| عنوان: | نفلی حج یا تعلیمی اور رفاہی خدمات (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر جہانگیر حسن مصباحی، عالمہ نازیہ فاطمہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی |
بلا شبہ حج ایک اہم فریضہ ہے اور اس کی ادائیگی میں سستی و کاہلی سے کام لینا بھی سخت محرومی کے ساتھ عذاب الٰہی کو دعوت دینا ہے۔ لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ حج فرض کی ادائیگی کے بعد نفلی حج کے لیے بار بار سفر حج پر جانے اور اس پر ایک خطیر رقم خرچ کرنے سے افضل ہے کہ صاحبان ثروت اپنے اموال کو ایسے دینی، تعلیمی اور سماجی و رفاہی کاموں میں لگائیں جن کی آج سخت ضرورت ہے۔
ہمارے خیال سے محض ثواب کی نیت سے سال بہ سال نفلی حج کے لیے سفر کرنا، نیز اس سلسلے میں ایک خطیر رقم کا خرچ کرنا اور معاشرتی و دینی سطح پر ترجیحاتی اعمال سے نظریں چرا لینا عقلمندی نہیں ہے۔ پھر یہ کہ محض ثواب کی نیت سے نفلی حج کے لیے سال بہ سال جانا ایک حد تک تو درست ہے، لیکن اگر نیت، نام و نمود اور شہرت طلبی کی ہو تو یاد رکھیں کہ ایسا عمل قیامت کے دن عذاب کی شکل میں سامنے آئے گا اور نام و نمود اور دکھاوے والی نیت کے سبب نیک عمل بھی کچھ کام نہ آئے گا۔ چنانچہ نفلی حج پر زور دینے کی بجائے ہمارے صاحبان ثروت، بھوکوں کی امداد کو ترجیح دیں، محتاجوں اور بے سہاروں کا سہارا بنیں، بیماروں کے علاج و معالجے پر توجہ دیں، یتیموں اور ناداروں کی کفالت و خبر گیری کریں، بیواؤں کی ضرورتیں پوری کریں اور مسکین لڑکیوں کی شادی بیاہ کا انتظام و اہتمام کریں۔ کیونکہ نفلی حج کے مقابلے یہ سب اعمال زیادہ مفید ہیں اور اللہ عزوجل اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک محبوب بھی۔
اس کے علاوہ ہم سب کسی نہ کسی نہج پر مشاہداتی تجربات سے اکثر و بیشتر گزرتے رہتے ہیں کہ نفلی حج کی کثرت پر زور دینے والے صاحبان ثروت اعلانیہ طور پر اور بالالتزام فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی اور سستی سے کام لیتے ہیں، بلکہ بالقصد ترک کر دیتے ہیں (إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ)۔
جبکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے فرائض کی ادائیگی کے بغیر نفلی عبادتیں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں ہرگز مقبول نہیں۔ بنابریں سال بہ سال نفلی حج کے لیے جانے والے صاحبان ثروت زکوۃ کی ادائیگی پر کامل توجہ دیں اور فرائض کی بالخصوص پابندی کریں۔
اس کے ساتھ ہی منڈیر تراش تراش کر اپنے کھیتوں اور کھلیانوں کو کشادہ کرانے والے جاگیردار بھی پہلے اپنے ان غیر شرعی اعمال سے توبہ کریں اور دوسرے کی فصلوں کو نقصان پہنچانا بند کریں، اور پھر اسی پر بس نہیں بلکہ آئے دن کا یہ بھی مشاہدہ ہے کہ ایک طرف جو لوگ سال بہ سال نفلی حج کے لیے جاتے ہوئے نہیں تھکتے دوسری طرف وہی لوگ اپنے پڑوسیوں کے حقوق ادا نہیں کرتے، خود تو آسودگی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں لیکن انہیں کبھی یہ توفیق نہیں ہوتی کہ اپنے پڑوسیوں کی خبر لے لیں کہ وہ بھوکے تو نہیں سو رہے ہیں، یہاں تک کہ کمزوروں پر ظلم کرنا وہ اپنی خاندانی شان سمجھتے ہیں اور مزدوروں کو ان کی واجب مزدوری دینے کے تو قائل ہی نہیں، جبکہ مزدوروں سے متعلق خصوصی طور پر یہ حکم دیا گیا ہے کہ پسینہ خشک ہونے سے پہلے ان کی مزدوری ادا کر دی جائے، مگر اس کے باوجود انہیں بار بار دوڑایا جاتا اور ان کی عزت نفس کا کچھ بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ لہٰذا سال بہ سال نفلی حج کے لیے جانے سے بدرجہا بہتر ہے کہ پہلے حق داروں کے حقوق ادا کیے جائیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آخری زمانے میں لوگ بلاوجہ کثرت سے حج کریں گے، کیونکہ مال کی بہتات ہوگی اور سفر حج انتہائی آسان ہو گا۔ حالانکہ ان کا پڑوسی بد حال و تنگ دست ہو گا مگر وہ اپنے پڑوسی کی ایک پیسے سے بھی غم خواری نہیں کریں گے اور یہ دعویٰ کریں گے کہ انہوں نے ہزاروں خرچ کر ڈالے۔ [الْأَمَالِي الْخَمِيسِيَّةِ لِلشَّجَرِيِّ، جلد: 2، ص: 221، شاملہ]
چنانچہ آج کل یہی ہو رہا ہے کہ ہمارے صاحبان ثروت ہر سال بڑی پابندی سے سفر حج پر جارہے ہیں۔ لیکن ان کا پڑوسی کس قدر بدحال ہے؟ اس سے وہ واقف نہیں۔ کتنے مزدوروں کی مزدوری ان کے ذمے ہے؟ اس کا انہیں کچھ ہوش نہیں۔ دینی، تعلیمی اور سماجی ترجیحات پر خرچ کرنے کی انہیں کچھ شد بد نہیں۔ جبکہ اس سلسلے میں اگر شعور کو بروئے کار لایا جائے تو دین اور دنیا دونوں سطحوں پر ایک انقلابی کارنامہ انجام دیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر صرف ہندوستان سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں لوگ نفلی حج کے لیے بیت اللہ کا سفر کرتے ہیں اور ہر ایک سفر حج کا صرفہ کم سے کم تقریباً چار سے چھ لاکھ تک پہنچ جاتا ہے۔ چنانچہ اگر ہمارے صاحبان ثروت نفلی حج پر جانے کے بجائے دین وملت کے نام محض ایک لاکھ روپے کا عطیہ پیش کریں تو اس طرح ہم ہر سال تقریباً اربوں روپے کا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں اور پھر ایسی صورت میں ملک گیر پیمانے پر دینی اور عصری ادارے، جدید ٹیکنالوجی سے مزین اسپتال تیار ہو سکتے ہیں، خواتین کے لیے محفوظ انسٹی ٹیوٹ قائم کیے جاسکتے ہیں جن میں ہماری بہو، بیٹیاں اور بہنیں بلا خوف و خطر پروفیشنل اور اکیڈمک تعلیم حاصل کر کے خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہیں اور اپنی خانگی و سماجی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دے سکتی ہیں۔ ان عطیات سے ہمارے معاشرے میں موجود معاشی حاجتیں آسانی کے ساتھ پوری کی جاسکتی ہیں، بلکہ انٹرنیشنل سطح پر ہم مسلمانوں کے تعلیمی و معاشی مصالح سے متعلق خاطر خواہ کارنامہ انجام دے سکتے ہیں۔
لیکن ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ فریضہ کون انجام دے اور صاحبان ثروت کو اس طرف مائل کیسے کیا جائے، تو اس سلسلے میں ہماری حقیر رائے یہ ہے کہ ملک گیر پیمانے پر جتنی بھی علاقائی تنظیمیں ہیں خواہ چھوٹی ہوں یا بڑی اور دینی ہوں یا عصری، یہ تمام تنظیمیں اس تعلق سے علاقے کو پیش نظر رکھتے ہوئے چند ترجیحی خطوط تیار کریں اور انہیں خطوط کے مطابق اپنے اپنے علاقوں میں سرگرم عمل ہو جائیں اور صاحبان ثروت کو اس جانب متوجہ کریں کہ نفلی حج سے محض آپ کے ذاتی ذوق کی تسکین کا سامان فراہم ہوتا ہے، جبکہ دینی اور رفاہی کاموں سے دین اسلام کو تقویت پہنچے گی اور قوم وملت کا فائدہ ہوگا اور اس کے ساتھ آپ رہیں یا نہ رہیں قیامت تک آپ کے حق میں صدقہ جاریہ ہوگا۔
پھر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ یہ عمل بڑا ہی جاں سوز اور دل سوز ہے لیکن محال ہر گز بھی نہیں ہے۔ لہٰذا:
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے شکوۂ قسمت کیسا
ضرب مرداں سے اگل دیتا پتھر پانی
