| عنوان: | ضیائے تفسیر (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ عبد المصطفیٰ ازہری |
| پیش کش: | رئیس الدین عطاری ناگوری |
| منجانب: | جامعۃ المدینہ فیضان رضا کچامن راجستھان |
(۱۵) عجیب بات ہے کہ اناجیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس بچپن کے کلام اور اظہارِ براءت مریم سے خاموش ہیں۔ [کبیر: 77] کہولت، زمانہ جوانی اور بڑھاپے کے درمیان کا وقت ہے، اس کا استعمال ۳۰ سال سے اوپر کے لیے ہوتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس شخص کے بالوں میں سفیدی ظاہر ہو اس کو کہل کہتے ہیں، حضرت عیسیٰ کے بچپن اور درمیانی عمر میں ذکر کرنے میں نصاریٰ کا رد ہے کہ وہ خدا نہ تھے اور اس میں حضرت مریم کی بھی تسلی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عمر طویل عطا فرمائے گا۔ [خازن: 225، کبیر: 77] بعض حضرات نے اس لفظ سے حضرت عیسیٰ کے آسمان سے نازل ہونے پر بھی استدلال کیا ہے، خصوصاً یہ استدلال اس وقت قوی تر ہو جاتا ہے جب کہل کے معنی بعض بالوں کے سفید ہونے کے لیے جائیں کہ حضرت عیسیٰ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے وقت ۳۳ سال اور چند ماہ کے تھے۔ [کبیر: 77، روح المعانی: 164]
(۱۶) اس کے متعلق تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔
(۱۷) یہ سوال تعجب اور استبعاد کے لیے تھا، شک و شبہ کے لیے نہ تھا، یعنی اب تک تو مجھے کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا اور آئندہ شادی کرنے کا میرا خیال نہیں، پھر میرے کیسے لڑکا پیدا ہوگا، ظاہر ہے کہ بشارت سے حضرت مریم کو یہی سمجھ میں آیا تھا کہ بغیر باپ کے یہ بچہ پیدا ہوگا اور اسی لیے انہوں نے اپنی حیرانی ظاہر فرمائی اور اپنی پاکیزگی کا بیان کیا۔
(۱۸) ایسے ہی یعنی بغیر انسان کے چھوئے ہماری قدرتِ کاملہ سے ہو گا۔ “يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ” کی نص اور تصریح اس لیے کی ہے کہ جو چاہے پیدا فرمائے، کوئی چیز جسے وہ پیدا فرمانے کا ارادہ کرے ضرور پیدا ہوگی، خواہ اسباب کے ذریعہ یا بغیر اسباب کے اور اس مخلوق کو اپنا نشانِ قدرت بنا دیا۔ [خازن: 236، ابن کثیر: 362]
(۱۹) یعنی اس کے حکم کی دیر ہے، وہ جو حکم فرماتا ہے وہ چیز کتمِ عدم سے منصۂ شہود پر نمایاں ہو جاتی ہے، اس آیت نیز سورۂ مریم کی آیتوں نے یہ بات بالکل واضح فرمادی کہ مریم بتول سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بغیر توسطِ کسی مرد کے محض قدرتِ الہیہ سے ہوئی ہے، بعض لوگ ان آیتوں کو توڑ مروڑ کر خواہ مخواہ حضرت عیسیٰ کا باپ حضرت یوسف نجار کو بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے قرآن کے اندازِ بیان کو نظر انداز کر کے اپنی پیچ پہنچ لگاتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ قرآن اس چیز کا ہرگز متحمل نہیں، اگر حضرت عیسیٰ کا کوئی باپ تھا تو اس کو قرآن پاک نے گول کیوں کر دیا اور صاف صاف کیوں نہ فرما دیا کہ فلاں شخص باپ ہے اور قصہ ختم ہو جاتا، یہ لمبی لمبی آیتیں اس قصہ کی نازل ہو رہی ہیں اور ایک معمولی بات کو قرآن کھول نہیں سکتا؟ لہذا معلوم ہوا کہ اصل مقصد ہی ہے کہ حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے، بہت سی جگہ قرآن پاک میں ابنِ مریم آیا اور کہیں بھی باپ کا نام اشارۃً بھی ذکر نہ ہوا، اس مسئلہ میں یہود حضرت مریم پر تہمت لگاتے ہیں اور عیسیٰ اس بات کے قائل تھے کہ حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور یہی لوگ اس آیت کے اصل مخاطب ہیں، قرآن پاک ان کے سامنے اصل حقیقت بے کم و کاست بیان کر سکتا تھا کہ فلاں باپ کے بیٹے ہیں، اللہ تعالیٰ اتنی بات بھی معاذ اللہ ان کے عقیدہ میں بیان کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔
تَعَالَى اللّٰهُ عَمَّا يَقُوْلُ الظَّالِمُوْنَ عُلُوًّا كَبِيْرًا
یوسف نجار سے منگنی کا قصہ قرآن پاک یا حدیثوں میں کہیں موجود نہیں، اس لیے یہ بھی یہود و نصاریٰ کی گڑھنت معلوم ہوتی ہے، ہاں روایتوں سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ یوسف بھی بیت المقدس کے خدام میں سے ایک خادم تھے، یہود نے ان کو متہم کیا، اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی زبانی تہمتیں دفع فرما دیں۔
(۲۰) کتاب سے مراد یا تو لکھنا ہے یا کتاب الہیہ ہیں، دوسرے معنی انسب ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ ان کو کتب سابقہ صحف ابراہیم وغیرہ اور تورات انجیل کی تعلیم عطا فرمائے گا، کتابت کا کمال کوئی اتنا بڑا کمال نہیں کہ اس مقام پر ذکر کیا جائے (حضرت مترجم علیہ الرحمہ نے پہلے کو اختیار کیا ہے)۔
(۲۱) یعنی آپ رسول ہوں گے ساحر و شعبدہ باز نہ ہوں گے جیسا کہ یہود نے تہمت لگائی۔ [ملاحظہ ہو سورہ صف، پ: 28] حضرت عیسیٰ کی ہدایت بنی اسرائیل کے لیے تھی۔ چنانچہ انجیل میں باوجود بے شمار تحریف کے ابھی تک یہ مضمون موجود ہے، اس نے جواب میں کہا کہ بنی اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس بھیجا نہ گیا۔ [متی: 15:24]
(۲۲) آیت کے معنی نشان کے ہیں معجزہ انبیا کی صداقت کا نشان ہوتا ہے اس لیے اسے بھی آیت کہتے ہیں، معجزہ ایک غیر عادی ممکن واقعہ کا ظہور ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پیغمبر کو تائید الہی حاصل ہے، دنیا کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے لیکن اسباب کے بغیر یا ظاہر اسباب کے ماسوا بھی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے جو چاہے پیدا کر سکتا ہے، اہل ایمان اس معاملہ میں شکوک و شبہات سے بالا ہیں، اب قرآن کریم اور اناجیل و تورات سب کی تصدیق سے ہر نشان، جو کسی رنگ میں ظاہر ہو، لائق یقین و واجب تسلیم ہے اس میں صرف وہی لوگ مشتبہ ہیں جن کے ایمان میں تزلزل اور عقیدہ میں نفاق کی آمیزش ہے۔
(۲۳) بعض لوگوں نے کہا کہ یہ معجزہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے لوگوں کی طلب پر ظاہر کیا اور بعض نے کہا کہ بغیر طلب خود یہ معجزہ ظاہر کیا، اکثر نے پہلا قول لیا ہے کہ بنی اسرائیل نے حسب معمول آپ کے نبی ہونے سے انکار کیا اور تعنت و عناد سے یہ مطالبہ کیا کہ آپ خفاش (چمگادڑ) پیدا کریں تو آپ نے ان کے سامنے یہ معجزہ دکھا دیا، لیکن پھر بھی یہود نے آپ کو جادوگر کہا، اس حدیث کو ابوالشیخ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے، وہب بن منبہ کہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے وہ پرندہ ہو جاتا اور جب وہ نکلتا تو اڑ جاتا۔ [روح المعانی: 128، کبیر: 280، خازن: 236 وغیرہ]
(۲۴) یعنی میرا کام صرف صورت بنانا ہے زندگی صرف اللہ تعالیٰ کے بنانے اور کرنے سے ہے کہ اس نے میرے ہاتھ سے یہ معجزہ ظاہر فرما دیا۔ [خازن: 236] اس قید میں شبہ الوہیت کا ازالہ ہے۔ [کبیر: 281] تعجب ہے کہ موجودہ چاروں انجیلیں اس معجزے کے ذکر سے خالی ہیں، لیکن قبطی کلیسا کی انجیل میں ذکر ہے۔
(۲۵) “اکمہ” کے معنی مادر زاد اندھے کے ہیں، ابن عباس، قتادہ سے یہی مروی ہے۔ [طبری: 173] عطا کہتے ہیں کہ جن کی آنکھ کی جگہ بالکل بند اور سپاٹ ہو۔ [روح المعانی: 169] سدی، قتادہ، حسن وغیرہ نے “اکمہ” کی تفسیر اندھے سے کی ہے۔ [طبری: 173] انجیل یوحنا میں مادر زاد اندھے کی تصریح موجود ہے۔ [9-17] لہذا اس معنی کو زیادہ معتبر ماننا چاہیے اور اندھوں کا تو علاج بھی ہو سکتا ہے لیکن مادر زاد اندھوں کا علاج طبیبوں سے ممکن نہیں، محض چھو کر ایسے لوگوں کو بینا کر دینا صریح معجزہ ہے۔
(۲۶) کوڑھی کو تندرست کر دینا بھی طبیبوں کے لیے ناممکن تھا، لیکن حضرت عیسیٰ ان کو بھی تندرست فرما دیتے تھے، برس کے معنی سفید داغ کے آتے ہیں۔ صرف چند دشوار بیماریوں کا ذکر نمونتاً فرمایا گیا ہے، ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہر قسم کے بیماروں کو شفا دیتے تھے، چنانچہ بیک وقت پچاس ہزار بیماروں کی تعداد بھی آئی ہے جیسا کہ وہب سے مروی ہے اور آپ سب کو تندرست کر دیا کرتے تھے۔
(۲۷) آپ نے بہت سے مردے زندہ کیے جن میں سے چند کا ذکر موجودہ اناجیل میں بھی ہے۔ لوقا کی انجیل میں ہے: “تھوڑے عرصہ کے بعد ایسا ہوا کہ وہ نائین نامی ایک شہر کو گیا اور اس کے شاگرد اور بہت سے لوگ اس کے ہمراہ تھے، جب وہ شہر کے پھاٹک کے نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ ایک مردے کو باہر لیے جاتے تھے وہ اپنی ماں کا اکلوتا تھا اور وہ بیوہ تھی اور شہر کے بہتیرے لوگ اس کے ساتھ ساتھ تھے، اسے دیکھ کر خداوند کو ترس آیا اس سے کہا رو نہیں پھر اس نے پاس آکر جنازے کو چھوا اور اٹھانے والے کھڑے ہو گئے اور اس نے کہا اے جوان! میں تجھ سے کہتا ہوں اٹھ، وہ مردہ اٹھ بیٹھا اور بولنے لگا اور اس نے اس کی ماں کو سونپ دیا اور سب پر دہشت چھا گئی۔” [لوقا: 7-11، نیز 7-32، انجیل متی: 9-18، 25] ایک تازہ میت ایک سردار کی لڑکی کے لیے اٹھانے کا ذکر ہے اور انجیلِ یوحنا میں چار روز کے دفن شدہ مردہ “لعزر” کے احیا کا بڑے زور و شور سے ذکر ہے۔ [یوحنا: 11-23] لہذا ان واقعات کا مطابقِ قرآن ہونا ثابت اور تحقیقی امر ہے۔
(۲۸) یہ فقرہ مزید تاکید و تصریح کے لیے مکرر ذکر فرمایا گیا کہ ان تصرفات کو میری طرف ہرگز منسوب نہ کرو، بلکہ جو کچھ ہوا محض اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور مشیت سے ہوا۔
(۲۹) یعنی ایسی چیزیں جو مخفی اور پوشیدہ ہیں ان پر بھی مجھے اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی ہے۔ مسئلہ: انبیاے کرام غیب کی خبریں اللہ تعالیٰ کے بتانے سے بتاتے ہیں، اس پر کسی شخص کو انبیا کے سوا دسترس نہیں۔ یہ دو مثالیں آیت میں مذکور ہیں، ورنہ ہر قسم کے مغیبات سے خبر دیتے تھے۔
(۳۰) یعنی ہر نبی اگلے نبی کی تصدیق اور اس کے پیغام کی تکمیل کے لیے آتا ہے، چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے لیے بھی قرآن پاک نے یہی الفاظ استعمال کیے ہیں۔ یہی مفہوم مروجہ انجیل میں بھی موجود ہے “یہ نہ سمجھو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں، منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں”۔
(۳۱) یعنی بعض وہ چیزیں جو تورات میں تم پر حرام تھیں ان کو حلال کرنے آیا ہوں، اس لیے کہ ضرورت زمانہ کے مطابق بعض جزئیات اور فقہی فروع میں کمی بیشی تصدیق کے منافی نہیں، جس طرح قرآن پاک کا تورات کی تصدیق کرنا اور خود قرآن کی بعض آیتوں کا بعض کو منسوخ کر دینا ان کی تصدیق اور حقانیت کے منافی نہیں، اس لیے نسخ کے معنی زمان کی تخصیص یا اجمال کی تفصیل ہے، کسی حکم کا ابطال نہیں۔ [بیضاوی: 20، کازرونی] بعض حضرات کا یہ خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تورات کے کسی حکم کو منسوخ نہیں کیا، وہ تو صرف مواعظ اور حکمتیں بیان کرتے تھے، البتہ احبار اور فریسیوں نے جو سختیاں خلافِ حکمِ شرع اپنی طرف سے کر دی تھیں ان کی تغلیظ کے لیے یہ تشریف لائے تھے اور اس خلطِ ملط کو تورات سے الگ کرنا ان کا مقصود تھا۔ [روح المعانی: 171]
(۳۲) اللہ سے تقویٰ کرنے والا اس کے رسول کی اطاعت ضرور کرے گا، اس لیے کہ یہ تقویٰ کی دلیل اور تقویٰ کا تابع ہے۔ [خازن: 238]
(۳۳) اس میں نصاریٰ کا رد ہے، جنہوں نے ان کو مرتبۂ الوہیت دے دیا ہے، یہ مقولہ حضرت عیسیٰ کا انجیلِ برنابا میں بہت سی جگہ ہے اور متعدد اناجیل میں باوصفِ تمام تحریفات کے یہ مضمون ملتا ہے “خداوندا اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اس کی عبادت کر”۔ [متی: 10:30] بہرصورت تثلیث کی گندگی سے حضرت مسیح کا دامنِ پاک ہے۔
(۳۴) بنی اسرائیل نے کفر و تعدی، استہزاء اور تعنت کا جو طریقہ اختیار کیا وہ اتنا برا تھا کہ اس کی حقیقت کے اظہار کے لیے “اَحَسَّ” (محسوس کیا) سے بہتر کوئی لفظ نہیں مل سکتا۔ [خازن: 238]
(۳۵) یعنی اللہ کی طرف جانے کے لیے یا اللہ کے دین اور اس کے راستے کی کون امداد کرتا ہے، الیٰ کے معنی مع اور لام کے ہیں اور فی کے معنی میں بھی ہو سکتا ہے، پہلے معنی کو بیضاوی وغیرہ نے اختیار کیا ہے اور مترجم علیہ الرحمہ نے بھی یہی ترجمہ کیا کہ اصل الفاظ کے یہی مطابق اور عین حقیقت ہے۔
(۳۶) اللہ کے رسول اور اس کے دین کی مدد کرنے سے انسان خود اللہ کے تقرب اور مقبولیت کے اس درجے میں پہنچ جاتا ہے جہاں وہ اللہ کا مددگار ہو جاتا ہے، جس طرح بیت اللہ اور ناقہ اللہ فرمایا گیا جس میں نسبت تشریف و کرامت کے لیے ہے، اسی طرح انصار اللہ بھی تشریف کی نسبت ہے، حواری کے اصل معنی کپڑے دھونے والے ہیں۔ “حَوَرْتُ الشَّيْءَ بَيَّضْتُهُ” چوں کہ ابتداء یہ لوگ کپڑے دھوتے تھے اس لیے اس کا یہ لقب ہوا، حواری کے معنی مددگار کے بھی آتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خندق کے وقت حضرت زبیر کے لیے فرمایا “لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ” [متفق علیہ]۔ [خازن: 238]
(۳۷) یعنی قیامت میں جب رسول اپنی امتوں کے گواہ ہوں گے آپ ہمارے اسلام کی گواہی دیں۔ [بیضاوی: 21] اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگلے انبیا کے متبعین کا دین اسلام ہی تھا، یہودیت یا نصرانیت سے یہ حضرات نا آشنا تھے۔ [خازن: 238]
(۳۸) یعنی ان لوگوں میں ہمارے نام لکھ دے جنہوں نے تیرے انبیا کی تصدیق کی یا امتِ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جو تمام انبیاء اور ان کی امتوں پر شاہد ہیں ان میں ہمارا نام بھی درج ہو جائے۔ [خازن: 238]
(۳۹) یہود کے اکابر سرداروں نے ایذا اور شرارت سے گزر کر حضرت عیسیٰ کے قتل کا ارادہ کیا اور اس کی خفیہ تدبیر کی کہ پہلے آپ پر مذہبی عدالت میں الحاد کا الزام لگا کر واجب القتل قرار دیا جائے پھر رومی حاکموں کی ملکی عدالت میں ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلا کر ان کو قتل کر دیا جائے، یہ واقعہ صوبہ فلسطین ملک شام میں ہوا، یہ علاقہ اس زمانہ میں سلطنت روما کے زیر حکومت تھا یہاں کے یہودیوں کو مذہبی امور میں ایک گونہ مختاری حاصل تھی، گورنر فلسطین روما کا نمائندہ تھا جس کے ماتحت ایک یہودی والی فلسطین تھا، رومیوں کا مذہب شرک و بت پرستی تھا، جرم الحاد کی سزا مذہبی عدالت تجویز کرتی اور اس کا نفاذ ملکی حکومت کرتی تھی، یہودی سکیم یہ تھی کہ ہم الحاد کے جرم میں سزا تجویز کر دیں اور موت کی سزا رومی حکومت سے دلوا دیں، قرآن پاک کا لفظ “مکروا” اس ساری سکیم کے بیان پر حاوی ہے۔ “وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللّٰهُ” اللہ تعالیٰ نے ان کی ساری تدبیر کو خاک میں ملا دیا اور حضرت مسیح کو سولی سے بچالیا۔ یہاں لفظ مکر کے استعمال میں مفسرین نے کئی طریقے استعمال فرمائے ہیں، مثلاً (۱) مکر کے معنی جزا اور بدلے کے ہیں، جیسے “وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا” برائی کا بدلہ برائی ہے، “إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُوْنَ اللّٰهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ” وہ کہتے ہیں کہ ہم ٹھٹھا کرتے ہیں اللہ ان سے استہزا کرتا ہے وغیرہ آیتوں میں جزا کا بدلہ، استہزا کا بدلہ مراد ہے۔ (۲) پھر عربی زبان میں مکر کے کوئی برے معنی بھی نہیں، بلکہ اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی ہوتا ہے اصل معنی خفیہ اور گہری تدبیر کے ہیں، امام رازی فرماتے ہیں کہ مکر کے معنی خفیہ طریقہ سے کسی کو نقصان پہنچانا ہے، دوسرے علماء فرماتے ہیں کہ تدبیر محکم کو مکر کہتے ہیں۔ حضرت مترجم علیہ الرحمہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
(۴۰) یعنی تمام خفیہ تدبیریں کرنے والوں سے بہتر اللہ کی ذات و اوصاف ہے۔
(۴۱) توفی کے اصل معنی لینے اور وصول کرنے کے ہیں “روح قبض کرنا”، اس لفظ کا مجازی استعمال ہے، لہذا آیت کا مطلب یہ ہوا کہ میں تمہیں دنیا سے واپس بلاؤں گا اور تمہارے دشمنوں کو قتل وغیرہ سے مسلط نہیں ہونے دوں گا، اس آیت میں مفسرین کے بہت اختلافات ہیں، اس لیے کہ “متوفیک” کے معنی موت دینے کے لیے جائیں تو یہ آیت دوسری آیت کے خلاف معلوم ہوتی ہے، سورہ نساء، رکوع ۲۲ میں “وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا” اس لیے مفسرین کے یہاں بہت سے اقوال ہیں: (۱) واو مطلقا جمع کے لیے ہے، ترتیب کے لیے نہیں کہ جو پہلے ذکر ہو وہ مفہوم میں بھی مقدم ہو بلکہ یہ سب باتیں ہوں گی (الف) آپ کی اپنے وقت پر وفات ہوگی، قتل یا سولی نہیں دی جائے گی (ب) آپ کو آسمان پر اٹھالیا جائے گا (ج) آپ کی شرارتوں کی شرطوں کا فیصلہ وہ پہلے کون ہوگا اور بعد میں کون ہوگا اس کا فیصلہ سورہ نساء والی آیت اور “وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ” اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ (۲) آپ کی وفات ہو چکی۔ زندگی پوری گزارنے کے بعد آپ کو وفات دی جائے گی اس وقت نہیں، حضرت مترجم علیہ الرحمہ نے اسی کو اختیار فرمایا۔ (۳) وفات سے مراد نوم ہے، جیسے “اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا” اور جس طرح “وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ”۔ (۴) بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ تین یا سات گھنٹہ تک مرے رہے، پھر زندہ ہو گئے، پہلی وہب بن منبہ کی روایت ہے جو انجیل سے نقل کرنے میں مشہور ہیں، یہ اسلامی روایت نہیں، سات گھنٹہ والی روایت ابن اسحاق کی ہے، جنہوں نے خود تصریح کی ہے کہ یہ خیال نصاریٰ کا ہے، لہذا یہ پانچوں قول غیر اسلامی اور غلط ہے، قرطبی اور ابن جریر طبری اور باقی مفسرین سب اس پر متفق ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بغیر وفات قوم آپ کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اور حضرت ابن عباس سے صحیح روایت بھی یہی ہے۔ [روح المعانی] مزید تفصیل سورۂ نساء میں آئے گی۔
(۴۲) یعنی اپنے آسمان کی طرف اٹھا لوں گا بغیر موت دیے اور قبل قیامت آپ دنیا میں پھر تشریف لائیں گے۔ جب کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث متفق علیہ ہے، کہ ابنِ مریم تم میں نازل ہوں حاکم عادل منصف ہو کر جو صلیب توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ مقرر کریں گے اور مال اتنا زیادہ ہو گا کہ کوئی قبول نہ کرے گا۔ اس کے علاوہ اور بہت سی حدیثیں ہیں جن میں نزولِ مسیح کا تذکرہ ہے۔ آپ چالیس سال زمین میں اقامت فرمائیں گے اور مدینہ میں وفات پائیں گے اور وہیں روضۂ منورہ میں دفن کیے جائیں گے۔ [خازن: 231] “یضع الجزیہ” کی ایک تفسیر ہم نے ترجمہ میں ذکر کر دی۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جزیہ ختم کر دیں گے اور اب صرف اسلام مقبول ہوگا۔
(۴۳) یہود سے آپ کو دور کر دوں گا، ان کی بُری صحبت اور ان کی ایذا کا اثر آپ تک نہ پہنچ سکے گا۔ [مدارک: 231]
(۴۴) متبعین سے مراد پہلے عیسائی اور مسلمان ہیں، ان کا غلبہ ظاہری پر معنوی اور ظاہری دونوں مراد ہو سکتے ہیں، معنوی حجت و دلیل سے یہ غلبہ ظاہر ہے کہ ہر وقت حاصل ہے اور اگر غلبہ ظاہری ملکی اور حکومتی مراد ہے تو سچے عیسائی اور مسلمانوں کو یہود پر غلبہ حاصل ہونا سب سے بالا تر ہے، بلکہ جو عیسائی کہ سچے نہیں مگر حضرت عیسیٰ کو مانتے ہیں، یہ غلبہ ظاہری یہود پر ان کو بھی حاصل ہوا ہے کہ کسی نہ کسی رنگ میں تھوڑا سا اتباع تو ان میں پایا جاتا ہے۔ [خازن: 231، روح المعانی: 183، کبیر]
(۴۵) یعنی میدانِ قیامت میں ان تمام اختلافات کا حقیقی اور حتمی فیصلہ ہوگا، حق کو کرامت ملے گی اور مبطل کو جہنم اور ذلت نصیب ہوگی، پھر اس فیصلہ کا خود ہی بیان فرما دیا کہ:
(۴۶) دنیا میں یہود کا جو حال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوا، وہ کسی تاریخ داں پر مخفی نہیں کہ ان کی کوئی اجتماعی حکومت نہیں اور وہ دنیا کے ہر حصہ میں ذلیل و خوار رہے، ابھی چند سال ہوئے جرمنی اور ملحقہ علاقوں میں یہود پر سختیاں اور ذلتیں گزریں سب کو معلوم ہے اور آخرت کا عذاب ان سب پر بالا ہے۔
(۴۷) حکیم سے مراد صاحبِ حکمت ہے یا محکم اور مضبوط ہے یا باطل کے دخل سے پاک ہے۔ [خازن: 231]
(۴۸) شانِ نزول: نجران کے وفد نے حضور سے جو دینی مباحثہ کیا اس میں حضرت عیسیٰ کا بغیر باپ کے پیدا ہونا بھی آیا، نصاریٰ نے کہا کہ حضرت عیسیٰ کے باپ نہ تھے، ان کا مقصد اس کہنے سے یہ تھا کہ خدا ان کا باپ تھا، اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر حضرت عیسیٰ کا بغیر باپ کے ہونا تم کو شبے میں ڈالے تو ہم اپنا ایک اور بندہ مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں جو حضرت عیسیٰ سے بھی عجیب تر تھا، یعنی آدم جن کے نہ باپ تھے اور نہ ماں تھی تو اگر آدم باوجود ماں باپ نہ ہونے کے خدا نہیں ہو سکتے تو عیسیٰ صرف بغیر باپ کے ہونے کے سبب خدا کیوں ہو گئے۔ [خازن: 232، مدارک وغیرہ]
(۴۹) اس قسم کے مواقع پر خطاب مخاطب سے ہوا کرتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مخاطب نہیں ہوتے حضرت مترجم بریلوی علیہ الرحمہ کا ترجمہ بالخصوص ایسے مقاموں پر نہایت ہی موزوں ہوا کرتا ہے “اے سننے والے” بعض حضرات کا خیال ہے کہ خطاب حضور سے ہے مگر مخاطب امت کے لوگ ہیں۔ [خازن: 232 وغیرہ]
(۵۰) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصاریٰ نجران کو دعوتِ مباہلہ دے دی کہ حجت و دلیل تو بہت ہو چکی اب بھی اگر تم ناحق پر اڑے ہو تو اپنی اولاد اور عورتوں لڑکیوں کو ہمراہ لاؤ اور اللہ تعالیٰ سے تضرع و زاری سے دعا کرو کہ جو فریق ناحق پر ہو اس پر خدا کی لعنت نازل ہو، چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود اور اپنے سیدنا علی امام حسن و حسین اپنی نساء بی بی سیدتنا فاطمہ کو لے کر میدان میں آئے اور ابوبکر صدیق اور ان کے اہل و عیال لائے اور عمر فاروق اور ان کے اہل و عیال کو لائے اور عثمان غنی اور ان کے اہل و عیال کو لائے، نصاریٰ نجران کو حضور کی نورانیت اور حقانیت کے مقابلے میں آنے کی جرات نہ ہوئی اور جزیہ پر راضی ہو گئے، کہنے لگے کہ ہمارے پاس کوئی امین بھیج دیں جو ہم سے جزیہ وصول کرے، چنانچہ آپ نے فرمایا کہ میں امین پورا بھیج دوں گا، نمازِ فجر کے بعد حضرت ابوعبیدہ بن الجراح کو ان کے ہمراہ کر دیا اور فرمایا “هٰذَا أَمِيْنُ هٰذِهِ الْأُمَّةِ” یہ اس امت کے امین ہیں، تاریخ آج تک اس واقعہ کی شاہد ہے اور یہ نبی کرام صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت اور صدق کی دلیل نہیں ہے۔ [روح المعانی: 189، خازن: 233 وغیرہ] مباہلہ کے وقت حضور کا حضرات حسنین اور فاطمہ اور علی رضی اللہ عنہم کو ہمراہ لے جانا اس بات کی دلیل ہے کہ ان حضرات کی اللہ و رسول کے یہاں بڑی فضیلت اور قدر و منزلت ہے، ان حضرات کے فضائل کا کوئی کیا شمار کر سکتا ہے۔ سلسلہ مباہلہ میں دوسری روایت یہ ہے کہ نصاریٰ میدانِ مباہلہ میں آنے کے لیے تیار ہی نہ ہوئے اس لیے آپ کو اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو لانے کی ضرورت نہ پڑی، پہلی روایت مشہور تر ہے اور اکثر مورخین نے اسی کا ذکر کیا ہے۔ [روح المعانی: 190]
(۵۱) “هٰذَا” کا اشارہ حضرت عیسیٰ و مریم اور ان کے واقعات ولادت کی طرف ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ “القصص” کے معنی ایسی خبریں جو واقعات کے بالکل مطابق ہوں اور نہایت بہتر ترتیب سے مذکور ہوں۔
(۵۲) اس میں نصاریٰ اور ہر مشرک اور دو یا دو سے زیادہ اللہ ماننے والوں کا رد اور توحیدِ خالص کا بیان ہے۔ [خازن: 233، روح المعانی: 191]
(۵۳) وہ ایسا غلبہ والا ہے کہ جو چاہے کر سکتا ہے اور جو اس کے اوامر و نواہی کا انکار کرے اس کو سزا دے سکتا ہے، ایسی عزت والا کوئی دوسرا نہیں۔ “الحکیم” مصنوعات کو مکمل طریقہ سے بنانے والا اور تمام معلومات کا محیط ہے اور اس سے بھی مقصود رد نصاریٰ و مشرکین ہے کہ جب ایسا غالب اور محیط معلومات کوئی اور نہیں تو “الہ” میں دوسرا نہیں ہو سکتا۔ قرآن پاک کے اس پورے بیان کے اصل مخاطب نصاریٰ ہیں اور یہ ساری آیتیں عیسائیوں کے عقیدۂ تثلیث اور الوہیت مسیح کے رد اور ان کی اصلاح کے لیے آئی ہیں، عیسائیوں کے اس عقیدہ کے پیدا ہونے کے خاص اسباب یہ تھے: (۱) حضرت مسیح کی معجزانہ ولادت۔ (۲) ان کے صریح معجزات خصوصاً احیائے موتیٰ۔ (۳) ان کا آسمان پر اٹھایا جانا، جن کا ذکر ان کی کتابوں میں صراحتہً مذکور ہے۔ قرآن پاک نے پہلی بات کی تصدیق کی اور فرمایا کہ مسیح کا بغیر باپ کے پیدا ہونا اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے، اللہ جسے چاہے جس طرح پیدا کرتا ہے، یہ غیر معمولی پیدائش خدا ہونے کی دلیل نہیں۔ دوسری بات کی بھی قرآن نے تصدیق کی اور یہ فرمایا کہ واقعی ان کے یہ سب معجزات تھے، لیکن یہ سب باذن اللہ تھے، خدا ہونے کی حیثیت سے اور اپنے اختیار سے نہ تھے، لہذا یہ معجزات بھی دلیل الوہیت نہیں۔ اب تیسری بات بھی اگر عیسائیوں کی غلط تھی تو اللہ تعالیٰ ان کو صاف بتا سکتا تھا کہ جن کو تم خدا یا خدا کا بیٹا کہتے ہو وہ تو مر چکے ہیں اور مزید اطمینان کے لیے جاؤ فلاں جگہ ان کی قبر ہے کھود کر دیکھ لو۔ لیکن اس صاف اور آسان طریقہ کے بجائے قرآن پاک نے ایک دوسرا طریقہ اختیار فرمایا اور حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کی تصریح کی “بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ” ساتھ ہی ساتھ عیسائیوں کو ایک اور ہی بات بتائی کہ عیسیٰ تو صلیب پر لٹکائے ہی نہیں گئے اور جو صلیب پر چڑھا اور آخری وقت “اِيْلِيْ اِيْلِيْ لَمَا شَبَقْتَانِيْ” کہا تھا وہ جس کی صلیب پر چڑھائے جانے کی تم تصریح کرتے ہو وہ مسیح نہ تھا، مسیح کو تو اس سے پہلے ہی خدا نے اٹھا لیا۔ اس واضح بیان کے بعد جو لوگ قرآن کریم سے “وفات مسیح” کا مفہوم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ دراصل اللہ تعالیٰ پر یہ اعتراض ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مطلب ظاہر کرنے کے طریقے نہیں جانتا (تعالیٰ اللہ عما یقول الظلمون) اس کے بعد قرآن پاک میں یہ بھی سمجھا دیا کہ حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں دینی اعتبار سے کوئی فرق نہ تھا، دونوں اسی دین اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں اور حواریین بھی دین اسلام کے متبع تھے، وہ عیسائی مذہب پر نہ تھے، عیسائی غلط راستہ پر پڑ گئے ہیں اور اس غلطی سے خبردار کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں۔
(۵۴) یعنی تمہارا مذہب دینِ حقیقی اسلام کی فاسد اور خراب شکل ہے، جس میں غیر اللہ کی عبادت کی دعوت دی جا رہی ہے۔ [خازن: 233] غور سے معلوم ہوتا ہے کہ نصاریٰ نجران سے متعلق آخری آیت یہی ہے اور اس کے بعد کا حصہ دراصل اس سے بہت پہلے نازل ہو چکا تھا، اگرچہ ربط تام اور تعلق مزید کی وجہ سے اگلی آیتیں بھی اسی کے ساتھ نازل ہوئی معلوم ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ آیتیں پہلے کی نازل شدہ ہیں۔ (سہ ماہی امجدیہ جنوری تا مارچ 2023)
