Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مسائلِ حج و زیارت|علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی

مسائلِ حج و زیارت
عنوان: مسائلِ حج و زیارت
تحریر: علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی
پیش کش: مریم رضوی

سفر کے لیے لباس پہننے کے بعد گھر میں جا کر چار رکعت نماز پڑھے، جس میں سورہ فاتحہ کے بعد چاروں قل پڑھے۔ یہ نماز اس کی واپسی تک اس کے اہل و عیال اور مال کی نگہبانی کرے گی۔

دروازے سے باہر نکلتے وقت یہ دعا پڑھے:

بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَتَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، اَللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَزِلَّ أَوْ نُزَلَّ أَوْ نَضِلَّ أَوْ نُضَلَّ أَوْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ أَوْ نَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا أَحَدٌ

ترجمہ: اللہ کے نام سے اور اس کی مدد سے سفر شروع کرتا ہوں۔ میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، گناہوں سے بچنا اور نیکیوں کی طاقت اللہ کی توفیق ہی سے ہے۔ اے اللہ! ہم تیری پناہ چاہتے ہیں، اس سے کہ ہم خود لغزش کریں یا کوئی اور ہمیں لغزش دے، یا ہم خود بہکیں یا کوئی دوسرا ہمیں بہکائے، یا ہم کسی پر ظلم کریں یا کوئی ہم پر ظلم کرے، یا ہم خود جہالت کریں یا ہمارے ساتھ کوئی دوسرا جہالت کرے۔

سب سے رخصت ہو کر اپنی مسجد کو رخصت کرے، اگر وقت مکروہ نہ ہو تو دو رکعت نفل پڑھے۔ چلتے وقت یہ دعا پڑھے:

اَللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ وَالْوَلَدِ

ترجمہ: اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں، سفر کی مشقت اور واپسی کی برائی سے اور اہل و عیال اور مال میں کوئی بری صورت نظر آنے سے۔

نیز سورہ تبت یدا کو چھوڑ کر قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ سے لے کر قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ تک، ہر سورہ مع بسم اللہ ایک بار پڑھے، اخیر میں بھی بسم اللہ پڑھے۔ اور یہ بھی پڑھے:

إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ [سورۃ القصص: 85]

ترجمہ: وہ جس نے تجھ پر قرآن فرض کیا، وہ ضرور تجھے واپسی کی جگہ لائے گا۔

ریل یا کسی سواری پر سوار ہو تو پہلے بسم اللہ پڑھے، اس کے بعد اللّٰہ اکبر اور الحمد للہ اور سبحان اللہ تین بار، لا الہ الا اللّٰہ ایک بار کہے پھر:

سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ۝ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ [سورۃ الزخرف: 13-14]

ترجمہ: پاک ہے وہ ذات! جس نے ہمارے لیے اسے مسخر فرمایا، اور ہم اسے تابع نہیں بنا سکتے تھے، اور ہم اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

جب کسی دریا کی سواری پر چڑھے تو یہ پڑھے:

بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا ۚ إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ ۝ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ [سورۃ ھود: 41 - سورۃ الزمر: 67]

ترجمہ: اللہ کے نام سے اس کا چلنا، اور ٹھہرنا ہے۔ بے شک میرا پروردگار بخشنے والا اور مہربان ہے، اور انہوں نے جیسی چاہیے اللہ کی قدر نہ کی، اور قیامت کے دن پوری زمین اس کے قبضے میں ہے، اور آسمان اس کے ہاتھوں میں لپٹے ہوئے ہیں، وہ پاک ہے، اور اس سے برتر ہے جسے اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔

احرام

میقات اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں سے بغیر احرام باندھے آگے بڑھنا منع ہے۔ ہندوستانیوں کی میقات کوہِ یلملم کی محاذات ہے۔ یعنی جب جہاز سمندر میں اس جگہ کو پہنچ جائے جو یلملم کے برابر ہے، تو احرام باندھ لینا چاہیے۔ یہ جگہ کامران کے بعد جدہ سے پہلے ہے۔

پہلے احرام کا سامان ٹھیک رکھیں، احرام سے پہلے خط اور حجامت بنوا لیں۔ خوب مل دھل کر نہا لیں، نہا کر خوشبو لگا لیں، یا کم از کم وضو کر لیں۔

جب وہ جگہ آجائے دو رکعت بہ نیت احرام پڑھیں۔ پہلی میں سورہ فاتحہ کے بعد قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور دوسری میں قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ پڑھیں۔ عام طور پر ہندوستان کے لوگ تمتع کرتے ہیں، یعنی پہلے عمرہ بعد میں حج، ایسے لوگ احرام کی نماز کے بعد یہ دعا پڑھیں:

اَللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْعُمْرَةَ فَيَسِّرْهَا لِي وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي، نَوَيْتُ الْعُمْرَةَ مُخْلِصًا لِلَّهِ تَعَالَى

اور اگر کوئی صرف حج کرنا چاہتا ہو، تو یہ دعا پڑھے:

اَللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَيَسِّرْهُ لِي وَتَقَبَّلْهُ مِنِّي، نَوَيْتُ الْحَجَّ مُخْلِصًا لِلَّهِ تَعَالَى

اسے افراد کہتے ہیں۔

اور اگر حجِ قران کرے تو یہ دعا پڑھے:

اَللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَيَسِّرْهُمَا لِي وَتَقَبَّلْهُمَا مِنِّي، نَوَيْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ تَعَالَى

یہ سب سے افضل ہے۔

اور تینوں صورتوں میں اس نیت کے بعد بآوازِ بلند لبیک کہے، لبیک یہ ہے:

لَبَّيْكَ اَللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ

جب مدعیٰ پر پہنچے، جہاں سے کعبہ شریف نظر آتا ہے تو یہ دعا پڑھے:

اَللَّهُمَّ هَٰذَا بَيْتُكَ وَأَنَا عَبْدُكَ، أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ

ترجمہ: اے اللہ! یہ تیرا گھر ہے، اور میں تیرا بندہ ہوں، میں تجھ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔

مسجد حرام کی دو منزلہ عمارت بن جانے کی وجہ سے مدعیٰ سے پہلے کعبہ نظر نہیں آتا۔ مکہ معظمہ میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھے:

اَللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ وَالْبَلَدُ بَلَدُكَ، جِئْتُكَ هَارِبًا مِنْكَ إِلَيْكَ لِأُؤَدِّيَ فَرَائِضَكَ، أَطْلُبُ رَحْمَتَكَ وَأَلْتَمِسُ رِضْوَانَكَ، أَسْأَلُكَ مَسْأَلَةَ الْمُضْطَرِّينَ إِلَيْكَ الْخَائِفِينَ عُقُوبَتَكَ، أَسْأَلُكَ أَنْ تَقْبَلَنِي الْيَوْمَ بِعَفْوِكَ وَتُدْخِلَنِي فِي رَحْمَتِكَ وَتَتَجَاوَزَ عَنِّي بِمَغْفِرَتِكَ وَتُعِينَنِي عَلَى أَدَاءِ فَرَائِضِكَ، اَللَّهُمَّ نَجِّنِي مِنْ عَذَابِكَ وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ وَأَدْخِلْنِي فِيهَا وَأَعِذْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

ترجمہ: اے اللہ! تو میرا پروردگار ہے، اور میں تیرا بندہ ہوں، اور یہ شہر تیرا شہر ہے۔ میں تیرے پاس تیرے عذاب سے بھاگ کر حاضر ہوا ہوں تا کہ تیرے فرائض کو ادا کروں، اور تیری رحمت کو طلب کروں اور تیری رضا کو تلاش کروں۔ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں جیسے مضطر اور تیرے عذاب سے ڈرنے والے کرتے ہیں۔ آج میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنے عفو کے ساتھ مجھ کو قبول فرما۔ اور اپنی رحمت میں داخل فرما کر اپنی مغفرت کے ساتھ مجھ سے درگزر فرما، اور فرائض کے ادا کرنے پر میری مدد فرما۔ اے اللہ! مجھ کو اپنے عذاب سے نجات دے، اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، اور اس میں مجھے داخل کر، اور مردود شیطان سے مجھے پناہ میں رکھ۔

جب مکہ معظمہ پہنچ جائے تو کوشش یہ کرے کہ سب سے پہلے مسجد حرام شریف میں حاضر ہو لیکن اگر کوئی عذر ہو، مجبوری ہو تو جاتے وقت اللہ عزوجل اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتا رہے، اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال و متعلقین کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے فلاحِ دارین کی دعا کرتا ہوا لبیک کہتا رہے، اور جب مسجد حرام کی دہلیز پر پہنچے تو چوکھٹ کو بوسہ دے، اور یہ دعا پڑھتے ہوئے داہنا قدم پہلے اندر رکھے:

أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ بِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ

یہ دعا خوب اچھی طرح یاد کر لے، جب بھی کبھی مسجد الحرام شریف یا کسی اور مسجد میں داخل ہو یہ دعا پڑھ لیا کرے۔

جب مسجد حرام سے باہر آئے یا کسی بھی مسجد سے باہر نکلے تو پہلے بایاں پاؤں نکالے اور پہلی والی دعا پڑھے البتہ رَحْمَتِكَ کی جگہ فَضْلِكَ بدل دے اور اتنا بڑھا دے: وَسَهِّلْ لِي أَبْوَابَ رِزْقِكَ۔

جب کعبہ معظمہ پر نظر پڑے تین بار کہے: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، درود شریف پڑھے اور یہ دعا پڑھے:

اَللَّهُمَّ زِدْ بَيْتَكَ هَٰذَا تَعْظِيمًا وَتَشْرِيفًا وَتَكْرِيمًا وَبِرًّا وَمَهَابَةً، اَللَّهُمَّ أَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ بِلَا حِسَابٍ، اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي وَتُقِيلَ عَثْرَتِي وَتَضَعَ وِزْرِي بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، اَللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَزَائِرُكَ وَعَلَى كُلِّ مَزُورٍ حَقٌّ وَأَنْتَ خَيْرُ مَزُورٍ، فَأَسْأَلُكَ أَنْ تَرْحَمَنِي وَتَفُكَّ رَقَبَتِي مِنَ النَّارِ

ترجمہ: اے اللہ! تو اپنے اس گھر کی عظمت و شرافت، بزرگی و خوبی اور ہیبت زیادہ کر۔ اے اللہ! ہم کو جنت میں بلا حساب داخل فرما۔ اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، میری غلطی معاف کر، اپنی رحمت سے میرے گناہ دور فرما۔ اے سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان۔ اے اللہ! میں تیرا بندہ اور تیرا زائر ہوں، جس کی زیارت کی جائے اس پر حق ہوتا ہے، تو سب سے بہتر زیارت کیا ہوا ہے۔ میں یہ سوال کرتا ہوں کہ مجھ پر رحم کر، اور میری گردن جہنم سے آزاد کر۔

جس طواف کے بعد سعی ہے، اس میں مرد اضطباع کرے، یعنی چادر داہنی بغل کے نیچے سے نکالے کہ داہنا مونڈھا کھلا رہے، اور دونوں کنارے بائیں مونڈھے پر ڈال دے۔ طواف کی ابتدا یوں کرے کہ رکن یمانی یعنی کعبے کے دکھن جا کر کعبہ کی جانب منھ کر کے اور جتنا ہو سکے کعبے سے قریب ہو کر حجر اسود کے قریب اس طرح کھڑا ہو کہ پورا حجر اسود اس کی داہنی طرف رہے۔ پھر طواف کی نیت کر کے یہ پڑھے:

اَللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ طَوَافَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ فَيَسِّرْهُ لِي وَتَقَبَّلْهُ مِنِّي

مسجد حرام میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے طواف کرے۔ ہاں! اگر جماعت قائم ہو یا فرض یا وتر یا سنت مؤکدہ فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو پہلے انہیں ادا کرے۔ پھر طواف کرے، طواف کے لیے جب حجر اسود کے قریب پہنچے تو یہ دعا پڑھے:

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ سچا کیا، اور اپنے بندے کی مدد کی۔ اس نے اکیلے کفار کی جماعتوں کو شکست دی۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے لیے ملک ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

طواف کی نیت کرنے کے بعد کعبہ کی طرف منھ کیے ہوئے اپنی داہنی طرف چلے۔ جب سنگ اسود کے مقابل ہو جائے تو کانوں تک ہاتھ اس طرح اٹھائے کہ ہتھیلیاں حجر اسود کی طرف رہیں، اور یہ پڑھے:

بِسْمِ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ

اگر بغیر کسی کو ایذا دیئے ہوئے اور خود کسی خطرے میں پڑے ہوئے بغیر میسر ہو تو حجر اسود پر اپنی دونوں ہتھیلیاں اور ان کے بیچ میں منہ رکھ کر یوں بوسہ دے کہ آواز نہ پیدا ہو، تین بار ایسا ہی کرے۔ اور اگر ہجوم کی وجہ سے یہ میسر نہ ہو سکے تو ہاتھ سے چھو کر ہاتھ چوم لے، اور اگر ہاتھ بھی نہ پہنچ سکے، تو لکڑی سے چھو کر چوم لے، یہ بھی نہ ہو سکے، تو ہاتھوں سے اس کی طرف اشارہ کر کے چوم لے (اسے استلام کہتے ہیں) استلام کے وقت یہ دعا پڑھے:

اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَطَهِّرْ لِي قَلْبِي وَاشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَهُ

ترجمہ: اے اللہ! تو میرے گناہ بخش دے اور میرے دل کو پاک کر دے اور میرے سینے کو کھول دے اور میرے کام کو آسان کر دے، جن کو تو نے عافیت دی ان لوگوں میں مجھے عافیت دے۔

یہ دعا پڑھتے وقت کعبہ کے دروازے کی طرف بڑھو:

اَللَّهُمَّ إِيمَانًا بِكِتَابِكَ وَتَصْدِيقًا بِكَ وَوَفَاءً بِعَهْدِكَ وَاتِّبَاعًا لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ سَيِّدَنَا مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَفَرْتُ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ

ترجمہ: اے اللہ! تجھ پر ایمان لاتے ہوئے اور تیری کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے اور تیرے عہد کو پورا کرتے ہوئے اور تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، جو اکیلا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں اللہ پر ایمان لایا، بت اور شیطان سے انکار کیا۔

جب تک حجر اسود کے سامنے رہو منھ اس کی طرف رہے، جب اس سے گزر جاؤ خانہ کعبہ کو اپنے بائیں ہاتھ پر لے کر یوں چلو کہ کسی کو ایذا نہ ہو۔

جس طواف کے بعد سعی ہے، اس کے تین پھیروں میں مرد رمل کرے۔ یعنی جلد جلد قریب قدم رکھتا شانے ہلاتا چلے۔ البتہ نہ کودے نہ دوڑے، جہاں ہجوم زیادہ ہو جائے، اپنے یا کسی دوسرے کو ایذا کا اندیشہ ہو اتنی دیر رمل چھوڑ دے مگر رکے نہیں، بلکہ طواف کرتا رہے پھر جب موقع مل جائے تو جتنی دیر تک موقع ملے رمل کرے۔

رمل اور اضطباع صرف اسی طواف میں ہے جس کے بعد سعی ہے۔ اور رمل پہلے کے تین پھیروں میں ہے، بعد کے پھیروں میں نہیں۔ البتہ اضطباع پورے طواف میں ہے، طواف کے بعد اضطباع ختم کر دے۔

جب ملتزم کے سامنے آئے، یہ دعا پڑھے:

اَللَّهُمَّ هَٰذَا الْبَيْتُ وَالْحَرَمُ حَرَمُكَ وَالْأَمْنُ أَمْنُكَ، وَهَٰذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ النَّارِ فَأَجِرْنِي مِنَ النَّارِ، اَللَّهُمَّ أَقْنِعْنِي بِمَا رَزَقْتَنِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ وَاخْلُفْ عَلَىٰ كُلِّ غَائِبٍ بِخَيْرٍ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ: اے اللہ! یہ گھر تیرا گھر ہے اور یہ حرم تیرا حرم ہے، اور امن تیرا ہی امن ہے۔ اور یہ جہنم سے تیری پناہ مانگنے کی جگہ ہے، تو مجھ کو جہنم سے بچا، اے اللہ! جو تو نے مجھ کو دیا اس پر مجھے قناعت بخش اور میرے لیے اس میں برکت دے، اور ہر غائب پر خیر کے ساتھ تو خلیفہ ہو جا، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کا ملک ہے، اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

جب رکن عراقی کے سامنے آئے تو یہ دعا پڑھے:

اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّكِّ وَالشِّرْكِ وَالشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوءِ الْأَخْلَاقِ وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ وَالْوَلَدِ

ترجمہ: اے اللہ! میں شک اور شرک اور اختلاف اور نفاق، برے اخلاق اور مال، اہل و اولاد میں واپس ہو کر بری بات دیکھنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

جب میزاب رحمت کے سامنے آئے تو یہ دعا پڑھے:

اَللَّهُمَّ أَظِلَّنِي تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِكَ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّكَ وَلَا بَاقِيَ إِلَّا وَجْهُكَ، وَاسْقِنِي مِنْ حَوْضِ نَبِيِّكَ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ شَرَابًا هَنِيئًا لَا أَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَدًا

ترجمہ: اے اللہ! مجھے اپنے عرش کے نیچے سایہ عطا فرما، جس دن تیرے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، اور تیری ذات کے سوا کچھ باقی نہیں۔ اور مجھے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض سے اتنا پلا کہ اس کے بعد پھر کبھی میں پیاسا نہ ہوں۔

رکن شامی کے سامنے جب آئے تو یہ دعا پڑھے:

اَللَّهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُورًا وَسَعْيًا مَشْكُورًا وَذَنْبًا مَغْفُورًا وَتِجَارَةً لَنْ تَبُورَ، يَا عَالِمَ مَا فِي الصُّدُورِ أَخْرِجْنِي مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ

ترجمہ: اے اللہ! اس حج کو مقبول کر اور سعی مشکور کر، اور گناہ کو بخش دے، اس کو ایسی تجارت کر دے جس میں خسارہ نہ ہو۔ اے سینوں کی باتیں جاننے والے مجھ کو تاریکیوں سے نور کی طرف نکال دے۔

جب رکن یمانی کے پاس پہنچے تو اسے دونوں ہاتھوں یا کم از کم داہنے ہاتھ سے تبرکا چھوے۔ ممکن نہ ہو تو یہاں لکڑی سے چھونا یا اشارہ کر کے ہاتھ چومنا نہیں ہے۔ اور یہاں یہ دعا پڑھیں:

اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدِّينِ وَالدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ

رکن یمانی سے پورب کی طرف مقام مستجاب ہے، یہاں ستر ہزار فرشتے دعا پر آمین کہتے ہیں، جو چاہو، دعا مانگو، یا دعائے جامع پڑھو، یعنی:

رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [سورۃ البقرۃ: 201]

یہ دعائیں لکھی گئی ہیں، انہیں چلا چلا کر نہ پڑھو آہستہ آہستہ اس طرح پڑھو کہ خود تم سنو دوسرا نہ سنے۔ دعا پڑھنے کے لیے کہیں رکے نہیں، طواف کرتے کرتے پڑھتا جائے۔

حجر اسود کے پاس پہنچے تو طواف کا ایک پھیرا ہو گیا پھر استلام کرے، اور حسب تفصیل بالا طواف کے سات پھیرے کرے۔

طواف کے بعد مقام ابراہیم میں آکر یہ آیت کریمہ:

وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى [سورۃ البقرۃ: 125]

پڑھ کر دو رکعت نماز طواف پڑھے۔ پہلی میں سورہ فاتحہ کے بعد قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور دوسری میں قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، یہ نماز واجب ہے۔ اگر وقت مکروہ ہے تو بعد میں پڑھے، نماز طواف پڑھ کر یہ دعا مانگے:

اَللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ سِرِّي وَعَلَانِيَتِي فَاقْبَلْ مَعْذِرَتِي، وَتَعْلَمُ حَاجَتِي فَأَعْطِنِي سُؤْلِي، وَتَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا يُبَاشِرُ قَلْبِي وَيَقِينًا صَادِقًا حَتَّى أَعْلَمَ أَنَّهُ لَا يُصِيبُنِي إِلَّا مَا كَتَبْتَ لِي وَرِضًا مِنَ الْمَعِيشَةِ بِمَا قَسَمْتَ لِي يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ

ترجمہ: اے اللہ تو میرے پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے تو میرے عذر کو قبول فرما اور تو میری حاجت کو جانتا ہے تو میرے سوال مجھ کو عطا کر اور جو میرے جی میں ہے تو اسے جانتا ہے تو میرے گناہوں کو بخش دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس ایمان کا سوال کرتا ہوں جو میرے دل میں بیٹھ جائے اور سچا یقین مانگتا ہوں تاکہ میں جان لوں کہ مجھے وہی پہنچے گا جو تو نے میرے لیے لکھا ہے اور جو تو نے میری قسمت میں کیا ہے، اس پر راضی رہوں، اے سب مہربانوں سے زیادہ مہربان۔

نماز و دعا سے فارغ ہو کر ملتزم کے پاس آئے اور حجر اسود کے قریب اس سے لپٹے اپنا سینہ اور پیٹ اور کبھی داہنا رخسار اور کبھی پورا چہرہ اس پر رکھے۔ اور دونوں ہاتھ سر سے اونچا کر کے دیوار پر پھیلائے یا داہنا ہاتھ کعبہ کے دروازے کی طرف اور بایاں حجر اسود کی طرف پھیلائے اور یہ دعا پڑھے:

يَا وَاجِدُ وَيَا مَاجِدُ لَا تُزِلْ عَنِّي نِعْمَةً أَنْعَمْتَهَا عَلَيَّ

ترجمہ: اے قدرت والے عظمت والے تو نے جو مجھے نعمت دی ہے، اس کو مجھ سے دور مت کرنا۔

ملتزم سے لپٹنے سے پہلے نماز طواف، اس طواف کے بعد ہے جس طواف کے بعد سعی ہے اور جس کے بعد سعی نہیں، اس میں نماز سے پہلے ملتزم سے لپٹے پھر جا کر مقام ابراہیم پر نماز طواف پڑھے۔ سعی صرف عمرہ اور حج کے طواف کے بعد ہے۔

اس کے بعد زمزم پر آؤ۔ اگر ہو سکے تو خود ایک ڈول کھینچو ورنہ بھرنے والوں سے لے لو اور کعبہ کی طرف منہ کر کے تین سانسوں میں جتنا پی سکو خوب پیٹ بھر کر کھڑے کھڑے پیو۔ بسم اللہ سے شروع کرو، الحمد للہ پر ختم کرو۔ ہر بار کعبہ کی طرف نظر کرو۔ باقی پانی بدن پر ڈال لو یا منھ بدن سب پر، ہر بار کم از کم کچھ پانی ملو، پیتے وقت دعا کرو قبول ہوگی۔ اس وقت کی دعا یہ ہے:

اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ

یا وہی جامع دعا:

رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً...

آخر تک پڑھو۔

جب تک وہاں حاضر رہو جتنا ہو سکے زمزم پیو اور ہر بار پیٹ بھر کر پیو۔ اب حکومت نے بئر زمزم تہہ خانے میں کر دیا ہے، اور نل لگا دیئے ہیں۔ انہیں نلوں سے پانی پیے، اور کنویں پر دور ہی سے نگاہ ڈال لے۔ اس کے بعد سعی کے لیے پھر حجر اسود کے پاس آؤ اور اسی طرح تکبیر وغیرہ کے ساتھ استلام کرو یا اس کی طرف منھ کر کے اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ والحمد للہ اور درود شریف پڑھتے ہوئے باب صفا سے نکل کر صفا کی طرف چلو۔ صفا کی پہلی سیڑھی پر چڑھو، اس سے آگے ہرگز نہ بڑھو۔ سیڑھی پر چڑھنے سے پہلے یہ پڑھو:

أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ [سورۃ البقرۃ: 158]

ترجمہ: اس سے شروع جس سے اللہ نے شروع فرمایا۔ بے شک صفا اور مروہ اللہ کے دین کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اس لیے جو حج یا عمرہ کرے اس پر ان دونوں کے طواف میں کوئی گناہ نہیں، اب جو شخص نیک کام زیادہ کرے تو اللہ عزوجل بلاشبہ بدلہ دینے والا جاننے والا ہے۔

پہلی سیڑھی پر چڑھ کر کعبہ کی طرف منھ کر کے دونوں ہاتھ مونڈھوں تک دعا کی طرح پھیلاؤ۔ اتنی دیر تک جتنی دیر میں مفصل کی سورہ یا سورہ بقرہ کی پچیس آیتیں تلاوت کی جائیں، ٹھہرو۔ تسبیح تہلیل، تکبیر اور درود پڑھو، اپنے لیے اپنے دوستوں، اور دوسرے مسلمانوں کے لیے دعائے خیر کرو، یا دعائے جامع “رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً” پڑھو۔

دعا میں ہتھیلیاں آسمان کی طرف ہوں۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو جب تک دعا مانگتا رہے، اٹھائے رہے، جب پوری دعا ختم ہو جائے تو ہاتھ چھوڑ دے پھر سعی کی اس طرح نیت کرے:

اَللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَيَسِّرْهُ لِي وَتَقَبَّلْهُ مِنِّي

ترجمہ: اے اللہ! میں سعی کا ارادہ کرتا ہوں صفا و مروہ کے درمیان، اسے میرے لیے آسان فرما اور میری طرف سے قبول فرما۔

نیت کرتے ہی صفا سے اتر کر مروہ کی طرف چلے۔ درود و ذکر جاری رکھے۔ جب پہلا سبز میل آئے تو وہاں سے دوڑنا شروع کر دے، دوسرے میل تک دوڑتا ہوا جائے اس وقت یہ دعا پڑھے:

رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ وَتَعْلَمُ مَا لَا نَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ، اَللَّهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُورًا وَسَعْيًا مَشْكُورًا وَذَنْبًا مَغْفُورًا، اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ يَا مُجِيبَ الدَّعَوَاتِ، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

ترجمہ: اے پروردگار! بخش اور رحم کر اور درگزر کر اس سے جسے تو جانتا ہے اور تو اسے جانتا ہے جسے ہم نہیں جانتے۔ بے شک تو عزت و کرم والا ہے۔ اے اللہ! تو اسے حج مبرور کر، اور سعی مشکور کر، اور گناہ بخش۔ اے اللہ! مجھ کو اور میرے والدین اور جمیع مومنین و مومنات کو بخش دے۔ اے دعاؤں کے قبول فرمانے والے! اے پروردگار! ہم سے تو قبول کر بے شک تو سننے والا جاننے والا ہے، اور ہماری توبہ قبول کر بے شک تو توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ اے پروردگار! تو ہم کو دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے اور ہم کو عذاب جہنم سے بچا۔

دوسرے میل سے آگے نکل کر یہ دعا پڑھتے ہوئے مروہ تک جاؤ:

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

مروہ کی پہلی سیڑھی تک پڑھو۔ اس سے آگے نہ بڑھو، پھر کعبہ کی طرف منھ کر کے جیسا صفا پہ کیا تھا کرو، یعنی تسبیح، تکبیر، حمد و ثناء، درود و دعا۔ یہ ایک پھیرا ہوا۔ اسی طرح سات پھیرے کرو۔

عمرہ صرف اتنے ہی کا نام ہے۔ یعنی طواف اور سعی۔ اگر وہ مفرد ہو تو اس کے لیے یہ طوافِ قدوم ہوا، وہ حجامت نہ بنوائے، بدستور احرام میں رہے۔ قِران والا بھی احرام میں رہے۔ متمتع حجامت بنوا کر عمرہ کے احرام سے باہر ہو جائے پھر متمتع آٹھویں تاریخ کو حج کا احرام باندھے پھر دو رکعت نفل احرام کی نیت سے پڑھے، اس کے بعد حج کی نیت کرے:

اَللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَيَسِّرْهُ لِي وَتَقَبَّلْهُ مِنِّي، نَوَيْتُ الْحَجَّ وَأَحْرَمْتُ بِهِ مُخْلِصًا لِلَّهِ تَعَالَى

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!