دنیا کو مشرک ٹھہرانا ہو تو کوئی راہ نظر نہ آئے۔ صدیاں گزر گئیں کوئی قرآن کی مراد نہ سمجھ سکا، یہ پیدا ہوئے تو انھیں قرآن کی وہ مراد سمجھ میں آئی جس کی رُو سے عہدِ رسالت سے آج تک کی ساری امت مسلمہ مشرک ہے۔ بلکہ اس شرک کی زد سے قرآن و حدیث اور خدا اور رسول بھی محفوظ نہیں۔ ان کی ناروا جسارت اور کھلی ضلالت پر تفصیلی کلام علمائے حق کی کتابوں میں ہے۔ مجھے صرف یہ دکھانا تھا کہ قرآن میں بھی یہ کس قدر کوتاہ بینی کے شکار ہیں۔

حدیث کا معاملہ بھی اس سے کچھ مختلف نہیں، چند حدیثیں اپنی پسند کے مطابق لے لیں اور باقی سے آنکھیں بند کر لیں، پھر زور و شور سے یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ ہم عمل بالحدیث کے پیکر ہیں اور دوسروں کو حدیث سے سروکار نہیں۔ اس دعوے کی قلعی کھولنے کے لیے زیرِ نظر مجموعے میں بہت سی نظیریں ملیں گی خصوصاً حَاجِزُ الْبَحْرَيْنِ اور صَفَائِحُ اللُّجَيْنِ سے علمِ حدیث میں ان کی کوتاہ نظری اور کم سوادی کا عقدہ خوب کھلے گا۔

تقلیدِ ائمہ کو یہ شرک کہتے ہیں مگر خود پوری طرح تقلید میں ڈوبے ہوئے ہیں، جسے نہ پورے قرآن کا علم ہو، نہ جملہ احادیث پر نظر، نہ رجالِ حدیث کی معرفت، نہ جرح و تعدیل کی صلاحیت، نہ اصولِ حدیث جیسی بدعت کی ایجاد میں کوئی دخل ہو، وہ اس کے سوا کیا کر سکتا ہے کہ اپنی پسند اور ہوائے نفس کو امام بنا کر مقلدینِ ائمہ کی تقلید کرتا جائے، انہوں نے جو کچھ لکھ دیا حسبِ پسند اس پر ایمان لاتا جائے، ساتھ ہی یہ بھی کہے کہ ہم کسی کی تقلید نہیں کرتے، اور یہ ائمہ کی تقلید کرنے والے علمائے رجال، علمائے حدیث، علمائے اصولِ حدیث، علمائے جرح و تعدیل اور وغیرہم سب کے سب مشرک ہیں۔ یہیں تک بس نہیں، فقہی احکام و مسائل میں بھی کسی نہ کسی امام کے مذہب سے سرقہ کے مرتکب ہیں، خود ان کے پاس اجتہاد و استنباط کی کوئی صلاحیت نہیں اور جہاں ائمہ سے ہٹ کر کوئی مسئلہ اپنایا ہے وہاں ان کی جہالت بالکل عیاں ہے جیسے بیک وقت تین طلاقوں سے ایک طلاق ہونے کا مسئلہ، آٹھ رکعت تراویح کا مسئلہ، بالغ کو دودھ پلانے سے رشتہ رضاعت قائم ہونے کا مسئلہ۔

ائمہ مجتہدین کی انتھک کوششوں سے شرعی احکام و مسائل کی تفصیلی تدوین ہوئی اور امت مسلمہ ان کے زیرِ احسان ان احکام پر کار بند ہوئی۔ پوری امت کا چار تدوین شدہ مذاہب میں سے کسی ایک کی پیروی پر اجماع ہو گیا جو صدیوں سے جاری ہے۔ تیرہویں صدی میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہوا جو ایک طرف تقلید کو شرک کہتا ہے، دوسری طرف خود سر سے پاؤں تک کسی کی تقلید میں ڈوبا ہوا ہے یا اپنی راحت و آسانی اور ہوائے نفس کا غلام ہے۔

ناظرین علمائے حق کے رسائل و کتب کا مطالعہ کریں اور اس فرقہ جدیدہ کے فتنوں سے اپنی حفاظت کا سامان کریں۔ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کے درجہ فضیلت سالِ اول 34-1433ھ کے طلبہ کی خوش بختی ہے کہ فرقہ لامذہباں کے رد میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کے رسائل کا مجموعہ مفید اور دل کش انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ یقیناً یہ رسائل بحث و تحقیق کا بیش بہا نمونہ اور علوم و معارف کا گراں قیمت خزانہ ہیں جن سے حسبِ لیاقت و صلاحیت ان شاء اللہ عوام و خواص بھی مستفید و مستنیر ہوں گے۔

اس سلسلہ میں ان طلبہ اور ان کے جملہ رفقا و معاونین کی مساعی جمیلہ کو رب کریم شرفِ قبول سے نوازے، انھیں مزید دینی و علمی خدمات کی توفیق مرحمت فرمائے اور ہر محاذ پر ان کی یاوری و دست گیری فرمائے۔

وَهُوَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْهِ التُّكْلَانُ

وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ وَأَئِمَّةِ الْمَذَاهِبِ الْحَقَّةِ الرَّاسِخِينَ الْمُجْتَهِدِينَ، وَعَلَى مَنْ تَبِعَهُمْ بِإِحْسَانٍ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ



جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!