Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

رویت ہلال اور توقیت|علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی

رویت ہلال اور توقیت
عنوان: رویت ہلال اور توقیت
تحریر: علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی
پیش کش: اختری

ماہنامہ “تہذیب الاخلاق” علی گڑھ بابت ماہ مئی 1988ء میں اس کے ایڈیٹر صاحب نے مسلمانوں خصوصاً علماء پر اپنی سخت برہمی کا اظہار کیا ہے کہ نماز کے اوقات بلکہ خود روزے کے افطار و سحری میں علم توقیت و ہیئت کا اعتبار کرتے ہیں۔ مگر عید کے سلسلے میں اعتبار نہیں کرتے۔ جس کے نتیجے میں ایک ہی شہر میں دو دن عید ہوتی ہے۔

رسالے کے اس حصے کی فوٹو اسٹیٹ کاپی ایک صاحب نے یہاں دار الافتاء میں بھیجی۔ اور قلم برداشتہ اس کا جواب لکھ دیا گیا۔ ایک دین دار مسلمان کے لیے وہی کافی ہے۔ مزید کچھ لکھنے کی حاجت نہیں تھی مگر اس میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ چاند کی رویت کے لیے ایسا کوئی قاعدہ نہیں معلوم کیا جاسکا ہے جو قطعی ہو، اس کے لیے جو بھی قواعد بنائے گئے، ان سب میں تجربے سے تخلف ثابت ہو چکا ہے۔ اس لیے رویت ہلال کے سلسلے میں علم توقیت کا اعتبار نہیں۔

اس کے بعد بعض حضرات نے بتایا کہ قدیمی قواعد میں جو خامیاں تھیں، ان کو بار بار تجربہ کر کے دور کر دی گئی ہیں، اور اب ان میں ایسی پختگی آگئی ہے کہ ان میں تخلف نہیں ہوتا۔ ان قواعد کی صحت کا بار بار تجربہ بھی کر لیا گیا ہے، جس سے اس میں قطعیت آگئی ہے، اور حساب کا قطعی ہونا مسلم ہے۔ تو جیسے اوقات طلوع و غروب اور نماز میں علم توقیت پر اعتماد کی وجہ یہی تھی کہ حساب قطعی اور بار بار کے تجربے نے ان قواعد کو قطعی کر دیا ہے۔ رویت ہلال کے ان جدید قواعد پر بھی اعتماد کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ خصوصاً جب کہ “گرنچ” وغیرہ کی اعلیٰ رصد گاہوں میں سارا حساب کمپیوٹر کے ذریعہ ہوتا ہے، جس میں اس کا بھی احتمال نہیں کہ حساب میں کوئی غلطی ہو گئی، یا بہت مختصر کسروں کو چھوڑنے کی وجہ سے کوئی کمی یا زیادتی ہوگئی ہو۔ تہذیب الاخلاق کے ایڈیٹر صاحب کا بھی مقصد غالباً یہی ہے۔

اس پر گزارش یہ ہے کہ نئی تعلیم و تحقیق کے ماہرین میں جو سب سے بڑا نقص ہے وہ یہ ہے کہ اپنی ہمہ دانی کے نشے میں اپنی عقل سے شرعی احکام میں بھی دخل دینے لگتے ہیں بلکہ مجتہد سے بھی آگے بڑھ کر قرآن و حدیث کے صریح ارشادات کے خلاف فتویٰ دینے کی بھی جسارت کرنے لگتے ہیں۔ مجتہدین بھی اس کے پابند تھے کہ ہر قضیے کا حکم پہلے قرآن مجید میں تلاش کریں، اس میں نہ ملے تو احادیث میں، ان میں بھی نہ ملے تو اجماع امت دیکھیں، اب اگر اس قضیے میں اجماع امت نہیں یا سرے سے کوئی حکم صحابہ و تابعین سے منقول نہیں تو قیاس سے کام لیں۔ وہ بھی انہی اصولوں کی پابندی کے ساتھ جو قرآن و احادیث سے مستنبط ہیں۔

اور ان حضرات کا حال یہ ہے کہ نیوٹن، کپلر، آئن سٹائن کے اصول و فروع کے حافظ ہوتے ہوئے قرآن و حدیث اور اصول اجتہاد سے قطعی نابلد ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی رائے عموماً نصوص شرعیہ کے معارض ہوتی ہے، جب کہ قرآن و حدیث مذہب اسلام کے غیر متبدل دستور اساسی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرآن و احادیث کے معارض بڑے سے بڑے ہمہ دان محقق مدقق کی ذاتی رائے کو مذہبی حکم کی جگہ دینی مذہب اسلام سے انحراف اور نئے مذہب کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہے۔

بعینہ یہی قصہ یہاں بھی ہے کہ رویت ہلال کے سلسلے میں جو لوگ رصد گاہوں کی تحقیق پر اعتماد کی وکالت کر رہے ہیں، ان لوگوں کا یہی حال ہے کہ وہ لوگ کپلر اور نیوٹن آئن سٹائن کی کدو کاوش اور نکتہ آفرینیوں کو اتنا یقینی و قطعی جانتے ہیں کہ اس کے مقابل قرآن و احادیث کے ارشادات کی کوئی حیثیت نہیں۔

اس سلسلے میں ہم دین دار، دین پسند مسلمانوں کی توجہ اس پر مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ روزہ، نماز، عیدین، صدقہ فطر، قربانی، حج خالص عبادات ہیں، اور جس طرح ان عبادات کے ارکان اور ہیئت کی تعین میں عقل انسانی کو کوئی دخل نہیں بلکہ یہ اسی وقت صحیح اور معتبر ہوں گی جب انہیں ارکان اور ہیئت کے ساتھ ادا کیا جائے جو منجانب شارع مقرر ہیں۔ اسی طرح ان عبادات کے اوقات بھی وہی معتبر ہوں گے جو شارع نے بتائے ہیں۔ اپنے جی سے نئے اوقات مقرر کر کے ادا کیے جائیں گے تو وہ صحیح نہ ہوں گے۔ بعینہ اسی طرح ان اوقات کے معلوم کرنے کا اگر شارع نے کوئی خاص طریقہ بیان فرما دیا ہے تو خاص اسی طریقہ سے دریافت کیے ہوئے اوقات ہی حقیقت میں ان کے اوقات ہوں گے۔ اسی طریقہ سے ہٹ کر ہم اور آپ اگر کوئی نیا طریقہ ایجاد کریں تو اس طریقہ سے معلوم کیے ہوئے اوقات ان عبادات کے اوقات نہیں ہو سکتے اور ان میں ادائیگی حقیقت میں از روئے شرع ادائیگی نہ ہوگی۔

اس کا حاصل یہ نکلا کہ عبادات کے ارکان ہیئت اوقات کی طرح اگر اوقات کے جاننے کا کوئی طریقہ شارع نے مقرر کر دیا ہے تو اسی طریقہ سے دریافت کیا ہوا وقت اس عبادت کا وقت ہے، اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے دریافت شدہ وقت اس عبادت کا وقت نہ ہوگا۔ خصوصاً ایسا طریقہ جسے شارع نے مسترد کر دیا ہو۔ ہاں! اگر اوقات معلوم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں بتایا ہے تو پھر اپنی صواب دید سے دریافت کردہ اوقات میں عبادت کی ادائیگی صحیح ہوگی۔

اتنی بات ذہن نشین کرنے کے بعد اب یہ دیکھنا ہے کہ کسی بھی مہینے کی ابتدا اور انتہا جاننے کا کوئی طریقہ شریعت نے مقرر فرمایا ہے یا نہیں، اور نجوم و ہیئت کو اس خصوص میں لغو اور ناقابل اعتبار قرار دیا ہے یا نہیں۔ آئیے آگے پڑھیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ ۖ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ [سورۃ البقرۃ: 189]

ترجمہ: تم سے لوگ چاند کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ فرمادو یہ لوگوں کے (اپنے) کاروبار اور حج کے اوقات جاننے کا ذریعہ ہے۔

سوال اصل میں یہ تھا کہ چاند گھٹتا بڑھتا کیوں ہے۔ پہلی شب کو باریک نظر آتا ہے پھر بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ پورا ہو جاتا ہے، پھر پتلا ہونا شروع ہوتا ہے، یہاں تک کہ غروب ہو جاتا ہے۔ اس کا سبب نہ بتا کر اس کا فائدہ بتایا گیا۔ اس میں بہت خوش اسلوبی سے لوگوں کو چاند کے طلوع و غروب ہلال و بدر میں تبدیلی کی علت اور سبب جاننے کی کوشش سے روکا گیا ہے اور اس کے روکنے میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ اس کا سبب دریافت کرنا عبث اور بے فائدہ ہے۔ اس سے کوئی دینی فائدہ وابستہ نہیں، اس سے اقتضاء ثابت ہوا کہ ہیئت و نجوم کے اصول چاند کے سلسلے میں غیر معتبر ہیں۔

اس کے بعد آئیے احادیث کا مطالعہ کریں:

احادیث

امام احمد نے اپنی مسند میں، امام مالک نے اپنے موطا میں، امام بخاری و امام مسلم نے اپنی صحیحین میں، امام ابو داؤد نے اپنے سنن میں، امام ترمذی نے اپنے جامع میں، امام نسائی، امام ابن ماجہ، امام دارمی نے اپنی سنن میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

الشَّهْرُ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ

ترجمہ: مہینہ انتیس رات کا ہے، جب تک چاند نہ دیکھ لو، روزہ نہ رکھو اور اگر ابر ہو تو تیس کی گنتی پوری کرو۔

بعض روایتوں میں “فَأَكْمِلُوا” کی جگہ “فَاقْدِرُوا” آیا ہے۔ بخاری میں “فَاقْدِرُوا لَهُ” ہے، اور ابو داؤد وغیرہ میں “فَاقْدِرُوا لَهُ ثَلَاثِينَ” ہے۔ یعنی اس کے لیے تیس کی مقدار پوری کر لو۔ اس کا بھی حاصل وہی ہوا کہ تیس دن پورے کر لو۔

امام احمد نے اپنی مسند میں، امام بخاری، امام مسلم نے اپنی صحیحین میں، امام ترمذی نے اپنی جامع میں، امام ابو داؤد، امام نسائی، امام ابن ماجہ، امام دارمی نے اپنی سنن میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ

ترجمہ: چاند دیکھ کر روزہ رکھو۔ چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو۔ اور اگر ابر ہو تو شعبان کی تیس کی گنتی پوری کرو۔

امام بخاری، امام مسلم وغیرہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلَالَ وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ

ترجمہ: جب تک چاند دیکھ نہ لو، روزہ نہ رکھو، اور جب تک چاند دیکھ نہ لو روزے نہ چھوڑو، اور اگر ابر ہو تو مقدار پوری کرو۔

ابو داؤد میں “فَاقْدِرُوا لَهُ ثَلَاثِينَ” ہے۔ یعنی تیس دن کی مقدار پوری کرو۔ اس مضمون کی احادیث متعدد حضرات صحابہ سے مروی ہیں۔ جیسے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت ابو حذیفہ، حضرت عبداللہ بن عباس، اور عبد الرحمن بن زید بن خطاب، حارث بن حاطب، ربعی بن خراش رضی اللہ عنہم۔ الفاظ میں کچھ ردو بدل ضرور ہے مگر مفہوم سب کا ایک ہے۔ یہ احادیث اس پر نص ہیں کہ مدار رویت ہلال پر ہے۔ اگر انتیس شعبان کو چاند دکھائی دے تو شعبان ختم اور رمضان شروع اگر انتیس کو دکھائی نہ دے تو شعبان باقی اور اس کے بعد والا دن فرض روزے کا دن نہیں۔ اسی طرح رمضان میں بھی ہے کہ اگر انتیس رمضان کو چاند نظر آیا تو رمضان ختم اور دوسرا دن شوال کا ہے۔ اور اگر انتیس کو چاند نظر نہ آیا تو اس کے بعد والا دن رمضان ہی ہے۔ اس دن روزہ چھوڑنا فرض کا چھوڑنا اور گناہ اور نماز عید پڑھنی درست نہیں کیوں کہ ابھی اس کا وقت ہی نہیں ہوا ہے۔ جب شارع علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے فرض روزے کے ایام جاننے کا طریقہ صرف رویت ہلال رکھا ہے تو دوسرے طریقے شرعاً لغو اور غیر معتبر ہیں۔ اس لیے کسی بھی طریقے سے اگر یہ معلوم بھی ہو جائے کہ چاند افق سے اتنی بلندی پر ہے کہ اگر مطلع صاف ہوتا تو ضرور دکھائی دیتا مگر دکھائی نہیں دیا تو یہ ناکافی ہے بلکہ غیر معتبر اور لغو ہے۔ اتنے ہی سے بات مکمل تھی کہ جب بنیاد رویت ہے، اگر رویت نہ ہوئی تو ایک مہینے کے ختم ہونے اور دوسرے کے شروع ہونے کا حکم شرعاً درست نہیں۔

اس بارے میں حساب غیر معتبر ہے

  1. اسی سے ثابت ہو گیا کہ اس خصوص میں دوسرے ذرائع شرعاً کالعدم ہیں، مگر شارع علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے “فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ” فرمایا۔ اس ارشاد نے براہ راست دوسرے ذرائع معلومات کے کالعدم ہونے پر مہر فرمادی۔ اس لیے کہ “غم” کے معنی ڈھانک لینے کے ہیں۔ غم کو غم اسی لیے کہتے ہیں وہ دل ڈھانک لیتا ہے۔ اور اسی مناسبت سے بادل کو غمامہ کہتے ہیں کہ وہ آسمان کو ڈھانک لیتا ہے۔ اب “غُمَّ عَلَيْكُمْ” کا ترجمہ یہ ہوا کہ چاند تم سے ڈھانک اور چھپا لیا جائے، اور چھپائی وہی چیز جاتی ہے جو موجود ہو۔ تو حدیث کا صحیح مفہوم یہ ہوا کہ چاند افق سے اوپر ہو اور وہ کسی چیز سے ڈھک جائے چھپ جائے۔ مثلاً کہرا، گرد و غبار وغیرہ کی وجہ سے نظر نہ آئے۔ اور اگر یہ چیزیں نہ ہوتیں تو نظر آتا۔ مگر ان چیزوں میں سے کسی کی وجہ سے دکھائی نہیں دے رہا ہے، تو حدیث میں قطعی حکم موجود ہے کہ ایسی صورت میں تیس کی گنتی پوری کرو۔ ان حسابات سے یہی نہ معلوم ہوگا کہ چاند افق سے اتنا اونچا ہو گیا کہ اگر کوئی چیز حائل نہ ہوتی تو ضرور نظر آتا، مگر جب نظر نہیں آیا تو شارع علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے ارشاد فرمایا کہ مہینہ ختم نہ ہوا باقی ہے۔ ایک دن اور پورا کرو۔

اس سے واضح اور غیر مبہم یہ حدیث ہے:

  1. امام احمد اپنی مسند میں، امام بخاری اپنی جامع میں، امام مسلم اپنی صحیح میں، امام ابو داؤد اور امام نسائی اپنی اپنی سنن میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے راوی کہ حضور اقدس نے فرمایا اللفظ للمسلم:

    إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ، الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي تَمَامَ ثَلَاثِينَ

    ترجمہ: ہم امی قوم ہیں، حساب و کتاب نہیں کرتے۔ مہینہ اتنا ہے اور اتنا ہے اور اتنا ہے۔ تیسری مرتبہ انگوٹھے کو باندھ لیا، اور مہینہ اتنا ہے اور اتنا ہے اور اتنا ہے یعنی پورے تیس دن۔

    یعنی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی دسوں انگلیوں کو پھیلا کر اوپر سے نیچے لاکر تین بار فرمایا کہ مہینہ اتنا ہے اتنا ہے اور تیسری بار ایک انگوٹھے کو دبا لیا۔ یعنی انتیس دن، پھر تین بار اسی طرح اشارہ کر کے فرمایا کہ اتنا اتنا اتنا ہے۔ اب کی بار انگوٹھے کو کھلا رکھا۔ یعنی تیس دن۔

    یہ سب کو معلوم ہے کہ مہینہ انتیس (29) ورنہ تیس (30) کا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود پہلے “لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ” ارشاد فرمایا۔ پھر انتہائی واضح غیر مبہم طور پر بیان فرمایا کہ مہینہ انتیس دن یا تیس دن کا ہوتا ہے۔ اس سے ثابت ہو گیا کہ ہلال کے بارے میں اہل نجوم اور اہل ہیئت کے حساب کا اعتبار نہیں۔ وہ اس بارے میں قطعاً غیر معتبر ہے۔ اعتبار، رویت کا ہے۔ اگر انتیس کو چاند دکھائی دے فبہا ورنہ تیس کا مہینہ ہوگا۔ جب شارع نے اہل نجوم اور ہیئت کے حساب کو لغو اور غیر معتبر قرار دے دیا تو شارع کے مقابل ہمیں یہ کب اختیار ہے کہ ہم اسے معتبر مان کر اس پر مہینوں کے ابتدا اور انتہا کی بنیاد رکھیں، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام نجوم اور ہیئت کے حساب پر عمل نہیں فرماتے تھے۔

    ابو داؤد میں ہے:

    وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفْطِرُ مَعَ النَّاسِ وَلَا يَأْخُذُ بِهَذَا الْحِسَابِ

    یعنی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کے ساتھ روزہ چھوڑتے تھے، اور اس حساب کو نہیں لیتے تھے۔

ایڈیٹر صاحب کے شبہے کا جواب

ایڈیٹر صاحب کو یہ شکایت ہے کہ نماز کے اوقات نیز سحری اور افطار میں اس حساب کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ پھر مہینے کی ابتداء اور انتہاء کے سلسلے میں کیوں نہ اعتبار کیا جائے۔

اس پر گزارش ہے کہ نماز اور سحری اور افطار میں شریعت نے رویت پر مدار نہیں رکھا ہے، بلکہ سورج کے طلوع و غروب و زوال، اور اس کے دو مثل سایہ ہونے اور صبح صادق کے طلوع اور شفق کے غروب پر رکھا ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ جب یہ دیکھ لو کہ صبح صادق طلوع کر آئی ہے، تو روزہ دار کھانا پینا چھوڑ دے، اور نماز فجر کا وقت ہو گیا۔ اور جب یہ دیکھ لے کہ سورج غروب ہو گیا تو روزہ توڑ دے، اور مغرب کا وقت ہو گیا بلکہ یہ فرمایا کہ صبح صادق کے طلوع سے روزہ دار کھانا پینا چھوڑ دے، اور نماز فجر کا وقت ہو گیا اور غروب آفتاب پر روزہ افطار کر لے اور مغرب کا وقت ہو گیا، علیٰ ہذا القیاس اگر دیکھے بغیر بھی صبح صادق کے طلوع اور آفتاب کے غروب کا علم ہو جائے تو ان سے جو احکام وابستہ ہیں وہ ثابت ہوں گے۔ اس کو یوں کہیے کہ ان اوقات کے معلوم کرنے کا کوئی خاص طریقہ شریعت نے مقرر نہیں فرمایا ہے مثلاً یہی کہ رویت ہو تو ہم کسی طریقے سے بھی ان اوقات کو جان لیں گے، کافی ہے مگر مہینے کی ابتداء اور انتہا معلوم کرنے کے لیے طریقہ متعین فرما دیا کہ وہ عینی رویت ہی ہو اور دوسرے طریقوں کو غیر معتبر قرار دے دیا ہے اس لیے یہاں رویت کے علاوہ دوسرے طریقے کالعدم ہوں گے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!